ghazalKuch Alfaaz

واں حقیقت تو گھر سے اپنے پی کر شراب نکلا یاں شرم سے ارق ہے وہ ہے وہ ڈوب آفتاب نکلا آیا جو واقعات ہے وہ ہے وہ در سانحے عالم مرگ یہ جاگنا ہمارا دیکھا تو خواب نکلا دیکھا جو او سے پڑتے گلشن ہے وہ ہے وہ ہم تو آخر گل کا حقیقت رو خنداں چشم پر آب نکلا پردے ہی ہے وہ ہے وہ چلا جا خورشید تو ہے بہتر اک حشر ہے جو گھر سے حقیقت بے حجاب نکلا کچھ دیر ہی لگی لگ دل کو تو تیر لگتے ا سے اندھیرا کا کیا جی شتاب نکلا ہر حرف غم نے مری مجل سے کے تئیں رولایا گویا غمدیدہ دل کا پڑھتا کتاب نکلا رو عرق فشاں کو ب سے پونچھ گرم مت ہوں ا سے گل ہے وہ ہے وہ کیا رہے گا ج سے کا گلاب نکلا مطلق لگ اعتنا کی احوال پر ہمارے نامے کا نامے ہی ہے وہ ہے وہ سب پیچ و تاب نکلا شان ت غافل اپنے نو خط کی کیا لکھیں ہم شکایت سر انجام تب ا سے کے منا سے جواب نکلا ک سے کی نگہ کی گردش تھی میر رو ب مسجد محراب ہے وہ ہے وہ سے زاہد مست و خراب نکلا

Related Ghazal

یہی اپنی کہانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے حقیقت لڑکی جاں ہماری تھی میاں پہلے بے حد پہلے وہم مجھ کو یہ بھاتا ہے,अभी مری دیوانی ہے م گر مری دیوانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے رقیب آ کر بتاتے ہیں ی ہاں تل ہے و ہاں تل ہے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ جانکاری تھی میاں پہلے بے حد پہلے ادب سے مانگ کر مافی بھری محفل یہ کہتا ہوں حقیقت لڑکی خاندانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے

Anand Raj Singh

526 likes

چاند ستارے تم پھول پرندے شام سویرہ ایک طرف ساری دنیا ا سے کا چربہ ا سے کا چہرہ ایک طرف حقیقت لڑکر بھی سو جائے تو ا سے کا ماتھا چوموں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے سے محبت ایک طرف ہے ا سے سے جھگڑا ایک طرف ج سے اجازت پر حقیقت انگلی رکھ دے اس کا کو حقیقت دلوانی ہے ا سے کی خوشیاں سب سے اول سستا مہنگا ایک طرف زخموں پر مرہم لگواو لیکن ا سے کے ہاتھوں سے چارسازی ایک طرف ہے ا سے کا چھونا ایک طرف ساری دنیا جو بھی بولے سب کچھ شور شرابا ہے سب کا کہنا ایک طرف ہے ا سے کا کہنا ایک طرف ا سے نے ساری دنیا مانگی ہے وہ ہے وہ نے اس کا کو مانگا ہے ا سے کے سپنے ایک طرف ہے میرا سپنا ایک طرف

Varun Anand

406 likes

چل دیے پھیر کر نظر جاناں بھی غیر تو غیر تھے م گر جاناں بھی یہ گلی مری دلربا کی ہے دوستوں خیریت ادھر جاناں بھی مجھ پہ لوگوں کے ساتھ ہنستے ہوں لوگ روئیںگے خاص کر جاناں بھی مجھ کو ٹھکرا دیا ہے دنیا نے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو مر جاؤں گا ا گر جاناں بھی ا سے کی گاڑی تو جا چکی تابش اب اٹھو جاؤ اپنے گھر جاناں بھی

