ghazalKuch Alfaaz

حقیقت جو روٹھیں یوں منانا چاہیے زندگی سے روٹھ جانا چاہیے ہمت قاتل بڑھانا چاہیے زیر خنجر مسکرانا چاہیے زندگی ہے نام جہد و جنگ کا موت کیا ہے بھول جانا چاہیے ہے انہی دھوکے سے دل کی زندگی جو حسین دھوکہ ہوں خا لگ چاہیے لذتیں ہیں دشمن اوج غصہ کلفتوں سے جی لگانا چاہیے ان سے ملنے کو تو کیا کہیے ج گر خود سے ملنے کو زما لگ چاہیے

Related Ghazal

مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ورنا قدرت کا لکھا ہوا کاٹتا تری حصے ہے وہ ہے وہ آئی برے دن کوئی دوسرا کاٹتا لاریوں سے زیادہ بہاؤ تھا تری ہر اک لفظ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اشارہ نہیں کاٹ سکتا تیری بات کیا کاٹتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے بھی زندگی اور شب اے ہجر کاٹی ہے سب کی طرح ویسے بہتر تو یہ تھا کے ہے وہ ہے وہ کم سے کم کچھ نیا کاٹتا تری ہوتے ہوئے موم بتی بجھائی کسی اور نے کیا خوشی رہ گئی تھی جنم دن کی ہے وہ ہے وہ کیک کیا کاٹتا کوئی بھی تو نہیں جو مری بھوکے رہنے پہ ناراض ہوں جیل ہے وہ ہے وہ تیری تصویر ہوتی تو ہنسکر سزا کاٹتا

Tehzeeb Hafi

456 likes

کیوں ڈریں زندگی ہے وہ ہے وہ کیا ہوگا کچھ لگ ہوگا تو غضب ہوگا ہنستی آنکھوں ہے وہ ہے وہ جھانک کر دیکھو کوئی آنسو کہی چھپا ہوگا ان دنوں نا امید سا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ شاید ا سے نے بھی یہ سنا ہوگا دیکھ کر جاناں کو سوچتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیا کسی نے تمہیں چھوا ہوگا

Javed Akhtar

371 likes

ب سے اک نگاہ ناز کو دراڑیں ہوا تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ حالانکہ شہر شہر ہے وہ ہے وہ پھیلا ہوا تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ مدت کے بعد آئی لگ دیکھا تو رو پڑا ک سے بہترین دوست سے روٹھا ہوا تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ پہنا جو رین کوٹ تو بارش نہیں ہوئی لوٹا جو گھر تو شرم سے بھیگا ہوا تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ پہلے بھی دی گئی تھی مجھے بزم کی دعا پہلے بھی ا سے دعا پہ اکیلا ہوا تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ کتنی عجیب بات ہے نا تو ہی آ گیا تو تری ہی انتظار ہے وہ ہے وہ بیٹھا ہوا تھا ہے وہ ہے وہ

Zubair Ali Tabish

47 likes

زبان کہ عشق اپنا مکمل نہیں ہوا گر ہے وہ ہے وہ تمہارے ہجر ہے وہ ہے وہ پاگل نہیں ہوا حقیقت بے وجہ سالو بعد بھی کتنا حسین ہے حقیقت رنگ کینو سے پہ کبھی ڈل نہیں ہوا ا سے گود جیسی نیند میسر لگ ہوں سکی اتنا تو مخملی کبھی مخمل نہیں ہوا دو چار رابطوں نے ہی پاگل کیا مجھے اچھا ہوا جو ربط مسلسل نہیں ہوا ا سے بار مری حال پہ کھلکر نہیں ہنسی ا سے بار تری گال پہ ڈمپل نہیں ہوا اندھا حقیقت کیوں ہوا پتا لگنے کے بعد ہے وہ ہے وہ ہے وہ تا عمر ا سے کی آنکھ سے اوجھل نہیں ہوا یوں کھینچتی ہے تیر حقیقت اپنے نشانے پر ہر اک شکار مر گیا تو غائل نہیں ہوا

