ghazalKuch Alfaaz

مر مر گئے نظر کر ا سے کے برہ لگ تن ہے وہ ہے وہ ہے وہ کپڑے اتارے ان نے سر کھینچے ہم کفن ہے وہ ہے وہ ہے وہ گل پھول سے کب ا سے بن لگتی ہیں اپنی آنکھیں لائی بہار ہم کو زور آوری چمن ہے وہ ہے وہ ہے وہ اب کہکشاں نو خط ا سے کے کم بخشتے ہیں فرحت قوت ک ہاں رہے ہے یاقوتی کہن ہے وہ ہے وہ ہے وہ یوسف عزیز دل جا مصر ہے وہ ہے وہ ہوا تھا پاکیزہ گوہروں کی عزت نہیں وطن ہے وہ ہے وہ ہے وہ دیر و حرم سے تو تو ٹک گرم ناز نکلا ہنگامہ ہوں رہا ہے اب شیخ و برہمن ہے وہ ہے وہ ہے وہ آ جاتے شہر ہے وہ ہے وہ تو چنو کہ آندھی آئی کیا وحشتیں کیا ہیں ہم نے دیوا لگ پن ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہیں گھاو دل پر اپنے تیغ زبان سے سب کی تب درد ہے ہمارے اے میر ہر سخن ہے وہ ہے وہ

Related Ghazal

یہی اپنی کہانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے حقیقت لڑکی جاں ہماری تھی میاں پہلے بے حد پہلے وہم مجھ کو یہ بھاتا ہے,अभी مری دیوانی ہے م گر مری دیوانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے رقیب آ کر بتاتے ہیں ی ہاں تل ہے و ہاں تل ہے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ جانکاری تھی میاں پہلے بے حد پہلے ادب سے مانگ کر مافی بھری محفل یہ کہتا ہوں حقیقت لڑکی خاندانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے

Anand Raj Singh

526 likes

یہ غم کیا دل کی عادت ہے نہیں تو کسی سے کچھ شکایت ہے نہیں تو ہے حقیقت اک خواب بے تعبیر ا سے کو بھلا دینے کی نیت ہے نہیں تو کسی کے بن کسی کی یاد کے بن جیے جانے کی ہمت ہے نہیں تو کسی صورت بھی دل لگتا نہیں ہاں تو کچھ دن سے یہ حالت ہے نہیں تو تری ا سے حال پر ہے سب کو حیرت تجھے بھی ا سے پہ حیرت ہے نہیں تو ہم آہنگی نہیں دنیا سے تیری تجھے ا سے پر ندامت ہے نہیں تو ہوا جو کچھ یہی مقسوم تھا کیا یہی ساری مقسوم ہے نہیں تو اذیت ناک اذیت ناک سے تجھ کو اماں پانے کی حسرت ہے نہیں تو تو رہتا ہے خیال و خواب ہے وہ ہے وہ گم تو ا سے کی وجہ فرصت ہے نہیں تو سبب جو ا سے جدائی کا بنا ہے حقیقت مجھ سے خوبصورت ہے نہیں تو

Jaun Elia

355 likes

اسی جگہ پر ج ہاں کئی راستے ملیںگے پلٹ کے آئی تو سب سے پہلے تجھے ملیںگے ا گر کبھی تری نام پر جنگ ہوں گئی تو ہم ایسے بزدل بھی پہلی صف ہے وہ ہے وہ کھڑے ملیںگے تجھے یہ سڑکیں مری توسط سے جانتی ہیں تجھے ہمیشہ یہ سب اشارے کھلے ملیںگے

Tehzeeb Hafi

465 likes

کیوں ڈریں زندگی ہے وہ ہے وہ کیا ہوگا کچھ لگ ہوگا تو غضب ہوگا ہنستی آنکھوں ہے وہ ہے وہ جھانک کر دیکھو کوئی آنسو کہی چھپا ہوگا ان دنوں نا امید سا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ شاید ا سے نے بھی یہ سنا ہوگا دیکھ کر جاناں کو سوچتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیا کسی نے تمہیں چھوا ہوگا

Javed Akhtar

371 likes

مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ورنا قدرت کا لکھا ہوا کاٹتا تری حصے ہے وہ ہے وہ آئی برے دن کوئی دوسرا کاٹتا لاریوں سے زیادہ بہاؤ تھا تری ہر اک لفظ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اشارہ نہیں کاٹ سکتا تیری بات کیا کاٹتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے بھی زندگی اور شب اے ہجر کاٹی ہے سب کی طرح ویسے بہتر تو یہ تھا کے ہے وہ ہے وہ کم سے کم کچھ نیا کاٹتا تری ہوتے ہوئے موم بتی بجھائی کسی اور نے کیا خوشی رہ گئی تھی جنم دن کی ہے وہ ہے وہ کیک کیا کاٹتا کوئی بھی تو نہیں جو مری بھوکے رہنے پہ ناراض ہوں جیل ہے وہ ہے وہ تیری تصویر ہوتی تو ہنسکر سزا کاٹتا

