ghazalKuch Alfaaz

دروازہ بند دیکھ کے میرے مکان کا جھونکا ہوا کا کھڑکی کے پردے ہلا گیا تو حقیقت جان نو بہار جدھر سے گزر گیا تو پیڑوں نے پھول پتوں سے رستہ چھپا لیا اس کا کا کے قریب جانے کا انجام یہ ہوا ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنے آپ سے بھی بہت دور جا پڑا انگڑائی لے رہی تھی گلستاں ہے وہ ہے وہ جب بہار ہر پھول اپنے رنگ کی آتش ہے وہ ہے وہ جل گیا تو کانٹے سے ٹوٹتے ہیں مری انگ انگ ہے وہ ہے وہ ہے وہ رگ رگ ہے وہ ہے وہ چاند جلتا ہوا زہر بھر گیا تو آنکھوں نے اس کا کو دیکھا نہیں اس کا کے باوجود دل اس کا کی یاد سے کبھی غافل نہیں رہا دروازہ کھٹکھٹا کے ستارے تم چلے گئے خوابوں کی شال اوڑھ کے ہے وہ ہے وہ اونگھتا رہا شب چاندنی کی آنچ ہے وہ ہے وہ تپ کر نکھر گئی سورج کی جلتی آگ ہے وہ ہے وہ دن خاک ہوں گیا تو سڑکیں تمام دھوپ سے انگارا ہوں گئیں اندھی ہوائیں چلتی ہیں ان پر برہنہ پا حقیقت آئی تھوڑی دیر گردشیں اور چلے گئے عادل ہے وہ ہے وہ سر جھکائے ہوئے چپ کھڑا رہا

Related Ghazal

پاگل کیسے ہوں جاتے ہیں دیکھو ایسے ہوں جاتے ہیں خوابوں کا دھندہ کرتی ہوں کتنے پیسے ہوں جاتے ہیں دنیا سا ہونا مشکل ہے تری چنو ہوں جاتے ہیں مری کام خدا کرتا ہے تری ویسے ہوں جاتے ہیں

Ali Zaryoun

158 likes

ہاتھ خالی ہیں تری شہر سے جاتے جاتے جان ہوتی تو مری جان لٹاتے جاتے اب تو ہر ہاتھ کا پتھر ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ پہچانتا ہے عمر گزری ہے تری شہر ہے وہ ہے وہ آتے جاتے اب کے مایو سے ہوا یاروں کو رخصت کر کے جا رہے تھے تو کوئی زخم لگاتے جاتے رینگنے کی بھی اجازت نہیں ہم کو ور لگ ہم جدھر جاتے نئے پھول کھلاتے جاتے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو جلتے ہوئے صحراؤں کا اک پتھر تھا جاناں تو دریا تھے مری پیا سے بجھاتے جاتے مجھ کو رونے کا سلیقہ بھی نہیں ہے شاید لوگ ہنستے ہیں مجھے دیکھ کے آتے جاتے ہم سے پہلے بھی مسافر کئی گزرے ہوں گے کم سے کم راہ کے پتھر تو ہٹاتے جاتے

Rahat Indori

102 likes

کسی لبا سے کی خوشبو جب اڑ کے آتی ہے تری بدن کی جدائی بے حد ستاتی ہے تری گلاب ترستے ہیں تیری خوشبو کو تیری سفید چمیلی تجھے بلاتی ہے تری بغیر مجھے چین کیسے پڑتا ہیں مری بغیر تجھے نیند کیسے آتی ہے

Jaun Elia

113 likes

زنے حسین تھی اور پھول چن کر لاتی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ شعر کہتا تھا حقیقت داستان سناتی تھی عرب لہو تھا رگوں ہے وہ ہے وہ بدن سنہرا تھا حقیقت مسکراتی نہیں تھی دیے جلاتی تھی علی سے دور رہو لوگ ا سے سے کہتے تھے حقیقت میرا سچ ہے بے حد چیک کر بتاتی تھی علی یہ لوگ تمہیں جانتے نہیں ہیں ابھی گلے دیکھیں گے میرا حوصلہ بڑھاتی تھی یہ پھول دیکھ رہے ہوں یہ ا سے کا لہجہ تھا یہ جھیل دیکھ رہے ہوں ی ہاں حقیقت آتی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بعد کبھی ٹھیک سے نہیں جاگا حقیقت مجھ کو خواب نہیں نیند سے جگاتی تھی اسے کسی سے محبت تھی اور حقیقت ہے وہ ہے وہ نہیں تھا یہ بات مجھ سے زیادہ اسے رلاتی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ کچھ بتا نہیں سکتا حقیقت مری کیا تھی علی کہ اس کا کو دیکھ کر ب سے اپنی یاد آتی تھی

Ali Zaryoun

102 likes

اب مری ساتھ نہیں ہے سمجھے نا سمجھانے کی بات نہیں ہے سمجھے نا جاناں مانگوگے اور تمہیں مل جائےگا پیار ہے یہ خیرات نہیں ہے سمجھے نا ہے وہ ہے وہ ہے وہ بادل ہوں ج سے پر چا ہوں برسوں گا مری کوئی ذات نہیں ہے سمجھے نا اپنا خالی ہاتھ مجھے مت دکھلاؤ ا سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ میرا ہاتھ نہیں ہے سمجھے نا

