گھٹن سی ہونے لگی ا سے کے پا سے جاتے ہوئے ہے وہ ہے وہ ہے وہ خود سے روٹھ گیا تو ہوں اسے مناتے ہوئے یہ زخم زخم مناظر لہو لہو چہرے ک ہاں چلے گئے حقیقت لوگ ہنستے گاتے ہوئے لگ جانے ختم ہوئی کب ہماری آزا گرا تعلقات کی پابندیاں نبھاتے ہوئے ہے اب بھی چاندنی راتوں پر تری بدن کی شکن ہے وہ ہے وہ ہے وہ خود ہی مٹنے لگا ہوں اسے مٹاتے ہوئے تمہارے آنے کی امید بر معین نہیں آتی ہے وہ ہے وہ ہے وہ راکھ ہونے لگا ہوں دیے جلاتے ہوئے
Related Ghazal
مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ورنا قدرت کا لکھا ہوا کاٹتا تری حصے ہے وہ ہے وہ آئی برے دن کوئی دوسرا کاٹتا لاریوں سے زیادہ بہاؤ تھا تری ہر اک لفظ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اشارہ نہیں کاٹ سکتا تیری بات کیا کاٹتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے بھی زندگی اور شب اے ہجر کاٹی ہے سب کی طرح ویسے بہتر تو یہ تھا کے ہے وہ ہے وہ کم سے کم کچھ نیا کاٹتا تری ہوتے ہوئے موم بتی بجھائی کسی اور نے کیا خوشی رہ گئی تھی جنم دن کی ہے وہ ہے وہ کیک کیا کاٹتا کوئی بھی تو نہیں جو مری بھوکے رہنے پہ ناراض ہوں جیل ہے وہ ہے وہ تیری تصویر ہوتی تو ہنسکر سزا کاٹتا
Tehzeeb Hafi
456 likes
جاناں حقیقت نہیں ہوں حسرت ہوں جو ملے خواب ہے وہ ہے وہ حقیقت دولت ہوں جاناں ہوں خوشبو کے خواب کی خوشبو اور اتنے ہی بے مروت ہوں ک سے طرح چھوڑ دوں تمہیں جاناں جاناں مری زندگی کی عادت ہوں ک سے لیے دیکھتے ہوں آئی لگ جاناں تو خود سے بھی خوبصورت ہوں داستان ختم ہونے والی ہے جاناں مری آخری محبت ہوں
Jaun Elia
315 likes
حقیقت منہ لگاتا ہے جب کوئی کام ہوتا ہے جو اس کا کا ہوتا ہے سمجھو غلام ہوتا ہے کسی کا ہوں کے دوبارہ نہ آنا میری طرف محبتوں ہے وہ ہے وہ حلالہ حرام ہوتا ہے اسے بھی گنتے ہیں ہم لوگ اہل خانہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہمارے یاں تو شجر کا بھی نام ہوتا ہے تجھ ایسے بے وجہ کے ہوتے ہیں ضرب سے دوست بہت تجھ ایسا بے وجہ بہت جلد آم ہوتا ہے کبھی لگی ہے تمہیں کوئی شام آخری شام ہمارے ساتھ یہ ہر ایک شام ہوتا ہے
Umair Najmi
81 likes
अब के हम बिछड़े तो शायद कभी ख़्वाबों में मिलें जिस तरह सूखे हुए फूल किताबों में मिलें ढूँढ़ उजड़े हुए लोगों में वफ़ा के मोती ये ख़ज़ाने तुझे मुमकिन है ख़राबों में मिलें ग़म-ए-दुनिया भी ग़म-ए-यार में शामिल कर लो नशा बढ़ता है शराबें जो शराबों में मिलें तू ख़ुदा है न मिरा इश्क़ फ़रिश्तों जैसा दोनों इंसाँ हैं तो क्यूँँ इतने हिजाबों में मिलें आज हम दार पे खींचे गए जिन बातों पर क्या अजब कल वो ज़माने को निसाबों में मिलें अब न वो मैं न वो तू है न वो माज़ी है 'फ़राज़' जैसे दो शख़्स तमन्ना के सराबों में मिलें
Ahmad Faraz
130 likes
ہم جی رہے ہیں کوئی بہانا کیے بغیر ا سے کے بغیر ا سے کی تمنا کیے بغیر امبار ا سے کا پردہ حرمت بنا میاں دیوار تک نہیں گری پردہ کیے بغیر یاراں حقیقت جو ہے میرا مسیحا جان و دل بے حد عزیز ہے مجھے اچھا کیے بغیر ہے وہ ہے وہ ہے وہ بستر خیال پہ ڈیوٹی ہوں ا سے کے پا سے صبح ازل سے کوئی تقاضا کیے بغیر ا سے کا ہے جو بھی کچھ ہے میرا اور ہے وہ ہے وہ م گر حقیقت مجھ کو چاہیے کوئی سودا کیے بغیر یہ زندگی جو ہے اسے معنی بھی چاہیے وعدہ ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ قبول