ghazalKuch Alfaaz

جب رونے بیٹھتا ہوں تب کیا کسر رہے ہے رومال دو دو دن تک جوں ابر تر رہے ہے آہ سحر کی میری برچھی کے رلا سے خورشید کے منہ اوپر 9 سپر رہے ہے آگاہ تو رہیے اس کا کی طرز رہ و روش سے آنے ہے وہ ہے وہ اس کا کے لیکن کس کو خبر رہے ہے ان روزوں اتنی غفلت اچھی نہیں ادھر سے اب اضطراب ہم کو دو دو پہر رہے ہے آب حیات کی سی ساری رویش ہے اس کا کی پر جب حقیقت اٹھ چلے ہے ایک آدھ مر رہے ہے تلوار اب لگا ہے بے ڈول پیچاں پاس رکھنے خون آج کل کسو کا حقیقت شوخ کر رہے ہے در سے کبھو جو آتے دیکھا ہے ہے وہ ہے وہ نے اس کا کو تب سے ادھر ہی 9 میری نظر رہے ہے آخر کہاں تلک ہم اک روز ہوں چکیں گے برسوں سے وعدہ شب ہر صبح پر رہے ہے میر اب بہار آئی صحرا ہے وہ ہے وہ چل جنوں کر کوئی بھی فصل گل ہے وہ ہے وہ نادان گھر رہے ہے

Related Ghazal

تمہیں ب سے یہ بتانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے کیا چھپانا چاہتا ہوں کبھی مجھ سے بھی کوئی جھوٹ بولو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں ہے وہ ہے وہ ہاں ملانا چاہتا ہوں یہ جو کھڑکی ہے نقشے ہے وہ ہے وہ تمہارے ی ہاں ہے وہ ہے وہ در بنانا چاہتا ہوں اداکاری بے حد دکھ دے رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچ مچ مسکرانا چاہتا ہوں پروں ہے وہ ہے وہ تیر ہے پنجوں ہے وہ ہے وہ تنکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ چڑیا اڑانا چاہتا ہوں لیے بیٹھا ہوں گھنگرو پھول اندھیرا ترا ہنسنا بنانا چاہتا ہوں بیگا لگ غم عشق کی جاناں کو مبارک ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے خا لگ کمانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سارے شہر کی بیساخیوں کو تری در پر نرم گوئی چاہتا ہوں مجھے جاناں سے اندھیرا ہی پڑےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کو یاد آنا چاہتا ہوں

Fahmi Badayuni

249 likes

تماشا دیر و حرم دیکھتے ہیں تجھے ہر بہانے سے ہم دیکھتے ہیں ہماری طرف اب حقیقت کم دیکھتے ہیں حقیقت نظریں نہیں جن کو ہم دیکھتے ہیں زمانے کے کیا کیا ستم دیکھتے ہیں ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ جانتے ہیں جو ہم دیکھتے ہیں

Dagh Dehlvi

84 likes

زبان تو کھول نظر تو ملا جواب تو دے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کتنی بار لٹا ہوں مجھے حساب تو دے تری بدن کی ودھی ہے وہ ہے وہ ہے اتار لکھاوت ہے وہ ہے وہ ہے وہ تجھے کیسے چڑھاو مجھے کتاب تو دے تیرا سوال ہے ساقی کہ زندگی کیا ہے جواب دیتا ہوں پہلے مجھے شراب تو دے

Rahat Indori

190 likes

تری پیچھے ہوں گی دنیا پاگل بن کیا بولا ہے وہ ہے وہ نے کچھ سمجھا پاگل بن صحرا ہے وہ ہے وہ بھی ڈھونڈ لے دریا پاگل بن ورنا مر جائےگا پیاسا پاگل بن آدھا دا لگ آدھا پاگل نہیں نہیں نہیں اس کا کا کو پانا ہے تو پورا پاگل بن دانائی دکھلانے سے کچھ حاصل نہیں پاگل خا لگ ہے یہ دنیا پاگل بن دیکھیں تجھ کو لوگ تو پاگل ہوں جائیں اتنا عمدہ اتنا اعلیٰ پاگل بن لوگوں سے ڈر لگتا ہے تو گھر ہے وہ ہے وہ بیٹھ ج ہنستے ہے تو مری جیسا پاگل بن

