ghazalKuch Alfaaz

بند قبا کو خوباں ج سے سمے وا کریںگے خمیازہ کش جو ہوں گے ملنے کے کیا کریںگے رونا یہی ہے مجھ کو تیری کہوں سے ہر دم یہ دل دماغ دونوں کب تک وفا کریںگے ہے دین سر کا دینا گردن پہ اپنی خوباں جیتے ہیں تو تمہارا یہ قرض ادا کریںگے درویش ہیں ہم آخر دو اک نگہ کی رخصت گوشے ہے وہ ہے وہ بیٹھے پیاری جاناں کو دعا کریںگے آخر تو روزے آئی دو چار روز ہم بھی دراڑیں بچوں ہے وہ ہے وہ جا کر دارو پیا کریںگے کچھ تو کہےگا ہم کو خاموش دیکھ کر حقیقت ا سے بات کے لیے اب چپ ہی رہا کریںگے عالم مری ہے تجھ پر آئی ا گر خوشگوار تیری گلی کے ہر سو محشر ہوا کریںگے دامان دشت سوکھا روز گریہ کی بے تہی سے جنگل ہے وہ ہے وہ رونے کو اب ہم بھی چلا کریںگے لائی تری گلی تک آوارگی ہماری ذلت کی اپنی اب ہم عزت کیا کریںگے احوال 'میر کیونکر آخر ہوں ایک شب ہے وہ ہے وہ ہے وہ اک عمر ہم یہ قصہ جاناں سے کہا کریںگے

Related Ghazal

خاموش لب ہیں جھکی ہیں پلکیں دلوں ہے وہ ہے وہ الفت نئی نئی ہے ابھی تکلف ہے گفتگو ہے وہ ہے وہ ابھی محبت نئی نئی ہے ابھی لگ آئیںگی نیند جاناں کو ابھی لگ ہم کو سکون ملےگا ابھی تو دھڑکے گا دل زیادہ ابھی محبت نئی نئی ہے بہار کا آج پہلا دن ہے چلو چمن ہے وہ ہے وہ ٹہل کے آئیں فضا ہے وہ ہے وہ خوشبو نئی نئی ہے گلوں ہے وہ ہے وہ رنگت نئی نئی ہے جو خاندانی رئی سے ہیں حقیقت مزاج رکھتے ہیں نرم اپنا تمہارا لہجہ بتا رہا ہے تمہاری دولت نئی نئی ہے ذرا سا قدرت نے کیا نوازا کے آکے بیٹھے ہوں پہلی صف ہے وہ ہے وہ ہے وہ ابھی کیوں اڑنے لگے ہوا ہے وہ ہے وہ ابھی تو شہرت نئی نئی ہے بموں کی برسات ہوں رہی ہے پرانی جانباز سو رہے ہیں غلام دنیا کو کر رہا ہے حقیقت ج سے کی طاقت نئی نئی ہے

Shabeena Adeeb

232 likes

ہے وہ ہے وہ نے جو کچھ بھی سوچا ہوا ہے ہے وہ ہے وہ حقیقت سمے آنے پہ کر جاؤں گا جاناں مجھے زہر لگتے ہوں اور ہے وہ ہے وہ کسی دن تمہیں پی کے مر جاؤں گا تو تو بینائی ہے مری تری علاوہ مجھے کچھ بھی دکھتا نہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے تجھ کو ا گر تری گھر پہ اتارا تو ہے وہ ہے وہ کیسے گھر جاؤں گا چاہتا ہوں تمہیں اور بے حد چاہتا ہوں تمہیں خود بھی معلوم ہے ہاں ا گر مجھ سے پوچھا کسی نے تو ہے وہ ہے وہ سیدھا منا پر مکر جاؤں گا تری دل سے تری شہر سے تری گھر سے تیری آنکھ سے تری در سے تیری گلیوں سے تری وطن سے نکالا ہوا ہوں کدھر جاؤں گا

Tehzeeb Hafi

241 likes

غزل تو سب کو میٹھی لگ رہی تھی م گر نہاتک کو مرچی لگ رہی تھی تمہارے لب نہیں چومے تھے جب تک مجھے ہر چیز کڑوی لگ رہی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ ج سے دن چھوڑنے والا تھا اس کا کو حقیقت ا سے دن سب سے پیاری لگ رہی تھی

