ghazalKuch Alfaaz

شب تھا نالاں عزیز کوئی تھا مرغ خوش خواں عزیز کوئی تھا تھی تمہارے ستم کی تاب ا سے تک دل پامال جو یاں عزیز کوئی تھا شب کو ا سے کا خیال تھا دل ہے وہ ہے وہ ہے وہ گھر ہے وہ ہے وہ مہمان عزیز کوئی تھا چاہ بے جا لگ تھی زلیخا کی ماہ کنآں عزیز کوئی تھا اب تو ا سے کی گلی ہے وہ ہے وہ بچھاؤ ہے لیک میر بے جاں عزیز کوئی تھا

Related Ghazal

ستم ڈھاتے ہوئے سوچا کروگے ہمارے ساتھ جاناں ایسا کروگے انگوٹھی تو مجھے لوٹا رہے ہوں انگوٹھی کے نشان کا کیا کروگے ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے اب تمنائیں بھی نہیں ہوں تو کیا ا سے بات پر جھگڑا کروگے میرا دامن تمہیں تھامے ہوئے ہوں میرا دامن تمہیں میلا کروگے بتاؤ وعدہ کر کے آوگے نا کے پچھلی بار کے جیسا کروگے حقیقت دلہن بن کے رخصت ہوں گئی ہے ک ہاں تک کار کا پیچھا کروگے مجھے ب سے یوں ہی جاناں سے پوچھنا تھا ا گر ہے وہ ہے وہ مر گیا تو تو کیا کروگے

Zubair Ali Tabish

140 likes

ہاتھ خالی ہیں تری شہر سے جاتے جاتے جان ہوتی تو مری جان لٹاتے جاتے اب تو ہر ہاتھ کا پتھر ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ پہچانتا ہے عمر گزری ہے تری شہر ہے وہ ہے وہ آتے جاتے اب کے مایو سے ہوا یاروں کو رخصت کر کے جا رہے تھے تو کوئی زخم لگاتے جاتے رینگنے کی بھی اجازت نہیں ہم کو ور لگ ہم جدھر جاتے نئے پھول کھلاتے جاتے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو جلتے ہوئے صحراؤں کا اک پتھر تھا جاناں تو دریا تھے مری پیا سے بجھاتے جاتے مجھ کو رونے کا سلیقہ بھی نہیں ہے شاید لوگ ہنستے ہیں مجھے دیکھ کے آتے جاتے ہم سے پہلے بھی مسافر کئی گزرے ہوں گے کم سے کم راہ کے پتھر تو ہٹاتے جاتے

Rahat Indori

102 likes

ا سے کے ہاتھوں ہے وہ ہے وہ جو خنجر ہے زیادہ تیز ہے اور پھروں بچپن سے ہی ا سے کا نشا لگ تیز ہے جب کبھی ا سے پار جانے کا خیال آتا مجھے کوئی آہستہ سے کہتا تھا کی دریا تیز ہے آج ملنا تھا بچھڑ جانے کی نیت سے ہمیں آج بھی حقیقت دیر سے پہنچا ہے کتنا تیز ہے اپنا سب کچھ ہار کے لوٹ آئی ہوں لگ مری پا سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تمہیں کہتا بھی رہتا کی دنیا تیز ہے آج ا سے کے گال چومے ہیں تو اندازہ ہوا چائے اچھی ہے م گر تھوڑا سا میٹھا تیز ہے

Tehzeeb Hafi

220 likes

خالی بیٹھے ہوں تو اک کام میرا کر دو نا مجھ کو اچھا سا کوئی زخم ادا کر دو نا دھیان سے پنچھیوں کو دیتے ہوں دا لگ پانی اتنے اچھے ہوں تو پنجرے سے رہا کر دو نا جب قریب آ ہی گئے ہوں تو اداسی کیسی جب دیا دے ہی رہے ہوں تو جلا کر دو نا

