جیتا ہے صرف تیرے لیے کون مر کے دیکھ اک روز میری جان یہ حرکت بھی کر کے دیکھ منزل یہیں ہے آم کے پیڑوں کی چھاؤں ہے وہ ہے وہ ہے وہ اے شہسوار گھوڑے سے نیچے اتر کے دیکھ ٹوٹے پڑے ہیں کتنے اجالوں کے استخواں سایہ نما اندھیرے کے اندر اتر کے دیکھ پھولوں کی تنگ دامنی کا تذکرہ نہ کر خوشبو کی طرح موج صبا ہے وہ ہے وہ بکھر کے دیکھ تجھ پر کھلیں گے موت کی سرحد کے راستے ہمت اگر ہے اس کا کی گلی سے گزر کے دیکھ دریا کی وسعتوں سے اسے ناپتے نہیں تنہائی کتنی گہری ہے اک جام بھر کے دیکھ
Related Ghazal
تمہیں ب سے یہ بتانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے کیا چھپانا چاہتا ہوں کبھی مجھ سے بھی کوئی جھوٹ بولو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں ہے وہ ہے وہ ہاں ملانا چاہتا ہوں یہ جو کھڑکی ہے نقشے ہے وہ ہے وہ تمہارے ی ہاں ہے وہ ہے وہ در بنانا چاہتا ہوں اداکاری بے حد دکھ دے رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچ مچ مسکرانا چاہتا ہوں پروں ہے وہ ہے وہ تیر ہے پنجوں ہے وہ ہے وہ تنکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ چڑیا اڑانا چاہتا ہوں لیے بیٹھا ہوں گھنگرو پھول اندھیرا ترا ہنسنا بنانا چاہتا ہوں بیگا لگ غم عشق کی جاناں کو مبارک ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے خا لگ کمانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سارے شہر کی بیساخیوں کو تری در پر نرم گوئی چاہتا ہوں مجھے جاناں سے اندھیرا ہی پڑےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کو یاد آنا چاہتا ہوں
Fahmi Badayuni
249 likes
حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو
Naseer Turabi
244 likes
زبان تو کھول نظر تو ملا جواب تو دے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کتنی بار لٹا ہوں مجھے حساب تو دے تری بدن کی ودھی ہے وہ ہے وہ ہے اتار لکھاوت ہے وہ ہے وہ ہے وہ تجھے کیسے چڑھاو مجھے کتاب تو دے تیرا سوال ہے ساقی کہ زندگی کیا ہے جواب دیتا ہوں پہلے مجھے شراب تو دے
Rahat Indori
190 likes
بیٹھے ہیں چین سے کہی جانا تو ہے نہیں ہم بے گھروں کا کوئی ہری تو ہے نہیں جاناں بھی ہوں بیتے سمے کے مانند ہوں بہو جاناں نے بھی یاد آنا ہے آنا تو ہے نہیں عہد وفا سے ک سے لیے خائف ہوں مری جان کر لو کہ جاناں نے عہد نبھانا تو ہے نہیں حقیقت جو ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ عزیز ہے کیسا ہے کون ہے کیوں پوچھتے ہوں ہم نے بتانا تو ہے نہیں دنیا ہم اہل عشق پہ کیوں پھینکتی ہے جال ہم نے تری فریب ہے وہ ہے وہ آنا تو ہے نہیں حقیقت عشق تو کرےگا م گر دیکھ بھال کے فار سے حقیقت تری جیسا دیوا لگ تو ہے نہیں
Rehman Faris
196 likes
پاگل کیسے ہوں جاتے ہیں دیکھو ایسے ہوں جاتے ہیں خوابوں کا دھندہ کرتی ہوں کتنے پیسے ہوں جاتے ہیں دنیا سا ہونا مشکل ہے تری چنو ہوں جاتے ہیں مری کام خدا کرتا ہے تری ویسے ہوں جاتے ہیں
Ali Zaryoun
158 likes
More from Adil Mansuri
ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ چھوڑ کر ہے وہ ہے وہ کدھر جاؤں گا اندھیروں کے اندر اتر جاؤں گا مری پتیاں ساری سوکھی ہوئیں نئے موسموں ہے وہ ہے وہ بکھر جاؤں گا ا گر آ گیا تو آئی لگ سامنے تو اپنے ہی چہرے سے ڈر جاؤں گا حقیقت اک آنکھ جو مری اپنی بھی ہے لگ آئی نظر تو کدھر جاؤں گا حقیقت اک بے وجہ آواز دےگا ا گر ہے وہ ہے وہ ہے وہ خالی سڑک پر ٹھہر جاؤں گا پلٹ کر لگ پایا کسی کو ا گر تو اپنی ہی آہٹ سے ڈر جاؤں گا تری ذات ہے وہ ہے وہ سان سے لی ہے صدا تجھے چھوڑ کر ہے وہ ہے وہ کدھر جاؤں گا
