جو پردہ داری چلی تو یاری نہیں چلےگی ہماری دنیا ہے وہ ہے وہ دنیا داری نہیں چلےگی تمہارے جانے پہ دل کا دفترون سمیٹ لیںگے پھروں ا سے سڑک پر کوئی سواری نہیں چلےگی پرندے بھی بے گھری سے پہلے یہ سوچتے تھے کہ سبز پیڑوں پہ کوئی آری نہیں چلےگی ہم اپنی مرضی سے ا سے کے دل ہے وہ ہے وہ رہا کریںگے ہمارے گھر ہے وہ ہے وہ بھی کیا ہماری نہیں چلےگی تمہاری چیخوں سے حقیقت دریچہ نہیں کھلےگا بڑی دکانوں پہ ریزگاری نہیں چلےگی حضور والا یہ آشو پلیا کا دل ہے ٹیڈی حسین چہروں کی ہوشیاری نہیں چلےگی
Related Ghazal
پوچھ لیتے حقیقت ب سے مزاج میرا کتنا آسان تھا علاج میرا چارہ گر کی نظر بتاتی ہے حال اچھا نہیں ہے آج میرا ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو رہتا ہوں دشت ہے وہ ہے وہ مصروف قی سے کرتا ہے کام کاج میرا کوئی کاسا مدد کو بھیج اللہ مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ہے تاج میرا ہے وہ ہے وہ ہے وہ محبت کی بادشاہت ہوں مجھ پہ چلتا نہیں ہے راج میرا
Fahmi Badayuni
96 likes
یہی اپنی کہانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے حقیقت لڑکی جاں ہماری تھی میاں پہلے بے حد پہلے وہم مجھ کو یہ بھاتا ہے,अभी مری دیوانی ہے م گر مری دیوانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے رقیب آ کر بتاتے ہیں ی ہاں تل ہے و ہاں تل ہے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ جانکاری تھی میاں پہلے بے حد پہلے ادب سے مانگ کر مافی بھری محفل یہ کہتا ہوں حقیقت لڑکی خاندانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے
Anand Raj Singh
526 likes
مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ورنا قدرت کا لکھا ہوا کاٹتا تری حصے ہے وہ ہے وہ آئی برے دن کوئی دوسرا کاٹتا لاریوں سے زیادہ بہاؤ تھا تری ہر اک لفظ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اشارہ نہیں کاٹ سکتا تیری بات کیا کاٹتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے بھی زندگی اور شب اے ہجر کاٹی ہے سب کی طرح ویسے بہتر تو یہ تھا کے ہے وہ ہے وہ کم سے کم کچھ نیا کاٹتا تری ہوتے ہوئے موم بتی بجھائی کسی اور نے کیا خوشی رہ گئی تھی جنم دن کی ہے وہ ہے وہ کیک کیا کاٹتا کوئی بھی تو نہیں جو مری بھوکے رہنے پہ ناراض ہوں جیل ہے وہ ہے وہ تیری تصویر ہوتی تو ہنسکر سزا کاٹتا
Tehzeeb Hafi
456 likes
یہ غم کیا دل کی عادت ہے نہیں تو کسی سے کچھ شکایت ہے نہیں تو ہے حقیقت اک خواب بے تعبیر ا سے کو بھلا دینے کی نیت ہے نہیں تو کسی کے بن کسی کی یاد کے بن جیے جانے کی ہمت ہے نہیں تو کسی صورت بھی دل لگتا نہیں ہاں تو کچھ دن سے یہ حالت ہے نہیں تو تری ا سے حال پر ہے سب کو حیرت تجھے بھی ا سے پہ حیرت ہے نہیں تو ہم آہنگی نہیں دنیا سے تیری تجھے ا سے پر ندامت ہے نہیں تو ہوا جو کچھ یہی مقسوم تھا کیا یہی ساری مقسوم ہے نہیں تو اذیت ناک اذیت ناک سے تجھ کو اماں پانے کی حسرت ہے نہیں تو تو رہتا ہے خیال و خواب ہے وہ ہے وہ گم تو ا سے کی وجہ فرصت ہے نہیں تو سبب جو ا سے جدائی کا بنا ہے حقیقت مجھ سے خوبصورت ہے نہیں تو
Jaun Elia
355 likes
