jala ke mishal-e-jan ham junun-sifat chale jo ghar ko aag lagae hamare saath chale dayar-e-sham nahin manzil-e-sahar bhi nahin ajab nagar hai yahan din chale na raat chale hamare lab na sahi vo dahan-e-zakhm sahi vahin pahunchti hai yaaro kahin se baat chale sutun-e-dar pe rakhte chalo saron ke charaghh jahan talak ye sitam ki siyah raat chale hua asiir koi ham-nava to duur talak ba-pas-e-tarz-e-nava ham bhi saath saath chale bacha ke laae ham ai yaar phir bhi naqd-e-vafa agarche lutte rahe rahzanon ke haath chale phir aai fasl ki manind barg-e-avara hamare naam gulon ke muraslat chale qatar-e-shisha hai ya karvan-e-ham-safaran khiram-e-jam hai ya jaise kaenat chale bhula hi baithe jab ahl-e-haram to ai 'majruh' baghhal men ham bhi liye ik sanam ka haath chale jala ke mishal-e-jaan hum junun-sifat chale jo ghar ko aag lagae hamare sath chale dayar-e-sham nahin manzil-e-sahar bhi nahin ajab nagar hai yahan din chale na raat chale hamare lab na sahi wo dahan-e-zakhm sahi wahin pahunchti hai yaro kahin se baat chale sutun-e-dar pe rakhte chalo saron ke charagh jahan talak ye sitam ki siyah raat chale hua asir koi ham-nawa to dur talak ba-pas-e-tarz-e-nawa hum bhi sath sath chale bacha ke lae hum ai yar phir bhi naqd-e-wafa agarche lutte rahe rahzanon ke hath chale phir aai fasl ki manind barg-e-awara hamare nam gulon ke muraslat chale qatar-e-shisha hai ya karwan-e-ham-safaran khiram-e-jam hai ya jaise kaenat chale bhula hi baithe jab ahl-e-haram to ai 'majruh' baghal mein hum bhi liye ek sanam ka hath chale
Related Ghazal
ستم ڈھاتے ہوئے سوچا کروگے ہمارے ساتھ جاناں ایسا کروگے انگوٹھی تو مجھے لوٹا رہے ہوں انگوٹھی کے نشان کا کیا کروگے ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے اب تمنائیں بھی نہیں ہوں تو کیا ا سے بات پر جھگڑا کروگے میرا دامن تمہیں تھامے ہوئے ہوں میرا دامن تمہیں میلا کروگے بتاؤ وعدہ کر کے آوگے نا کے پچھلی بار کے جیسا کروگے حقیقت دلہن بن کے رخصت ہوں گئی ہے ک ہاں تک کار کا پیچھا کروگے مجھے ب سے یوں ہی جاناں سے پوچھنا تھا ا گر ہے وہ ہے وہ مر گیا تو تو کیا کروگے
Zubair Ali Tabish
140 likes
ہاتھ خالی ہیں تری شہر سے جاتے جاتے جان ہوتی تو مری جان لٹاتے جاتے اب تو ہر ہاتھ کا پتھر ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ پہچانتا ہے عمر گزری ہے تری شہر ہے وہ ہے وہ آتے جاتے اب کے مایو سے ہوا یاروں کو رخصت کر کے جا رہے تھے تو کوئی زخم لگاتے جاتے رینگنے کی بھی اجازت نہیں ہم کو ور لگ ہم جدھر جاتے نئے پھول کھلاتے جاتے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو جلتے ہوئے صحراؤں کا اک پتھر تھا جاناں تو دریا تھے مری پیا سے بجھاتے جاتے مجھ کو رونے کا سلیقہ بھی نہیں ہے شاید لوگ ہنستے ہیں مجھے دیکھ کے آتے جاتے ہم سے پہلے بھی مسافر کئی گزرے ہوں گے کم سے کم راہ کے پتھر تو ہٹاتے جاتے
Rahat Indori
102 likes
زنے حسین تھی اور پھول چن کر لاتی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ شعر کہتا تھا حقیقت داستان سناتی تھی عرب لہو تھا رگوں ہے وہ ہے وہ بدن سنہرا تھا حقیقت مسکراتی نہیں تھی دیے جلاتی تھی علی سے دور رہو لوگ ا سے سے کہتے تھے حقیقت میرا سچ ہے بے حد چیک کر بتاتی تھی علی یہ لوگ تمہیں جانتے نہیں ہیں ابھی گلے دیکھیں گے میرا حوصلہ بڑھاتی تھی یہ پھول دیکھ رہے ہوں یہ ا سے کا لہجہ تھا یہ جھیل دیکھ رہے ہوں ی ہاں حقیقت آتی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بعد کبھی ٹھیک سے نہیں جاگا حقیقت مجھ کو خواب نہیں نیند سے جگاتی تھی اسے کسی سے محبت تھی اور حقیقت ہے وہ ہے وہ نہیں تھا یہ بات مجھ سے زیادہ اسے رلاتی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ کچھ بتا نہیں سکتا حقیقت مری کیا تھی علی کہ اس کا کو دیکھ کر ب سے اپنی یاد آتی تھی
Ali Zaryoun
102 likes
