چہرے پہ چمچماتی ہوئی دھوپ مر گئی سورج کو ڈھلتا دیکھ کے پھروں شام ڈر گئی مبہوت سے کھڑے رہے سب ب سے کی لائن ہے وہ ہے وہ ہے وہ کولہے اچھالتی ہوئی بجلی گزر گئی سورج وہی تھا دھوپ وہی شہر بھی وہی کیا چیز تھی جو جسم کے اندر ٹھٹھرا گئی خواہش سخانے رکھی تھی کوٹھے پہ دوپہر اب شام ہوں چلی میاں دیکھو کدھر گئی تہلیل ہوں گئی ہے ہوا ہے وہ ہے وہ اداسیاں خالی جگہ جو رہ گئی تنہائی بھر گئی چہرے بغیر نکلا تھا ا سے کے مکان سے رسوائیوں کی حد سے بھی آگے خبر گئی رنگوں کی سرخ نافر داخلہ گل آفتاب اندھی ہوائیں بچھاؤ خٹک کان بھر گئی
Related Ghazal
کبھی ملیںگے تو یہ قرض بھی اتاریںگے تمہارے چہرے کو پہروں تلک نہہاریںگے یہ کیا ستم کہ کھلاڑی بدل دیا ا سے نے ہم ا سے امید پہ بیٹھے تھے ہم ہی ہاریںگے ہمارے بعد تری عشق ہے وہ ہے وہ نئے لڑکے بدن تو چو ہے وہ ہے وہ ہے وہ گے زلفیں نہیں سنواریں گے
Vikram Gaur Vairagi
70 likes
ج سے طرح سمے گزرنے کے لیے ہوتا ہے آدمی شکل پہ مرنے کے لیے ہوتا ہے تیری آنکھوں سے ملاقات ہوئی تب یہ کھلا ڈوبنے والا ابھرنے کے لیے ہوتا ہے عشق کیوں پیچھے ہٹا بات نبھانے سے میاں حسن تو خیر مکرنے کے لیے ہوتا ہے آنکھ ہوتی ہے کسی راہ کو تکنے کے لیے دل کسی پاؤں پہ دھرنے کے لیے ہوتا ہے دل کی دہلی کا چناؤ ہی ا پیش ہے صاحب جب بھی ہوتا ہے یہ ہَرنے کے لیے ہوتا ہے کوئی بستی ہوں اجڑنے کے لیے بستی ہے کوئی مجمع ہوں گزرا کے لیے ہوتا ہے
Ali Zaryoun
61 likes
گھٹن سی ہونے لگی ا سے کے پا سے جاتے ہوئے ہے وہ ہے وہ ہے وہ خود سے روٹھ گیا تو ہوں اسے مناتے ہوئے یہ زخم زخم مناظر لہو لہو چہرے ک ہاں چلے گئے حقیقت لوگ ہنستے گاتے ہوئے لگ جانے ختم ہوئی کب ہماری آزا گرا تعلقات کی پابندیاں نبھاتے ہوئے ہے اب بھی چاندنی راتوں پر تری بدن کی شکن ہے وہ ہے وہ ہے وہ خود ہی مٹنے لگا ہوں اسے مٹاتے ہوئے تمہارے آنے کی امید بر معین نہیں آتی ہے وہ ہے وہ ہے وہ راکھ ہونے لگا ہوں دیے جلاتے ہوئے
Azhar Iqbal
20 likes
हज़ारों ख़्वाहिशें ऐसी कि हर ख़्वाहिश पे दम निकले बहुत निकले मिरे अरमान लेकिन फिर भी कम निकले डरे क्यूँँ मेरा क़ातिल क्या रहेगा उस की गर्दन पर वो ख़ूँ जो चश्म-ए-तर से उम्र भर यूँँ दम-ब-दम निकले निकलना ख़ुल्द से आदम का सुनते आए हैं लेकिन बहुत बे-आबरू हो कर तिरे कूचे से हम निकले भरम खुल जाए ज़ालिम तेरे क़ामत की दराज़ी का अगर इस तुर्रा-ए-पुर-पेच-ओ-ख़म का पेच-ओ-ख़म निकले मगर लिखवाए कोई उस को ख़त तो हम से लिखवाए हुई सुब्ह और घर से कान पर रख कर क़लम निकले हुई इस दौर में मंसूब मुझ से बादा-आशामी फिर आया वो ज़माना जो जहाँ में जाम-ए-जम निकले हुई जिन से तवक़्क़ो' ख़स्तगी की दाद पाने की वो हम से भी ज़ियादा ख़स्ता-ए-तेग़-ए-सितम निकले मोहब्बत में नहीं है फ़र्क़ जीने और मरने का उसी को देख कर जीते हैं जिस काफ़िर पे दम निकले कहाँ मय-ख़ाने का दरवाज़ा 'ग़ालिब' और कहाँ वाइ'ज़ पर इतना जानते हैं कल वो जाता था कि हम निकले
Mirza Ghalib
26 likes
سمندر الٹا سیدھا بولتا ہے سلیقے سے تو پیاسا بولتا ہے ی ہاں تو ا سے کا بڑھانے بولتا ہے و ہاں سر و ساماں حقیقت کیا بولتا ہے تمہارے ساتھ اڑانے بولتی ہے ہمارے ساتھ پنجرہ بولتا ہے نگاہیں کرتی رہ جاتی ہیں ہجے حقیقت جب چہرے سے املا بولتا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ چپ رہتا ہوں اتنا بول کر بھی تو چپ رہ کر بھی کتنا بولتا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہر شاعر ہے وہ ہے وہ یہ بھی دیکھتا ہوں بنا مائک کے حقیقت کیا بولتا ہے
