ghazalKuch Alfaaz

کیا کہی اپنی ا سے کی شب کی بات کہیے ہووے جو کچھ بھی ڈھب کی بات اب تو چپ لگ گئی ہے حیرت سے پھروں کھلےگی زبان جب کی بات نکتہ دانان رفتہ کی لگ کہو بات حقیقت ہے جو ہووے اب کی بات ک سے کا خار غم الفت نہیں ہے ادھر ہے نظر ہے وہ ہے وہ ہماری سب کی بات ظلم ہے قہر ہے خوشگوار ہے نبھائیے ہے وہ ہے وہ ا سے کے زیر لب کی بات کہتے ہیں آگے تھا بتوں ہے وہ ہے وہ رحم ہے خدا جانیے یہ کب کی بات گو کہ آتش زبان تھے آگے میر اب کی کہیے گئی حقیقت تب کی بات

Related Ghazal

یہی اپنی کہانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے حقیقت لڑکی جاں ہماری تھی میاں پہلے بے حد پہلے وہم مجھ کو یہ بھاتا ہے,अभी مری دیوانی ہے م گر مری دیوانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے رقیب آ کر بتاتے ہیں ی ہاں تل ہے و ہاں تل ہے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ جانکاری تھی میاں پہلے بے حد پہلے ادب سے مانگ کر مافی بھری محفل یہ کہتا ہوں حقیقت لڑکی خاندانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے

Anand Raj Singh

526 likes

مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ورنا قدرت کا لکھا ہوا کاٹتا تری حصے ہے وہ ہے وہ آئی برے دن کوئی دوسرا کاٹتا لاریوں سے زیادہ بہاؤ تھا تری ہر اک لفظ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اشارہ نہیں کاٹ سکتا تیری بات کیا کاٹتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے بھی زندگی اور شب اے ہجر کاٹی ہے سب کی طرح ویسے بہتر تو یہ تھا کے ہے وہ ہے وہ کم سے کم کچھ نیا کاٹتا تری ہوتے ہوئے موم بتی بجھائی کسی اور نے کیا خوشی رہ گئی تھی جنم دن کی ہے وہ ہے وہ کیک کیا کاٹتا کوئی بھی تو نہیں جو مری بھوکے رہنے پہ ناراض ہوں جیل ہے وہ ہے وہ تیری تصویر ہوتی تو ہنسکر سزا کاٹتا

Tehzeeb Hafi

456 likes

کیوں ڈریں زندگی ہے وہ ہے وہ کیا ہوگا کچھ لگ ہوگا تو غضب ہوگا ہنستی آنکھوں ہے وہ ہے وہ جھانک کر دیکھو کوئی آنسو کہی چھپا ہوگا ان دنوں نا امید سا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ شاید ا سے نے بھی یہ سنا ہوگا دیکھ کر جاناں کو سوچتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیا کسی نے تمہیں چھوا ہوگا

Javed Akhtar

371 likes

یہ غم کیا دل کی عادت ہے نہیں تو کسی سے کچھ شکایت ہے نہیں تو ہے حقیقت اک خواب بے تعبیر ا سے کو بھلا دینے کی نیت ہے نہیں تو کسی کے بن کسی کی یاد کے بن جیے جانے کی ہمت ہے نہیں تو کسی صورت بھی دل لگتا نہیں ہاں تو کچھ دن سے یہ حالت ہے نہیں تو تری ا سے حال پر ہے سب کو حیرت تجھے بھی ا سے پہ حیرت ہے نہیں تو ہم آہنگی نہیں دنیا سے تیری تجھے ا سے پر ندامت ہے نہیں تو ہوا جو کچھ یہی مقسوم تھا کیا یہی ساری مقسوم ہے نہیں تو اذیت ناک اذیت ناک سے تجھ کو اماں پانے کی حسرت ہے نہیں تو تو رہتا ہے خیال و خواب ہے وہ ہے وہ گم تو ا سے کی وجہ فرصت ہے نہیں تو سبب جو ا سے جدائی کا بنا ہے حقیقت مجھ سے خوبصورت ہے نہیں تو