اک پل ہے وہ ہے وہ اک ص گرا کا مزہ ہم سے پوچھیے دو دن کی زندگی کا مزہ ہم سے پوچھیے بھولے ہیں رفتہ رفتہ ا نہیں مدتوں ہے وہ ہے وہ ہم قسطوں ہے وہ ہے وہ خود کشی کا مزہ ہم سے پوچھیے آغاز کرنے والے کا مزہ آپ جانیے انجام کرنے والے کا مزہ ہم سے پوچھیے جلتے دیوں ہے وہ ہے وہ جلتے گھروں جیسی ذو ک ہاں سرکار روشنی کا مزہ ہم سے پوچھیے حقیقت جان ہی گئے کہ ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ان سے پیار ہے آنکھوں کی مخبری کا مزہ ہم سے پوچھیے ہنسنے کا شوق ہم کو بھی تھا آپ کی طرح ہنسیے م گر ہنسی کا مزہ ہم سے پوچھیے ہم توبہ کر کے مر گئے بے موت اے خمار توہین مے کشی کا مزہ ہم سے پوچھیے
Khumar Barabankvi
95 likes
کسی لبا سے کی خوشبو جب اڑ کے آتی ہے تری بدن کی جدائی بے حد ستاتی ہے تری گلاب ترستے ہیں تیری خوشبو کو تیری سفید چمیلی تجھے بلاتی ہے تری بغیر مجھے چین کیسے پڑتا ہیں مری بغیر تجھے نیند کیسے آتی ہے
Jaun Elia
113 likes
More from Majrooh Sultanpuri
جب ہوا عرفاں تو غم آرام جاں بنتا گیا تو سوز جاناں دل ہے وہ ہے وہ سوز دیگران بنتا گیا تو رفتہ رفتہ منقلب ہوتی گئی رسم چمن دھیرے دھیرے نغمہ دل بھی فغاں بنتا گیا تو ہے وہ ہے وہ ہے وہ اکیلا ہی چلا تھا جانب منزل م گر لوگ ساتھ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا تو ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو جب جانوں کہ بھر دے ساغر ہر خاص و عام یوں تو جو آیا وہی پیر مغاں بنتا گیا تو ج سے طرف بھی چل پڑے ہم آبلہ پایان شوق بچھاؤ سے گل اور گل سے گلستاں بنتا گیا تو شرح غم تو بڑھوا ہوتی گئی ا سے کے حضور لفظ جو منا سے لگ نکلا داستان بنتا گیا تو دہر ہے وہ ہے وہ مجروح کوئی جاویداں مضمون ک ہاں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جسے چھوتا گیا تو حقیقت جاویداں بنتا گیا تو
Majrooh Sultanpuri
1 likes
محرومی تاثیر کی تدبیر لگ دیکھ ہوں ہی جائے گی کوئی جینے کی تلخی تقریر لگ دیکھ حادثے اور بھی گزرے تری الفت کے سوا ہاں مجھے دیکھ مجھے اب مری تصویر لگ دیکھ یہ ذرا دور پہ منزل یہ اجالا یہ سکون خواب کو دیکھ ابھی خواب کی تعبیر لگ دیکھ دیکھ زندان سے پرے رنگ چمن جوش بہار رقص کرنا ہے تو پھروں پاؤں کی زنجیر لگ دیکھ کچھ بھی ہوں پھروں بھی دکھے دل کی صدا ہوں نادان مری باتوں کو سمجھ شاعر آوارہ مزاج لگ دیکھ وہی مجروح وہی اٹھا کوئی دل گیر ہے تری بزم سے کانپتا لگ دیکھ
Majrooh Sultanpuri
1 likes
یوں تو آپ سے ہے وہ ہے وہ بگڑتے ہیں خفا ہوتے ہیں ملنے والے کہی الفت ہے وہ ہے وہ جدا ہوتے ہیں ہیں زمانے ہے وہ ہے وہ غضب چیز محبت والے درد خود مشعل جاں ہیں خود اپنی دوا ہوتے ہیں حال دل مجھ سے لگ پوچھو مری نظریں دیکھو راز دل کے تو نگا ہوں سے ادا ہوتے ہیں ملنے کو یوں تو ملا کرتی ہیں سب سے آنکھیں دل کے آ جانے کے انداز جدا ہوتے ہیں ایسے ہن سے ہن سے کے لگ دیکھا کروں سب کی جانب لوگ ایسی ہی اداؤں پہ فدا ہوتے ہیں
Majrooh Sultanpuri
4 likes
کوئی ہم دم لگ رہا کوئی سہارا لگ رہا ہم کسی کے لگ رہے کوئی ہمارا لگ رہا شام تنہائی کی ہے آوےگی عشق دل منزل کیسے جو مجھے راہ دکھا دے وہی تارا لگ رہا اے نظارہ لگ ہنسو مل لگ سکوںگا جاناں سے جاناں مری ہوں لگ سکے ہے وہ ہے وہ بھی تمہارا لگ رہا کیا بتاؤں ہے وہ ہے وہ ک ہاں یوںہی چلا جاتا ہوں جو مجھے پھروں سے بلا لے حقیقت اشارہ لگ رہا
Majrooh Sultanpuri
2 likes
ہم ہیں متاع کوچہ و بازار کی طرح اٹھتی ہے ہر نگاہ خریدار کی طرح ا سے کوئے تشنہ لبی ہے وہ ہے وہ بے حد ہے کہ ایک جام ہاتھ آ گیا تو ہے دولت بیدار کی طرح حقیقت تو کہی ہے اور م گر دل کے آ سے پا سے پھرتی ہے کوئی اجازت نگہ یار کی طرح سیدھی ہے راہ شوق پہ یوںہی کہی کہی خم ہوں گئی ہے گیسوئے دلدار کی طرح بے تیشہ نظر لگ چلو راہ رفتگاں ہر نقش پا بلند ہے دیوار کی طرح اب جا کے کچھ کھلا ہنر ناخن جنوں زخم ج گر ہوئے لب و رخسار کی طرح مجروح لکھ رہے ہیں حقیقت اہل وفا کا نام ہم بھی کھڑے ہوئے ہیں گنہگار کی طرح
Majrooh Sultanpuri
0 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Majrooh Sultanpuri.
Similar Moods
More moods that pair well with Majrooh Sultanpuri's ghazal.







