ghazalKuch Alfaaz

شور کروں گا اور لگ کچھ بھی بولوںگا خموشی سے اپنا رونا رو لوں گا ساری عمر اسی خواہش ہے وہ ہے وہ گزری ہے دستک ہوں گی اور دروازہ کھولوںگا تنہائی ہے وہ ہے وہ خود سے باتیں کرنی ہیں مری منا ہے وہ ہے وہ جو آئےگا بولوںگا رات بے حد ہے جاناں چاہو تو سو جاؤ میرا کیا ہے ہے وہ ہے وہ دن ہے وہ ہے وہ بھی سو لوں گا جاناں کو دل کی بات بتانی ہے لیکن آنکھیں بند کروں تو مٹھی کھولوںگا

Tehzeeb Hafi84 Likes

Related Ghazal

کیوں ڈریں زندگی ہے وہ ہے وہ کیا ہوگا کچھ لگ ہوگا تو غضب ہوگا ہنستی آنکھوں ہے وہ ہے وہ جھانک کر دیکھو کوئی آنسو کہی چھپا ہوگا ان دنوں نا امید سا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ شاید ا سے نے بھی یہ سنا ہوگا دیکھ کر جاناں کو سوچتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیا کسی نے تمہیں چھوا ہوگا

Javed Akhtar

371 likes

تیری مشکل لگ چھپاؤں گا چلا جاؤں گا خوشی آنکھوں ہے وہ ہے وہ آؤں گا چلا جاؤں گا اپنی دہلیز پہ کچھ دیر پڑا رہنے دے چنو ہی ہوش ہے وہ ہے وہ لگاؤں گا چلا جاؤں گا خواب لینے کوئی آئی کہ لگ آئی کوئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو آواز رلاؤں گا چلا جاؤں گا چند یادیں مجھے بچوں کی طرح پیاری ہیں ان کو سینے سے لگاؤں گا چلا جاؤں گا مدتوں بعد ہے وہ ہے وہ آیا ہوں پرانی گھر ہے وہ ہے وہ ہے وہ خود کو جی بھر کے نیت شوق چلا جاؤں گا ا سے جزیرے ہے وہ ہے وہ زیادہ نہیں رہنا اب تو آجکل ناو بناؤں گا چلا جاؤں گا تہذیب کی طرح لوٹ کے آؤںگا حسن ہر طرف پھول کھلاؤں گا چلا جاؤں گا

Hasan Abbasi

235 likes

اتنا مجبور لگ کر بات بنانے لگ جائے ہم تری سر کی قسم جھوٹ ہی خانے لگ جائے اتنے سناٹے پیے مری سماعت نے کہ اب صرف آواز پہ چا ہوں تو نشانے لگ جائے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا گر اپنی جوانی کے سنا دوں قصے یہ جو افلاطون ہیں مری پاؤں دبانے لگ جائے

Mehshar Afridi

173 likes

کیسے ا سے نے یہ سب کچھ مجھ سے چھپ کر بدلا چہرہ بدلا رستہ بدلا بعد ہے وہ ہے وہ گھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بارے ہے وہ ہے وہ یہ کہتا تھا لوگوں سے میرا نام بدل دینا حقیقت بے وجہ ا گر بدلا حقیقت بھی خوش تھا ا سے نے دل دے کر دل مانگا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی خوش ہوں ہے وہ ہے وہ نے پتھر سے پتھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کہا کیا مری خاطر خود کو بدلوگے اور پھروں ا سے نے نظریں بدلیں اور نمبر بدلا

Tehzeeb Hafi

435 likes

خاموش لب ہیں جھکی ہیں پلکیں دلوں ہے وہ ہے وہ الفت نئی نئی ہے ابھی تکلف ہے گفتگو ہے وہ ہے وہ ابھی محبت نئی نئی ہے ابھی لگ آئیںگی نیند جاناں کو ابھی لگ ہم کو سکون ملےگا ابھی تو دھڑکے گا دل زیادہ ابھی محبت نئی نئی ہے بہار کا آج پہلا دن ہے چلو چمن ہے وہ ہے وہ ٹہل کے آئیں فضا ہے وہ ہے وہ خوشبو نئی نئی ہے گلوں ہے وہ ہے وہ رنگت نئی نئی ہے جو خاندانی رئی سے ہیں حقیقت مزاج رکھتے ہیں نرم اپنا تمہارا لہجہ بتا رہا ہے تمہاری دولت نئی نئی ہے ذرا سا قدرت نے کیا نوازا کے آکے بیٹھے ہوں پہلی صف ہے وہ ہے وہ ہے وہ ابھی کیوں اڑنے لگے ہوا ہے وہ ہے وہ ابھی تو شہرت نئی نئی ہے بموں کی برسات ہوں رہی ہے پرانی جانباز سو رہے ہیں غلام دنیا کو کر رہا ہے حقیقت ج سے کی طاقت نئی نئی ہے