Zubair Ali Tabish

102 likes

سینا کچا رہا ہوں تو کیا چپ رہے کوئی کیوں چیخ چیخ کر لگ گلہ سروہا لے کوئی ثابت ہوا سکون دل و جاں کہی نہیں رشتوں ہے وہ ہے وہ ڈھونڈتا ہے تو ڈھونڈا کرے کوئی ترک تعلقات کوئی مسئلہ نہیں یہ تو حقیقت راستہ ہے کہ ب سے چل پڑے کوئی دیوار جانتا تھا جسے ہے وہ ہے وہ حقیقت دھول تھی اب مجھ کو اعتماد کی دعوت لگ دے کوئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ خود یہ چاہتا ہوں کہ حالات ہوں خراب مری خلاف زہر اگلتا پھیرے کوئی اے بے وجہ اب تو مجھ کو سبھی کچھ قبول ہے یہ بھی قبول ہے کہ تجھے چھین لے کوئی ہاں ٹھیک ہے ہے وہ ہے وہ اپنی انا کا مریض ہوں آخر مری مزاج ہے وہ ہے وہ کیوں دخل دے کوئی اک بے وجہ کر رہا ہے ابھی تک وفا کا ذکر کاش ا سے زبان دراز کا منا نوچ لے کوئی

Jaun Elia

77 likes

More from Meer Taqi Meer

یوں ہی حیران و خفا جو باد سبک شاہد مقصود ہوں عمر گزری پر لگ جانا ہے وہ ہے وہ کہ کیوں کانپتا ہوں اتنی باتیں مت بنا مجھ شیفتے سے ناصحا مفسر کے جائیں گے نہیں ہے وہ ہے وہ قابل زنجیر ہوں سرخ رہتی ہیں مری آنکھیں لہو رونے سے شیخ مے ا گر ثابت ہوں مجھ پر واجب ال تعزیر ہوں نے فلک پر راہ مجھ کو نے ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ پر رو مجھے ایسے ک سے محروم کا ہے وہ ہے وہ شور بے تاثیر ہوں جو باد سبک کماں گرچہ خمیدہ ہوں پہ چھوٹا اور وہیں ا سے کے کوچے کی طرف چلنے کو یاروں تیر ہوں جو مری حصے ہے وہ ہے وہ آوے تیغ جمدھر سیل و کارد یہ تماشا کردنی ہے کہ ہے وہ ہے وہ ہی کشتہ شمشیر ہوں کھول کر دیوان میرا دیکھ قدرت مدعی گرچہ ہوں ہے وہ ہے وہ نوجوان پر شاعروں کا پیر ہوں یوں سعادت ایک جمدھر مجھ کو بھی گزاریے خزاں کیجے تو ہے وہ ہے وہ تو قاف یوں بے تقصیر ہوں ا سے دودمان بے ننگ خبتوں کو نصیحت شیخ جی باز آؤ ور لگ اپنے نام کو ہے وہ ہے وہ میر ہوں

Meer Taqi Meer

0 likes

शिकवा करूँँ मैं कब तक उस अपने मेहरबाँ का अल-क़िस्सा रफ़्ता रफ़्ता दुश्मन हुआ है जाँ का गिर्ये पे रंग आया क़ैद-ए-क़फ़स से शायद ख़ूँ हो गया जिगर में अब दाग़ गुल्सिताँ का ले झाड़ू टोकरा ही आता है सुब्ह होते जारूब-कश मगर है ख़ुर्शीद उस के हाँ का दी आग रंग-ए-गुल ने वाँ ऐ सबा चमन को याँ हम जले क़फ़स में सुन हाल आशियाँ का हर सुब्ह मेरे सर पर इक हादिसा नया है पैवंद हो ज़मीं का शेवा इस आसमाँ का इन सैद-अफ़गनों का क्या हो शिकार कोई होता नहीं है आख़िर काम उन के इम्तिहाँ का तब तो मुझे किया था तीरों से सैद अपना अब करते हैं निशाना हर मेरे उस्तुख़्वाँ का फ़ितराक जिस का अक्सर लोहू में तर रहे है वो क़स्द कब करे है इस सैद-ए-नातवाँ का कम-फ़ुर्सती जहाँ के मज में' की कुछ न पूछो अहवाल क्या कहूँ मैं इस मजलिस-ए-रवाँ का सज्दा करें हैं सुन कर औबाश सारे उस को सय्यद पिसर वो प्यारा हैगा इमाम बाँका ना-हक़ शनासी है ये ज़ाहिद न कर बराबर ताअ'त से सौ बरस की सज्दा उस आस्ताँ का हैं दश्त अब ये जीते बस्ते थे शहर सारे वीरान-ए-कुहन है मामूरा इस जहाँ का जिस दिन कि उस के मुँह से बुर्क़ा उठेगा सुनियो उस रोज़ से जहाँ में ख़ुर्शीद फिर न झाँका ना-हक़ ये ज़ुल्म करना इंसाफ़ कह पियारे है कौन सी जगह का किस शहर का कहाँ का सौदाई हो तो रक्खे बाज़ार-ए-इश्क़ में पा सर मुफ़्त बेचते हैं ये कुछ चलन है वाँ का सौ गाली एक चश्मक इतना सुलूक तो है औबाश ख़ाना जंग उस ख़ुश-चश्म बद-ज़बाँ का या रोए या रुलाया अपनी तो यूँँ ही गुज़री क्या ज़िक्र हम-सफ़ीराँ यारान-ए-शादमाँ का क़ैद-ए-क़फ़स में हैं तो ख़िदमत है नालगी की गुलशन में थे तो हम को मंसब था रौज़ा-ख़्वाँ का पूछो तो 'मीर' से क्या कोई नज़र पड़ा है चेहरा उतर रहा है कुछ आज उस जवाँ का