Zubair Ali Tabish

66 likes

More from Adil Mansuri

ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ چھوڑ کر ہے وہ ہے وہ کدھر جاؤں گا اندھیروں کے اندر اتر جاؤں گا مری پتیاں ساری سوکھی ہوئیں نئے موسموں ہے وہ ہے وہ بکھر جاؤں گا ا گر آ گیا تو آئی لگ سامنے تو اپنے ہی چہرے سے ڈر جاؤں گا حقیقت اک آنکھ جو مری اپنی بھی ہے لگ آئی نظر تو کدھر جاؤں گا حقیقت اک بے وجہ آواز دےگا ا گر ہے وہ ہے وہ ہے وہ خالی سڑک پر ٹھہر جاؤں گا پلٹ کر لگ پایا کسی کو ا گر تو اپنی ہی آہٹ سے ڈر جاؤں گا تری ذات ہے وہ ہے وہ سان سے لی ہے صدا تجھے چھوڑ کر ہے وہ ہے وہ کدھر جاؤں گا

Adil Mansuri

4 likes

چہرے پہ چمچماتی ہوئی دھوپ مر گئی سورج کو ڈھلتا دیکھ کے پھروں شام ڈر گئی مبہوت سے کھڑے رہے سب ب سے کی لائن ہے وہ ہے وہ ہے وہ کولہے اچھالتی ہوئی بجلی گزر گئی سورج وہی تھا دھوپ وہی شہر بھی وہی کیا چیز تھی جو جسم کے اندر ٹھٹھرا گئی خواہش سخانے رکھی تھی کوٹھے پہ دوپہر اب شام ہوں چلی میاں دیکھو کدھر گئی تہلیل ہوں گئی ہے ہوا ہے وہ ہے وہ اداسیاں خالی جگہ جو رہ گئی تنہائی بھر گئی چہرے بغیر نکلا تھا ا سے کے مکان سے رسوائیوں کی حد سے بھی آگے خبر گئی رنگوں کی سرخ نافر داخلہ گل آفتاب اندھی ہوائیں بچھاؤ خٹک کان بھر گئی

Adil Mansuri

0 likes

چاروں طرف سے موت نے گھیرا ہے آب و زیست کو اور ا سے کے ساتھ حکم کہ اب زندگی کروں باہر گلی ہے وہ ہے وہ شور ہے برسات کا سنو کنڈی لگا کے آج تو گھر ہے وہ ہے وہ پڑے رہو چھوڑ آئی ک سے کی چھت پہ جواں سال چاند کو خاموش ک سے لیے ہوں ستارو جواب دو کیوں چلتے چلتے رک گئے ویران راستہ تنہا ہوں آج ہے وہ ہے وہ ذرا گھر تک تو ساتھ دو ج سے نے بھی مڑ کے دیکھا حقیقت پتھر کا ہوں گیا تو نظریں جھکائے دوستو چپ چپ چلے چلو اللہ رکھے تیری سحر جیسی کم سنی دل گوا ہوں ہے جب بھی تو آتی ہے شام کو ویراں چمن پہ روئی ہے شبنم تمام رات ایسے ہے وہ ہے وہ کوئی ننھی کلی مسکرائے تو عادل ہوائیں کب سے بھی دیتی ہیں دستکیں جل گرا سے اٹھ کے کمرے کا دروازہ کھول دو

Adil Mansuri

0 likes

جیتا ہے صرف تیرے لیے کون مر کے دیکھ اک روز میری جان یہ حرکت بھی کر کے دیکھ منزل یہیں ہے آم کے پیڑوں کی چھاؤں ہے وہ ہے وہ ہے وہ اے شہسوار گھوڑے سے نیچے اتر کے دیکھ ٹوٹے پڑے ہیں کتنے اجالوں کے استخواں سایہ نما اندھیرے کے اندر اتر کے دیکھ پھولوں کی تنگ دامنی کا تذکرہ نہ کر خوشبو کی طرح موج صبا ہے وہ ہے وہ بکھر کے دیکھ تجھ پر کھلیں گے موت کی سرحد کے راستے ہمت اگر ہے اس کا کی گلی سے گزر کے دیکھ دریا کی وسعتوں سے اسے ناپتے نہیں تنہائی کتنی گہری ہے اک جام بھر کے دیکھ

Adil Mansuri

0 likes

بدن پر نئی توڑے آنے لگی ہوا دل ہے وہ ہے وہ خواہش جگانے لگی کوئی خود کشی کی طرف چل دیا اداسی کی محنت ٹھکانے لگی جو چپ چاپ رہتی تھی دیوار پر حقیقت تصویر باتیں بنانے لگی خیالوں کے تاریک کھنڈرات ہے وہ ہے وہ ہے وہ خموشی غزل گنگنانے لگی ذرا دیر بیٹھے تھے تنہائی ہے وہ ہے وہ ہے وہ تری یاد آنکھیں دکھانے لگی

Adil Mansuri

6 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Adil Mansuri.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Adil Mansuri's ghazal.