ghazalKuch Alfaaz

گر کچھ ہوں درد آئی لگ یوں چرخ زشت ہے وہ ہے وہ ہے وہ ان صورتوں کو صرف کرے خاک و خشت ہے وہ ہے وہ ہے وہ رکھتا ہے سوز عشق سے خوف ہے وہ ہے وہ روز و شب لے جائےگا یہ سوختہ دل کیا مکیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ آسودہ کیونکہ ہوں ہے وہ ہے وہ کہ مانند گرد باد آوارگی تمام ہے مری سرشت ہے وہ ہے وہ ہے وہ کب تک خراب سعی طواف حرم ر ہوں دل کو اٹھا کے بیٹھ ر ہوں گا کنشت ہے وہ ہے وہ ہے وہ ماتم کے ہوں زمین پہ خرمن تو کیا غضب ہوتا ہے نیل چرخ کی ا سے سبز کشت ہے وہ ہے وہ ہے وہ سرمست ہم ہیں آنکھوں کے دیکھے سے یار کی کب یہ نشہ ہے دختر رز تجھ پلشت ہے وہ ہے وہ ہے وہ رندوں کے تئیں ہمیشہ ملامت کرے ہے تو آجائ یوں لگ شیخ کہی ہشت بہشت ہے وہ ہے وہ ہے وہ نامے کو چاک کر کے کرے نامہ بر کو قتل کیا یہ لکھا تھا میر مری سرنوشت ہے وہ ہے وہ

Related Ghazal

اسی جگہ پر ج ہاں کئی راستے ملیںگے پلٹ کے آئی تو سب سے پہلے تجھے ملیںگے ا گر کبھی تری نام پر جنگ ہوں گئی تو ہم ایسے بزدل بھی پہلی صف ہے وہ ہے وہ کھڑے ملیںگے تجھے یہ سڑکیں مری توسط سے جانتی ہیں تجھے ہمیشہ یہ سب اشارے کھلے ملیںگے

Tehzeeb Hafi

465 likes

یہی اپنی کہانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے حقیقت لڑکی جاں ہماری تھی میاں پہلے بے حد پہلے وہم مجھ کو یہ بھاتا ہے,अभी مری دیوانی ہے م گر مری دیوانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے رقیب آ کر بتاتے ہیں ی ہاں تل ہے و ہاں تل ہے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ جانکاری تھی میاں پہلے بے حد پہلے ادب سے مانگ کر مافی بھری محفل یہ کہتا ہوں حقیقت لڑکی خاندانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے

Anand Raj Singh

526 likes

چاند ستارے تم پھول پرندے شام سویرہ ایک طرف ساری دنیا ا سے کا چربہ ا سے کا چہرہ ایک طرف حقیقت لڑکر بھی سو جائے تو ا سے کا ماتھا چوموں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے سے محبت ایک طرف ہے ا سے سے جھگڑا ایک طرف ج سے اجازت پر حقیقت انگلی رکھ دے اس کا کو حقیقت دلوانی ہے ا سے کی خوشیاں سب سے اول سستا مہنگا ایک طرف زخموں پر مرہم لگواو لیکن ا سے کے ہاتھوں سے چارسازی ایک طرف ہے ا سے کا چھونا ایک طرف ساری دنیا جو بھی بولے سب کچھ شور شرابا ہے سب کا کہنا ایک طرف ہے ا سے کا کہنا ایک طرف ا سے نے ساری دنیا مانگی ہے وہ ہے وہ نے اس کا کو مانگا ہے ا سے کے سپنے ایک طرف ہے میرا سپنا ایک طرف

Varun Anand

406 likes

چلا ہے سلسلہ کیسا یہ راتوں کو منانے کا تمہیں حق دے دیا ک سے نے دیوں کے دل دکھانے کا ارادہ چھوڑیے اپنی حدوں سے دور جانے کا زما لگ ہے زمانے کی نگا ہوں ہے وہ ہے وہ لگ آنے کا ک ہاں کی دوستی کن دوستوں کی بات کرتے ہوں میاں دشمن نہیں ملتا کوئی اب تو ٹھکانے کا نگا ہوں ہے وہ ہے وہ کوئی بھی دوسرا چہرہ نہیں آیا بھروسا ہی کچھ ایسا تھا تمہارے لوٹ آنے کا یہ ہے وہ ہے وہ ہی تھا بچا کے خود کو لے آیا کنارے تک سمندر نے بے حد موقع دیا تھا ڈوب جانے کا

