ghazalKuch Alfaaz

جلا کے جنوں صفات ہم دیار شام چلے جو گھر کو آگ لگائے ہمارے ساتھ چلے منزل سحر نہیں دہان زخم بھی نہیں غضب ن گر ہے ی ہاں دن چلے لگ رات چلے ہمارے لب لگ صحیح حقیقت پہنچتی صحیح وہیں اسیر ہے یاروں کہی سے بات چلے ستون دار پہ رکھتے چلو سروں کے چراغ ج ہاں تلک یہ ستم کی سیاہ رات چلے ہوا ہم نوا کوئی ب پا سے طرز نوا تو دور تلک نقد وفا ہم بھی ساتھ ساتھ چلے بچا کے لائے ہم اے یار پھروں بھی رہزنوں اگرچہ لٹتے رہے رہزنوں کے ہاتھ چلے پھروں آئی توڑے کہ مانند مراسلات ہمارے نام گلوں کے قطار شیشہ چلے کاروان ہم سفران ہے یا خرام جام اہل حرم ہے یا چنو کائنات چلے بھلا ہی بیٹھے جب بغل تو اے مجروح بغل ہے وہ ہے وہ ہم بھی لیے اک صنم کا ہاتھ چلے

Related Ghazal

برسوں پرانا دوست ملا چنو غیر ہوں دیکھا رکا جھجھک کے کہا جاناں عمیر ہوں ملتے ہیں مشکلوں سے ی ہاں ہم خیال لوگ تری تمام چاہنے والوں کی خیر ہوں کمرے ہے وہ ہے وہ سگریٹوں کا دھواں اور تیری مہک چنو شدید دھند ہے وہ ہے وہ باغوں کی سیر ہوں ہم مطمئن بے حد ہیں ا گر خوش نہیں بھی ہیں جاناں خوش ہوں کیا ہوا جو ہمارے بغیر ہوں پیروں ہے وہ ہے وہ ا سے کے سر کو دھریں التجا کریں اک التجا کہ جس کا لگ سر ہوں لگ پیر ہوں

Umair Najmi

59 likes

ایک اور بے وجہ چھوڑ کر چلا گیا تو تو کیا ہوا ہمارے ساتھ کون سا یہ پہلی مرتبہ ہوا ازل سے ان ہتھیلیوں ہے وہ ہے وہ ہجر کی لکیر تھی تمہارا دکھ تو چنو مری ہاتھ ہے وہ ہے وہ بڑا ہوا مری خلاف دشمنوں کی صف ہے وہ ہے وہ ہے حقیقت اور ہے وہ ہے وہ ہے وہ بے حد برا لگوںگا ا سے پر تیر کھینچتا ہوا

Tehzeeb Hafi

183 likes

ایک اور بے وجہ چھوڑ کر چلا گیا تو تو کیا ہوا ہمارے ساتھ کون سا یہ پہلی مرتبہ ہوا ازل سے ان ہتھیلیوں ہے وہ ہے وہ ہجر کی لکیر تھی تمہارا دکھ تو چنو مری ہاتھ ہے وہ ہے وہ بڑا ہوا مری خلاف دشمنوں کی صف ہے وہ ہے وہ ہے حقیقت اور ہے وہ ہے وہ ہے وہ بے حد برا لگوںگا ا سے پر تیر کھینچتا ہوا

