ghazalKuch Alfaaz

ک سے حسن سے ک ہوں ہے وہ ہے وہ ا سے کی خوش اختری کی ا سے ماہ رو کے آگے کیا تاب مشتری کی رکھنا لگ تھا قدم یاں جوں بعد بے تامل سیر ا سے ج ہاں کی رہرو پر تو نے بچھڑنا کی شبہ بحال سگ ہے وہ ہے وہ اک عمر صرف کی ہے مت پوچھ ان نے مجھ سے جو آدمی گری کی پائے گل ا سے چمن ہے وہ ہے وہ چھوڑا گیا تو لگ ہم سے سر پر ہمارے اب کے بد دعا ہے ب پری کی پیشہ تو ایک ہی تھا ا سے کا ہمارا لیکن مجنوں کے تالوں نے شہرت ہے وہ ہے وہ یاوری کی گریے سے حرف زن تازہ ہوئے ہیں سارے یہ کشت خشک تو نے اے چشم پھروں خا لگ وحدت پسند کی یہ دور تو موافق ہوتا نہیں م گر اب رکھیے بنا تازہ ا سے چرخ چنبری کی خوباں تمہاری خوبی تا چند نقل کریے ہم رنجا خاطروں کی کیا خوب دل بری کی ہم سے جو میر اڑ کر افلاک چرخ ہے وہ ہے وہ ہیں ان خاک ہے وہ ہے وہ ملوں کی کاہے کو ہمسری کی

Related Ghazal

کیسے ا سے نے یہ سب کچھ مجھ سے چھپ کر بدلا چہرہ بدلا رستہ بدلا بعد ہے وہ ہے وہ گھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بارے ہے وہ ہے وہ یہ کہتا تھا لوگوں سے میرا نام بدل دینا حقیقت بے وجہ ا گر بدلا حقیقت بھی خوش تھا ا سے نے دل دے کر دل مانگا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی خوش ہوں ہے وہ ہے وہ نے پتھر سے پتھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کہا کیا مری خاطر خود کو بدلوگے اور پھروں ا سے نے نظریں بدلیں اور نمبر بدلا

Tehzeeb Hafi

435 likes

حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو

Naseer Turabi

244 likes

یہ ہے وہ ہے وہ نے کب کہا کہ مری حق ہے وہ ہے وہ فیصلہ کرے ا گر حقیقت مجھ سے خوش نہیں ہے تو مجھے جدا کرے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے ساتھ ج سے طرح گزارتا ہوں زندگی اسے تو چاہیے کہ میرا شکریہ ادا کرے مری دعا ہے اور اک طرح سے بد دعا بھی ہے خدا تمہیں تمہارے جیسی بیٹیاں عطا کرے بنا چکا ہوں ہے وہ ہے وہ محبتوں کے درد کی دوا ا گر کسی کو چاہیے تو مجھ سے رابطہ کرے

Tehzeeb Hafi

292 likes

अब के हम बिछड़े तो शायद कभी ख़्वाबों में मिलें जिस तरह सूखे हुए फूल किताबों में मिलें ढूँढ़ उजड़े हुए लोगों में वफ़ा के मोती ये ख़ज़ाने तुझे मुमकिन है ख़राबों में मिलें ग़म-ए-दुनिया भी ग़म-ए-यार में शामिल कर लो नशा बढ़ता है शराबें जो शराबों में मिलें तू ख़ुदा है न मिरा इश्क़ फ़रिश्तों जैसा दोनों इंसाँ हैं तो क्यूँँ इतने हिजाबों में मिलें आज हम दार पे खींचे गए जिन बातों पर क्या अजब कल वो ज़माने को निसाबों में मिलें अब न वो मैं न वो तू है न वो माज़ी है 'फ़राज़' जैसे दो शख़्स तमन्ना के सराबों में मिलें