Varun Anand

81 likes

ستم ڈھاتے ہوئے سوچا کروگے ہمارے ساتھ جاناں ایسا کروگے انگوٹھی تو مجھے لوٹا رہے ہوں انگوٹھی کے نشان کا کیا کروگے ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے اب تمنائیں بھی نہیں ہوں تو کیا ا سے بات پر جھگڑا کروگے میرا دامن تمہیں تھامے ہوئے ہوں میرا دامن تمہیں میلا کروگے بتاؤ وعدہ کر کے آوگے نا کے پچھلی بار کے جیسا کروگے حقیقت دلہن بن کے رخصت ہوں گئی ہے ک ہاں تک کار کا پیچھا کروگے مجھے ب سے یوں ہی جاناں سے پوچھنا تھا ا گر ہے وہ ہے وہ مر گیا تو تو کیا کروگے

Zubair Ali Tabish

140 likes

More from Meer Taqi Meer

سرگرم وفا ہوں ہر چند کہ جلتا ہوں پہ ہنر عشق ہوں آتے ہیں مجھے خوب سے دونوں گلشن دنیا رونے کے تئیں آندھی ہوں کڑھنے کو بلا ہوں ا سے غنچہ افسردہ ہے وہ ہے وہ شگفتہ لگ ہوا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہوں مردود صبا کہ خاک سر راہ ہوں فت لگ انگیزی ہے ہر آبلا پا کا میرا خوشی از ب سے کہ تری راہ ہے وہ ہے وہ آنکھوں سے چلا ہوں آیا کوئی بھی طرح مری چین کی ہوں گی آزردہ ہوں جینے سے ہے وہ ہے وہ مرنے سے خفا ہوں دامن لگ جھٹک ہاتھ سے مری کہ ستم گر ہوں منتظر روز جزا کوئی دم ہے وہ ہے وہ ہوا ہوں دل خواہ جلا اب تو مجھے اے شب ہجراں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سوختہ بھی طاقت و آرام و خور و خواب ہوں گو بحر چیز گئے سب بارے یہ غنیمت ہے کہ جیتا تو رہا ہوں اتنا ہی مجھے علم ہے کچھ ہے وہ ہے وہ ہوں سمے دعا معلوم نہیں خوب مجھے بھی کہ ہے وہ ہے وہ کیا ہوں بہتر ہے غرض خموشی ہی کہنے سے یاراں مت پوچھو کچھ احوال کہ مر مر کے زیا ہوں تب حال تہی دستی کہنے لگا ہوں ہے وہ ہے وہ کہ اک عمر جوں شمع سر شام سے تا صبح جلا ہوں سینا تو کیا فضل الہی سے

Meer Taqi Meer

0 likes

تنگ آئی ہیں دل ا سے جی سے اٹھا بیٹھیں گے بھوکوں مرتے ہیں کچھ اب یار بھی کھا بیٹھیں گے اب کے بگڑےگی ا گر ان سے تو ا سے شہر سے جا کسو ویرانے ہے وہ ہے وہ تکیہ ہی بنا بیٹھیں گے معرکہ گرم تو ٹک ہونے دو خوں ریزی کا پہلے تلوار کے نیچے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ جا بیٹھیں گے ہوگا ایسا بھی کوئی روز کہ مجل سے سے کبھو ہم تو ایک آدھ گھڑی اٹھ کے جدا بیٹھیں گے جا لگ اظہار محبت پہ ہوسناکو کی سمے کے سمے یہ سب منا کو چھپا بیٹھیں گے دیکھیں حقیقت غیرت خورشید ک ہاں جاتا ہے اب سر راہ دم صبح سے آ بیٹھیں گے بھیڑ ٹلتی ہی نہیں آگے سے ا سے ظالم کے گردنیں یار کسی روز کٹا بیٹھیں گے کب تلک گلیوں ہے وہ ہے وہ سودائی سے پھرتے رہیے دل کو ا سے زلف مسلسل سے لگا بیٹھیں گے شعلہ افشاں ا گر ایسی ہی رہی آہ تو میر گھر کو ہم اپنے کسو رات جلا بیٹھیں گے

