ghazalKuch Alfaaz

शिकवा करूँँ मैं कब तक उस अपने मेहरबाँ का अल-क़िस्सा रफ़्ता रफ़्ता दुश्मन हुआ है जाँ का गिर्ये पे रंग आया क़ैद-ए-क़फ़स से शायद ख़ूँ हो गया जिगर में अब दाग़ गुल्सिताँ का ले झाड़ू टोकरा ही आता है सुब्ह होते जारूब-कश मगर है ख़ुर्शीद उस के हाँ का दी आग रंग-ए-गुल ने वाँ ऐ सबा चमन को याँ हम जले क़फ़स में सुन हाल आशियाँ का हर सुब्ह मेरे सर पर इक हादिसा नया है पैवंद हो ज़मीं का शेवा इस आसमाँ का इन सैद-अफ़गनों का क्या हो शिकार कोई होता नहीं है आख़िर काम उन के इम्तिहाँ का तब तो मुझे किया था तीरों से सैद अपना अब करते हैं निशाना हर मेरे उस्तुख़्वाँ का फ़ितराक जिस का अक्सर लोहू में तर रहे है वो क़स्द कब करे है इस सैद-ए-नातवाँ का कम-फ़ुर्सती जहाँ के मज में' की कुछ न पूछो अहवाल क्या कहूँ मैं इस मजलिस-ए-रवाँ का सज्दा करें हैं सुन कर औबाश सारे उस को सय्यद पिसर वो प्यारा हैगा इमाम बाँका ना-हक़ शनासी है ये ज़ाहिद न कर बराबर ताअ'त से सौ बरस की सज्दा उस आस्ताँ का हैं दश्त अब ये जीते बस्ते थे शहर सारे वीरान-ए-कुहन है मामूरा इस जहाँ का जिस दिन कि उस के मुँह से बुर्क़ा उठेगा सुनियो उस रोज़ से जहाँ में ख़ुर्शीद फिर न झाँका ना-हक़ ये ज़ुल्म करना इंसाफ़ कह पियारे है कौन सी जगह का किस शहर का कहाँ का सौदाई हो तो रक्खे बाज़ार-ए-इश्क़ में पा सर मुफ़्त बेचते हैं ये कुछ चलन है वाँ का सौ गाली एक चश्मक इतना सुलूक तो है औबाश ख़ाना जंग उस ख़ुश-चश्म बद-ज़बाँ का या रोए या रुलाया अपनी तो यूँँ ही गुज़री क्या ज़िक्र हम-सफ़ीराँ यारान-ए-शादमाँ का क़ैद-ए-क़फ़स में हैं तो ख़िदमत है नालगी की गुलशन में थे तो हम को मंसब था रौज़ा-ख़्वाँ का पूछो तो 'मीर' से क्या कोई नज़र पड़ा है चेहरा उतर रहा है कुछ आज उस जवाँ का

Related Ghazal

چلا ہے سلسلہ کیسا یہ راتوں کو منانے کا تمہیں حق دے دیا ک سے نے دیوں کے دل دکھانے کا ارادہ چھوڑیے اپنی حدوں سے دور جانے کا زما لگ ہے زمانے کی نگا ہوں ہے وہ ہے وہ لگ آنے کا ک ہاں کی دوستی کن دوستوں کی بات کرتے ہوں میاں دشمن نہیں ملتا کوئی اب تو ٹھکانے کا نگا ہوں ہے وہ ہے وہ کوئی بھی دوسرا چہرہ نہیں آیا بھروسا ہی کچھ ایسا تھا تمہارے لوٹ آنے کا یہ ہے وہ ہے وہ ہی تھا بچا کے خود کو لے آیا کنارے تک سمندر نے بے حد موقع دیا تھا ڈوب جانے کا

Waseem Barelvi

103 likes

مری لیے تو عشق کا وعدہ ہے شاعری آدھا سرور جاناں ہوں تو آدھا ہے شاعری رودراکش ہاتھ ہے وہ ہے وہ ہے تو سینے ہے وہ ہے وہ اوم ہے اندھیرا ہے میرا دل مری رادھا ہے شاعری اپنا تو میل جول ہی ب سے عاشقوں سے ہے درویش کا ب سے ایک لبادہ ہے شاعری ہوں آشنا کوئی تو مہ لقا ہے اپنا رنگ بے رموزیوں کے واسطے سادہ ہے شاعری جاناں سامنے ہوں اور مری دسترسی ہے وہ ہے وہ ہوں ا سے سمے مری دل کا ارادہ ہے شاعری بھگوان ہوں خدا ہوں محبت ہوں یا بدن ج سے سمت بھی چلو یہی زادہ ہے شاعری ا سے لیے بھی عشق ہی لکھتا ہوں ہے وہ ہے وہ علی میرا کسی سے آخری وعدہ ہے شاعری

