kab yaad men tera saath nahin kab haat men tera haat nahin sad-shukr ki apni raton men ab hijr ki koi raat nahin mushkil hain agar halat vahan dil bech aaen jaan de aaen dil vaalo kucha-e-janan men kya aise bhi halat nahin jis dhaj se koi maqtal men gaya vo shaan salamat rahti hai ye jaan to aani jaani hai is jaan ki to koi baat nahin maidan-e-vafa darbar nahin yaan nam-o-nasab ki puchh kahan ashiq to kisi ka naam nahin kuchh ishq kisi ki zaat nahin gar baazi ishq ki baazi hai jo chaho laga do dar kaisa gar jiit gae to kya kahna haare bhi to baazi maat nahin kab yaad mein tera sath nahin kab hat mein tera hat nahin sad-shukr ki apni raaton mein ab hijr ki koi raat nahin mushkil hain agar haalat wahan dil bech aaen jaan de aaen dil walo kucha-e-jaanan mein kya aise bhi haalat nahin jis dhaj se koi maqtal mein gaya wo shan salamat rahti hai ye jaan to aani jaani hai is jaan ki to koi baat nahin maidan-e-wafa darbar nahin yan nam-o-nasab ki puchh kahan aashiq to kisi ka nam nahin kuchh ishq kisi ki zat nahin gar bazi ishq ki bazi hai jo chaho laga do dar kaisa gar jit gae to kya kahna haare bhi to bazi mat nahin
Related Ghazal
حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو
Naseer Turabi
244 likes
خاموش لب ہیں جھکی ہیں پلکیں دلوں ہے وہ ہے وہ الفت نئی نئی ہے ابھی تکلف ہے گفتگو ہے وہ ہے وہ ابھی محبت نئی نئی ہے ابھی لگ آئیںگی نیند جاناں کو ابھی لگ ہم کو سکون ملےگا ابھی تو دھڑکے گا دل زیادہ ابھی محبت نئی نئی ہے بہار کا آج پہلا دن ہے چلو چمن ہے وہ ہے وہ ٹہل کے آئیں فضا ہے وہ ہے وہ خوشبو نئی نئی ہے گلوں ہے وہ ہے وہ رنگت نئی نئی ہے جو خاندانی رئی سے ہیں حقیقت مزاج رکھتے ہیں نرم اپنا تمہارا لہجہ بتا رہا ہے تمہاری دولت نئی نئی ہے ذرا سا قدرت نے کیا نوازا کے آکے بیٹھے ہوں پہلی صف ہے وہ ہے وہ ہے وہ ابھی کیوں اڑنے لگے ہوا ہے وہ ہے وہ ابھی تو شہرت نئی نئی ہے بموں کی برسات ہوں رہی ہے پرانی جانباز سو رہے ہیں غلام دنیا کو کر رہا ہے حقیقت ج سے کی طاقت نئی نئی ہے
Shabeena Adeeb
232 likes
کیسے ا سے نے یہ سب کچھ مجھ سے چھپ کر بدلا چہرہ بدلا رستہ بدلا بعد ہے وہ ہے وہ گھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بارے ہے وہ ہے وہ یہ کہتا تھا لوگوں سے میرا نام بدل دینا حقیقت بے وجہ ا گر بدلا حقیقت بھی خوش تھا ا سے نے دل دے کر دل مانگا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی خوش ہوں ہے وہ ہے وہ نے پتھر سے پتھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کہا کیا مری خاطر خود کو بدلوگے اور پھروں ا سے نے نظریں بدلیں اور نمبر بدلا
Tehzeeb Hafi
435 likes
अब के हम बिछड़े तो शायद कभी ख़्वाबों में मिलें जिस तरह सूखे हुए फूल किताबों में मिलें ढूँढ़ उजड़े हुए लोगों में वफ़ा के मोती ये ख़ज़ाने तुझे मुमकिन है ख़राबों में मिलें ग़म-ए-दुनिया भी ग़म-ए-यार में शामिल कर लो नशा बढ़ता है शराबें जो शराबों में मिलें तू ख़ुदा है न मिरा इश्क़ फ़रिश्तों जैसा दोनों इंसाँ हैं तो क्यूँँ इतने हिजाबों में मिलें आज हम दार पे खींचे गए जिन बातों पर क्या अजब कल वो ज़माने को निसाबों में मिलें अब न वो मैं न वो तू है न वो माज़ी है 'फ़राज़' जैसे दो शख़्स तमन्ना के सराबों में मिलें
