ghazalKuch Alfaaz

jiita hai sirf tere liye kaun mar ke dekh ik roz meri jaan ye harkat bhi kar ke dekh manzil yahin hai aam ke pedon ki chhanv men ai shahsavar ghode se niche utar ke dekh tuute pade hain kitne ujalon ke ustukhvan saya-numa andhere ke andar utar ke dekh phulon ki tang-damani ka tazkira na kar khushbu ki tarah mauj-e-saba men bikhar ke dekh tujh par khulenge maut ki sarhad ke raste himmat agar hai us ki gali se guzar ke dekh dariya ki vusaton se use napte nahin tanhai kitni gahri hai ik jaam bhar ke dekh jita hai sirf tere liye kaun mar ke dekh ek roz meri jaan ye harkat bhi kar ke dekh manzil yahin hai aam ke pedon ki chhanw mein ai shahsawar ghode se niche utar ke dekh tute pade hain kitne ujalon ke ustukhwan saya-numa andhere ke andar utar ke dekh phulon ki tang-damani ka tazkira na kar khushbu ki tarah mauj-e-saba mein bikhar ke dekh tujh par khulenge maut ki sarhad ke raste himmat agar hai us ki gali se guzar ke dekh dariya ki wusaton se use napte nahin tanhai kitni gahri hai ek jam bhar ke dekh

Related Ghazal

تمہیں ب سے یہ بتانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے کیا چھپانا چاہتا ہوں کبھی مجھ سے بھی کوئی جھوٹ بولو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں ہے وہ ہے وہ ہاں ملانا چاہتا ہوں یہ جو کھڑکی ہے نقشے ہے وہ ہے وہ تمہارے ی ہاں ہے وہ ہے وہ در بنانا چاہتا ہوں اداکاری بے حد دکھ دے رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچ مچ مسکرانا چاہتا ہوں پروں ہے وہ ہے وہ تیر ہے پنجوں ہے وہ ہے وہ تنکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ چڑیا اڑانا چاہتا ہوں لیے بیٹھا ہوں گھنگرو پھول اندھیرا ترا ہنسنا بنانا چاہتا ہوں بیگا لگ غم عشق کی جاناں کو مبارک ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے خا لگ کمانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سارے شہر کی بیساخیوں کو تری در پر نرم گوئی چاہتا ہوں مجھے جاناں سے اندھیرا ہی پڑےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کو یاد آنا چاہتا ہوں

Fahmi Badayuni

249 likes

حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو

Naseer Turabi

244 likes

زبان تو کھول نظر تو ملا جواب تو دے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کتنی بار لٹا ہوں مجھے حساب تو دے تری بدن کی ودھی ہے وہ ہے وہ ہے اتار لکھاوت ہے وہ ہے وہ ہے وہ تجھے کیسے چڑھاو مجھے کتاب تو دے تیرا سوال ہے ساقی کہ زندگی کیا ہے جواب دیتا ہوں پہلے مجھے شراب تو دے

Rahat Indori

190 likes

بیٹھے ہیں چین سے کہی جانا تو ہے نہیں ہم بے گھروں کا کوئی ہری تو ہے نہیں جاناں بھی ہوں بیتے سمے کے مانند ہوں بہو جاناں نے بھی یاد آنا ہے آنا تو ہے نہیں عہد وفا سے ک سے لیے خائف ہوں مری جان کر لو کہ جاناں نے عہد نبھانا تو ہے نہیں حقیقت جو ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ عزیز ہے کیسا ہے کون ہے کیوں پوچھتے ہوں ہم نے بتانا تو ہے نہیں دنیا ہم اہل عشق پہ کیوں پھینکتی ہے جال ہم نے تری فریب ہے وہ ہے وہ آنا تو ہے نہیں حقیقت عشق تو کرےگا م گر دیکھ بھال کے فار سے حقیقت تری جیسا دیوا لگ تو ہے نہیں

Rehman Faris

196 likes

خاموش لب ہیں جھکی ہیں پلکیں دلوں ہے وہ ہے وہ الفت نئی نئی ہے ابھی تکلف ہے گفتگو ہے وہ ہے وہ ابھی محبت نئی نئی ہے ابھی لگ آئیںگی نیند جاناں کو ابھی لگ ہم کو سکون ملےگا ابھی تو دھڑکے گا دل زیادہ ابھی محبت نئی نئی ہے بہار کا آج پہلا دن ہے چلو چمن ہے وہ ہے وہ ٹہل کے آئیں فضا ہے وہ ہے وہ خوشبو نئی نئی ہے گلوں ہے وہ ہے وہ رنگت نئی نئی ہے جو خاندانی رئی سے ہیں حقیقت مزاج رکھتے ہیں نرم اپنا تمہارا لہجہ بتا رہا ہے تمہاری دولت نئی نئی ہے ذرا سا قدرت نے کیا نوازا کے آکے بیٹھے ہوں پہلی صف ہے وہ ہے وہ ہے وہ ابھی کیوں اڑنے لگے ہوا ہے وہ ہے وہ ابھی تو شہرت نئی نئی ہے بموں کی برسات ہوں رہی ہے پرانی جانباز سو رہے ہیں غلام دنیا کو کر رہا ہے حقیقت ج سے کی طاقت نئی نئی ہے

