ghazalKuch Alfaaz

कब से नज़र लगी थी दरवाज़ा-ए-हरम से पर्दा उठा तो लड़ियाँ आँखें हमारी हम से सूरत-गर-ए-अजल का क्या हाथ था कहे तो खींची वो तेग़-ए-अबरू फ़ौलाद के क़लम से सोज़िश गई न दिल की रोने से रोज़-ओ-शब के जलता हूँ और दरिया बहते हैं चश्म-ए-नम से ताअ'त का वक़्त गुज़रा मस्ती में आब रज़ की अब चश्म-दाश्त उस के याँ है फ़क़त करम से कुढि़ए न रोइए तो औक़ात क्यूँँके गुज़रे रहता है मश्ग़ला सा बार-ए-ग़म-ओ-अलम से मशहूर है समाजत मेरी कि तेग़ बरसी पर मैं न सर उठाया हरगिज़ तिरे क़दम से बात एहतियात से कर ज़ाएअ'' न कर नफ़स को बालीदगी-ए-दिल है मानिंद-ए-शीशा दम से क्या क्या तअब उठाए क्या क्या अज़ाब देखे तब दिल हुआ है उतना ख़ूगर तिरे सितम से हस्ती में हम ने आ कर आसूदगी न देखी खुलतीं न काश आँखें ख़्वाब ख़ुश अदम से पामाल कर के हम को पछताओगे बहुत तुम कमयाब हैं जहाँ में सर देने वाले हम से दिल दो हो 'मीर' साहब उस बद-मआ'श को तुम ख़ातिर तो जम्अ'' कर लो टक क़ौल से क़सम से

Related Ghazal

آنکھوں ہے وہ ہے وہ رہا دل ہے وہ ہے وہ اتر کر نہیں دیکھا کشتی کے مسافر نے سمندر نہیں دیکھا ذہانت ا گر جاؤں گا سب چونک پڑیں گے اک عمر ہوئی دن ہے وہ ہے وہ کبھی گھر نہیں دیکھا ج سے دن سے چلا ہوں مری منزل پہ نظر ہے آنکھوں نے کبھی میل کا پتھر نہیں دیکھا یہ پھول مجھے کوئی وراثت ہے وہ ہے وہ ملے ہیں جاناں نے میرا کانٹوں بھرا بستر نہیں دیکھا یاروں کی محبت کا یقین کر لیا ہے وہ ہے وہ نے پھولوں ہے وہ ہے وہ چھپایا ہوا خنجر نہیں دیکھا محبوب کا گھر ہوں کہ بزرگوں کی زمینیں جو چھوڑ دیا پھروں اسے مڑ کر نہیں دیکھا خط ایسا لکھا ہے کہ نگینے سے جڑے ہیں حقیقت ہاتھ کہ ج سے نے کوئی زیور نہیں دیکھا پتھر مجھے کہتا ہے میرا چاہنے والا ہے وہ ہے وہ ہے وہ موم ہوں ا سے نے مجھے چھو کر نہیں دیکھا

Bashir Badr

38 likes

کیا کہےگا کبھی ملنے بھی ا گر آئےگا حقیقت اب وفاداری کی ق سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو نہیں کھائےگا حقیقت ہم سمجھتے تھے کہ ہم اس کا کو بھلا سکتے ہیں حقیقت سمجھتا تھا ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھول نہیں پائے گا حقیقت کتنا سوچا تھا پر اتنا تو نہیں سوچا تھا یاد بن جائےگا حقیقت خواب نظر آئےگا حقیقت سب کے ہوتے ہوئے اک روز حقیقت تنہا ہوگا پھروں حقیقت ڈھونڈےگا ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اور نہیں پائے گا حقیقت اتفاقاً جو کبھی سامنے آیا اجمل اب حقیقت تنہا تو لگ ہوگا جو ٹھہر جائےگا حقیقت

Ajmal Siraj

50 likes

حقیقت منہ لگاتا ہے جب کوئی کام ہوتا ہے جو اس کا کا ہوتا ہے سمجھو غلام ہوتا ہے کسی کا ہوں کے دوبارہ نہ آنا میری طرف محبتوں ہے وہ ہے وہ حلالہ حرام ہوتا ہے اسے بھی گنتے ہیں ہم لوگ اہل خانہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہمارے یاں تو شجر کا بھی نام ہوتا ہے تجھ ایسے بے وجہ کے ہوتے ہیں ضرب سے دوست بہت تجھ ایسا بے وجہ بہت جلد آم ہوتا ہے کبھی لگی ہے تمہیں کوئی شام آخری شام ہمارے ساتھ یہ ہر ایک شام ہوتا ہے