Zubair Ali Tabish

80 likes

چاند ستارے تم پھول پرندے شام سویرہ ایک طرف ساری دنیا ا سے کا چربہ ا سے کا چہرہ ایک طرف حقیقت لڑکر بھی سو جائے تو ا سے کا ماتھا چوموں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے سے محبت ایک طرف ہے ا سے سے جھگڑا ایک طرف ج سے اجازت پر حقیقت انگلی رکھ دے اس کا کو حقیقت دلوانی ہے ا سے کی خوشیاں سب سے اول سستا مہنگا ایک طرف زخموں پر مرہم لگواو لیکن ا سے کے ہاتھوں سے چارسازی ایک طرف ہے ا سے کا چھونا ایک طرف ساری دنیا جو بھی بولے سب کچھ شور شرابا ہے سب کا کہنا ایک طرف ہے ا سے کا کہنا ایک طرف ا سے نے ساری دنیا مانگی ہے وہ ہے وہ نے اس کا کو مانگا ہے ا سے کے سپنے ایک طرف ہے میرا سپنا ایک طرف

Varun Anand

406 likes

سب نے دل سے اسے اتارا تھا حقیقت مری کب تھی اس کا کو مارا تھا پیروں ہے وہ ہے وہ گرکے جیتا تھا ج سے کو اس کا کا کو پانے ہے وہ ہے وہ خود کو ہارا تھا تری مری ہے وہ ہے وہ بٹ گیا تو سب کچھ ایک ٹائم تھا سب ہمارا تھا ا سے کی یادوں ہے وہ ہے وہ دل جلے ہے اب جس کا چہرہ نہیں بے شرط تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے حقیقت کھویا جو میرا نہیں تھا جاناں نے حقیقت کھویا جو تمہارا تھا جیت سکتا تھا ا سے سے ہے وہ ہے وہ دھڑکنا پر بڑے حوصلے سے ہارا تھا

Himanshi babra KATIB

43 likes

More from Meer Taqi Meer

خرابی کچھ نہ پوچھو ملکت دل کی عمارت کی غموں نے آج کل سنیو وہ آبادی ہی غارت کی نگاہ مست سے جب چشم نے اس کا کی اشارت کی حلاوت مے کی اور بنیاد مےخانے کی غارت کی سحر گہ میں نے پوچھا گل سے حال زار بلبل کا پڑے تھے باغ میں یک مشت پر ادھر اشارت کی جلایا جس تجلی جلوہ گر نے طور کو ہم دم اسی آتش کے پر کالے نے ہم سے بھی شرارت کی نزاکت کیا کہوں خورشید رو کی کل شب ماہ میں گیا تھا سائے سائے باغ تک تس پر حرارت کی نظر سے جس کی یوسف سا گیا پھروں اس کا کو کیا سوچھے حقیقت کچھ نہ پوچھو بو پیرہن کی بصارت کی تری کوچے کے شوق توف میں جیسے بگولا تھا شایاں میں غبار میر کی ہم نے زیارت کی

Meer Taqi Meer

0 likes

مہر کی تجھ سے توقع تھی ستم گر نکلا موم سمجھے تھے تری دل کو سو پتھر نکلا داغ ہوں رشک محبت سے کہ اتنا بیتاب ک سے کی تسکین کے لیے گھر سے تو باہر نکلا جیتے جی آہ تری کوچے سے کوئی لگ پھرا جو ستم دیدہ رہا جا کے سو مر کر نکلا دل کی آبا گرا کی ا سے حد ہے خرابی کہ لگ پوچھ جانا جاتا ہے کہ ا سے راہ سے لشکر نکلا خوشی تر قطرہ خوں لخت ج گر پارہ دل ایک سے ایک عدد آنکھ سے بہ کر نکلا کنج کاوی جو کی سینے کی غم ہجراں نے ا سے دفینے ہے وہ ہے وہ سے اقسام جواہر نکلا ہم نے جانا تھا لکھے گا تو کوئی حرف اے میر پر ترا نامہ تو اک شوق کا دفترون نکلا