Ali Zaryoun

70 likes

ستم ڈھاتے ہوئے سوچا کروگے ہمارے ساتھ جاناں ایسا کروگے انگوٹھی تو مجھے لوٹا رہے ہوں انگوٹھی کے نشان کا کیا کروگے ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے اب تمنائیں بھی نہیں ہوں تو کیا ا سے بات پر جھگڑا کروگے میرا دامن تمہیں تھامے ہوئے ہوں میرا دامن تمہیں میلا کروگے بتاؤ وعدہ کر کے آوگے نا کے پچھلی بار کے جیسا کروگے حقیقت دلہن بن کے رخصت ہوں گئی ہے ک ہاں تک کار کا پیچھا کروگے مجھے ب سے یوں ہی جاناں سے پوچھنا تھا ا گر ہے وہ ہے وہ مر گیا تو تو کیا کروگے

Zubair Ali Tabish

140 likes

شور کروں گا اور لگ کچھ بھی بولوںگا خموشی سے اپنا رونا رو لوں گا ساری عمر اسی خواہش ہے وہ ہے وہ گزری ہے دستک ہوں گی اور دروازہ کھولوںگا تنہائی ہے وہ ہے وہ خود سے باتیں کرنی ہیں مری منا ہے وہ ہے وہ جو آئےگا بولوںگا رات بے حد ہے جاناں چاہو تو سو جاؤ میرا کیا ہے ہے وہ ہے وہ دن ہے وہ ہے وہ بھی سو لوں گا جاناں کو دل کی بات بتانی ہے لیکن آنکھیں بند کروں تو مٹھی کھولوںگا

Tehzeeb Hafi

84 likes

مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ورنا قدرت کا لکھا ہوا کاٹتا تری حصے ہے وہ ہے وہ آئی برے دن کوئی دوسرا کاٹتا لاریوں سے زیادہ بہاؤ تھا تری ہر اک لفظ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اشارہ نہیں کاٹ سکتا تیری بات کیا کاٹتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے بھی زندگی اور شب اے ہجر کاٹی ہے سب کی طرح ویسے بہتر تو یہ تھا کے ہے وہ ہے وہ کم سے کم کچھ نیا کاٹتا تری ہوتے ہوئے موم بتی بجھائی کسی اور نے کیا خوشی رہ گئی تھی جنم دن کی ہے وہ ہے وہ کیک کیا کاٹتا کوئی بھی تو نہیں جو مری بھوکے رہنے پہ ناراض ہوں جیل ہے وہ ہے وہ تیری تصویر ہوتی تو ہنسکر سزا کاٹتا

Tehzeeb Hafi

456 likes

More from Meer Taqi Meer

خرابی کچھ نہ پوچھو ملکت دل کی عمارت کی غموں نے آج کل سنیو وہ آبادی ہی غارت کی نگاہ مست سے جب چشم نے اس کا کی اشارت کی حلاوت مے کی اور بنیاد مےخانے کی غارت کی سحر گہ میں نے پوچھا گل سے حال زار بلبل کا پڑے تھے باغ میں یک مشت پر ادھر اشارت کی جلایا جس تجلی جلوہ گر نے طور کو ہم دم اسی آتش کے پر کالے نے ہم سے بھی شرارت کی نزاکت کیا کہوں خورشید رو کی کل شب ماہ میں گیا تھا سائے سائے باغ تک تس پر حرارت کی نظر سے جس کی یوسف سا گیا پھروں اس کا کو کیا سوچھے حقیقت کچھ نہ پوچھو بو پیرہن کی بصارت کی تری کوچے کے شوق توف میں جیسے بگولا تھا شایاں میں غبار میر کی ہم نے زیارت کی