Jaun Elia

355 likes

تیری مشکل لگ چھپاؤں گا چلا جاؤں گا خوشی آنکھوں ہے وہ ہے وہ آؤں گا چلا جاؤں گا اپنی دہلیز پہ کچھ دیر پڑا رہنے دے چنو ہی ہوش ہے وہ ہے وہ لگاؤں گا چلا جاؤں گا خواب لینے کوئی آئی کہ لگ آئی کوئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو آواز رلاؤں گا چلا جاؤں گا چند یادیں مجھے بچوں کی طرح پیاری ہیں ان کو سینے سے لگاؤں گا چلا جاؤں گا مدتوں بعد ہے وہ ہے وہ آیا ہوں پرانی گھر ہے وہ ہے وہ ہے وہ خود کو جی بھر کے نیت شوق چلا جاؤں گا ا سے جزیرے ہے وہ ہے وہ زیادہ نہیں رہنا اب تو آجکل ناو بناؤں گا چلا جاؤں گا تہذیب کی طرح لوٹ کے آؤںگا حسن ہر طرف پھول کھلاؤں گا چلا جاؤں گا

Hasan Abbasi

235 likes

More from Meer Taqi Meer

یوں ہی حیران و خفا جو باد سبک شاہد مقصود ہوں عمر گزری پر لگ جانا ہے وہ ہے وہ کہ کیوں کانپتا ہوں اتنی باتیں مت بنا مجھ شیفتے سے ناصحا مفسر کے جائیں گے نہیں ہے وہ ہے وہ قابل زنجیر ہوں سرخ رہتی ہیں مری آنکھیں لہو رونے سے شیخ مے ا گر ثابت ہوں مجھ پر واجب ال تعزیر ہوں نے فلک پر راہ مجھ کو نے ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ پر رو مجھے ایسے ک سے محروم کا ہے وہ ہے وہ شور بے تاثیر ہوں جو باد سبک کماں گرچہ خمیدہ ہوں پہ چھوٹا اور وہیں ا سے کے کوچے کی طرف چلنے کو یاروں تیر ہوں جو مری حصے ہے وہ ہے وہ آوے تیغ جمدھر سیل و کارد یہ تماشا کردنی ہے کہ ہے وہ ہے وہ ہی کشتہ شمشیر ہوں کھول کر دیوان میرا دیکھ قدرت مدعی گرچہ ہوں ہے وہ ہے وہ نوجوان پر شاعروں کا پیر ہوں یوں سعادت ایک جمدھر مجھ کو بھی گزاریے خزاں کیجے تو ہے وہ ہے وہ تو قاف یوں بے تقصیر ہوں ا سے دودمان بے ننگ خبتوں کو نصیحت شیخ جی باز آؤ ور لگ اپنے نام کو ہے وہ ہے وہ میر ہوں

Meer Taqi Meer

0 likes

शिकवा करूँँ मैं कब तक उस अपने मेहरबाँ का अल-क़िस्सा रफ़्ता रफ़्ता दुश्मन हुआ है जाँ का गिर्ये पे रंग आया क़ैद-ए-क़फ़स से शायद ख़ूँ हो गया जिगर में अब दाग़ गुल्सिताँ का ले झाड़ू टोकरा ही आता है सुब्ह होते जारूब-कश मगर है ख़ुर्शीद उस के हाँ का दी आग रंग-ए-गुल ने वाँ ऐ सबा चमन को याँ हम जले क़फ़स में सुन हाल आशियाँ का हर सुब्ह मेरे सर पर इक हादिसा नया है पैवंद हो ज़मीं का शेवा इस आसमाँ का इन सैद-अफ़गनों का क्या हो शिकार कोई होता नहीं है आख़िर काम उन के इम्तिहाँ का तब तो मुझे किया था तीरों से सैद अपना अब करते हैं निशाना हर मेरे उस्तुख़्वाँ का फ़ितराक जिस का अक्सर लोहू में तर रहे है वो क़स्द कब करे है इस सैद-ए-नातवाँ का कम-फ़ुर्सती जहाँ के मज में' की कुछ न पूछो अहवाल क्या कहूँ मैं इस मजलिस-ए-रवाँ का सज्दा करें हैं सुन कर औबाश सारे उस को सय्यद पिसर वो प्यारा हैगा इमाम बाँका ना-हक़ शनासी है ये ज़ाहिद न कर बराबर ताअ'त से सौ बरस की सज्दा उस आस्ताँ का हैं दश्त अब ये जीते बस्ते थे शहर सारे वीरान-ए-कुहन है मामूरा इस जहाँ का जिस दिन कि उस के मुँह से बुर्क़ा उठेगा सुनियो उस रोज़ से जहाँ में ख़ुर्शीद फिर न झाँका ना-हक़ ये ज़ुल्म करना इंसाफ़ कह पियारे है कौन सी जगह का किस शहर का कहाँ का सौदाई हो तो रक्खे बाज़ार-ए-इश्क़ में पा सर मुफ़्त बेचते हैं ये कुछ चलन है वाँ का सौ गाली एक चश्मक इतना सुलूक तो है औबाश ख़ाना जंग उस ख़ुश-चश्म बद-ज़बाँ का या रोए या रुलाया अपनी तो यूँँ ही गुज़री क्या ज़िक्र हम-सफ़ीराँ यारान-ए-शादमाँ का क़ैद-ए-क़फ़स में हैं तो ख़िदमत है नालगी की गुलशन में थे तो हम को मंसब था रौज़ा-ख़्वाँ का पूछो तो 'मीर' से क्या कोई नज़र पड़ा है चेहरा उतर रहा है कुछ आज उस जवाँ का