Meer Taqi Meer

0 likes

سرگرم وفا ہوں ہر چند کہ جلتا ہوں پہ ہنر عشق ہوں آتے ہیں مجھے خوب سے دونوں گلشن دنیا رونے کے تئیں آندھی ہوں کڑھنے کو بلا ہوں ا سے غنچہ افسردہ ہے وہ ہے وہ شگفتہ لگ ہوا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہوں مردود صبا کہ خاک سر راہ ہوں فت لگ انگیزی ہے ہر آبلا پا کا میرا خوشی از ب سے کہ تری راہ ہے وہ ہے وہ آنکھوں سے چلا ہوں آیا کوئی بھی طرح مری چین کی ہوں گی آزردہ ہوں جینے سے ہے وہ ہے وہ مرنے سے خفا ہوں دامن لگ جھٹک ہاتھ سے مری کہ ستم گر ہوں منتظر روز جزا کوئی دم ہے وہ ہے وہ ہوا ہوں دل خواہ جلا اب تو مجھے اے شب ہجراں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سوختہ بھی طاقت و آرام و خور و خواب ہوں گو بحر چیز گئے سب بارے یہ غنیمت ہے کہ جیتا تو رہا ہوں اتنا ہی مجھے علم ہے کچھ ہے وہ ہے وہ ہوں سمے دعا معلوم نہیں خوب مجھے بھی کہ ہے وہ ہے وہ کیا ہوں بہتر ہے غرض خموشی ہی کہنے سے یاراں مت پوچھو کچھ احوال کہ مر مر کے زیا ہوں تب حال تہی دستی کہنے لگا ہوں ہے وہ ہے وہ کہ اک عمر جوں شمع سر شام سے تا صبح جلا ہوں سینا تو کیا فضل الہی سے

Meer Taqi Meer

0 likes

مر مر گئے نظر کر ا سے کے برہ لگ تن ہے وہ ہے وہ ہے وہ کپڑے اتارے ان نے سر کھینچے ہم کفن ہے وہ ہے وہ ہے وہ گل پھول سے کب ا سے بن لگتی ہیں اپنی آنکھیں لائی بہار ہم کو زور آوری چمن ہے وہ ہے وہ ہے وہ اب کہکشاں نو خط ا سے کے کم بخشتے ہیں فرحت قوت ک ہاں رہے ہے یاقوتی کہن ہے وہ ہے وہ ہے وہ یوسف عزیز دل جا مصر ہے وہ ہے وہ ہوا تھا پاکیزہ گوہروں کی عزت نہیں وطن ہے وہ ہے وہ ہے وہ دیر و حرم سے تو تو ٹک گرم ناز نکلا ہنگامہ ہوں رہا ہے اب شیخ و برہمن ہے وہ ہے وہ ہے وہ آ جاتے شہر ہے وہ ہے وہ تو چنو کہ آندھی آئی کیا وحشتیں کیا ہیں ہم نے دیوا لگ پن ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہیں گھاو دل پر اپنے تیغ زبان سے سب کی تب درد ہے ہمارے اے میر ہر سخن ہے وہ ہے وہ

Meer Taqi Meer

0 likes

کیا مری آنے پہ تو اے بت مغرور گیا تو کبھی ا سے راہ سے نکلا تو تجھے گھور گیا تو لے گیا تو صبح کے نزدیک مجھے خواب اے وائے آنکھ ا سے سمے کھلی قافلہ جب دور گیا تو گور سے نالے نہیں اٹھتے تو نے اگتی ہے جی گیا تو پر لگ ہمارا سر پر شور گیا تو چشم خون بستہ سے کل رات لہو پھروں ٹپکا ہم نے جانا تھا کہ ب سے اب تو یہ ناسور گیا تو نا توان ہم ہیں کہ ہیں خاک گلی کی ا سے کی اب تو موج خیز سے دل کا بھی مقدور گیا تو لے کہی منا پہ نقاب اپنے کہ اے رقص شرار غم شمع کے چہرہ رخشاں سے تو اب نور گیا تو نالہ میر نہیں رات سے سنتے ہم لوگ کیا تری کوچے سے اے شوخ حقیقت رنجور گیا تو

Meer Taqi Meer

0 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Meer Taqi Meer.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Meer Taqi Meer's ghazal.