جسم دمکتا زلف گھنیری درماندہ لب آنکھیں جادو سنگ مرمر اودا بادل سرخ شفق حیران آہو بھکشو دانی پیاسا پانی دریا ساگر جل گاگر گلشن خوشبو کوئل کوکو مستی دارو ہے وہ ہے وہ اور تو بامبی سیپی چھایا آنگن گھنگرو چھن چھن چبایا من آنکھیں کاجل پربت بادل حقیقت زلفیں اور یہ بازو راتیں مہکی سانسیں دہکی نظریں بہکی رت لہکی سوپن سلونا پریم کھلونا پھول بچھونا حقیقت پہلو جاناں سے دوری یہ مجبوری زخم کاری بیداری تنہا راتیں سپنے قاتیں خود سے باتیں میری پربھاکر
Related Ghazal
پھروں مری یاد آ رہی ہوں گی پھروں حقیقت دیپک بجھا رہی ہوں گی پھروں مری فی سے بک پہ آ کر حقیقت خود کو بینر بنا رہی ہوں گی اپنے بیٹے کا چوم کر ماتھا مجھ کو بتاشا لگا رہی ہوں گی پھروں اسی نے اسے چھوا ہوگا پھروں اسی سے نبھا رہی ہوں گی جسم چادر سا بچھ گیا تو ہوگا روح سلوٹ ہٹا رہی ہوں گی پھروں سے اک رات کٹ گئی ہوں گی پھروں سے اک رات آ رہی ہوں گی
Kumar Vishwas
53 likes
کبھی ملیںگے تو یہ قرض بھی اتاریںگے تمہارے چہرے کو پہروں تلک نہہاریںگے یہ کیا ستم کہ کھلاڑی بدل دیا ا سے نے ہم ا سے امید پہ بیٹھے تھے ہم ہی ہاریںگے ہمارے بعد تری عشق ہے وہ ہے وہ نئے لڑکے بدن تو چو ہے وہ ہے وہ ہے وہ گے زلفیں نہیں سنواریں گے
Vikram Gaur Vairagi
70 likes
جہاں جہاں پہ تجھے غیر نے چھوا ہوا تھا وہاں وہاں پہ میرا جسم بھی جلا ہوا تھا شکست ہونی تھی یہ میرا پہلا عشق تھا اور حقیقت بےوفا یہی کرتے ہوئے بڑا ہوا تھا پھروں ایک روز مجھے یہ پتا لگا ا سے کے پرانی عاشقوں کے ساتھ بھی برا ہوا تھا پتا کے کہنے سے لڑکی نے گھر بسا لیا پر ماں ا سے کہانی ہے وہ ہے وہ لڑکے کے ساتھ کیا ہوا تھا
Kushal Dauneria
36 likes
ابھی اک شور سا اٹھا ہے کہی کوئی خاموش ہوں گیا تو ہے کہی ہے کچھ ایسا کہ چنو یہ سب کچھ ا سے سے پہلے بھی ہوں چکا ہے کہی تجھ کو کیا ہوں گیا تو کہ چیزوں کو کہی رکھتا ہے ڈھونڈتا ہے کہی جو ی ہاں سے کہی لگ جاتا تھا حقیقت ی ہاں سے چلا گیا تو ہے کہی آج شمشان کی سی وعدے ہے ی ہاں کیا کوئی جسم جل رہا ہے کہی ہم کسی کے نہیں ج ہاں کے سوا ایسی حقیقت خاص بات کیا ہے کہی تو مجھے ڈھونڈ ہے وہ ہے وہ تجھے ڈھونڈوں کوئی ہم ہے وہ ہے وہ سے رہ گیا تو ہے کہی کتنی وحشت ہے درمیان ہجوم ج سے کو دیکھو گیا تو ہوا ہے کہی ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو اب شہر ہے وہ ہے وہ کہی بھی نہیں کیا میرا نام بھی لکھا ہے کہی اسی کمرے سے کوئی ہوں کے وداع اسی کمرے ہے وہ ہے وہ چھپ گیا تو ہے کہی مل کے ہر بے وجہ سے ہوا محسو سے مجھ سے یہ بے وجہ مل چکا ہے کہی
Jaun Elia
40 likes
آئینے آنکھ ہے وہ ہے وہ چبھتے تھے بستر سے بدن کترا تا تھا ایک یاد بسر کرتی تھی مجھے ہے وہ ہے وہ سان سے نہیں لے پاتا تھا ایک شخص کے ہاتھ ہے وہ ہے وہ تھا سب کچھ میرا کھلنا بھی مرجھانا بھی روتا تھا تو رات اجڑ جاتی ہنستا تھا تو دن بن جاتا تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ رب سے رابطے ہے وہ ہے وہ رہتا ممکن ہے کی ا سے سے رابطہ ہوں مجھے ہاتھ اٹھانا پڑتے تھے تب جا کر حقیقت فون اٹھاتا تھا مجھے آج بھی یاد ہے بچپن ہے وہ ہے وہ کبھی ا سے پر نظر ا گر پڑتی مری گدا سے پھول برستے تھے مری تختی پہ دل بن جاتا تھا ہم ایک زندان ہے وہ ہے وہ زندہ تھے ہم ایک زنجیر ہے وہ ہے وہ بڑھے ہوئے ایک دوسرے کو دیکھ کر ہم کبھی زار تھے تو رونا آتا تھا حقیقت جسم دلائیں نہیں ہوں پاتا تھا ان آنکھوں سے مجرم ٹھہراتا تھا اپنا کہنے کو تو گھر ٹھہراتا تھا
Tehzeeb Hafi
129 likes
More from Javed Akhtar