Tehzeeb Hafi

456 likes

More from Meer Taqi Meer

کب تلک یہ ستم اٹھائیےگا ایک دن یوںہی جی سے جائیےگا شکل تصویر بے خو گرا کب تک کسو دن آپ ہے وہ ہے وہ بھی آئیے گا سب سے مل چل کہ حادثے سے پھروں کہی ڈھونڈا بھی تو لگ پائیےگا لگ صید نا توان ہم اسیری ہے وہ ہے وہ تو نسیم گلزار ناز کوئی دن اور باو کھائیےگا کہیےگا ا سے سے قصہ مجنوں زبان پردے ہے وہ ہے وہ غم سنائیےگا ا سے کے پا بو سے کی توقع پر اپنے تیں خاک ہے وہ ہے وہ ملائیےگا ا سے کے پاؤں کو جا لگی ہے حنا خوب سے ہاتھ اسے لگائیےگا شرکت شیخ و برہمن سے میر جلوہ رعنائی سے بھی جائیےگا اپنی ڈیڑھ اینٹ کی ج گرا مسجد کسی ویرانے ہے وہ ہے وہ بنائیےگا

Meer Taqi Meer

1 likes

تنگ آئی ہیں دل ا سے جی سے اٹھا بیٹھیں گے بھوکوں مرتے ہیں کچھ اب یار بھی کھا بیٹھیں گے اب کے بگڑےگی ا گر ان سے تو ا سے شہر سے جا کسو ویرانے ہے وہ ہے وہ تکیہ ہی بنا بیٹھیں گے معرکہ گرم تو ٹک ہونے دو خوں ریزی کا پہلے تلوار کے نیچے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ جا بیٹھیں گے ہوگا ایسا بھی کوئی روز کہ مجل سے سے کبھو ہم تو ایک آدھ گھڑی اٹھ کے جدا بیٹھیں گے جا لگ اظہار محبت پہ ہوسناکو کی سمے کے سمے یہ سب منا کو چھپا بیٹھیں گے دیکھیں حقیقت غیرت خورشید ک ہاں جاتا ہے اب سر راہ دم صبح سے آ بیٹھیں گے بھیڑ ٹلتی ہی نہیں آگے سے ا سے ظالم کے گردنیں یار کسی روز کٹا بیٹھیں گے کب تلک گلیوں ہے وہ ہے وہ سودائی سے پھرتے رہیے دل کو ا سے زلف مسلسل سے لگا بیٹھیں گے شعلہ افشاں ا گر ایسی ہی رہی آہ تو میر گھر کو ہم اپنے کسو رات جلا بیٹھیں گے

Meer Taqi Meer

1 likes

ک سے حسن سے ک ہوں ہے وہ ہے وہ ا سے کی خوش اختری کی ا سے ماہ رو کے آگے کیا تاب مشتری کی رکھنا لگ تھا قدم یاں جوں بعد بے تامل سیر ا سے ج ہاں کی رہرو پر تو نے بچھڑنا کی شبہ بحال سگ ہے وہ ہے وہ اک عمر صرف کی ہے مت پوچھ ان نے مجھ سے جو آدمی گری کی پائے گل ا سے چمن ہے وہ ہے وہ چھوڑا گیا تو لگ ہم سے سر پر ہمارے اب کے بد دعا ہے ب پری کی پیشہ تو ایک ہی تھا ا سے کا ہمارا لیکن مجنوں کے تالوں نے شہرت ہے وہ ہے وہ یاوری کی گریے سے حرف زن تازہ ہوئے ہیں سارے یہ کشت خشک تو نے اے چشم پھروں خا لگ وحدت پسند کی یہ دور تو موافق ہوتا نہیں م گر اب رکھیے بنا تازہ ا سے چرخ چنبری کی خوباں تمہاری خوبی تا چند نقل کریے ہم رنجا خاطروں کی کیا خوب دل بری کی ہم سے جو میر اڑ کر افلاک چرخ ہے وہ ہے وہ ہیں ان خاک ہے وہ ہے وہ ملوں کی کاہے کو ہمسری کی

Meer Taqi Meer

0 likes

خط لکھ کے کوئی سادہ لگ ا سے کو ملول ہوں ہم تو ہوں بد گمان جو قاصد رسول ہوں چا ہوں تو بھر کے کولی اٹھا لوں ابھی تمہیں کیسے ہی بھاری ہوں مری آگے تو پھول ہوں سرمہ جو نور بخشی ہے آنکھوں کو خلق کی شاید کہ راہ یار کی ہی خاک دھول ہوں جاویں نثار ہونے کو ہم ک سے بسات پر اک نیم جاں رکھیں ہیں سو حقیقت جب قبول ہوں ہم ان دنوں ہے وہ ہے وہ لگ نہیں پڑتے ہیں صبح و شام ور لگ دعا کریں تو جو چاہیں حصول ہوں دل لے کے افلاطون دہلی کے کب کا پچا گئے اب ان سے کھائی پی ہوئی اجازت کیا وصول ہوں ناکام ا سے لیے ہوں کہ چاہو ہوں سب کچھ آج جاناں بھی تو میر صاحب و قبلہ اجول ہوں

Meer Taqi Meer

0 likes

کیا کہی اپنی ا سے کی شب کی بات کہیے ہووے جو کچھ بھی ڈھب کی بات اب تو چپ لگ گئی ہے حیرت سے پھروں کھلےگی زبان جب کی بات نکتہ دانان رفتہ کی لگ کہو بات حقیقت ہے جو ہووے اب کی بات ک سے کا خار غم الفت نہیں ہے ادھر ہے نظر ہے وہ ہے وہ ہماری سب کی بات ظلم ہے قہر ہے خوشگوار ہے نبھائیے ہے وہ ہے وہ ا سے کے زیر لب کی بات کہتے ہیں آگے تھا بتوں ہے وہ ہے وہ رحم ہے خدا جانیے یہ کب کی بات گو کہ آتش زبان تھے آگے میر اب کی کہیے گئی حقیقت تب کی بات

Meer Taqi Meer

1 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Meer Taqi Meer.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Meer Taqi Meer's ghazal.