Umair Najmi

81 likes

تو کیا یہ آخری خواہش ہے اچھا بھول جاؤں جہاں بھی جو بھی ہے تیرے علاوہ بھول جاؤں تو کیا یہ دوسرا ہی عشق اصلی عشق سمجھوں تو پہلا تجربے کی دین ہے وہ ہے وہ تھا بھول جاؤں تو کیا اتنا ہی آساں ہے کسی کو بھول جانا کہ ب سے باتوں ہی باتوں ہے وہ ہے وہ بھلاتا بھول جاؤں کبھی کہتا ہوں اس کا کو یاد رکھنا ٹھیک ہوگا مگر پھروں سوچتا ہوں فائدہ کیا بھول جاؤں یہ کوئی قتل تھوڑی ہے کہ بات آئی گئی ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ اور اپنا نظر انداز ہونا بھول جاؤں ہے اتنی جزئیات ا سے سانحے کی پوچھیے مت ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیا کیا یاد رکھوں اور کیا کیا بھول جاؤں کوئی کب تک کسی کی بے وفائی یاد رکھے بہت ممکن ہے ہے وہ ہے وہ بھی رفتہ رفتہ بھول جاؤں تو کیا یہ کہ کے خود کو مطمئن کر لوگے جواد کہ حقیقت ہے بھی اسی جائیں گے لہذا بھول جاؤں

Jawwad Sheikh

42 likes

مفرور پرندوں کو یہ اعلان گیا تو ہے صیاد نشمن کا پتا جان گیا تو ہے زبان جسے دیمک لگی جاتی تھی حقیقت ہے وہ ہے وہ تھا اب جا کے میرا مری طرف دھیان گیا تو ہے شیشے ہے وہ ہے وہ بھلے ا سے نے مری نقل اتاری خوش ہوں کہ مجھے کوئی تو پہچان گیا تو ہے اب بات تیری کن پہ ہے کچھ کر مری مولا اک بے وجہ تری در سے پریشان گیا تو ہے یہ نام و نسب جا کے زمانے کو بتاؤ درویش تو دستک سے ہی پہچان گیا تو ہے

Ahmad Abdullah

50 likes

More from Meer Taqi Meer

خرابی کچھ نہ پوچھو ملکت دل کی عمارت کی غموں نے آج کل سنیو وہ آبادی ہی غارت کی نگاہ مست سے جب چشم نے اس کا کی اشارت کی حلاوت مے کی اور بنیاد مےخانے کی غارت کی سحر گہ میں نے پوچھا گل سے حال زار بلبل کا پڑے تھے باغ میں یک مشت پر ادھر اشارت کی جلایا جس تجلی جلوہ گر نے طور کو ہم دم اسی آتش کے پر کالے نے ہم سے بھی شرارت کی نزاکت کیا کہوں خورشید رو کی کل شب ماہ میں گیا تھا سائے سائے باغ تک تس پر حرارت کی نظر سے جس کی یوسف سا گیا پھروں اس کا کو کیا سوچھے حقیقت کچھ نہ پوچھو بو پیرہن کی بصارت کی تری کوچے کے شوق توف میں جیسے بگولا تھا شایاں میں غبار میر کی ہم نے زیارت کی

Meer Taqi Meer

0 likes

अब 'मीर'-जी तो अच्छे ज़िंदीक़ ही बन बैठे पेशानी पे दे क़श्क़ा ज़ुन्नार पहन बैठे आज़ुर्दा दिल-ए-उलफ़त हम चुपके ही बेहतर हैं सब रो उठेगी मज्लिस जो कर के सुख़न बैठे उर्यान फिरें कब तक ऐ काश कहीं आ कर ता गर्द बयाबाँ की बाला-ए-बदन बैठे पैकान-ए-ख़दंग उस का यूँँ सीने के ऊधर है जों मार-ए-सियह कोई काढ़े हुए फन बैठे जुज़ ख़त के ख़याल उस के कुछ काम नहीं हम को सब्ज़ी पिए हम अक्सर रहते हैं मगन बैठे शमशीर-ए-सितम उस की अब गो का चले हर-दम शोरीदा-सर अपने से हम बाँध कफ़न बैठे बस हो तो इधर-ऊधर यूँँ फिरने न दें तुझ को नाचार तिरे हम ये देखें हैं चलन बैठे