Tehzeeb Hafi

77 likes

سنا ہے لوگ اسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں سو ا سے کے شہر ہے وہ ہے وہ کچھ دن ٹھہر کے دیکھتے ہیں سنا ہے ربط ہے ا سے کو خراب حالوں سے سو اپنے آپ کو برباد کر کے دیکھتے ہیں سنا ہے درد کی گاہک ہے چشم ناز ا سے کی سو ہم بھی ا سے کی گلی سے گزر کے دیکھتے ہیں سنا ہے ا سے کو بھی ہے شعر و شاعری سے شغف سو ہم بھی معجزے اپنے ہنر کے دیکھتے ہیں سنا ہے بولے تو باتوں سے پھول جھڑتے ہیں یہ بات ہے تو چلو بات کر کے دیکھتے ہیں سنا ہے رات اسے چاند تکتا رہتا ہے ستارے تم تم بام فلک سے اتر کے دیکھتے ہیں سنا ہے دن کو اسے تتلیاں ستاتی ہیں سنا ہے رات کو جگنو ٹھہر کے دیکھتے ہیں سنا ہے حشر ہیں ا سے کی غزال سی آنکھیں سنا ہے ا سے کو ہرن دشت بھر کے دیکھتے ہیں سنا ہے رات سے بڑھ کر ہیں کاکليں ا سے کی سنا ہے شام کو سائے گزر کے دیکھتے ہیں سنا ہے ا سے کی سیاہ چشمگی خوشگوار ہے سو ا سے کو سرمہ فروش آہ بھر کے دیکھتے ہیں سنا ہے ا سے کے لبوں سے گلاب جلتے ہیں سو ہم بہار پہ الزام دھر کے دیکھتے ہیں سنا ہے آئی لگ تمثال ہے جبیں ا سے

Ahmad Faraz

65 likes

گلے تو لگنا ہے ا سے سے کہو ابھی لگ جائے یہی لگ ہوں میرا ا سے کے بغیر جی لگ جائے ہے وہ ہے وہ ہے وہ آ رہا ہوں تری پا سے یہ لگ ہوں کہ کہی تیرا مزاق ہوں اور مری زندگی لگ جائے ا گر کوئی تیری رفتار ماپنے نکلے دماغ کیا ہے جہانوں کی روشنی لگ جائے تو ہاتھ اٹھا نہیں سکتا تو میرا ہاتھ پکڑ تجھے دعا نہیں لگتی تو شاعری لگ جائے پتا کروں گا اندھیرے ہے وہ ہے وہ ک سے سے ملتا ہے اور ا سے عمل ہے وہ ہے وہ مجھے چاہے آگ بھی لگ جائے ہمارے ہاتھ ہی جلتے رہیں گے سگریٹ سے کبھی تمہارے بھی کپڑوں پہ استری لگ جائے ہر ایک بات کا زار نکالنے والوں تمہارے نام کے آگے لگ مطلبی لگ جائے کلا سے روم ہوں یا حشر کیسے ممکن ہے ہمارے ہوتے تیری غیر حاضری لگ جائے ہے وہ ہے وہ ہے وہ پچھلے بی سے بر سے سے تیری گرفت ہے وہ ہے وہ ہوں کے اتنے دیر ہے وہ ہے وہ تو کوئی آئی جی لگ جائے

Tehzeeb Hafi

124 likes

More from Majrooh Sultanpuri

جب ہوا عرفاں تو غم آرام جاں بنتا گیا تو سوز جاناں دل ہے وہ ہے وہ سوز دیگران بنتا گیا تو رفتہ رفتہ منقلب ہوتی گئی رسم چمن دھیرے دھیرے نغمہ دل بھی فغاں بنتا گیا تو ہے وہ ہے وہ ہے وہ اکیلا ہی چلا تھا جانب منزل م گر لوگ ساتھ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا تو ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو جب جانوں کہ بھر دے ساغر ہر خاص و عام یوں تو جو آیا وہی پیر مغاں بنتا گیا تو ج سے طرف بھی چل پڑے ہم آبلہ پایان شوق بچھاؤ سے گل اور گل سے گلستاں بنتا گیا تو شرح غم تو بڑھوا ہوتی گئی ا سے کے حضور لفظ جو منا سے لگ نکلا داستان بنتا گیا تو دہر ہے وہ ہے وہ مجروح کوئی جاویداں مضمون ک ہاں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جسے چھوتا گیا تو حقیقت جاویداں بنتا گیا تو