Meer Taqi Meer

0 likes

مہر کی تجھ سے توقع تھی ستم گر نکلا موم سمجھے تھے تری دل کو سو پتھر نکلا داغ ہوں رشک محبت سے کہ اتنا بیتاب ک سے کی تسکین کے لیے گھر سے تو باہر نکلا جیتے جی آہ تری کوچے سے کوئی لگ پھرا جو ستم دیدہ رہا جا کے سو مر کر نکلا دل کی آبا گرا کی ا سے حد ہے خرابی کہ لگ پوچھ جانا جاتا ہے کہ ا سے راہ سے لشکر نکلا خوشی تر قطرہ خوں لخت ج گر پارہ دل ایک سے ایک عدد آنکھ سے بہ کر نکلا کنج کاوی جو کی سینے کی غم ہجراں نے ا سے دفینے ہے وہ ہے وہ سے اقسام جواہر نکلا ہم نے جانا تھا لکھے گا تو کوئی حرف اے میر پر ترا نامہ تو اک شوق کا دفترون نکلا

Meer Taqi Meer

0 likes

سرگرم وفا ہوں ہر چند کہ جلتا ہوں پہ ہنر عشق ہوں آتے ہیں مجھے خوب سے دونوں گلشن دنیا رونے کے تئیں آندھی ہوں کڑھنے کو بلا ہوں ا سے غنچہ افسردہ ہے وہ ہے وہ شگفتہ لگ ہوا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہوں مردود صبا کہ خاک سر راہ ہوں فت لگ انگیزی ہے ہر آبلا پا کا میرا خوشی از ب سے کہ تری راہ ہے وہ ہے وہ آنکھوں سے چلا ہوں آیا کوئی بھی طرح مری چین کی ہوں گی آزردہ ہوں جینے سے ہے وہ ہے وہ مرنے سے خفا ہوں دامن لگ جھٹک ہاتھ سے مری کہ ستم گر ہوں منتظر روز جزا کوئی دم ہے وہ ہے وہ ہوا ہوں دل خواہ جلا اب تو مجھے اے شب ہجراں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سوختہ بھی طاقت و آرام و خور و خواب ہوں گو بحر چیز گئے سب بارے یہ غنیمت ہے کہ جیتا تو رہا ہوں اتنا ہی مجھے علم ہے کچھ ہے وہ ہے وہ ہوں سمے دعا معلوم نہیں خوب مجھے بھی کہ ہے وہ ہے وہ کیا ہوں بہتر ہے غرض خموشی ہی کہنے سے یاراں مت پوچھو کچھ احوال کہ مر مر کے زیا ہوں تب حال تہی دستی کہنے لگا ہوں ہے وہ ہے وہ کہ اک عمر جوں شمع سر شام سے تا صبح جلا ہوں سینا تو کیا فضل الہی سے

Meer Taqi Meer

0 likes

جب رونے بیٹھتا ہوں تب کیا کسر رہے ہے رومال دو دو دن تک جوں ابر تر رہے ہے آہ سحر کی میری برچھی کے رلا سے خورشید کے منہ اوپر 9 سپر رہے ہے آگاہ تو رہیے اس کا کی طرز رہ و روش سے آنے ہے وہ ہے وہ اس کا کے لیکن کس کو خبر رہے ہے ان روزوں اتنی غفلت اچھی نہیں ادھر سے اب اضطراب ہم کو دو دو پہر رہے ہے آب حیات کی سی ساری رویش ہے اس کا کی پر جب حقیقت اٹھ چلے ہے ایک آدھ مر رہے ہے تلوار اب لگا ہے بے ڈول پیچاں پاس رکھنے خون آج کل کسو کا حقیقت شوخ کر رہے ہے در سے کبھو جو آتے دیکھا ہے ہے وہ ہے وہ نے اس کا کو تب سے ادھر ہی 9 میری نظر رہے ہے آخر کہاں تلک ہم اک روز ہوں چکیں گے برسوں سے وعدہ شب ہر صبح پر رہے ہے میر اب بہار آئی صحرا ہے وہ ہے وہ چل جنوں کر کوئی بھی فصل گل ہے وہ ہے وہ نادان گھر رہے ہے

Meer Taqi Meer

0 likes

شب تھا نالاں عزیز کوئی تھا مرغ خوش خواں عزیز کوئی تھا تھی تمہارے ستم کی تاب ا سے تک دل پامال جو یاں عزیز کوئی تھا شب کو ا سے کا خیال تھا دل ہے وہ ہے وہ ہے وہ گھر ہے وہ ہے وہ مہمان عزیز کوئی تھا چاہ بے جا لگ تھی زلیخا کی ماہ کنآں عزیز کوئی تھا اب تو ا سے کی گلی ہے وہ ہے وہ بچھاؤ ہے لیک میر بے جاں عزیز کوئی تھا

Meer Taqi Meer

0 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Meer Taqi Meer.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Meer Taqi Meer's ghazal.