Waseem Barelvi

103 likes

یہ غم کیا دل کی عادت ہے نہیں تو کسی سے کچھ شکایت ہے نہیں تو ہے حقیقت اک خواب بے تعبیر ا سے کو بھلا دینے کی نیت ہے نہیں تو کسی کے بن کسی کی یاد کے بن جیے جانے کی ہمت ہے نہیں تو کسی صورت بھی دل لگتا نہیں ہاں تو کچھ دن سے یہ حالت ہے نہیں تو تری ا سے حال پر ہے سب کو حیرت تجھے بھی ا سے پہ حیرت ہے نہیں تو ہم آہنگی نہیں دنیا سے تیری تجھے ا سے پر ندامت ہے نہیں تو ہوا جو کچھ یہی مقسوم تھا کیا یہی ساری مقسوم ہے نہیں تو اذیت ناک اذیت ناک سے تجھ کو اماں پانے کی حسرت ہے نہیں تو تو رہتا ہے خیال و خواب ہے وہ ہے وہ گم تو ا سے کی وجہ فرصت ہے نہیں تو سبب جو ا سے جدائی کا بنا ہے حقیقت مجھ سے خوبصورت ہے نہیں تو

Jaun Elia

355 likes

More from Meer Taqi Meer

شب تھا نالاں عزیز کوئی تھا مرغ خوش خواں عزیز کوئی تھا تھی تمہارے ستم کی تاب ا سے تک دل پامال جو یاں عزیز کوئی تھا شب کو ا سے کا خیال تھا دل ہے وہ ہے وہ ہے وہ گھر ہے وہ ہے وہ مہمان عزیز کوئی تھا چاہ بے جا لگ تھی زلیخا کی ماہ کنآں عزیز کوئی تھا اب تو ا سے کی گلی ہے وہ ہے وہ بچھاؤ ہے لیک میر بے جاں عزیز کوئی تھا

Meer Taqi Meer

0 likes

کیا کہی اپنی ا سے کی شب کی بات کہیے ہووے جو کچھ بھی ڈھب کی بات اب تو چپ لگ گئی ہے حیرت سے پھروں کھلےگی زبان جب کی بات نکتہ دانان رفتہ کی لگ کہو بات حقیقت ہے جو ہووے اب کی بات ک سے کا خار غم الفت نہیں ہے ادھر ہے نظر ہے وہ ہے وہ ہماری سب کی بات ظلم ہے قہر ہے خوشگوار ہے نبھائیے ہے وہ ہے وہ ا سے کے زیر لب کی بات کہتے ہیں آگے تھا بتوں ہے وہ ہے وہ رحم ہے خدا جانیے یہ کب کی بات گو کہ آتش زبان تھے آگے میر اب کی کہیے گئی حقیقت تب کی بات

Meer Taqi Meer

1 likes

کہی پہنچو بھی مجھ شمع ساں تک کہ پہنچا مژگان تر داغ اب ج گر تک کچھ اپنی آنکھ ہے وہ ہے وہ یاں کا لگ آیا خزف سے لے کے دیکھا گاڑیں تک جسے شب آگ سا دیکھا دستور اسے پھروں خاک ہی پایا سحر تک ترا منا چاند سا دیکھا ہے شاید کہ انجم رہتے ہیں ہر شب ادھر تک جب آیا آہ تب اپنے ہی سر پر گیا تو تو یہ ہاتھ کب ا سے کی کمر تراش تک ہم آوازوں کو سیر اب کی مبارک پر و بال اپنے بھی ایسے تھے پر تک کھنچی کیا کیا خرابی بسوروں ولے آیا لگ حقیقت ٹک گھر سے در تک گلی تک تیری لایا تھا ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ شوق ک ہاں طاقت کہ اب پھروں جائیں گھر تک یہی درد جدائی ہے جو ا سے شب تو آتا ہے ج گر سجادہ محرابی تک دکھائی دیں گے ہم میت کے رنگوں ا گر رہ جائیں گے جیتے سحر تک ک ہاں پھروں شور شیون جب گیا تو میر یہ ہنگامہ ہے ا سے ہی نوحہ گر تک