Fahmi Badayuni
40 likes
More from Adil Mansuri
ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ چھوڑ کر ہے وہ ہے وہ کدھر جاؤں گا اندھیروں کے اندر اتر جاؤں گا مری پتیاں ساری سوکھی ہوئیں نئے موسموں ہے وہ ہے وہ بکھر جاؤں گا ا گر آ گیا تو آئی لگ سامنے تو اپنے ہی چہرے سے ڈر جاؤں گا حقیقت اک آنکھ جو مری اپنی بھی ہے لگ آئی نظر تو کدھر جاؤں گا حقیقت اک بے وجہ آواز دےگا ا گر ہے وہ ہے وہ ہے وہ خالی سڑک پر ٹھہر جاؤں گا پلٹ کر لگ پایا کسی کو ا گر تو اپنی ہی آہٹ سے ڈر جاؤں گا تری ذات ہے وہ ہے وہ سان سے لی ہے صدا تجھے چھوڑ کر ہے وہ ہے وہ کدھر جاؤں گا
Adil Mansuri
4 likes
چاروں طرف سے موت نے گھیرا ہے آب و زیست کو اور ا سے کے ساتھ حکم کہ اب زندگی کروں باہر گلی ہے وہ ہے وہ شور ہے برسات کا سنو کنڈی لگا کے آج تو گھر ہے وہ ہے وہ پڑے رہو چھوڑ آئی ک سے کی چھت پہ جواں سال چاند کو خاموش ک سے لیے ہوں ستارو جواب دو کیوں چلتے چلتے رک گئے ویران راستہ تنہا ہوں آج ہے وہ ہے وہ ذرا گھر تک تو ساتھ دو ج سے نے بھی مڑ کے دیکھا حقیقت پتھر کا ہوں گیا تو نظریں جھکائے دوستو چپ چپ چلے چلو اللہ رکھے تیری سحر جیسی کم سنی دل گوا ہوں ہے جب بھی تو آتی ہے شام کو ویراں چمن پہ روئی ہے شبنم تمام رات ایسے ہے وہ ہے وہ کوئی ننھی کلی مسکرائے تو عادل ہوائیں کب سے بھی دیتی ہیں دستکیں جل گرا سے اٹھ کے کمرے کا دروازہ کھول دو
Adil Mansuri
0 likes
بدن پر نئی توڑے آنے لگی ہوا دل ہے وہ ہے وہ خواہش جگانے لگی کوئی خود کشی کی طرف چل دیا اداسی کی محنت ٹھکانے لگی جو چپ چاپ رہتی تھی دیوار پر حقیقت تصویر باتیں بنانے لگی خیالوں کے تاریک کھنڈرات ہے وہ ہے وہ ہے وہ خموشی غزل گنگنانے لگی ذرا دیر بیٹھے تھے تنہائی ہے وہ ہے وہ ہے وہ تری یاد آنکھیں دکھانے لگی
Adil Mansuri
6 likes
جیتا ہے صرف تیرے لیے کون مر کے دیکھ اک روز میری جان یہ حرکت بھی کر کے دیکھ منزل یہیں ہے آم کے پیڑوں کی چھاؤں ہے وہ ہے وہ ہے وہ اے شہسوار گھوڑے سے نیچے اتر کے دیکھ ٹوٹے پڑے ہیں کتنے اجالوں کے استخواں سایہ نما اندھیرے کے اندر اتر کے دیکھ پھولوں کی تنگ دامنی کا تذکرہ نہ کر خوشبو کی طرح موج صبا ہے وہ ہے وہ بکھر کے دیکھ تجھ پر کھلیں گے موت کی سرحد کے راستے ہمت اگر ہے اس کا کی گلی سے گزر کے دیکھ دریا کی وسعتوں سے اسے ناپتے نہیں تنہائی کتنی گہری ہے اک جام بھر کے دیکھ
Adil Mansuri
0 likes
عاشق تھے شہر ہے وہ ہے وہ جو پرانی شراب کے ہیں ان کے دل ہے وہ ہے وہ رلا اب فسانے کے حقیقت جو تمہارے ہاتھ سے آ کر نکل گیا تو ہم بھی قتیل ہیں اسی خا لگ خراب کے پھولوں کی سیج پر ذرا آرام کیا کیا ا سے احتساب پہ نقش اٹھ آئی گلاب کے سوئے تو دل ہے وہ ہے وہ ایک ج ہاں جاگنے لگا جاگے تو اپنی آنکھ ہے وہ ہے وہ خا لگ خراب تھے خواب کے ب سے تشنہ لبی کی آنکھ سے دیکھا کروں ا نہیں دریا رواں دواں ہیں چمکتے سراب کے ک سے طرح جمع کیجیے اب اپنے آپ کو کاغذ بکھر رہے ہیں پرانی کتاب کے
Adil Mansuri
1 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Adil Mansuri.
Similar Moods
More moods that pair well with Adil Mansuri's ghazal.