Ahmad Faraz

130 likes

ہے وہ ہے وہ نے جو کچھ بھی سوچا ہوا ہے ہے وہ ہے وہ حقیقت سمے آنے پہ کر جاؤں گا جاناں مجھے زہر لگتے ہوں اور ہے وہ ہے وہ کسی دن تمہیں پی کے مر جاؤں گا تو تو بینائی ہے مری تری علاوہ مجھے کچھ بھی دکھتا نہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے تجھ کو ا گر تری گھر پہ اتارا تو ہے وہ ہے وہ کیسے گھر جاؤں گا چاہتا ہوں تمہیں اور بے حد چاہتا ہوں تمہیں خود بھی معلوم ہے ہاں ا گر مجھ سے پوچھا کسی نے تو ہے وہ ہے وہ سیدھا منا پر مکر جاؤں گا تری دل سے تری شہر سے تری گھر سے تیری آنکھ سے تری در سے تیری گلیوں سے تری وطن سے نکالا ہوا ہوں کدھر جاؤں گا

Tehzeeb Hafi

241 likes

More from Meer Taqi Meer

خرابی کچھ نہ پوچھو ملکت دل کی عمارت کی غموں نے آج کل سنیو وہ آبادی ہی غارت کی نگاہ مست سے جب چشم نے اس کا کی اشارت کی حلاوت مے کی اور بنیاد مےخانے کی غارت کی سحر گہ میں نے پوچھا گل سے حال زار بلبل کا پڑے تھے باغ میں یک مشت پر ادھر اشارت کی جلایا جس تجلی جلوہ گر نے طور کو ہم دم اسی آتش کے پر کالے نے ہم سے بھی شرارت کی نزاکت کیا کہوں خورشید رو کی کل شب ماہ میں گیا تھا سائے سائے باغ تک تس پر حرارت کی نظر سے جس کی یوسف سا گیا پھروں اس کا کو کیا سوچھے حقیقت کچھ نہ پوچھو بو پیرہن کی بصارت کی تری کوچے کے شوق توف میں جیسے بگولا تھا شایاں میں غبار میر کی ہم نے زیارت کی

Meer Taqi Meer

0 likes

مہر کی تجھ سے توقع تھی ستم گر نکلا موم سمجھے تھے تری دل کو سو پتھر نکلا داغ ہوں رشک محبت سے کہ اتنا بیتاب ک سے کی تسکین کے لیے گھر سے تو باہر نکلا جیتے جی آہ تری کوچے سے کوئی لگ پھرا جو ستم دیدہ رہا جا کے سو مر کر نکلا دل کی آبا گرا کی ا سے حد ہے خرابی کہ لگ پوچھ جانا جاتا ہے کہ ا سے راہ سے لشکر نکلا خوشی تر قطرہ خوں لخت ج گر پارہ دل ایک سے ایک عدد آنکھ سے بہ کر نکلا کنج کاوی جو کی سینے کی غم ہجراں نے ا سے دفینے ہے وہ ہے وہ سے اقسام جواہر نکلا ہم نے جانا تھا لکھے گا تو کوئی حرف اے میر پر ترا نامہ تو اک شوق کا دفترون نکلا

Meer Taqi Meer

0 likes

یوں ہی حیران و خفا جو باد سبک شاہد مقصود ہوں عمر گزری پر لگ جانا ہے وہ ہے وہ کہ کیوں کانپتا ہوں اتنی باتیں مت بنا مجھ شیفتے سے ناصحا مفسر کے جائیں گے نہیں ہے وہ ہے وہ قابل زنجیر ہوں سرخ رہتی ہیں مری آنکھیں لہو رونے سے شیخ مے ا گر ثابت ہوں مجھ پر واجب ال تعزیر ہوں نے فلک پر راہ مجھ کو نے ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ پر رو مجھے ایسے ک سے محروم کا ہے وہ ہے وہ شور بے تاثیر ہوں جو باد سبک کماں گرچہ خمیدہ ہوں پہ چھوٹا اور وہیں ا سے کے کوچے کی طرف چلنے کو یاروں تیر ہوں جو مری حصے ہے وہ ہے وہ آوے تیغ جمدھر سیل و کارد یہ تماشا کردنی ہے کہ ہے وہ ہے وہ ہی کشتہ شمشیر ہوں کھول کر دیوان میرا دیکھ قدرت مدعی گرچہ ہوں ہے وہ ہے وہ نوجوان پر شاعروں کا پیر ہوں یوں سعادت ایک جمدھر مجھ کو بھی گزاریے خزاں کیجے تو ہے وہ ہے وہ تو قاف یوں بے تقصیر ہوں ا سے دودمان بے ننگ خبتوں کو نصیحت شیخ جی باز آؤ ور لگ اپنے نام کو ہے وہ ہے وہ میر ہوں