Zubair Ali Tabish

58 likes

زبان تو کھول نظر تو ملا جواب تو دے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کتنی بار لٹا ہوں مجھے حساب تو دے تری بدن کی ودھی ہے وہ ہے وہ ہے اتار لکھاوت ہے وہ ہے وہ ہے وہ تجھے کیسے چڑھاو مجھے کتاب تو دے تیرا سوال ہے ساقی کہ زندگی کیا ہے جواب دیتا ہوں پہلے مجھے شراب تو دے

Rahat Indori

190 likes

تھوڑا لکھا اور زیادہ چھوڑ دیا آنے والوں کے لیے رستہ چھوڑ دیا جاناں کیا جانو ا سے دریا پر کیا گزری جاناں نے تو ب سے پانی بھرنا چھوڑ دیا لڑکیاں عشق ہے وہ ہے وہ کتنی پاگل ہوتی ہیں فون بجا اور چولہا جلتا چھوڑ دیا روز اک پتہ مجھ ہے وہ ہے وہ آ گرتا ہے جب سے ہے وہ ہے وہ نے جنگل جانا چھوڑ دیا ب سے کانوں پر ہاتھ رکھے تھے تھوڑی دیر اور پھروں ا سے آواز نے پیچھا چھوڑ دیے

Tehzeeb Hafi

262 likes

More from Meer Taqi Meer

خرابی کچھ نہ پوچھو ملکت دل کی عمارت کی غموں نے آج کل سنیو وہ آبادی ہی غارت کی نگاہ مست سے جب چشم نے اس کا کی اشارت کی حلاوت مے کی اور بنیاد مےخانے کی غارت کی سحر گہ میں نے پوچھا گل سے حال زار بلبل کا پڑے تھے باغ میں یک مشت پر ادھر اشارت کی جلایا جس تجلی جلوہ گر نے طور کو ہم دم اسی آتش کے پر کالے نے ہم سے بھی شرارت کی نزاکت کیا کہوں خورشید رو کی کل شب ماہ میں گیا تھا سائے سائے باغ تک تس پر حرارت کی نظر سے جس کی یوسف سا گیا پھروں اس کا کو کیا سوچھے حقیقت کچھ نہ پوچھو بو پیرہن کی بصارت کی تری کوچے کے شوق توف میں جیسے بگولا تھا شایاں میں غبار میر کی ہم نے زیارت کی

Meer Taqi Meer

0 likes

مہر کی تجھ سے توقع تھی ستم گر نکلا موم سمجھے تھے تری دل کو سو پتھر نکلا داغ ہوں رشک محبت سے کہ اتنا بیتاب ک سے کی تسکین کے لیے گھر سے تو باہر نکلا جیتے جی آہ تری کوچے سے کوئی لگ پھرا جو ستم دیدہ رہا جا کے سو مر کر نکلا دل کی آبا گرا کی ا سے حد ہے خرابی کہ لگ پوچھ جانا جاتا ہے کہ ا سے راہ سے لشکر نکلا خوشی تر قطرہ خوں لخت ج گر پارہ دل ایک سے ایک عدد آنکھ سے بہ کر نکلا کنج کاوی جو کی سینے کی غم ہجراں نے ا سے دفینے ہے وہ ہے وہ سے اقسام جواہر نکلا ہم نے جانا تھا لکھے گا تو کوئی حرف اے میر پر ترا نامہ تو اک شوق کا دفترون نکلا