Adil Mansuri
4 likes
چاروں طرف سے موت نے گھیرا ہے آب و زیست کو اور ا سے کے ساتھ حکم کہ اب زندگی کروں باہر گلی ہے وہ ہے وہ شور ہے برسات کا سنو کنڈی لگا کے آج تو گھر ہے وہ ہے وہ پڑے رہو چھوڑ آئی ک سے کی چھت پہ جواں سال چاند کو خاموش ک سے لیے ہوں ستارو جواب دو کیوں چلتے چلتے رک گئے ویران راستہ تنہا ہوں آج ہے وہ ہے وہ ذرا گھر تک تو ساتھ دو ج سے نے بھی مڑ کے دیکھا حقیقت پتھر کا ہوں گیا تو نظریں جھکائے دوستو چپ چپ چلے چلو اللہ رکھے تیری سحر جیسی کم سنی دل گوا ہوں ہے جب بھی تو آتی ہے شام کو ویراں چمن پہ روئی ہے شبنم تمام رات ایسے ہے وہ ہے وہ کوئی ننھی کلی مسکرائے تو عادل ہوائیں کب سے بھی دیتی ہیں دستکیں جل گرا سے اٹھ کے کمرے کا دروازہ کھول دو
Adil Mansuri
0 likes
دروازہ بند دیکھ کے میرے مکان کا جھونکا ہوا کا کھڑکی کے پردے ہلا گیا تو حقیقت جان نو بہار جدھر سے گزر گیا تو پیڑوں نے پھول پتوں سے رستہ چھپا لیا اس کا کا کے قریب جانے کا انجام یہ ہوا ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنے آپ سے بھی بہت دور جا پڑا انگڑائی لے رہی تھی گلستاں ہے وہ ہے وہ جب بہار ہر پھول اپنے رنگ کی آتش ہے وہ ہے وہ جل گیا تو کانٹے سے ٹوٹتے ہیں مری انگ انگ ہے وہ ہے وہ ہے وہ رگ رگ ہے وہ ہے وہ چاند جلتا ہوا زہر بھر گیا تو آنکھوں نے اس کا کو دیکھا نہیں اس کا کے باوجود دل اس کا کی یاد سے کبھی غافل نہیں رہا دروازہ کھٹکھٹا کے ستارے تم چلے گئے خوابوں کی شال اوڑھ کے ہے وہ ہے وہ اونگھتا رہا شب چاندنی کی آنچ ہے وہ ہے وہ تپ کر نکھر گئی سورج کی جلتی آگ ہے وہ ہے وہ دن خاک ہوں گیا تو سڑکیں تمام دھوپ سے انگارا ہوں گئیں اندھی ہوائیں چلتی ہیں ان پر برہنہ پا حقیقت آئی تھوڑی دیر گردشیں اور چلے گئے عادل ہے وہ ہے وہ سر جھکائے ہوئے چپ کھڑا رہا
Adil Mansuri
0 likes
چہرے پہ چمچماتی ہوئی دھوپ مر گئی سورج کو ڈھلتا دیکھ کے پھروں شام ڈر گئی مبہوت سے کھڑے رہے سب ب سے کی لائن ہے وہ ہے وہ ہے وہ کولہے اچھالتی ہوئی بجلی گزر گئی سورج وہی تھا دھوپ وہی شہر بھی وہی کیا چیز تھی جو جسم کے اندر ٹھٹھرا گئی خواہش سخانے رکھی تھی کوٹھے پہ دوپہر اب شام ہوں چلی میاں دیکھو کدھر گئی تہلیل ہوں گئی ہے ہوا ہے وہ ہے وہ اداسیاں خالی جگہ جو رہ گئی تنہائی بھر گئی چہرے بغیر نکلا تھا ا سے کے مکان سے رسوائیوں کی حد سے بھی آگے خبر گئی رنگوں کی سرخ نافر داخلہ گل آفتاب اندھی ہوائیں بچھاؤ خٹک کان بھر گئی
Adil Mansuri
0 likes
بسم اللہ کے تڑپنے کی اداؤں ہے وہ ہے وہ نشہ تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاتھ ہے وہ ہے وہ تلوار لیے جھوم رہا تھا گھونگھٹ ہے وہ ہے وہ مری خواب کی تعبیر چھپی تھی مہن گرا سے ہتھیلی ہے وہ ہے وہ میرا نام لکھا تھا لب تھے کہ کسی پیالی کے ہونٹوں پہ جھکے تھے اور ہاتھ کہی گردن مینا ہے وہ ہے وہ پڑا تھا حمام کے آئینے ہے وہ ہے وہ شب ڈوب رہی تھی سگریٹ سے نئے دن کا دھواں پھیل رہا تھا دریا کے کنارے پہ مری لاش پڑی تھی اور پانی کی تہ ہے وہ ہے وہ حقیقت مجھے ڈھونڈ رہا تھا معلوم نہیں پھروں حقیقت ک ہاں چھپ گیا تو عادل سایہ سا کوئی لم سے کی سرحد پہ ملا تھا
Adil Mansuri
0 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Adil Mansuri.
Similar Moods
More moods that pair well with Adil Mansuri's ghazal.