Meer Taqi Meer

0 likes

سرگرم وفا ہوں ہر چند کہ جلتا ہوں پہ ہنر عشق ہوں آتے ہیں مجھے خوب سے دونوں گلشن دنیا رونے کے تئیں آندھی ہوں کڑھنے کو بلا ہوں ا سے غنچہ افسردہ ہے وہ ہے وہ شگفتہ لگ ہوا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہوں مردود صبا کہ خاک سر راہ ہوں فت لگ انگیزی ہے ہر آبلا پا کا میرا خوشی از ب سے کہ تری راہ ہے وہ ہے وہ آنکھوں سے چلا ہوں آیا کوئی بھی طرح مری چین کی ہوں گی آزردہ ہوں جینے سے ہے وہ ہے وہ مرنے سے خفا ہوں دامن لگ جھٹک ہاتھ سے مری کہ ستم گر ہوں منتظر روز جزا کوئی دم ہے وہ ہے وہ ہوا ہوں دل خواہ جلا اب تو مجھے اے شب ہجراں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سوختہ بھی طاقت و آرام و خور و خواب ہوں گو بحر چیز گئے سب بارے یہ غنیمت ہے کہ جیتا تو رہا ہوں اتنا ہی مجھے علم ہے کچھ ہے وہ ہے وہ ہوں سمے دعا معلوم نہیں خوب مجھے بھی کہ ہے وہ ہے وہ کیا ہوں بہتر ہے غرض خموشی ہی کہنے سے یاراں مت پوچھو کچھ احوال کہ مر مر کے زیا ہوں تب حال تہی دستی کہنے لگا ہوں ہے وہ ہے وہ کہ اک عمر جوں شمع سر شام سے تا صبح جلا ہوں سینا تو کیا فضل الہی سے

Meer Taqi Meer

0 likes

واں حقیقت تو گھر سے اپنے پی کر شراب نکلا یاں شرم سے ارق ہے وہ ہے وہ ڈوب آفتاب نکلا آیا جو واقعات ہے وہ ہے وہ در سانحے عالم مرگ یہ جاگنا ہمارا دیکھا تو خواب نکلا دیکھا جو او سے پڑتے گلشن ہے وہ ہے وہ ہم تو آخر گل کا حقیقت رو خنداں چشم پر آب نکلا پردے ہی ہے وہ ہے وہ چلا جا خورشید تو ہے بہتر اک حشر ہے جو گھر سے حقیقت بے حجاب نکلا کچھ دیر ہی لگی لگ دل کو تو تیر لگتے ا سے اندھیرا کا کیا جی شتاب نکلا ہر حرف غم نے مری مجل سے کے تئیں رولایا گویا غمدیدہ دل کا پڑھتا کتاب نکلا رو عرق فشاں کو ب سے پونچھ گرم مت ہوں ا سے گل ہے وہ ہے وہ کیا رہے گا ج سے کا گلاب نکلا مطلق لگ اعتنا کی احوال پر ہمارے نامے کا نامے ہی ہے وہ ہے وہ سب پیچ و تاب نکلا شان ت غافل اپنے نو خط کی کیا لکھیں ہم شکایت سر انجام تب ا سے کے منا سے جواب نکلا ک سے کی نگہ کی گردش تھی میر رو ب مسجد محراب ہے وہ ہے وہ سے زاہد مست و خراب نکلا

Meer Taqi Meer

0 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Meer Taqi Meer.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Meer Taqi Meer's ghazal.