Meer Taqi Meer

0 likes

سرگرم وفا ہوں ہر چند کہ جلتا ہوں پہ ہنر عشق ہوں آتے ہیں مجھے خوب سے دونوں گلشن دنیا رونے کے تئیں آندھی ہوں کڑھنے کو بلا ہوں ا سے غنچہ افسردہ ہے وہ ہے وہ شگفتہ لگ ہوا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہوں مردود صبا کہ خاک سر راہ ہوں فت لگ انگیزی ہے ہر آبلا پا کا میرا خوشی از ب سے کہ تری راہ ہے وہ ہے وہ آنکھوں سے چلا ہوں آیا کوئی بھی طرح مری چین کی ہوں گی آزردہ ہوں جینے سے ہے وہ ہے وہ مرنے سے خفا ہوں دامن لگ جھٹک ہاتھ سے مری کہ ستم گر ہوں منتظر روز جزا کوئی دم ہے وہ ہے وہ ہوا ہوں دل خواہ جلا اب تو مجھے اے شب ہجراں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سوختہ بھی طاقت و آرام و خور و خواب ہوں گو بحر چیز گئے سب بارے یہ غنیمت ہے کہ جیتا تو رہا ہوں اتنا ہی مجھے علم ہے کچھ ہے وہ ہے وہ ہوں سمے دعا معلوم نہیں خوب مجھے بھی کہ ہے وہ ہے وہ کیا ہوں بہتر ہے غرض خموشی ہی کہنے سے یاراں مت پوچھو کچھ احوال کہ مر مر کے زیا ہوں تب حال تہی دستی کہنے لگا ہوں ہے وہ ہے وہ کہ اک عمر جوں شمع سر شام سے تا صبح جلا ہوں سینا تو کیا فضل الہی سے

Meer Taqi Meer

0 likes

یوں ہی حیران و خفا جو باد سبک شاہد مقصود ہوں عمر گزری پر لگ جانا ہے وہ ہے وہ کہ کیوں کانپتا ہوں اتنی باتیں مت بنا مجھ شیفتے سے ناصحا مفسر کے جائیں گے نہیں ہے وہ ہے وہ قابل زنجیر ہوں سرخ رہتی ہیں مری آنکھیں لہو رونے سے شیخ مے ا گر ثابت ہوں مجھ پر واجب ال تعزیر ہوں نے فلک پر راہ مجھ کو نے ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ پر رو مجھے ایسے ک سے محروم کا ہے وہ ہے وہ شور بے تاثیر ہوں جو باد سبک کماں گرچہ خمیدہ ہوں پہ چھوٹا اور وہیں ا سے کے کوچے کی طرف چلنے کو یاروں تیر ہوں جو مری حصے ہے وہ ہے وہ آوے تیغ جمدھر سیل و کارد یہ تماشا کردنی ہے کہ ہے وہ ہے وہ ہی کشتہ شمشیر ہوں کھول کر دیوان میرا دیکھ قدرت مدعی گرچہ ہوں ہے وہ ہے وہ نوجوان پر شاعروں کا پیر ہوں یوں سعادت ایک جمدھر مجھ کو بھی گزاریے خزاں کیجے تو ہے وہ ہے وہ تو قاف یوں بے تقصیر ہوں ا سے دودمان بے ننگ خبتوں کو نصیحت شیخ جی باز آؤ ور لگ اپنے نام کو ہے وہ ہے وہ میر ہوں

Meer Taqi Meer

0 likes

جب رونے بیٹھتا ہوں تب کیا کسر رہے ہے رومال دو دو دن تک جوں ابر تر رہے ہے آہ سحر کی میری برچھی کے رلا سے خورشید کے منہ اوپر 9 سپر رہے ہے آگاہ تو رہیے اس کا کی طرز رہ و روش سے آنے ہے وہ ہے وہ اس کا کے لیکن کس کو خبر رہے ہے ان روزوں اتنی غفلت اچھی نہیں ادھر سے اب اضطراب ہم کو دو دو پہر رہے ہے آب حیات کی سی ساری رویش ہے اس کا کی پر جب حقیقت اٹھ چلے ہے ایک آدھ مر رہے ہے تلوار اب لگا ہے بے ڈول پیچاں پاس رکھنے خون آج کل کسو کا حقیقت شوخ کر رہے ہے در سے کبھو جو آتے دیکھا ہے ہے وہ ہے وہ نے اس کا کو تب سے ادھر ہی 9 میری نظر رہے ہے آخر کہاں تلک ہم اک روز ہوں چکیں گے برسوں سے وعدہ شب ہر صبح پر رہے ہے میر اب بہار آئی صحرا ہے وہ ہے وہ چل جنوں کر کوئی بھی فصل گل ہے وہ ہے وہ نادان گھر رہے ہے

Meer Taqi Meer

0 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Meer Taqi Meer.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Meer Taqi Meer's ghazal.