ہے ایفا کیے بغیر اے قاتلوں کے شہر ب سے اتنی ہی عرض ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہوں لگ قتل کوئی تماشا کیے بغیر مرشد کے جھوٹ کی تو سزا بے حساب ہے جاناں چھوڑ یوں لگ شہر کو صحرا کیے بغیر ان آنگنوں ہے وہ ہے وہ کتنا سکون و سرور تھا آرائش نظر تری پروا کیے بغیر یاراں خوشا یہ روز و شب دل کہ اب ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ سب کچھ ہے خوش گوار بے شرط کیے بغیر گریہ کناں کی فرد ہے وہ ہے وہ اپنا نہیں ہے نام ہم گریہ کن ازل کے ہیں گریہ کیے بغیر آخر ہیں کون لوگ جو بخشی
Jaun Elia
36 likes
More from Azhar Iqbal
مجھ کو وحشت ہوئی مری گھر سے رات تیری جدائی کے ڈر سے تیری فرقت کا حب سے تھا اندر اور دم گھٹ رہا تھا باہر سے جسم کی آگ بجھ گئی لیکن پھروں ندامت کے خوشی بھی برسے ایک مدت سے ہیں سفر ہے وہ ہے وہ ہم گھر ہے وہ ہے وہ رہ کر بھی چنو بے گھر سے بارہا تیری جستجو ہے وہ ہے وہ ہم تجھ سے ملنے کے بعد بھی ترسے
Azhar Iqbal
11 likes
زمین دل اک عرصے بعد جل تھل ہوں رہی ہے کوئی بارش میرے اندر مسلسل ہوں رہی ہے لہو کا رنگ پھیلا ہے ہمارے کینوس پر تیری تصویر اب جا کر مکمل ہوں رہی ہے ہوا تازہ کا جھونکا چلا آیا کہاں سے کہ مدت بعد سی پانی ہے وہ ہے وہ ہلچل ہوں رہی ہے تجھے دیکھے سے ممکن مغفرت ہوں جائے اس کا کی تیرے بیمار کی بس آج اور کل ہوں رہی ہے حقیقت صاحب آ ہی گئی بند قبا کھولنے لگے ہیں پہیلی تھی جو اک الجھي ہوئی حل ہوں رہی ہے
Azhar Iqbal
13 likes
حقیقت ماہتاب ابھی بام پر نہیں آیا مری دعاؤں ہے وہ ہے وہ شاید اثر نہیں آیا بے حد عجیب ہے یاروں بلندیوں کا طلسم جو ایک بار گیا تو لوٹ کر نہیں آیا یہ کائنات کی وسعت کھلی نہیں مجھ پر ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنی ذات سے جب تک گزر نہیں آیا بے حد دنوں سے ہے بے شکل سی مری مٹی بے حد دنوں سے کوئی کوزہ گر نہیں آیا ب سے ایک لمحے کو بے پیرہن اسے دیکھا پھروں ا سے کے بعد مجھے کچھ نظر نہیں آیا ہم اب بھی دشت ہے وہ ہے وہ خیمہ لگائے بیٹھے ہیں ہمارے حصے ہے وہ ہے وہ اپنا ہی گھر نہیں آیا زمین بانجھ لگ ہوں جائے کچھ کہو اظہر سخن کی شاخ پہ کب سے ثمر نہیں آیا
Azhar Iqbal
10 likes
دل کی گلی ہے وہ ہے وہ چاند نکلتا رہتا ہے ایک دیا امید کا جلتا رہتا ہے چنو چنو یادوں کی لو بڑھتی ہے ویسے ویسے جسم پگھلتا رہتا ہے سرگوشی کو کان ترستے رہتے ہیں سناٹا آواز ہے وہ ہے وہ ڈھلتا رہتا ہے منظر منظر جی لو جتنا جی پاؤ موسم پل پل رنگ بدلتا رہتا ہے راکھ ہوئی جاتی ہے ساری ہریالی آنکھوں ہے وہ ہے وہ جنگل سا جلتا رہتا ہے تم جو گئے تو بھول گئے ساری باتیں ویسے دل ہے وہ ہے وہ کیا کیا چلتا رہتا ہے
Azhar Iqbal
12 likes
تری سمت جانے کا راستہ نہیں ہوں رہا رہ عشق ہے وہ ہے وہ کوئی معجزہ نہیں ہوں رہا کوئی آئی لگ ہوں جو خود سے مجھ کو ملا سکے میرا اپنے آپ سے سامنا نہیں ہوں رہا تو غم گساری ہے تو ہوا کرے تیری بندگی سے میرا بھلا نہیں ہوں رہا کوئی رات آ کے ٹھہر گئی مری ذات ہے وہ ہے وہ ہے وہ میرا روشنی سے بھی رابطہ نہیں ہوں رہا اسے اپنے ہونٹوں کا لم سے دو کہ یہ سان سے لے یہ جو پیڑ ہے یہ ہرا بھرا نہیں ہوں رہا
Azhar Iqbal
12 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Azhar Iqbal.
Similar Moods
More moods that pair well with Azhar Iqbal's ghazal.