Meer Taqi Meer

0 likes

کیا کہی اپنی ا سے کی شب کی بات کہیے ہووے جو کچھ بھی ڈھب کی بات اب تو چپ لگ گئی ہے حیرت سے پھروں کھلےگی زبان جب کی بات نکتہ دانان رفتہ کی لگ کہو بات حقیقت ہے جو ہووے اب کی بات ک سے کا خار غم الفت نہیں ہے ادھر ہے نظر ہے وہ ہے وہ ہماری سب کی بات ظلم ہے قہر ہے خوشگوار ہے نبھائیے ہے وہ ہے وہ ا سے کے زیر لب کی بات کہتے ہیں آگے تھا بتوں ہے وہ ہے وہ رحم ہے خدا جانیے یہ کب کی بات گو کہ آتش زبان تھے آگے میر اب کی کہیے گئی حقیقت تب کی بات

Meer Taqi Meer

1 likes

بند قبا کو خوباں ج سے سمے وا کریںگے خمیازہ کش جو ہوں گے ملنے کے کیا کریںگے رونا یہی ہے مجھ کو تیری کہوں سے ہر دم یہ دل دماغ دونوں کب تک وفا کریںگے ہے دین سر کا دینا گردن پہ اپنی خوباں جیتے ہیں تو تمہارا یہ قرض ادا کریںگے درویش ہیں ہم آخر دو اک نگہ کی رخصت گوشے ہے وہ ہے وہ بیٹھے پیاری جاناں کو دعا کریںگے آخر تو روزے آئی دو چار روز ہم بھی دراڑیں بچوں ہے وہ ہے وہ جا کر دارو پیا کریںگے کچھ تو کہےگا ہم کو خاموش دیکھ کر حقیقت ا سے بات کے لیے اب چپ ہی رہا کریںگے عالم مری ہے تجھ پر آئی ا گر خوشگوار تیری گلی کے ہر سو محشر ہوا کریںگے دامان دشت سوکھا روز گریہ کی بے تہی سے جنگل ہے وہ ہے وہ رونے کو اب ہم بھی چلا کریںگے لائی تری گلی تک آوارگی ہماری ذلت کی اپنی اب ہم عزت کیا کریںگے احوال 'میر کیونکر آخر ہوں ایک شب ہے وہ ہے وہ ہے وہ اک عمر ہم یہ قصہ جاناں سے کہا کریںگے

Meer Taqi Meer

0 likes

خرابی کچھ نہ پوچھو ملکت دل کی عمارت کی غموں نے آج کل سنیو وہ آبادی ہی غارت کی نگاہ مست سے جب چشم نے اس کا کی اشارت کی حلاوت مے کی اور بنیاد مےخانے کی غارت کی سحر گہ میں نے پوچھا گل سے حال زار بلبل کا پڑے تھے باغ میں یک مشت پر ادھر اشارت کی جلایا جس تجلی جلوہ گر نے طور کو ہم دم اسی آتش کے پر کالے نے ہم سے بھی شرارت کی نزاکت کیا کہوں خورشید رو کی کل شب ماہ میں گیا تھا سائے سائے باغ تک تس پر حرارت کی نظر سے جس کی یوسف سا گیا پھروں اس کا کو کیا سوچھے حقیقت کچھ نہ پوچھو بو پیرہن کی بصارت کی تری کوچے کے شوق توف میں جیسے بگولا تھا شایاں میں غبار میر کی ہم نے زیارت کی

Meer Taqi Meer

0 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Meer Taqi Meer.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Meer Taqi Meer's ghazal.