ghazalKuch Alfaaz

kasrat men bhi vahdat ka tamasha nazar aaya jis rang men dekha tujhe yakta nazar aaya jab us rukh-e-pur-nur ka jalva nazar aaya kaaba nazar aaya na kalisa nazar aaya ye husn ye shokhi ye karishma ye adaen duniya nazar aai mujhe to kya nazar aaya ik sarkhushi-e-ishq hai ik be-khudi-e-shauq ankhon ko khuda jaane miri kya nazar aaya jab dekh na sakte the to dariya bhi tha qatra jab aankh khuli qatra bhi dariya nazar aaya qurban tiri shan-e-inayat ke dil o jaan is kam-nigahi par mujhe kya kya nazar aaya har rang tire rang men duuba hua nikla har naqsh tira naqsh-e-kaf-e-pa nazar aaya ankhon ne dikha di jo tire ghham ki haqiqat aalam mujhe saara tah-o-bala nazar aaya har jalve ko dekha tire jalvon se munavvar har bazm men tu anjuman-ara nazar aaya kasrat mein bhi wahdat ka tamasha nazar aaya jis rang mein dekha tujhe yakta nazar aaya jab us rukh-e-pur-nur ka jalwa nazar aaya kaba nazar aaya na kalisa nazar aaya ye husn ye shokhi ye karishma ye adaen duniya nazar aai mujhe to kya nazar aaya ek sarkhushi-e-ishq hai ek be-khudi-e-shauq aankhon ko khuda jaane meri kya nazar aaya jab dekh na sakte the to dariya bhi tha qatra jab aankh khuli qatra bhi dariya nazar aaya qurban teri shan-e-inayat ke dil o jaan is kam-nigahi par mujhe kya kya nazar aaya har rang tere rang mein duba hua nikla har naqsh tera naqsh-e-kaf-e-pa nazar aaya aankhon ne dikha di jo tere gham ki haqiqat aalam mujhe sara tah-o-baala nazar aaya har jalwe ko dekha tere jalwon se munawwar har bazm mein tu anjuman-ara nazar aaya

Related Ghazal

اسی جگہ پر ج ہاں کئی راستے ملیںگے پلٹ کے آئی تو سب سے پہلے تجھے ملیںگے ا گر کبھی تری نام پر جنگ ہوں گئی تو ہم ایسے بزدل بھی پہلی صف ہے وہ ہے وہ کھڑے ملیںگے تجھے یہ سڑکیں مری توسط سے جانتی ہیں تجھے ہمیشہ یہ سب اشارے کھلے ملیںگے

Tehzeeb Hafi

465 likes

یہی اپنی کہانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے حقیقت لڑکی جاں ہماری تھی میاں پہلے بے حد پہلے وہم مجھ کو یہ بھاتا ہے,अभी مری دیوانی ہے م گر مری دیوانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے رقیب آ کر بتاتے ہیں ی ہاں تل ہے و ہاں تل ہے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ جانکاری تھی میاں پہلے بے حد پہلے ادب سے مانگ کر مافی بھری محفل یہ کہتا ہوں حقیقت لڑکی خاندانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے

Anand Raj Singh

526 likes

کیا بادلوں ہے وہ ہے وہ سفر زندگی بھر ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ پر بنایا لگ گھر زندگی بھر سبھی زندگی کے مزے لوٹتے ہیں لگ آیا ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ ہنر زندگی بھر محبت رہی چار دن زندگی ہے وہ ہے وہ ہے وہ رہا چار دن کا اثر زندگی بھر

Anwar Shaoor

95 likes

کیوں ڈریں زندگی ہے وہ ہے وہ کیا ہوگا کچھ لگ ہوگا تو غضب ہوگا ہنستی آنکھوں ہے وہ ہے وہ جھانک کر دیکھو کوئی آنسو کہی چھپا ہوگا ان دنوں نا امید سا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ شاید ا سے نے بھی یہ سنا ہوگا دیکھ کر جاناں کو سوچتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیا کسی نے تمہیں چھوا ہوگا

Javed Akhtar

371 likes

مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ورنا قدرت کا لکھا ہوا کاٹتا تری حصے ہے وہ ہے وہ آئی برے دن کوئی دوسرا کاٹتا لاریوں سے زیادہ بہاؤ تھا تری ہر اک لفظ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اشارہ نہیں کاٹ سکتا تیری بات کیا کاٹتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے بھی زندگی اور شب اے ہجر کاٹی ہے سب کی طرح ویسے بہتر تو یہ تھا کے ہے وہ ہے وہ کم سے کم کچھ نیا کاٹتا تری ہوتے ہوئے موم بتی بجھائی کسی اور نے کیا خوشی رہ گئی تھی جنم دن کی ہے وہ ہے وہ کیک کیا کاٹتا کوئی بھی تو نہیں جو مری بھوکے رہنے پہ ناراض ہوں جیل ہے وہ ہے وہ تیری تصویر ہوتی تو ہنسکر سزا کاٹتا

Tehzeeb Hafi

456 likes

More from Jigar Moradabadi

عشق کو بے نقاب ہونا تھا آپ اپنا جواب ہونا تھا مست جام شراب ہونا تھا بے خود اضطراب ہونا تھا تیری آنکھوں کا کچھ قصور نہیں ہاں مجھہی کو خراب ہونا تھا آؤ مل جاؤ مسکرا کے گلے ہوں چکا جو عتاب ہونا تھا کوچہ عشق ہے وہ ہے وہ نکل آیا ج سے کو خا لگ خراب ہونا تھا مست جام شراب خاک ہوتے غرق جام شراب ہونا تھا دل کہ ج سے پر ہیں نقش رنگا رنگ ا سے کو سادہ کتاب ہونا تھا ہم نے ناکامیوں کو ڈھونڈ لیا آخرش کامیاب ہونا تھا ہاں یہ حقیقت لمحہ سکون کہ جسے محشر اضطراب ہونا تھا نگہ یار خود تڑپ اٹھتی شرط اول خراب ہونا تھا کیوں لگ ہوتا ستم بھی بے پایاں کرم بے حساب ہونا تھا کیوں نظر حیرتوں ہے وہ ہے وہ ڈوب گئی موج صد اضطراب ہونا تھا ہوں چکا روز اولیں ہی ج گر ج سے کو جتنا خراب ہونا تھا

