کہی چاند را ہوں ہے وہ ہے وہ کھو گیا تو کہی چاندنی بھی بھٹک گئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ چراغ حقیقت بھی بجھا ہوا مری رات کیسے چمک گئی مری داستان کا عروج تھا تری نرم پلکوں کی چھاؤں ہے وہ ہے وہ ہے وہ مری ساتھ تھا تجھے جاگنا تری آنکھ کیسے جھپک گئی بھلا ہم ملے بھی تو کیا ملے وہی دوریاں وہی فاصلے لگ کبھی ہمارے قدم بڑھے لگ کبھی تمہاری جھجک گئی تری ہاتھ سے مری ہونٹ تک وہی انتظار کی پیا سے ہے مری نام کی جو شراب تھی کہی راستے ہے وہ ہے وہ چھلک گئی تجھے بھول جانے کی کوششیں کبھی کامیاب لگ ہوں سکیں تری یاد شاخ گلاب ہے جو ہوا چلی تو لچک گئی
Related Ghazal
یہی اپنی کہانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے حقیقت لڑکی جاں ہماری تھی میاں پہلے بے حد پہلے وہم مجھ کو یہ بھاتا ہے,अभी مری دیوانی ہے م گر مری دیوانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے رقیب آ کر بتاتے ہیں ی ہاں تل ہے و ہاں تل ہے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ جانکاری تھی میاں پہلے بے حد پہلے ادب سے مانگ کر مافی بھری محفل یہ کہتا ہوں حقیقت لڑکی خاندانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے
Anand Raj Singh
526 likes
چاند ستارے تم پھول پرندے شام سویرہ ایک طرف ساری دنیا ا سے کا چربہ ا سے کا چہرہ ایک طرف حقیقت لڑکر بھی سو جائے تو ا سے کا ماتھا چوموں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے سے محبت ایک طرف ہے ا سے سے جھگڑا ایک طرف ج سے اجازت پر حقیقت انگلی رکھ دے اس کا کو حقیقت دلوانی ہے ا سے کی خوشیاں سب سے اول سستا مہنگا ایک طرف زخموں پر مرہم لگواو لیکن ا سے کے ہاتھوں سے چارسازی ایک طرف ہے ا سے کا چھونا ایک طرف ساری دنیا جو بھی بولے سب کچھ شور شرابا ہے سب کا کہنا ایک طرف ہے ا سے کا کہنا ایک طرف ا سے نے ساری دنیا مانگی ہے وہ ہے وہ نے اس کا کو مانگا ہے ا سے کے سپنے ایک طرف ہے میرا سپنا ایک طرف
Varun Anand
406 likes
اسی جگہ پر ج ہاں کئی راستے ملیںگے پلٹ کے آئی تو سب سے پہلے تجھے ملیںگے ا گر کبھی تری نام پر جنگ ہوں گئی تو ہم ایسے بزدل بھی پہلی صف ہے وہ ہے وہ کھڑے ملیںگے تجھے یہ سڑکیں مری توسط سے جانتی ہیں تجھے ہمیشہ یہ سب اشارے کھلے ملیںگے
Tehzeeb Hafi
465 likes
کیوں ڈریں زندگی ہے وہ ہے وہ کیا ہوگا کچھ لگ ہوگا تو غضب ہوگا ہنستی آنکھوں ہے وہ ہے وہ جھانک کر دیکھو کوئی آنسو کہی چھپا ہوگا ان دنوں نا امید سا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ شاید ا سے نے بھی یہ سنا ہوگا دیکھ کر جاناں کو سوچتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیا کسی نے تمہیں چھوا ہوگا
Javed Akhtar
371 likes
یہ غم کیا دل کی عادت ہے نہیں تو کسی سے کچھ شکایت ہے نہیں تو ہے حقیقت اک خواب بے تعبیر ا سے کو بھلا دینے کی نیت ہے نہیں تو کسی کے بن کسی کی یاد کے بن جیے جانے کی ہمت ہے نہیں تو کسی صورت بھی دل لگتا نہیں ہاں تو کچھ دن سے یہ حالت ہے نہیں تو تری ا سے حال پر ہے سب کو حیرت تجھے بھی ا سے پہ حیرت ہے نہیں تو ہم آہنگی نہیں دنیا سے تیری تجھے ا سے پر ندامت ہے نہیں تو ہوا جو کچھ یہی مقسوم تھا کیا یہی ساری مقسوم ہے نہیں تو اذیت ناک اذیت ناک سے تجھ کو اماں پانے کی حسرت ہے نہیں تو تو رہتا ہے خیال و خواب ہے وہ ہے وہ گم تو ا سے کی وجہ فرصت ہے نہیں تو سبب جو ا سے جدائی کا بنا ہے حقیقت مجھ سے خوبصورت ہے نہیں تو