Meer Taqi Meer

0 likes

بند قبا کو خوباں ج سے سمے وا کریںگے خمیازہ کش جو ہوں گے ملنے کے کیا کریںگے رونا یہی ہے مجھ کو تیری کہوں سے ہر دم یہ دل دماغ دونوں کب تک وفا کریںگے ہے دین سر کا دینا گردن پہ اپنی خوباں جیتے ہیں تو تمہارا یہ قرض ادا کریںگے درویش ہیں ہم آخر دو اک نگہ کی رخصت گوشے ہے وہ ہے وہ بیٹھے پیاری جاناں کو دعا کریںگے آخر تو روزے آئی دو چار روز ہم بھی دراڑیں بچوں ہے وہ ہے وہ جا کر دارو پیا کریںگے کچھ تو کہےگا ہم کو خاموش دیکھ کر حقیقت ا سے بات کے لیے اب چپ ہی رہا کریںگے عالم مری ہے تجھ پر آئی ا گر خوشگوار تیری گلی کے ہر سو محشر ہوا کریںگے دامان دشت سوکھا روز گریہ کی بے تہی سے جنگل ہے وہ ہے وہ رونے کو اب ہم بھی چلا کریںگے لائی تری گلی تک آوارگی ہماری ذلت کی اپنی اب ہم عزت کیا کریںگے احوال 'میر کیونکر آخر ہوں ایک شب ہے وہ ہے وہ ہے وہ اک عمر ہم یہ قصہ جاناں سے کہا کریںگے

Meer Taqi Meer

0 likes

ग़म्ज़े ने उस के चोरी में दिल की हुनर किया उस ख़ानुमाँ-ख़राब ने आँखों में घर किया रंग उड़ चला चमन में गुलों का तो क्या नसीम हम को तो रोज़गार ने बे-बाल-ओ-पर किया नाफ़े जो थीं मिज़ाज को अव्वल सो इश्क़ में आख़िर उन्हीं दवाओं ने हम को ज़रर किया मरता हूँ जान दें हैं वतन-दारीयों पे लोग और सुनते जाते हैं कि हर इक ने सफ़र किया क्या जानूँ बज़्म-ए-ऐश कि साक़ी की चश्म देख मैं सोहबत-ए-शराब से आगे सफ़र किया जिस दम कि तेग़-ए-इश्क़ खिंची बुल-हवस कहाँ सुन लीजियो कि हम ही ने सीना-सिपर किया दिल ज़ख़्मी हो के तुझ तईं पहुँचा तो कम नहीं इस नीम-कुश्ता ने भी क़यामत जिगर किया है कौन आप में जो मिले तुझ से मस्त नाज़ ज़ौक़-ए-ख़बर ही ने तो हमें बे-ख़बर क्या वो दश्त-ए-ख़ौफ़-नाक रहा है मिरा वतन सुन कर जिसे ख़िज़्र ने सफ़र से हज़र किया कुछ कम नहीं हैं शोबदा-बाज़ों से मय-गुसार दारू पिला के शैख़ को आदम से ख़र किया हैं चारों तरफ़ खे़ में खड़े गर्द-बाद के क्या जानिए जुनूँ ने इरादा किधर किया लुक्नत तिरी ज़बान की है सहर जिस से शोख़ यक हर्फ़-ए-नीम-गुफ़्ता ने दिल पर असर किया बे-शर्म महज़ है वो गुनहगार जिन ने 'मीर' अब्र-ए-करम के सामने दामाँ तर किया

Meer Taqi Meer

1 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Meer Taqi Meer.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Meer Taqi Meer's ghazal.