Meer Taqi Meer

0 likes

مہر کی تجھ سے توقع تھی ستم گر نکلا موم سمجھے تھے تری دل کو سو پتھر نکلا داغ ہوں رشک محبت سے کہ اتنا بیتاب ک سے کی تسکین کے لیے گھر سے تو باہر نکلا جیتے جی آہ تری کوچے سے کوئی لگ پھرا جو ستم دیدہ رہا جا کے سو مر کر نکلا دل کی آبا گرا کی ا سے حد ہے خرابی کہ لگ پوچھ جانا جاتا ہے کہ ا سے راہ سے لشکر نکلا خوشی تر قطرہ خوں لخت ج گر پارہ دل ایک سے ایک عدد آنکھ سے بہ کر نکلا کنج کاوی جو کی سینے کی غم ہجراں نے ا سے دفینے ہے وہ ہے وہ سے اقسام جواہر نکلا ہم نے جانا تھا لکھے گا تو کوئی حرف اے میر پر ترا نامہ تو اک شوق کا دفترون نکلا

Meer Taqi Meer

0 likes

کیا مری آنے پہ تو اے بت مغرور گیا تو کبھی ا سے راہ سے نکلا تو تجھے گھور گیا تو لے گیا تو صبح کے نزدیک مجھے خواب اے وائے آنکھ ا سے سمے کھلی قافلہ جب دور گیا تو گور سے نالے نہیں اٹھتے تو نے اگتی ہے جی گیا تو پر لگ ہمارا سر پر شور گیا تو چشم خون بستہ سے کل رات لہو پھروں ٹپکا ہم نے جانا تھا کہ ب سے اب تو یہ ناسور گیا تو نا توان ہم ہیں کہ ہیں خاک گلی کی ا سے کی اب تو موج خیز سے دل کا بھی مقدور گیا تو لے کہی منا پہ نقاب اپنے کہ اے رقص شرار غم شمع کے چہرہ رخشاں سے تو اب نور گیا تو نالہ میر نہیں رات سے سنتے ہم لوگ کیا تری کوچے سے اے شوخ حقیقت رنجور گیا تو

Meer Taqi Meer

0 likes

ग़म्ज़े ने उस के चोरी में दिल की हुनर किया उस ख़ानुमाँ-ख़राब ने आँखों में घर किया रंग उड़ चला चमन में गुलों का तो क्या नसीम हम को तो रोज़गार ने बे-बाल-ओ-पर किया नाफ़े जो थीं मिज़ाज को अव्वल सो इश्क़ में आख़िर उन्हीं दवाओं ने हम को ज़रर किया मरता हूँ जान दें हैं वतन-दारीयों पे लोग और सुनते जाते हैं कि हर इक ने सफ़र किया क्या जानूँ बज़्म-ए-ऐश कि साक़ी की चश्म देख मैं सोहबत-ए-शराब से आगे सफ़र किया जिस दम कि तेग़-ए-इश्क़ खिंची बुल-हवस कहाँ सुन लीजियो कि हम ही ने सीना-सिपर किया दिल ज़ख़्मी हो के तुझ तईं पहुँचा तो कम नहीं इस नीम-कुश्ता ने भी क़यामत जिगर किया है कौन आप में जो मिले तुझ से मस्त नाज़ ज़ौक़-ए-ख़बर ही ने तो हमें बे-ख़बर क्या वो दश्त-ए-ख़ौफ़-नाक रहा है मिरा वतन सुन कर जिसे ख़िज़्र ने सफ़र से हज़र किया कुछ कम नहीं हैं शोबदा-बाज़ों से मय-गुसार दारू पिला के शैख़ को आदम से ख़र किया हैं चारों तरफ़ खे़ में खड़े गर्द-बाद के क्या जानिए जुनूँ ने इरादा किधर किया लुक्नत तिरी ज़बान की है सहर जिस से शोख़ यक हर्फ़-ए-नीम-गुफ़्ता ने दिल पर असर किया बे-शर्म महज़ है वो गुनहगार जिन ने 'मीर' अब्र-ए-करम के सामने दामाँ तर किया

Meer Taqi Meer

1 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Meer Taqi Meer.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Meer Taqi Meer's ghazal.