Shabeena Adeeb

232 likes

More from Adil Mansuri

ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ چھوڑ کر ہے وہ ہے وہ کدھر جاؤں گا اندھیروں کے اندر اتر جاؤں گا مری پتیاں ساری سوکھی ہوئیں نئے موسموں ہے وہ ہے وہ بکھر جاؤں گا ا گر آ گیا تو آئی لگ سامنے تو اپنے ہی چہرے سے ڈر جاؤں گا حقیقت اک آنکھ جو مری اپنی بھی ہے لگ آئی نظر تو کدھر جاؤں گا حقیقت اک بے وجہ آواز دےگا ا گر ہے وہ ہے وہ ہے وہ خالی سڑک پر ٹھہر جاؤں گا پلٹ کر لگ پایا کسی کو ا گر تو اپنی ہی آہٹ سے ڈر جاؤں گا تری ذات ہے وہ ہے وہ سان سے لی ہے صدا تجھے چھوڑ کر ہے وہ ہے وہ کدھر جاؤں گا

Adil Mansuri

4 likes

بسم اللہ کے تڑپنے کی اداؤں ہے وہ ہے وہ نشہ تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاتھ ہے وہ ہے وہ تلوار لیے جھوم رہا تھا گھونگھٹ ہے وہ ہے وہ مری خواب کی تعبیر چھپی تھی مہن گرا سے ہتھیلی ہے وہ ہے وہ میرا نام لکھا تھا لب تھے کہ کسی پیالی کے ہونٹوں پہ جھکے تھے اور ہاتھ کہی گردن مینا ہے وہ ہے وہ پڑا تھا حمام کے آئینے ہے وہ ہے وہ شب ڈوب رہی تھی سگریٹ سے نئے دن کا دھواں پھیل رہا تھا دریا کے کنارے پہ مری لاش پڑی تھی اور پانی کی تہ ہے وہ ہے وہ حقیقت مجھے ڈھونڈ رہا تھا معلوم نہیں پھروں حقیقت ک ہاں چھپ گیا تو عادل سایہ سا کوئی لم سے کی سرحد پہ ملا تھا

Adil Mansuri

0 likes

چہرے پہ چمچماتی ہوئی دھوپ مر گئی سورج کو ڈھلتا دیکھ کے پھروں شام ڈر گئی مبہوت سے کھڑے رہے سب ب سے کی لائن ہے وہ ہے وہ ہے وہ کولہے اچھالتی ہوئی بجلی گزر گئی سورج وہی تھا دھوپ وہی شہر بھی وہی کیا چیز تھی جو جسم کے اندر ٹھٹھرا گئی خواہش سخانے رکھی تھی کوٹھے پہ دوپہر اب شام ہوں چلی میاں دیکھو کدھر گئی تہلیل ہوں گئی ہے ہوا ہے وہ ہے وہ اداسیاں خالی جگہ جو رہ گئی تنہائی بھر گئی چہرے بغیر نکلا تھا ا سے کے مکان سے رسوائیوں کی حد سے بھی آگے خبر گئی رنگوں کی سرخ نافر داخلہ گل آفتاب اندھی ہوائیں بچھاؤ خٹک کان بھر گئی

Adil Mansuri

0 likes

چاروں طرف سے موت نے گھیرا ہے آب و زیست کو اور ا سے کے ساتھ حکم کہ اب زندگی کروں باہر گلی ہے وہ ہے وہ شور ہے برسات کا سنو کنڈی لگا کے آج تو گھر ہے وہ ہے وہ پڑے رہو چھوڑ آئی ک سے کی چھت پہ جواں سال چاند کو خاموش ک سے لیے ہوں ستارو جواب دو کیوں چلتے چلتے رک گئے ویران راستہ تنہا ہوں آج ہے وہ ہے وہ ذرا گھر تک تو ساتھ دو ج سے نے بھی مڑ کے دیکھا حقیقت پتھر کا ہوں گیا تو نظریں جھکائے دوستو چپ چپ چلے چلو اللہ رکھے تیری سحر جیسی کم سنی دل گوا ہوں ہے جب بھی تو آتی ہے شام کو ویراں چمن پہ روئی ہے شبنم تمام رات ایسے ہے وہ ہے وہ کوئی ننھی کلی مسکرائے تو عادل ہوائیں کب سے بھی دیتی ہیں دستکیں جل گرا سے اٹھ کے کمرے کا دروازہ کھول دو

Adil Mansuri

0 likes

ہونے کو یوں تو شہر ہے وہ ہے وہ اپنا مکان تھا خوبصورت کا ری گزاری م گر درمیان تھا لمحے کے ٹوٹنے کی صدا سن رہا تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جھپکی جو آنکھ سر پہ نیا آسمان تھا کہنے کو ہاتھ باندھے کھڑے تھے نماز ہے وہ ہے وہ ہے وہ پوچھو تو دوسری ہی طرف اپنا دھیان تھا اللہ جانے ک سے پہ اکڑتا تھا رات دن کچھ بھی نہیں تھا پھروں بھی بڑا بد زبان تھا شعلے اگلتے تیر برستے تھے چرخ سے سایہ تھا پا سے ہے وہ ہے وہ لگ کوئی سایبان تھا سب سے کیا ہے وصل کا وعدہ ا پیش ا پیش کل رات حقیقت سبھی پہ بے حد مہربان تھا منا پھٹ تھا بے لگام تھا رسوا تھا ڈھیٹ تھا جیسا بھی تھا حقیقت دوستو محفل کی جان تھا

Adil Mansuri

1 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Adil Mansuri.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Adil Mansuri's ghazal.