کھلا ہے در بچیں ترا انتظار جاتا رہا خلوص تو ہے مگر اعتبار جاتا رہا کسی کی آنکھ ہے وہ ہے وہ مستی تو آج بھی ہے وہی مگر کبھی جو ہمیں تھا خمار جاتا رہا کبھی جو سینے ہے وہ ہے وہ اک آگ تھی حقیقت سرد ہوئی کبھی نگاہ ہے وہ ہے وہ جو تھا جاں گسل جاتا رہا عجب سا چین تھا ہم کو کہ جب تھے ہم بےچین قرار آیا تو چنو قرار جاتا رہا کبھی تو میری بھی سنوائی ہوں گی محفل ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ امید لیے بار بار جاتا رہا
Javed Akhtar
2 likes
ग़म होते हैं जहाँ ज़ेहानत होती है दुनिया में हर शय की क़ीमत होती है अक्सर वो कहते हैं वो बस मेरे हैं अक्सर क्यूँँ कहते हैं हैरत होती है तब हम दोनों वक़्त चुरा कर लाते थे अब मिलते हैं जब भी फ़ुर्सत होती है अपनी महबूबा में अपनी माँ देखें बिन माँ के लड़कों की फ़ितरत होती है इक कश्ती में एक क़दम ही रखते हैं कुछ लोगों की ऐसी आदत होती है
Javed Akhtar
0 likes
حقیقت ڈھل رہا ہے تو یہ بھی رنگت بدل رہی ہے زمین سورج کی انگلیوں سے فسل رہی ہے جو مجھ کو زندہ جلا رہے ہیں حقیقت بے خبر ہیں کہ مری زنجیر دھیرے دھیرے پگھل رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ قتل تو ہوں گیا تو تمہاری گلی ہے وہ ہے وہ لیکن مری لہو سے تمہاری دیوار گل رہی ہے لگ جلنے پاتے تھے ج سے کے چولہے بھی ہر سویرے سنا ہے کل رات سے حقیقت بستی بھی جل رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ جانتا ہوں کہ خموشی ہے وہ ہے وہ ہی مصلحت ہے م گر یہی مصلحت مری دل کو خل رہی ہے کبھی تو انسان زندگی کی کرےگا عزت یہ ایک امید آج بھی دل ہے وہ ہے وہ پل رہی ہے
Javed Akhtar
2 likes
ساری حیرت ہے مری ساری ادا ا سے کی ہے بے گناہی ہے مری اور سزا ا سے کی ہے مری الفاظ ہے وہ ہے وہ جو رنگ ہے حقیقت ا سے کا ہے مری احسا سے ہے وہ ہے وہ جو ہے حقیقت فضا ا سے کی ہے شعر مری ہیں م گر ان ہے وہ ہے وہ محبت ا سے کی پھول مری ہیں م گر باد صبا ا سے کی ہے اک محبت کی یہ تصویر ہے دو رنگوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ شوق سب میرا ہے اور ساری حیا ا سے کی ہے ہم نے کیا ا سے سے محبت کی اجازت لی تھی دل شکن ہی صحیح پر بات بجا ا سے کی ہے ایک مری ہی سوا سب کو پکارے ہے کوئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے پہلے ہی کہا تھا یہ صدا ا سے کی ہے خون سے سینچی ہے ہے وہ ہے وہ نے جو ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ مر مر کے حقیقت ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ ایک ستم گر نے کہا ا سے کی ہے ا سے نے ہی ا سے کو اجاڑا ہے اسے لوٹا ہے یہ ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کی ا گر ہے بھی تو کیا ا سے کی ہے
Javed Akhtar
1 likes
نگل گئے سب کی سب سمندر ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ بچی اب کہی نہیں ہے بچاتے ہم اپنی جان ج سے ہے وہ ہے وہ حقیقت کشتی بھی اب کہی نہیں ہے بے حد دنوں بعد پائی فرصت تو ہے وہ ہے وہ نے خود کو پلٹ کے دیکھا م گر ہے وہ ہے وہ پہچانتا تھا ج سے کو حقیقت آدمی اب کہی نہیں ہے گزر گیا تو سمے دل پہ لکھ کر لگ جانے کیسی عجیب باتیں ورق پلٹتا ہوں ہے وہ ہے وہ جو دل کے تو سادگی اب کہی نہیں ہے حقیقت آگ برسی ہے دوپہر ہے وہ ہے وہ کہ سارے منظر جھل سے گئے ہیں ی ہاں سویرے جو تازگی تھی حقیقت تازگی اب کہی نہیں ہے جاناں اپنے قصبوں ہے وہ ہے وہ جا کے دیکھو و ہاں بھی اب شہر ہی بسے ہیں کہ ہوں جو زندگی جاناں حقیقت زندگی اب کہی نہیں ہے
Javed Akhtar
2 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Javed Akhtar.
Similar Moods
More moods that pair well with Javed Akhtar's ghazal.







