جہاں جہاں پہ تجھے غیر نے چھوا ہوا تھا وہاں وہاں پہ میرا جسم بھی جلا ہوا تھا شکست ہونی تھی یہ میرا پہلا عشق تھا اور حقیقت بےوفا یہی کرتے ہوئے بڑا ہوا تھا پھروں ایک روز مجھے یہ پتا لگا ا سے کے پرانی عاشقوں کے ساتھ بھی برا ہوا تھا پتا کے کہنے سے لڑکی نے گھر بسا لیا پر ماں ا سے کہانی ہے وہ ہے وہ لڑکے کے ساتھ کیا ہوا تھا
Related Ghazal
زبان تو کھول نظر تو ملا جواب تو دے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کتنی بار لٹا ہوں مجھے حساب تو دے تری بدن کی ودھی ہے وہ ہے وہ ہے اتار لکھاوت ہے وہ ہے وہ ہے وہ تجھے کیسے چڑھاو مجھے کتاب تو دے تیرا سوال ہے ساقی کہ زندگی کیا ہے جواب دیتا ہوں پہلے مجھے شراب تو دے
Rahat Indori
190 likes
خیال ہے وہ ہے وہ بھی اسے بے ردا نہیں کیا ہے یہ ظلم مجھ سے نہیں ہوں سکا نہیں کیا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ایک بے وجہ کو ایمان جانتا ہوں تو کیا خدا کے نام پر لوگوں نے کیا نہیں کیا ہے اسی لیے تو ہے وہ ہے وہ رویا نہیں بچھڑتے سمے تجھے روا لگ کیا ہے جدا نہیں کیا ہے یہ بدتمیز ا گر تجھ سے ڈر رہے ہیں تو پھروں تجھے بگاڑ کر ہے وہ ہے وہ نے برا نہیں کیا ہے
Ali Zaryoun
48 likes
چل دیے پھیر کر نظر جاناں بھی غیر تو غیر تھے م گر جاناں بھی یہ گلی مری دلربا کی ہے دوستوں خیریت ادھر جاناں بھی مجھ پہ لوگوں کے ساتھ ہنستے ہوں لوگ روئیںگے خاص کر جاناں بھی مجھ کو ٹھکرا دیا ہے دنیا نے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو مر جاؤں گا ا گر جاناں بھی ا سے کی گاڑی تو جا چکی تابش اب اٹھو جاؤ اپنے گھر جاناں بھی
Zubair Ali Tabish
58 likes
ا سے کے ہاتھوں ہے وہ ہے وہ جو خنجر ہے زیادہ تیز ہے اور پھروں بچپن سے ہی ا سے کا نشا لگ تیز ہے جب کبھی ا سے پار جانے کا خیال آتا مجھے کوئی آہستہ سے کہتا تھا کی دریا تیز ہے آج ملنا تھا بچھڑ جانے کی نیت سے ہمیں آج بھی حقیقت دیر سے پہنچا ہے کتنا تیز ہے اپنا سب کچھ ہار کے لوٹ آئی ہوں لگ مری پا سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تمہیں کہتا بھی رہتا کی دنیا تیز ہے آج ا سے کے گال چومے ہیں تو اندازہ ہوا چائے اچھی ہے م گر تھوڑا سا میٹھا تیز ہے
Tehzeeb Hafi
220 likes
پھروں مری یاد آ رہی ہوں گی پھروں حقیقت دیپک بجھا رہی ہوں گی پھروں مری فی سے بک پہ آ کر حقیقت خود کو بینر بنا رہی ہوں گی اپنے بیٹے کا چوم کر ماتھا مجھ کو بتاشا لگا رہی ہوں گی پھروں اسی نے اسے چھوا ہوگا پھروں اسی سے نبھا رہی ہوں گی جسم چادر سا بچھ گیا تو ہوگا روح سلوٹ ہٹا رہی ہوں گی پھروں سے اک رات کٹ گئی ہوں گی پھروں سے اک رات آ رہی ہوں گی
Kumar Vishwas
53 likes
More from Kushal Dauneria
