بدن پہ ج سے کے شرافت کا پیرہن دیکھا حقیقت آدمی بھی ی ہاں ہم نے بد چلن دیکھا خریدنے کو جسے کم تھی شب فراق کسی کبیر کی مٹھی ہے وہ ہے وہ حقیقت اندھیرا دیکھا مجھے ملا ہے و ہاں اپنا ہی بدن اڑھائی کہی جو تیر سے غائل کوئی ہرن دیکھا بڑا لگ چھوٹا کوئی فرق ب سے نظر کا ہے سبھی پہ چلتے سمے ایک سا کفن دیکھا زبان ہے اور بیاں اور ا سے کا زار اور عجیب آج کی دنیا کا ویاکرن دیکھا لٹیرے ڈاکو بھی اپنے پہ ناز کرنے لگے ان ہوں نے آج جو سنتوں کا آچرن دیکھا جو سادگی ہے کوہن ہے وہ ہے وہ ہمارے اے نہیرج کسی پہ اور بھی کیا ایسا بانکپن دیکھا
Related Ghazal
غزل تو سب کو میٹھی لگ رہی تھی م گر نہاتک کو مرچی لگ رہی تھی تمہارے لب نہیں چومے تھے جب تک مجھے ہر چیز کڑوی لگ رہی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ ج سے دن چھوڑنے والا تھا اس کا کو حقیقت ا سے دن سب سے پیاری لگ رہی تھی
Zubair Ali Tabish
80 likes
یہ ہے وہ ہے وہ نے کب کہا کہ مری حق ہے وہ ہے وہ فیصلہ کرے ا گر حقیقت مجھ سے خوش نہیں ہے تو مجھے جدا کرے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے ساتھ ج سے طرح گزارتا ہوں زندگی اسے تو چاہیے کہ میرا شکریہ ادا کرے مری دعا ہے اور اک طرح سے بد دعا بھی ہے خدا تمہیں تمہارے جیسی بیٹیاں عطا کرے بنا چکا ہوں ہے وہ ہے وہ محبتوں کے درد کی دوا ا گر کسی کو چاہیے تو مجھ سے رابطہ کرے
Tehzeeb Hafi
292 likes
خاموش لب ہیں جھکی ہیں پلکیں دلوں ہے وہ ہے وہ الفت نئی نئی ہے ابھی تکلف ہے گفتگو ہے وہ ہے وہ ابھی محبت نئی نئی ہے ابھی لگ آئیںگی نیند جاناں کو ابھی لگ ہم کو سکون ملےگا ابھی تو دھڑکے گا دل زیادہ ابھی محبت نئی نئی ہے بہار کا آج پہلا دن ہے چلو چمن ہے وہ ہے وہ ٹہل کے آئیں فضا ہے وہ ہے وہ خوشبو نئی نئی ہے گلوں ہے وہ ہے وہ رنگت نئی نئی ہے جو خاندانی رئی سے ہیں حقیقت مزاج رکھتے ہیں نرم اپنا تمہارا لہجہ بتا رہا ہے تمہاری دولت نئی نئی ہے ذرا سا قدرت نے کیا نوازا کے آکے بیٹھے ہوں پہلی صف ہے وہ ہے وہ ہے وہ ابھی کیوں اڑنے لگے ہوا ہے وہ ہے وہ ابھی تو شہرت نئی نئی ہے بموں کی برسات ہوں رہی ہے پرانی جانباز سو رہے ہیں غلام دنیا کو کر رہا ہے حقیقت ج سے کی طاقت نئی نئی ہے
Shabeena Adeeb
232 likes
ا گر تو بےوفا ہے دھیان رکھنا مجھے سب کچھ پتا ہے دھیان رکھنا بچھڑتے سمے ہم نے کہ دیا تھا ہمارا دل دکھا ہے دھیان رکھنا خدا ج سے کی محبت ہے وہ ہے وہ بنی ہوں حقیقت کئیوں کا خدا ہے دھیان رکھنا جسے جاناں دوست کیول جانتی ہوں حقیقت جاناں کو چاہتا ہے دھیان رکھنا
Anand Raj Singh
54 likes
چاند ستارے تم پھول پرندے شام سویرہ ایک طرف ساری دنیا ا سے کا چربہ ا سے کا چہرہ ایک طرف حقیقت لڑکر بھی سو جائے تو ا سے کا ماتھا چوموں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے سے محبت ایک طرف ہے ا سے سے جھگڑا ایک طرف ج سے اجازت پر حقیقت انگلی رکھ دے اس کا کو حقیقت دلوانی ہے ا سے کی خوشیاں سب سے اول سستا مہنگا ایک طرف زخموں پر مرہم لگواو لیکن ا سے کے ہاتھوں سے چارسازی ایک طرف ہے ا سے کا چھونا ایک طرف ساری دنیا جو بھی بولے سب کچھ شور شرابا ہے سب کا کہنا ایک طرف ہے ا سے کا کہنا ایک طرف ا سے نے ساری دنیا مانگی ہے وہ ہے وہ نے اس کا کو مانگا ہے ا سے کے سپنے ایک طرف ہے میرا سپنا ایک طرف
Varun Anand
406 likes
More from Gopaldas Neeraj
جب چلے جائیں گے ہم لوٹ کے ساون کی طرح یاد آئیں گے پرتھم پیار کے چمبن کی طرح ذکر ج سے دم بھی چھڑا ان کی گلی ہے وہ ہے وہ میرا جانے شرمائے حقیقت کیوں گاؤں کی دلہن کی طرح مری گھر کوئی خوشی آتی تو کیسے آتی عمر بھر ساتھ رہا درد مہاجن کی طرح کوئی کنگھی لگ ملی ج سے سے گتھی پاتی حقیقت زندگی الجھي رہی برمہا کے درشن کی طرح داغ مجھ ہے وہ ہے وہ ہے کہ تجھ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ پتا تب ہوگا موت جب آوےگی عشق دل کپڑے لیے دھوبن کی طرح ہر کسی بے وجہ کی قسمت کا یہی ہے قصہ آئی راجا کی طرح جائے حقیقت نردھن کی طرح ج سے ہے وہ ہے وہ انسان کے دل کی لگ ہوں دھڑکن نہیرج شاعری تو ہے حقیقت ذائقہ کے کترن کی طرح
Gopaldas Neeraj
3 likes
اب کے ساون ہے وہ ہے وہ شرارت یہ مری ساتھ ہوئی میرا گھر چھوڑ کے کل شہر ہے وہ ہے وہ برسات ہوئی آپ مت پوچھیے کیا ہم پہ سفر ہے وہ ہے وہ گزری تھا لٹیروں کا ج ہاں گاؤں وہیں رات ہوئی زندگی بھر تو ہوئی گفتگو غیروں سے م گر آج تک ہم سے ہماری لگ ملاقات ہوئی ہر غلط موڑ پہ ٹوکا ہے کسی نے مجھ کو ایک آواز تری جب سے مری ساتھ ہوئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے سوچا کہ مری دیش کی حالت کیا ہے ایک قاتل سے تبھی مری ملاقات ہوئی
Gopaldas Neeraj
7 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Gopaldas Neeraj.
Similar Moods
More moods that pair well with Gopaldas Neeraj's ghazal.