Jigar Moradabadi

1 likes

حقیقت جو روٹھیں یوں منانا چاہیے زندگی سے روٹھ جانا چاہیے ہمت قاتل بڑھانا چاہیے زیر خنجر مسکرانا چاہیے زندگی ہے نام جہد و جنگ کا موت کیا ہے بھول جانا چاہیے ہے انہی دھوکے سے دل کی زندگی جو حسین دھوکہ ہوں خا لگ چاہیے لذتیں ہیں دشمن اوج غصہ کلفتوں سے جی لگانا چاہیے ان سے ملنے کو تو کیا کہیے ج گر خود سے ملنے کو زما لگ چاہیے

Jigar Moradabadi

1 likes

جو اب بھی لگ تکلیف فرمائیےگا تو ب سے ہاتھ ملتے ہی رہ جائیےگا نگا ہوں سے چھپ کر ک ہاں جائیےگا ج ہاں جائیےگا ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ پائیےگا میرا جب برا حال سن پائیےگا خراماں خراماں چلے آئیے گا مٹا کر ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ آپ پچھتائیےگا کمی کوئی محسو سے فرمائیےگا نہیں کھیل ناصح جنوں کی حقیقت سمجھ لیجیےگا تو سمجھائیےگا ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی یہ اب دیکھنا ہے کہ ہم پر ک ہاں تک برق لگ فرمائیےگا ستم عشق ہے وہ ہے وہ آپ آساں لگ سمجھیں تڑپ جائیےگا جو تڑپائیےگا یہ دل ہے اسے دل ہی ب سے رہنے دیجئے کرم جون ایلیا تو پچھتائیےگا کہی چپ رہی ہے زبان محبت لگ فرمائیےگا تو فرمائیےگا بھلانا ہمارا مبارک مبارک م گر شرط یہ ہے لگ یاد آئیے گا ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی لگ اب چین آئےگا جب تک ان آنکھوں ہے وہ ہے وہ آنسو لگ بھر لائیےگا تیرا جذبہ شوق ہے بے حقیقت ذرا پھروں تو ارشاد فرمائیےگا ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ جب لگ ہوں گے تو کیا رنگ محفل کسے دیکھ کر آپ شرمائیےگا محبت محبت ہی رہتی ہے لیکن ک ہاں

Jigar Moradabadi

2 likes

اب تو یہ بھی نہیں رہا احسا سے درد ہوتا ہے یا نہیں ہوتا عشق جب تک لگ کر چکے رسوا آدمی کام کا نہیں ہوتا ٹوٹ پڑتا ہے دفعۃً جو عشقبیش تر دیر پا نہیں ہوتا حقیقت بھی ہوتا ہے ایک سمے کہ جب ما سوا ما سوا نہیں ہوتا ہاں یہ کیا ہوں گیا تو طبیعت کو غم بھی راحت فضا نہیں ہوتا دل ہمارا ہے یا تمہارا ہے ہم سے یہ فیصلہ نہیں ہوتا ج سے پہ تیری نظر نہیں ہوتی ا سے کی جانب خدا نہیں ہوتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ کہ بے زار عمر بھر کے لیے دل کہ دم بھر جدا نہیں ہوتا حقیقت ہمارے قریب ہوتے ہیں جب ہمارا پتا نہیں ہوتا دل کو کیا کیا سکون ہوتا ہے جب کوئی آسرا نہیں ہوتا ہوں کے اک بار سامنا ان سے پھروں کبھی سامنا نہیں ہوتا

Jigar Moradabadi

4 likes

کیا ت غضب کہ مری روح رواں تک پہنچے پہلے کوئی مری ن غموں کی زبان تک پہنچے جب ہر اک شورش غم ضبط فغاں تک پہنچے پھروں خدا جانے یہ ہنگامہ ک ہاں تک پہنچے آنکھ تک دل سے لگ آئی لگ زبان تک پہنچے بات ج سے کی ہے اسی آفت جاں تک پہنچے تو ج ہاں پر تھا بے حد پہلے وہیں آج بھی ہے دیکھ رندان خوش انفا سے ک ہاں تک پہنچے جو زمانے کو برا کہتے ہیں خود ہیں حقیقت برے کاش یہ بات تری گوش گراں تک پہنچے بڑھ کے رندوں نے قدم حضرت واعظ کے لیے گرتے پڑتے جو در پیر مغاں تک پہنچے تو مری حال پریشاں پہ بے حد طنز لگ کر اپنے گیسو بھی ذرا دیکھ ک ہاں تک پہنچے ان کا جو فرض ہے حقیقت اہل سیاست جانیں میرا پیغام محبت ہے ج ہاں تک پہنچے عشق کی چوٹ دکھانے ہے وہ ہے وہ کہی آتی ہے کچھ اشارے تھے کہ جو لفظ و بیاں تک پہنچے رکے بیتاب تھے جو پردہ فطرت ہے وہ ہے وہ ج گر خود تڑپ کر مری چشم نگراں تک پہنچے

Jigar Moradabadi

1 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Jigar Moradabadi.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Jigar Moradabadi's ghazal.