بچی ہے روشنی جو بھی چراغوں سے نکل جائے جو مری دل سے نکلا ہے دعاؤں سے نکل جائے ہم ایسے لوگ جو دشمن کے رونے پر ٹھہر جائیں حقیقت ایسا بے وجہ جو اپنوں کی لاشوں سے نکل جائے پڑھانے کا ا گر زار ہے ہاتھوں سے نکل جانا خدایا پھروں مری بیٹی بھی ہاتھوں سے نکل جائے وہی اک بے وجہ تھا میرا ی ہاں پر جی لگانے کو اسی کو چاہتے تھے سب کہ گاؤں سے نکل جائے ادھر تو چھو رہی ہے جسم میرا ٹھنڈے ہاتھوں سے ادھر حقیقت چاہتی ہے رات باتوں سے نکل جائے نمائش باپ کی دولت کی کر کے سوچتا تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ کہ شاید امتحاں عشق پیسوں سے نکل جائے
Kushal Dauneria
25 likes
حسن اک گلستاں کا رہیےگا ہے آنکھ شہتوت بدن ڈالی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کچھ دیر اداسی ہنسکر ماری ہے مار نہیں ڈالی ہے ساز و سنگار سے چمکایا بدن ایک ہی نوٹ حقیقت بھی جالی ہے
Kushal Dauneria
24 likes
ہے وہ ہے وہ نے تو ب سے مزاق ہے وہ ہے وہ پوچھا خراب ہے حقیقت پیر ہاتھ دیکھ کے بولا خراب ہے ہر دن اسے دکھایا کہ کتنے غنیم ہیں ہر رات ا سے کے بارے ہے وہ ہے وہ سوچا خراب ہے یہ عشق ہوں چکا ہے ترپ چال تاش کی آگے غلام کے میرا اکا خراب ہے آزاد لڑ کیوں سے بھلی قید عورتیں زار کہ جھیل ٹھیک ہے دریا خراب ہے ہم ج سے خدا کی آ سے ہے وہ ہے وہ بیٹھے ہیں رات دن حقیقت جا چکا ہے بول کے دنیا خراب ہے زیادہ کسی کی موت پہ رونا نہیں صحیح اور جنم دن پہ شور شرابا خراب ہے آدھا بھی ا سے کے جتنا ہے وہ ہے وہ روشن نہیں ہوا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ج سے دیے کو بول رہا تھا خراب ہے
Kushal Dauneria
35 likes
ج سے شام اس کا کو ٹرین ہے وہ ہے وہ بیٹھا کے آیا تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ اس کا کو ا سے کے پیار سے ملوا کے آیا تھا ا سے کی بسی بسائی ہے وہ ہے وہ دنیا اجاڑ کر جو کھا نہیں سکا اسے پھیلا کے آیا تھا مری نصیب ہے وہ ہے وہ کہی بیٹھا تمہارا دکھ لگتا تھا چنو ماں کی قسم کھا کے آیا تھا
Kushal Dauneria
26 likes
تمام عمر بچاتا رہا خدا ا سے کو کسی کی لگ ہی گئی پھروں بھی بد دعا ا سے کو حقیقت اپنی زندگی اور دوستوں ہے وہ ہے وہ ہے مصروف مری تمام پریشانیوں سے کیا ا سے کو جاناں ا سے سے کہنا کسی دن تباہ کر دےگا کم عمر لڑ کیوں کے دل سے کھیلنا ا سے کو بچھڑتے سمے اسے دیکھ کر لگا چنو ہر ایک چیز کا پہلے سے علم تھا ا سے کو ہنر شنا سے کسی دن قرار کر دیں گے بنانے والے تری فن کی انتہا ا سے کو لگ جانے کون سا پیشہ ہے ج سے ہے وہ ہے وہ لگتا ہے ہر ایک شام کوئی آدمی نیا ا سے کو اسے ستائیں محبت کے لوٹتے موسم کبھی بھی را سے لگ آئی امریکا ا سے کو خدا ہے وہ ہے وہ بھی تری ا سے دنیا کو مٹا دوں گا ہمارے جھگڑے ہے وہ ہے وہ کچھ بھی ا گر ہوا ا سے کو
Kushal Dauneria
21 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Kushal Dauneria.
Similar Moods
More moods that pair well with Kushal Dauneria's ghazal.