Meer Taqi Meer

1 likes

अब 'मीर'-जी तो अच्छे ज़िंदीक़ ही बन बैठे पेशानी पे दे क़श्क़ा ज़ुन्नार पहन बैठे आज़ुर्दा दिल-ए-उलफ़त हम चुपके ही बेहतर हैं सब रो उठेगी मज्लिस जो कर के सुख़न बैठे उर्यान फिरें कब तक ऐ काश कहीं आ कर ता गर्द बयाबाँ की बाला-ए-बदन बैठे पैकान-ए-ख़दंग उस का यूँँ सीने के ऊधर है जों मार-ए-सियह कोई काढ़े हुए फन बैठे जुज़ ख़त के ख़याल उस के कुछ काम नहीं हम को सब्ज़ी पिए हम अक्सर रहते हैं मगन बैठे शमशीर-ए-सितम उस की अब गो का चले हर-दम शोरीदा-सर अपने से हम बाँध कफ़न बैठे बस हो तो इधर-ऊधर यूँँ फिरने न दें तुझ को नाचार तिरे हम ये देखें हैं चलन बैठे

Meer Taqi Meer

0 likes

जिन जिन को था ये इश्क़ का आज़ार मर गए अक्सर हमारे साथ के बीमार मर गए होता नहीं है उस लब-ए-नौ-ख़त पे कोई सब्ज़ ईसा ओ ख़िज़्र क्या सभी यक-बार मर गए यूँँ कानों-कान गुल ने न जाना चमन में आह सर को पटक के हम पस-ए-दीवार मर गए सद कारवाँ वफ़ा है कोई पूछता नहीं गोया मता-ए-दिल के ख़रीदार मर गए मजनूँ न दश्त में है न फ़रहाद कोह में था जिन से लुत्फ़-ए-ज़िंदगी वे यार मर गए गर ज़िंदगी यही है जो करते हैं हम असीर तो वे ही जी गए जो गिरफ़्तार मर गए अफ़्सोस वे शहीद कि जो क़त्ल-गाह में लगते ही उस के हाथ की तलवार मर गए तुझ से दो-चार होने की हसरत के मुब्तिला जब जी हुए वबाल तो नाचार मर गए घबरा न 'मीर' इश्क़ में उस सहल-ए-ज़ीस्त पर जब बस चला न कुछ तो मिरे यार मर गए

Meer Taqi Meer

1 likes

گر کچھ ہوں درد آئی لگ یوں چرخ زشت ہے وہ ہے وہ ہے وہ ان صورتوں کو صرف کرے خاک و خشت ہے وہ ہے وہ ہے وہ رکھتا ہے سوز عشق سے خوف ہے وہ ہے وہ روز و شب لے جائےگا یہ سوختہ دل کیا مکیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ آسودہ کیونکہ ہوں ہے وہ ہے وہ کہ مانند گرد باد آوارگی تمام ہے مری سرشت ہے وہ ہے وہ ہے وہ کب تک خراب سعی طواف حرم ر ہوں دل کو اٹھا کے بیٹھ ر ہوں گا کنشت ہے وہ ہے وہ ہے وہ ماتم کے ہوں زمین پہ خرمن تو کیا غضب ہوتا ہے نیل چرخ کی ا سے سبز کشت ہے وہ ہے وہ ہے وہ سرمست ہم ہیں آنکھوں کے دیکھے سے یار کی کب یہ نشہ ہے دختر رز تجھ پلشت ہے وہ ہے وہ ہے وہ رندوں کے تئیں ہمیشہ ملامت کرے ہے تو آجائ یوں لگ شیخ کہی ہشت بہشت ہے وہ ہے وہ ہے وہ نامے کو چاک کر کے کرے نامہ بر کو قتل کیا یہ لکھا تھا میر مری سرنوشت ہے وہ ہے وہ

Meer Taqi Meer

0 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Meer Taqi Meer.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Meer Taqi Meer's ghazal.