کالی راتوں کو بھی رنگین کہا ہے ہے وہ ہے وہ نے تیری ہر بات پہ آمین کہا ہے ہے وہ ہے وہ نے تیری دستار پہ تنقید کی ہمت تو نہیں اپنی پا پوش کو قالین کہا ہے ہے وہ ہے وہ نے مصلحت کہیے اسے یا کہ سیاست کہیے چیل کؤوں کو بھی شاہین کہا ہے ہے وہ ہے وہ نے ذائقے بارہا آنکھوں ہے وہ ہے وہ مزہ دیتے ہیں باز چہروں کو بھی نمکین کہا ہے ہے وہ ہے وہ نے تو نے فن کی نہیں شجرے کی حمایت کی ہے تری اعزاز کو توہین کہا ہے ہے وہ ہے وہ نے
Related Ghazal
مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ورنا قدرت کا لکھا ہوا کاٹتا تری حصے ہے وہ ہے وہ آئی برے دن کوئی دوسرا کاٹتا لاریوں سے زیادہ بہاؤ تھا تری ہر اک لفظ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اشارہ نہیں کاٹ سکتا تیری بات کیا کاٹتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے بھی زندگی اور شب اے ہجر کاٹی ہے سب کی طرح ویسے بہتر تو یہ تھا کے ہے وہ ہے وہ کم سے کم کچھ نیا کاٹتا تری ہوتے ہوئے موم بتی بجھائی کسی اور نے کیا خوشی رہ گئی تھی جنم دن کی ہے وہ ہے وہ کیک کیا کاٹتا کوئی بھی تو نہیں جو مری بھوکے رہنے پہ ناراض ہوں جیل ہے وہ ہے وہ تیری تصویر ہوتی تو ہنسکر سزا کاٹتا
Tehzeeb Hafi
456 likes
یہی اپنی کہانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے حقیقت لڑکی جاں ہماری تھی میاں پہلے بے حد پہلے وہم مجھ کو یہ بھاتا ہے,अभी مری دیوانی ہے م گر مری دیوانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے رقیب آ کر بتاتے ہیں ی ہاں تل ہے و ہاں تل ہے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ جانکاری تھی میاں پہلے بے حد پہلے ادب سے مانگ کر مافی بھری محفل یہ کہتا ہوں حقیقت لڑکی خاندانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے
Anand Raj Singh
526 likes
کیوں ڈریں زندگی ہے وہ ہے وہ کیا ہوگا کچھ لگ ہوگا تو غضب ہوگا ہنستی آنکھوں ہے وہ ہے وہ جھانک کر دیکھو کوئی آنسو کہی چھپا ہوگا ان دنوں نا امید سا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ شاید ا سے نے بھی یہ سنا ہوگا دیکھ کر جاناں کو سوچتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیا کسی نے تمہیں چھوا ہوگا
Javed Akhtar
371 likes
چاند ستارے تم پھول پرندے شام سویرہ ایک طرف ساری دنیا ا سے کا چربہ ا سے کا چہرہ ایک طرف حقیقت لڑکر بھی سو جائے تو ا سے کا ماتھا چوموں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے سے محبت ایک طرف ہے ا سے سے جھگڑا ایک طرف ج سے اجازت پر حقیقت انگلی رکھ دے اس کا کو حقیقت دلوانی ہے ا سے کی خوشیاں سب سے اول سستا مہنگا ایک طرف زخموں پر مرہم لگواو لیکن ا سے کے ہاتھوں سے چارسازی ایک طرف ہے ا سے کا چھونا ایک طرف ساری دنیا جو بھی بولے سب کچھ شور شرابا ہے سب کا کہنا ایک طرف ہے ا سے کا کہنا ایک طرف ا سے نے ساری دنیا مانگی ہے وہ ہے وہ نے اس کا کو مانگا ہے ا سے کے سپنے ایک طرف ہے میرا سپنا ایک طرف
Varun Anand
406 likes
یہ غم کیا دل کی عادت ہے نہیں تو کسی سے کچھ شکایت ہے نہیں تو ہے حقیقت اک خواب بے تعبیر ا سے کو بھلا دینے کی نیت ہے نہیں تو کسی کے بن کسی کی یاد کے بن جیے جانے کی ہمت ہے نہیں تو کسی صورت بھی دل لگتا نہیں ہاں تو کچھ دن سے یہ حالت ہے نہیں تو تری ا سے حال پر ہے سب کو حیرت تجھے بھی ا سے پہ حیرت ہے نہیں تو ہم آہنگی نہیں دنیا سے تیری تجھے ا سے پر ندامت ہے نہیں تو ہوا جو کچھ یہی مقسوم تھا کیا یہی ساری مقسوم ہے نہیں تو اذیت ناک اذیت ناک سے تجھ کو اماں پانے کی حسرت ہے نہیں تو تو رہتا ہے خیال و خواب ہے وہ ہے وہ گم تو ا سے کی وجہ فرصت ہے نہیں تو سبب جو ا سے جدائی کا بنا ہے حقیقت مجھ سے خوبصورت ہے نہیں تو