Shabeena Adeeb

232 likes

More from Tehzeeb Hafi

خوشی ضائع ہوں رہے تھے دیکھ کر روتا لگ تھا ج سے جگہ بنتا تھا رونا ہے وہ ہے وہ ادھر روتا لگ تھا صرف تیری چپ نے مری گال گیلے کر دیے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو حقیقت ہوں جو کسی کی موت پر روتا لگ تھا مجھ پہ کتنے سانحے گزرے پر ان آنکھوں کو کیا میرا دکھ یہ ہیں کہ میرا ہم سفر روتا لگ تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے ا سے کے وصل ہے وہ ہے وہ بھی ہجر کاٹا ہے کہی حقیقت مری کندھے پہ رکھ لیتا تھا سر روتا لگ تھا پیار تو پہلے بھی ا سے سے تھا م گر اتنا نہیں تب ہے وہ ہے وہ اس کا کو چھو تو لیتا تھا م گر روتا لگ تھا گریہ و زاری کو بھی اک خاص موسم چاہیے مری آنکھیں دیکھ لو ہے وہ ہے وہ سمے پر روتا لگ تھا

Tehzeeb Hafi

44 likes

موسموں کے تغیر کو بھاپا نہیں چھتریاں کھول دیں زخم بھرنے سے پہلے کسی نے مری پٹیاں کھول دیں ہم مچھیرے سے پوچھو سمندر نہیں ہے یہ افریت ہے جاناں نے کیا سوچ کر ساحلوں سے بندھی کشتیاں کھول دیں ا سے نے وعدوں کے پربت سے لٹکے ہوؤں کو سہارا دیا ا سے کی آواز پر کوہ پیماؤں نے رسیاں کھول دیں دشت غربت ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اور میرا یار شب زاد باہم ملے یار کے پا سے جو کچھ بھی تھا یار نے گٹھریاں کھول دیں کچھ بر سے تو تری یاد کی ریل دل سے گزرتی رہی اور پھروں ہے وہ ہے وہ نے تھک ہار کے ایک دن پٹریاں کھول دیں ا سے نے صحراؤں کی سیر کرتے ہوئے اک شجر کے تلے اپنی آنکھوں سے عینک اتاری کہ دو ہرنیاں کھول دیں آج ہم کر چکے عہد ترک سخن پر رقم دفعۃً آج ہم نے نئے شاعروں کے لیے بھرتیاں کھول دیں

Tehzeeb Hafi

37 likes

جانے والے سے رابطہ رہ جائے گھر کی دیوار پر دیا رہ جائے اک نظر جو بھی دیکھ لے تجھ کو حقیقت تری خواب دیکھتا رہ جائے اتنی گرہیں لگی ہیں ا سے دل پر کوئی کھولے تو کھولتا رہ جائے کوئی کمرے ہے وہ ہے وہ آگ تاپتا ہوں کوئی بارش ہے وہ ہے وہ بھیگتا رہ جائے نیند ایسی کہ رات کم پڑ جائے خواب ایسا کہ منا کھلا رہ جائے جھیل سیف الملک پر جاؤں اور کمرے ہے وہ ہے وہ کیمرا رہ جائے

Tehzeeb Hafi

38 likes

اک حویلی ہوں اس کا کا در بھی ہوں خود ہی آنگن خود ہی شجر بھی ہوں اپنی مستی ہے وہ ہے وہ بہتا دریا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کنارہ بھی ہوں بھنور بھی ہوں آسماں اور زمیں کی وسعت دیکھ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ادھر بھی ہوں اور ادھر بھی ہوں خود ہی ہے وہ ہے وہ خود کو لکھ رہا ہوں خط اور ہے وہ ہے وہ اپنا نامہ بر بھی ہوں داستان ہوں ہے وہ ہے وہ اک طویل مگر تو جو سن لے تو بڑھوا بھی ہوں ایک فردار پیڑ ہوں لیکن وقت آنے پہ بے ثمر بھی ہوں

Tehzeeb Hafi

19 likes

چہرہ دیکھیں تیرے ہونٹ اور پلکیں دیکھیں دل پہ آنکھیں رکھیں تیری سانسیں دیکھیں سرخ لبوں سے سبز دعائیں فوٹی ہیں پیلے پھولوں جاناں کو نیلی آنکھیں دیکھیں سال ہونے کو آیا ہے حقیقت کب لوٹےگا آؤ کھیت کی سیر کو نکلیں کوجیں دیکھیں تھوڑی دیر ہے وہ ہے وہ جنگل ہم کو آق کرےگا برگد دیکھیں یا برگد کی شاخے دیکھیں میرے مالک آپ تو سب کچھ کر سکتے ہیں ساتھ چلیں ہم اور دنیا کی آنکھیں دیکھیں ہم تیرے ہونٹو کی دھیمے دھیمے کب بھولے ہیں پانی ہے وہ ہے وہ پتھر پھینکے اور لہریں دیکھیں

Tehzeeb Hafi

21 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Tehzeeb Hafi.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Tehzeeb Hafi's ghazal.