Ahmad Faraz
130 likes
اصولوں پر ج ہاں آنچ آئی ٹکرانا ضروری ہے جو زندہ ہوں تو پھروں زندہ نظر آنا ضروری ہے نئی عمروں کی خودمختاریوں کو کون سمجھائے ک ہاں سے بچ کے چلنا ہے ک ہاں جانا ضروری ہے تھکے ہارے پرندے جب بسیرے کے لیے لوٹیں سلیقہ مند شاخوں کا لچک جانا ضروری ہے بے حد بےباک آنکھوں ہے وہ ہے وہ تعلق ٹک نہیں پاتا محبت ہے وہ ہے وہ کشش رکھنے کو شرمانا ضروری ہے سلیقہ ہی نہیں شاید اسے محسو سے کرنے کا جو کہتا ہے خدا ہے تو نظر آنا ضروری ہے مری ہونٹوں پہ اپنی پیا سے رکھ دو اور پھروں سوچو کہ ا سے کے بعد بھی دنیا ہے وہ ہے وہ کچھ پانا ضروری ہے
Waseem Barelvi
107 likes
More from Faiz Ahmad Faiz
بات ب سے سے نکل چلی ہے دل کی حالت سنبھل چلی ہے اب جنوں حد سے بڑھ چلا ہے اب طبیعت بہل چلی ہے خوشی خوناب ہوں چلے ہیں غم کی رنگت بدل چلی ہے یا یوںہی بجھ رہی ہیں شمعیں یا شب ہجر ٹل چلی ہے لاکھ پیغام ہوں گئے ہیں جب صبا ایک پل چلی ہے جاؤ اب سو رہو ستارو درد کی رات ڈھل چلی ہے
Faiz Ahmad Faiz
1 likes
دربار ہے وہ ہے وہ اب سطوت شاہی کی علامت دربان کا اسا ہے کہ مصنف کا ہے آوارہ ہے پھروں کوہ ندا پر جو ناروا تمہید مسرت ہے کہ طول شب غم ہے ج سے دھجی کو گلیوں ہے وہ ہے وہ لیے پھرتے ہیں طفلاں یہ میرا گریباں ہے کہ لشکر کا الم ہے ج سے نور سے ہے شہر کی دیوار درخشاں یہ خون شہیداں ہے کہ زر خا لگ جم ہے حلقہ کیے بیٹھے رہو اک شمع کو یاروں کچھ روشنی باقی تو ہے ہر چند کہ کم ہے
Faiz Ahmad Faiz
0 likes
ہر حقیقت لذت صدخمار ہوں جائے کافروں کی نماز ہوں جائے دل رہین نیاز ہوں جائے بےکسی کارساز ہوں جائے منت چارہ ساز کون کرے درد جب جان نواز ہوں جائے عشق دل ہے وہ ہے وہ رہے تو رسوا ہوں لب پہ آئی تو راز ہوں جائے لطف کا انتظار کرتا ہوں جور تا حد ناز ہوں جائے عمر بے سود کٹ رہی ہے فیض کاش افشا راز ہوں جائے
Faiz Ahmad Faiz
1 likes
رنگ پیراہن کا خوشبو زلف لہرانے کا نام تہذیب ہے تمہارے بام پر آنے کا نام دوستو اس کا چشم و لب کی کچھ کہو جس کے بغیر گلستاں کی بات درماندہ ہے نہ مے خانے کا نام پھروں نظر ہے وہ ہے وہ پھول مہکے دل ہے وہ ہے وہ پھروں شمعیں جلیں پھروں تصور نے لیا اس کا بزم ہے وہ ہے وہ جانے کا نام دل بری ٹھہرا زبان خلق کھلواتے کا نام اب نہیں لیتے پری رو زلف بکھرانے کا نام اب کسی لیلیٰ کو بھی اقرار محبوبی نہیں ان دنوں بدنام ہے ہر ایک دیوانے کا نام محاسب کی خیر اونچا ہے اسی کے فیض سے رند کا ساقی کا مے کا خم کا پیمانے کا نام ہم سے کہتے ہیں چمن والے غریبان چمن جاناں کوئی اچھا سا رکھ لو اپنے ویرانے کا نام فیض ان کو ہے تقاضا وفا ہم سے جنہیں آشنا کے نام سے پیارا ہے بیگانہ کا نام
Faiz Ahmad Faiz
1 likes
وفا وعدہ نہیں وعدہ د گر بھی نہیں حقیقت مجھ سے روٹھے تو تھے لیکن ا سے دودمان بھی نہیں بر سے رہی ہے حریم ہوں سے ہے وہ ہے وہ دولت حسن گدا عشق کے کاسے ہے وہ ہے وہ اک نظر بھی نہیں لگ جانے ک سے لیے امیدوار بیٹھا ہوں اک ایسی راہ پہ جو تیری رہگزر بھی نہیں نگاہ شوق سر بزم بے حجاب لگ ہوں حقیقت بے خبر ہی صحیح اتنے بے خبر بھی نہیں یہ عہد ترک محبت ہے ک سے لیے آخر سکون قلب ادھر بھی نہیں ادھر بھی نہیں
Faiz Ahmad Faiz
2 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Faiz Ahmad Faiz.
Similar Moods
More moods that pair well with Faiz Ahmad Faiz's ghazal.