تیری مشکل لگ چھپاؤں گا چلا جاؤں گا خوشی آنکھوں ہے وہ ہے وہ آؤں گا چلا جاؤں گا اپنی دہلیز پہ کچھ دیر پڑا رہنے دے چنو ہی ہوش ہے وہ ہے وہ لگاؤں گا چلا جاؤں گا خواب لینے کوئی آئی کہ لگ آئی کوئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو آواز رلاؤں گا چلا جاؤں گا چند یادیں مجھے بچوں کی طرح پیاری ہیں ان کو سینے سے لگاؤں گا چلا جاؤں گا مدتوں بعد ہے وہ ہے وہ آیا ہوں پرانی گھر ہے وہ ہے وہ ہے وہ خود کو جی بھر کے نیت شوق چلا جاؤں گا ا سے جزیرے ہے وہ ہے وہ زیادہ نہیں رہنا اب تو آجکل ناو بناؤں گا چلا جاؤں گا تہذیب کی طرح لوٹ کے آؤںگا حسن ہر طرف پھول کھلاؤں گا چلا جاؤں گا
Hasan Abbasi
235 likes
More from Ashu Mishra
اب اور دم لگ گھٹے روشنی کا کمرے ہے وہ ہے وہ ہے وہ دریچے وا ہوں اجالوں کی دوڑ پوری ہوں جو خواب آئیں تو دیکھوں تجھے ہے وہ ہے وہ جی بھر کے کہ نیند آئی تو خوابوں کی دوڑ پوری ہوں کوئی دیش دروہی ذرا آسمان کی وسعت ہے وہ ہے وہ ہے وہ چاہتا ہوں پرندوں کی دوڑ پوری ہوں کسی عذاب سے رک جائے رقص قاتل کا گھروں کو لوٹتے بچوں کی دوڑ پوری ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ تری ہجر کے عالم ہے وہ ہے وہ جی نہیں سکتا سو اب یہی ہوں کہ سانسوں کی دوڑ پوری ہوں
Ashu Mishra
0 likes
زمین اپنی ہے اور اینٹ گارا ا سے کا ہے مکان عشق ہے وہ ہے وہ حصہ ہمارا ا سے کا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ جو ساتھ لیے پھرتا ہوں خزا لگ عشق ا گر حقیقت ہاتھ اٹھا دے تو سارا ا سے کا ہے شروع دن سے ہی ہے وہ ہے وہ جنگ کا مخالف تھا م گر ہے وہ ہے وہ کیا کروں اب کے اشارہ ا سے کا ہے حقیقت دوست ج سے سے کہ اب بات بھی نہیں ہوتی ا گر ہے وہ ہے وہ گر پڑوں پہلا سہارا ا سے کا ہے
Ashu Mishra
4 likes
ایسے کھلتے ہیں فلک پر یہ ستارے تم شب کے ج سے طرح پھول ہوں سارے یہ بہار شب کے تیری تصویر بنا کر تری زلفوں کے لیے ہم نے کاغذ پہ کئی رنگ اتارے شب کے حقیقت مصور جو بناتا ہے سحر کا چہرہ ا سے سے کہنا کہ ابھی درد ابھارے شب کے کیا کسی بے وجہ کی ہجرت ہے وہ ہے وہ جلی ہیں راتیں کیوں شراروں سے چمکتے ہیں ستارے تم شب کے یہ تری ہجر نے تحفے ہے وہ ہے وہ دیے ہیں ہم کو یہ جو معصوم سے رشتے ہیں ہمارے شب کے ایک مدت سے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ نیند لگ آئی آشو عمر اک کاٹ دی ہم نے بھی سہارے شب کے
Ashu Mishra
0 likes
سر آپ کے بلکل مری لے سے نہیں ملتے ب سے ا سے لیے ہم ملنے کے چنو نہیں ملتے الگاو کا دکھ دائمی دکھ ہے تو مری جان لیکن یہ مزے دوسری اجازت سے نہیں ملتے ہونٹوں پہ رکھا رہ گیا تو انکار ملاقات جب ا سے نے کہا دیکھوںگی کیسے نہیں ملتے اول تو محبت ہے وہ ہے وہ میرا جی نہیں لگتا اور دوسرا ا سے کام کے پیسے نہیں ملتے
Ashu Mishra
13 likes
تمام مدت میرا یہ شکوہ رہا کرن سے کہ اس کا نے مجھ پر نظر نہ ڈالی کبھی کانسا سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ زندگی کا دیا جلا کر کے جیوں ہی پلٹا تبھی اچانک ہوائیں چل دیں قضا کے بن سے پرانی چاہت کے زخم اب تک بھرے نہیں ہیں اور ایک لڑکی پڑی ہے پیچھے بڑے جتن سے حقیقت ماہ پارہ ملن سے پہلے بہت خفا تھی اب اس کا کے بوسے چھوٹا رہا ہوں ہے وہ ہے وہ اس کا بدن سے مجھے اسیری ہے وہ ہے وہ لطف آنے لگا تھا یاروں ہے وہ ہے وہ ہے وہ دھن بناتا تھا بیڑیوں کی کھنن کھنن سے
Ashu Mishra
0 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Ashu Mishra.
Similar Moods
More moods that pair well with Ashu Mishra's ghazal.







