جب چلے جائیں گے ہم لوٹ کے ساون کی طرح یاد آئیں گے پرتھم پیار کے چمبن کی طرح ذکر ج سے دم بھی چھڑا ان کی گلی ہے وہ ہے وہ میرا جانے شرمائے حقیقت کیوں گاؤں کی دلہن کی طرح مری گھر کوئی خوشی آتی تو کیسے آتی عمر بھر ساتھ رہا درد مہاجن کی طرح کوئی کنگھی لگ ملی ج سے سے گتھی پاتی حقیقت زندگی الجھي رہی برمہا کے درشن کی طرح داغ مجھ ہے وہ ہے وہ ہے کہ تجھ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ پتا تب ہوگا موت جب آوےگی عشق دل کپڑے لیے دھوبن کی طرح ہر کسی بے وجہ کی قسمت کا یہی ہے قصہ آئی راجا کی طرح جائے حقیقت نردھن کی طرح ج سے ہے وہ ہے وہ انسان کے دل کی لگ ہوں دھڑکن نہیرج شاعری تو ہے حقیقت ذائقہ کے کترن کی طرح
Related Ghazal
زنے حسین تھی اور پھول چن کر لاتی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ شعر کہتا تھا حقیقت داستان سناتی تھی عرب لہو تھا رگوں ہے وہ ہے وہ بدن سنہرا تھا حقیقت مسکراتی نہیں تھی دیے جلاتی تھی علی سے دور رہو لوگ ا سے سے کہتے تھے حقیقت میرا سچ ہے بے حد چیک کر بتاتی تھی علی یہ لوگ تمہیں جانتے نہیں ہیں ابھی گلے دیکھیں گے میرا حوصلہ بڑھاتی تھی یہ پھول دیکھ رہے ہوں یہ ا سے کا لہجہ تھا یہ جھیل دیکھ رہے ہوں ی ہاں حقیقت آتی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بعد کبھی ٹھیک سے نہیں جاگا حقیقت مجھ کو خواب نہیں نیند سے جگاتی تھی اسے کسی سے محبت تھی اور حقیقت ہے وہ ہے وہ نہیں تھا یہ بات مجھ سے زیادہ اسے رلاتی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ کچھ بتا نہیں سکتا حقیقت مری کیا تھی علی کہ اس کا کو دیکھ کر ب سے اپنی یاد آتی تھی
Ali Zaryoun
102 likes
ستم ڈھاتے ہوئے سوچا کروگے ہمارے ساتھ جاناں ایسا کروگے انگوٹھی تو مجھے لوٹا رہے ہوں انگوٹھی کے نشان کا کیا کروگے ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے اب تمنائیں بھی نہیں ہوں تو کیا ا سے بات پر جھگڑا کروگے میرا دامن تمہیں تھامے ہوئے ہوں میرا دامن تمہیں میلا کروگے بتاؤ وعدہ کر کے آوگے نا کے پچھلی بار کے جیسا کروگے حقیقت دلہن بن کے رخصت ہوں گئی ہے ک ہاں تک کار کا پیچھا کروگے مجھے ب سے یوں ہی جاناں سے پوچھنا تھا ا گر ہے وہ ہے وہ مر گیا تو تو کیا کروگے
Zubair Ali Tabish
140 likes
याद तब करते हो करने को न हो जब कुछ भी और कहते हो तुम्हें इश्क़ है मतलब कुछ भी अब जो आ आ के बताते हो वो शख़्स ऐसा था जब मेरे साथ था वो क्यूँँ न कहा तब कुछ भी वक्फ़े-वक्फ़े से मुझे देखने आते रहना हिज्र की शब है सो हो सकता है इस शब कुछ भी
Umair Najmi
68 likes
حقیقت زما لگ گزر گیا تو کب کا تھا جو دیوا لگ مر گیا تو کب کا ڈھونڈتا تھا جو اک نئی دنیا لوٹ کے اپنے گھر گیا تو کب کا حقیقت جو لایا تھا ہم کو دریا تک پار اکیلے اتر گیا تو کب کا ا سے کا جو حال ہے وہی جانے اپنا تو زخم بھر گیا تو کب کا خواب در خواب تھا جو شیرازہ اب ک ہاں ہے بکھر گیا تو کب کا
Javed Akhtar
62 likes
ا سے کے ہاتھوں ہے وہ ہے وہ جو خنجر ہے زیادہ تیز ہے اور پھروں بچپن سے ہی ا سے کا نشا لگ تیز ہے جب کبھی ا سے پار جانے کا خیال آتا مجھے کوئی آہستہ سے کہتا تھا کی دریا تیز ہے آج ملنا تھا بچھڑ جانے کی نیت سے ہمیں آج بھی حقیقت دیر سے پہنچا ہے کتنا تیز ہے اپنا سب کچھ ہار کے لوٹ آئی ہوں لگ مری پا سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تمہیں کہتا بھی رہتا کی دنیا تیز ہے آج ا سے کے گال چومے ہیں تو اندازہ ہوا چائے اچھی ہے م گر تھوڑا سا میٹھا تیز ہے
Tehzeeb Hafi
220 likes
More from Gopaldas Neeraj
بدن پہ ج سے کے شرافت کا پیرہن دیکھا حقیقت آدمی بھی ی ہاں ہم نے بد چلن دیکھا خریدنے کو جسے کم تھی شب فراق کسی کبیر کی مٹھی ہے وہ ہے وہ حقیقت اندھیرا دیکھا مجھے ملا ہے و ہاں اپنا ہی بدن اڑھائی کہی جو تیر سے غائل کوئی ہرن دیکھا بڑا لگ چھوٹا کوئی فرق ب سے نظر کا ہے سبھی پہ چلتے سمے ایک سا کفن دیکھا زبان ہے اور بیاں اور ا سے کا زار اور عجیب آج کی دنیا کا ویاکرن دیکھا لٹیرے ڈاکو بھی اپنے پہ ناز کرنے لگے ان ہوں نے آج جو سنتوں کا آچرن دیکھا جو سادگی ہے کوہن ہے وہ ہے وہ ہمارے اے نہیرج کسی پہ اور بھی کیا ایسا بانکپن دیکھا
Gopaldas Neeraj
8 likes
اب کے ساون ہے وہ ہے وہ شرارت یہ مری ساتھ ہوئی میرا گھر چھوڑ کے کل شہر ہے وہ ہے وہ برسات ہوئی آپ مت پوچھیے کیا ہم پہ سفر ہے وہ ہے وہ گزری تھا لٹیروں کا ج ہاں گاؤں وہیں رات ہوئی زندگی بھر تو ہوئی گفتگو غیروں سے م گر آج تک ہم سے ہماری لگ ملاقات ہوئی ہر غلط موڑ پہ ٹوکا ہے کسی نے مجھ کو ایک آواز تری جب سے مری ساتھ ہوئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے سوچا کہ مری دیش کی حالت کیا ہے ایک قاتل سے تبھی مری ملاقات ہوئی
Gopaldas Neeraj
7 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Gopaldas Neeraj.
Similar Moods
More moods that pair well with Gopaldas Neeraj's ghazal.