Jaun Elia
355 likes
More from Rahat Indori
چہروں کی دھوپ آنکھوں کی گہرائی لے گیا تو آئی لگ سارے شہر کی بینائی لے گیا تو ڈوبے ہوئے جہاز پہ کیا تبصرہ کریں یہ حادثہ تو سوچ کی گہرائی لے گیا تو حالانکہ بے زبان تھا لیکن عجیب تھا جو بے وجہ مجھ سے چھین کے گویائی لے گیا تو ہے وہ ہے وہ ہے وہ آج اپنے گھر سے نکلنے لگ پاؤں گا ب سے اک قمیص تھی جو میرا بھائی لے گیا تو تاکتے تمہارے واسطے اب کچھ نہیں رہا گلیوں کے سارے سنگ تو سودائی لے گیا تو
Rahat Indori
19 likes
یوں صدا دیتے ہوئے تری خیال آتے ہیں چنو کعبہ کی کھلی چھت پہ بلال آتے ہیں روز ہم اشکوں سے دھو آتے ہیں دیوار حرم پگڑیاں روز فرشتوں کی اچھال آتے ہیں ہاتھ ابھی پیچھے بندھے رہتے ہیں چپ رہتے ہیں دیکھنا یہ ہے تجھے کتنے غصہ آتے ہیں چاند سورج مری چوکھٹ پہ کئی صدیوں سے روز لکھے ہوئے چہرے پہ سوال آتے ہیں بے حسی مردہ دلی رقص شرابیں نغمے ب سے اسی راہ سے قوموں پہ زوال آتے ہیں
Rahat Indori
3 likes
اسے سامان سفر جان یہ جگنو رکھ لے راہ ہے وہ ہے وہ تیرگی ہوں گی مری آنسو رکھ لے تو جو چاہے تو ترا جھوٹ بھی بک سکتا ہے شرط اتنی ہے کہ سونے کی ترازو رکھ لے حقیقت کوئی جسم نہیں ہے کہ اسے چھو بھی سکیں ہاں ا گر نام ہی رکھنا ہے تو خوشبو رکھ لے تجھ کو اندیکھی بلن گرا ہے وہ ہے وہ سفر کرنا ہے احتیاطاً مری ہمت مری بازو رکھ لے مری خواہش ہے کہ آنگن ہے وہ ہے وہ لگ دیوار اٹھے مری بھائی مری حصے کی ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو رکھ لے
Rahat Indori
0 likes
अपने दीवार-ओ-दर से पूछते हैं घर के हालात घर से पूछते हैं क्यूँँ अकेले हैं क़ाफ़िले वाले एक इक हम-सफ़र से पूछते हैं क्या कभी ज़िंदगी भी देखेंगे बस यही उम्र-भर से पूछते हैं जुर्म है ख़्वाब देखना भी क्या रात-भर चश्म-ए-तर से पूछते हैं ये मुलाक़ात आख़िरी तो नहीं हम जुदाई के डर से पूछते हैं ज़ख़्म का नाम फूल कैसे पड़ा तेरे दस्त-ए-हुनर से पूछते हैं कितने जंगल हैं इन मकानों में बस यही शहर भर से पूछते हैं ये जो दीवार है ये किस की है हम इधर वो उधर से पूछते हैं हैं कनीज़ें भी इस महल में क्या शाह-ज़ादों के डर से पूछते हैं क्या कहीं क़त्ल हो गया सूरज रात से रात-भर से पूछते हैं कौन वारिस है छाँव का आख़िर धूप में हम-सफ़र से पूछते हैं ये किनारे भी कितने सादा हैं कश्तियों को भँवर से पूछते हैं वो गुज़रता तो होगा अब तन्हा एक इक रहगुज़र से पूछते हैं
Rahat Indori
1 likes
ساتھ منزل تھی م گر خوف و خطر ایسا تھا عمر بھر چلتے رہے لوگ سفر ایسا تھا جب حقیقت آئی تو ہے وہ ہے وہ خوش بھی ہوا شرمندہ بھی مری تقدیر تھی ایسی میرا گھر ایسا تھا حفظ تھیں مجھ کو بھی چہروں کی کتابیں کیا کیا دل شکستہ تھا م گر تیز نظر ایسا تھا آگ اوڑھے تھا م گر بانٹ رہا تھا سایہ دھوپ کے شہر ہے وہ ہے وہ اک تنہا شجر ایسا تھا لوگ خود اپنے چراغوں کو بجھا کر سوئے شہر ہے وہ ہے وہ تیز ہواؤں کا اثر ایسا تھا
Rahat Indori
15 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Rahat Indori.
Similar Moods
More moods that pair well with Rahat Indori's ghazal.