Meer Taqi Meer

0 likes

خط لکھ کے کوئی سادہ لگ ا سے کو ملول ہوں ہم تو ہوں بد گمان جو قاصد رسول ہوں چا ہوں تو بھر کے کولی اٹھا لوں ابھی تمہیں کیسے ہی بھاری ہوں مری آگے تو پھول ہوں سرمہ جو نور بخشی ہے آنکھوں کو خلق کی شاید کہ راہ یار کی ہی خاک دھول ہوں جاویں نثار ہونے کو ہم ک سے بسات پر اک نیم جاں رکھیں ہیں سو حقیقت جب قبول ہوں ہم ان دنوں ہے وہ ہے وہ لگ نہیں پڑتے ہیں صبح و شام ور لگ دعا کریں تو جو چاہیں حصول ہوں دل لے کے افلاطون دہلی کے کب کا پچا گئے اب ان سے کھائی پی ہوئی اجازت کیا وصول ہوں ناکام ا سے لیے ہوں کہ چاہو ہوں سب کچھ آج جاناں بھی تو میر صاحب و قبلہ اجول ہوں

Meer Taqi Meer

0 likes

تنگ آئی ہیں دل ا سے جی سے اٹھا بیٹھیں گے بھوکوں مرتے ہیں کچھ اب یار بھی کھا بیٹھیں گے اب کے بگڑےگی ا گر ان سے تو ا سے شہر سے جا کسو ویرانے ہے وہ ہے وہ تکیہ ہی بنا بیٹھیں گے معرکہ گرم تو ٹک ہونے دو خوں ریزی کا پہلے تلوار کے نیچے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ جا بیٹھیں گے ہوگا ایسا بھی کوئی روز کہ مجل سے سے کبھو ہم تو ایک آدھ گھڑی اٹھ کے جدا بیٹھیں گے جا لگ اظہار محبت پہ ہوسناکو کی سمے کے سمے یہ سب منا کو چھپا بیٹھیں گے دیکھیں حقیقت غیرت خورشید ک ہاں جاتا ہے اب سر راہ دم صبح سے آ بیٹھیں گے بھیڑ ٹلتی ہی نہیں آگے سے ا سے ظالم کے گردنیں یار کسی روز کٹا بیٹھیں گے کب تلک گلیوں ہے وہ ہے وہ سودائی سے پھرتے رہیے دل کو ا سے زلف مسلسل سے لگا بیٹھیں گے شعلہ افشاں ا گر ایسی ہی رہی آہ تو میر گھر کو ہم اپنے کسو رات جلا بیٹھیں گے

Meer Taqi Meer

1 likes

ک سے حسن سے ک ہوں ہے وہ ہے وہ ا سے کی خوش اختری کی ا سے ماہ رو کے آگے کیا تاب مشتری کی رکھنا لگ تھا قدم یاں جوں بعد بے تامل سیر ا سے ج ہاں کی رہرو پر تو نے بچھڑنا کی شبہ بحال سگ ہے وہ ہے وہ اک عمر صرف کی ہے مت پوچھ ان نے مجھ سے جو آدمی گری کی پائے گل ا سے چمن ہے وہ ہے وہ چھوڑا گیا تو لگ ہم سے سر پر ہمارے اب کے بد دعا ہے ب پری کی پیشہ تو ایک ہی تھا ا سے کا ہمارا لیکن مجنوں کے تالوں نے شہرت ہے وہ ہے وہ یاوری کی گریے سے حرف زن تازہ ہوئے ہیں سارے یہ کشت خشک تو نے اے چشم پھروں خا لگ وحدت پسند کی یہ دور تو موافق ہوتا نہیں م گر اب رکھیے بنا تازہ ا سے چرخ چنبری کی خوباں تمہاری خوبی تا چند نقل کریے ہم رنجا خاطروں کی کیا خوب دل بری کی ہم سے جو میر اڑ کر افلاک چرخ ہے وہ ہے وہ ہیں ان خاک ہے وہ ہے وہ ملوں کی کاہے کو ہمسری کی

Meer Taqi Meer

0 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Meer Taqi Meer.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Meer Taqi Meer's ghazal.