Jaun Elia
355 likes
More from Bashir Badr
مری نظر ہے وہ ہے وہ خاک تری آئینے پہ گرد ہے یہ چاند کتنا زرد ہے یہ رات کتنی سرد ہے کبھی کبھی تو یوں لگا کہ ہم سبھی قید ہستی ہیں تمام شہر ہے وہ ہے وہ لگ کوئی زن لگ کوئی مرد ہے خدا کی نظموں کی کتاب ساری کائنات ہے غزل کے شعر کی طرح ہر ایک فرد فرد ہے حیات آج بھی کنیز ہے حضور جبر ہے وہ ہے وہ ہے وہ جو زندگی کو جیت لے حقیقت زندگی کا مرد ہے اسے تبرک حیات کہ کے پلکوں پر رکھوں ا گر مجھے یقین ہوں یہ راستے کی گرد ہے حقیقت جن کے ذکر سے رگوں ہے وہ ہے وہ دوڑتی تھیں بجلیاں انہی کا ہاتھ ہم نے چھو کے دیکھا کتنا سرد ہے
Bashir Badr
2 likes
ख़ून पत्तों पे जमा हो जैसे फूल का रंग हरा हो जैसे बारहा ये हमें महसूस हुआ दर्द सीने का ख़ुदा हो जैसे यूँँ तरस खा के न पूछो अहवाल तीर सीने पे लगा हो जैसे फूल की आँख में शबनम क्यूँँ है सब हमारी ही ख़ता हो जैसे किर्चें चुभती हैं बहुत सीने में आइना टूट गया हो जैसे सब हमें देखने आते हैं मगर नींद आँखों से ख़फ़ा हो जैसे अब चराग़ों की ज़रूरत भी नहीं चाँद इस दिल में छुपा हो जैसे
Bashir Badr
1 likes
چمک رہی ہے پروں ہے وہ ہے وہ اڑان کی خوشبو بلا رہی ہے بہت آسمان کی خوشبو بھٹک رہی ہے پرانی دلائیاں اوڑھے حویلیوں ہے وہ ہے وہ مری خاندان کی خوشبو سنا کے کوئی کہانی ہمیں سلاتی تھی دعاؤں جیسی بڑے پان دان کی خوشبو دبا تھا پھول کوئی میز پوش کے نیچے گرز رہی تھی بہت پیچوان کی خوشبو عجب نظیر و تھا سوکھے سنہرے بالوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ اداسیوں کی چمک زرد لان کی خوشبو حقیقت عطر دان سا لہجہ مری بزرگوں کا رچی بسی ہوئی اردو زبان کی خوشبو غزل کی شاخ پہ اک پھول کھلنے والا ہے بدن سے آنے لگی زعفران کی خوشبو عمارتوں کی بلندی پہ کوئی موسم کیا کہاں سے آ گئی کچے مکان کی خوشبو گلوں پہ لکھتی ہوئی لا الہ الا اللہ پہاڑیوں سے اترتی اذان کی خوشبو
Bashir Badr
6 likes
حقیقت چاندنی کا بدن خوشبوؤں کا سایہ ہے بے حد عزیز ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے م گر پرایا ہے اتر بھی آؤ کبھی آ سماں کے زینے سے تمہیں خدا نے ہمارے لیے بنایا ہے ک ہاں سے آئی یہ خوشبو یہ گھر کی خوشبو ہے ا سے اجنبی کے اندھیرے ہے وہ ہے وہ کون آیا ہے مہک رہی ہے ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ چاندنی کے پھولوں سے خدا کسی کی محبت پہ مسکرایا ہے اسے کسی کی محبت کا اعتبار نہیں اسے زمانے نے شاید بے حد ستایا ہے تمام عمر میرا دل اسی دھوئیں ہے وہ ہے وہ گھٹا حقیقت اک چراغ تھا ہے وہ ہے وہ نے اسے بجھایا ہے
Bashir Badr
5 likes
پھول برسے کہی شبنم کہی گوہر برسے اور ا سے دل کی طرف برسے تو پتھر برسے کوئی بادل ہوں تو تھم جائے م گر خوشی مری ایک رفتار سے دن رات برابر برسے برف کے پھولوں سے روشن ہوئی تاریک ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ رات کی شاخ سے چنو مہ و اندھیرا برسے پیار کا گیت اندھیروں پہ اجالوں کی فوار اور خوبصورت کی صدا شیشے پہ پتھر برسے بارشیں چھت پہ کھلی آبرو پہ ہوتی ہیں م گر غم حقیقت ساون ہے جو ان کمروں کے اندر برسے
Bashir Badr
4 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Bashir Badr.
Similar Moods
More moods that pair well with Bashir Badr's ghazal.