Majrooh Sultanpuri

1 likes

یوں تو آپ سے ہے وہ ہے وہ بگڑتے ہیں خفا ہوتے ہیں ملنے والے کہی الفت ہے وہ ہے وہ جدا ہوتے ہیں ہیں زمانے ہے وہ ہے وہ غضب چیز محبت والے درد خود مشعل جاں ہیں خود اپنی دوا ہوتے ہیں حال دل مجھ سے لگ پوچھو مری نظریں دیکھو راز دل کے تو نگا ہوں سے ادا ہوتے ہیں ملنے کو یوں تو ملا کرتی ہیں سب سے آنکھیں دل کے آ جانے کے انداز جدا ہوتے ہیں ایسے ہن سے ہن سے کے لگ دیکھا کروں سب کی جانب لوگ ایسی ہی اداؤں پہ فدا ہوتے ہیں

Majrooh Sultanpuri

4 likes

کوئی ہم دم لگ رہا کوئی سہارا لگ رہا ہم کسی کے لگ رہے کوئی ہمارا لگ رہا شام تنہائی کی ہے آوےگی عشق دل منزل کیسے جو مجھے راہ دکھا دے وہی تارا لگ رہا اے نظارہ لگ ہنسو مل لگ سکوںگا جاناں سے جاناں مری ہوں لگ سکے ہے وہ ہے وہ بھی تمہارا لگ رہا کیا بتاؤں ہے وہ ہے وہ ک ہاں یوںہی چلا جاتا ہوں جو مجھے پھروں سے بلا لے حقیقت اشارہ لگ رہا

Majrooh Sultanpuri

2 likes

محرومی تاثیر کی تدبیر لگ دیکھ ہوں ہی جائے گی کوئی جینے کی تلخی تقریر لگ دیکھ حادثے اور بھی گزرے تری الفت کے سوا ہاں مجھے دیکھ مجھے اب مری تصویر لگ دیکھ یہ ذرا دور پہ منزل یہ اجالا یہ سکون خواب کو دیکھ ابھی خواب کی تعبیر لگ دیکھ دیکھ زندان سے پرے رنگ چمن جوش بہار رقص کرنا ہے تو پھروں پاؤں کی زنجیر لگ دیکھ کچھ بھی ہوں پھروں بھی دکھے دل کی صدا ہوں نادان مری باتوں کو سمجھ شاعر آوارہ مزاج لگ دیکھ وہی مجروح وہی اٹھا کوئی دل گیر ہے تری بزم سے کانپتا لگ دیکھ

Majrooh Sultanpuri

1 likes

مجھے سہل ہو گئیں منزلیں وہ ہوا کے رکھ بھی بدل گئے ترا ہاتھ ہاتھ میں آ گیا کہ چراغ راہ میں جل گئے وہ لجائے میرے سوال پر کہ اٹھا سکے نہ جھکا کے سر اڑی زلف چہرے پہ اس طرح کہ شبوں کے راز مچل گئے وہی بات جو وہ نہ کہ سکے مری رنگ و بو میں آ گئی وہی لب نہ میں جنہیں چھو سکا قدح شراب میں ڈھل گئے وہی آستاں ہے وہی جبیں وہی اشک ہے وہی آستین دل زار تو بھی بدل کہیں کہ جہاں کے طور بدل گئے تجھے پلٹی پتا بھی ہے کہ شباب گرمی بزم ہے تجھے پلٹی خبر بھی ہے کہ سب آبگینے پگھل گئے مری کام آ گئیں آخرش یہی کاوشیں یہی طواف بڑھیں اس قدر مری منزلیں کہ قدم کے خار نکل گئے وہی آستاں ہے وہی جبیں وہی اشک ہے وہی آستین دل زار تو بھی بدل کہیں کہ جہاں کے طور بدل گئے تجھے پلٹی پتا بھی ہے کہ شباب گرمی بزم ہے تجھے پلٹی خبر بھی ہے کہ سب آبگینے پگھل گئے مری کام آ گئیں آخرش یہی کاوشیں یہی طواف بڑھیں اس قدر مری منزلیں کہ قدم کے خار نکل گئے

Majrooh Sultanpuri

0 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Majrooh Sultanpuri.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Majrooh Sultanpuri's ghazal.