Kushal Dauneria

34 likes

بات کرنی ہے بات کون کرے درد سے دو دو ہاتھ کون کرے ہم ستارے تم تمہیں بلاتے ہیں چاند لگ ہوں تو رات کون کرے اب تجھے رب کہی یا بت سمجھیں عشق ہے وہ ہے وہ ذات پات کون کرے زندگی بھر کی تھے کمائی جاناں ا سے سے زیادہ زکات کون کرے

Kumar Vishwas

56 likes

More from Jigar Moradabadi

کیا ت غضب کہ مری روح رواں تک پہنچے پہلے کوئی مری ن غموں کی زبان تک پہنچے جب ہر اک شورش غم ضبط فغاں تک پہنچے پھروں خدا جانے یہ ہنگامہ ک ہاں تک پہنچے آنکھ تک دل سے لگ آئی لگ زبان تک پہنچے بات ج سے کی ہے اسی آفت جاں تک پہنچے تو ج ہاں پر تھا بے حد پہلے وہیں آج بھی ہے دیکھ رندان خوش انفا سے ک ہاں تک پہنچے جو زمانے کو برا کہتے ہیں خود ہیں حقیقت برے کاش یہ بات تری گوش گراں تک پہنچے بڑھ کے رندوں نے قدم حضرت واعظ کے لیے گرتے پڑتے جو در پیر مغاں تک پہنچے تو مری حال پریشاں پہ بے حد طنز لگ کر اپنے گیسو بھی ذرا دیکھ ک ہاں تک پہنچے ان کا جو فرض ہے حقیقت اہل سیاست جانیں میرا پیغام محبت ہے ج ہاں تک پہنچے عشق کی چوٹ دکھانے ہے وہ ہے وہ کہی آتی ہے کچھ اشارے تھے کہ جو لفظ و بیاں تک پہنچے رکے بیتاب تھے جو پردہ فطرت ہے وہ ہے وہ ج گر خود تڑپ کر مری چشم نگراں تک پہنچے

Jigar Moradabadi

1 likes

بے کیف دل ہے اور جیے جا رہا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ خالی ہے شیشہ اور پیے جا رہا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ پےہم جو آہ آہ کیے جا رہا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ دولت ہے غم زکات دیے جا رہا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ مجبوری غصہ محبت تو دیکھنا جینا نہیں قبول جیے جا رہا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ حقیقت دل ک ہاں ہے اب کہ جسے پیار کیجیے مجبوریاں ہیں ساتھ دیے جا رہا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ رخصت ہوئی شباب کے ہمراہ زندگی کہنے کی بات ہے کہ جیے جا رہا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ پہلے شراب آب و زیست تھی اب آب و زیست ہے شراب کوئی پلا رہا ہے پیے جا رہا ہوں ہے وہ ہے وہ

Jigar Moradabadi

1 likes

جو اب بھی لگ تکلیف فرمائیےگا تو ب سے ہاتھ ملتے ہی رہ جائیےگا نگا ہوں سے چھپ کر ک ہاں جائیےگا ج ہاں جائیےگا ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ پائیےگا میرا جب برا حال سن پائیےگا خراماں خراماں چلے آئیے گا مٹا کر ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ آپ پچھتائیےگا کمی کوئی محسو سے فرمائیےگا نہیں کھیل ناصح جنوں کی حقیقت سمجھ لیجیےگا تو سمجھائیےگا ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی یہ اب دیکھنا ہے کہ ہم پر ک ہاں تک برق لگ فرمائیےگا ستم عشق ہے وہ ہے وہ آپ آساں لگ سمجھیں تڑپ جائیےگا جو تڑپائیےگا یہ دل ہے اسے دل ہی ب سے رہنے دیجئے کرم جون ایلیا تو پچھتائیےگا کہی چپ رہی ہے زبان محبت لگ فرمائیےگا تو فرمائیےگا بھلانا ہمارا مبارک مبارک م گر شرط یہ ہے لگ یاد آئیے گا ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی لگ اب چین آئےگا جب تک ان آنکھوں ہے وہ ہے وہ آنسو لگ بھر لائیےگا تیرا جذبہ شوق ہے بے حقیقت ذرا پھروں تو ارشاد فرمائیےگا ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ جب لگ ہوں گے تو کیا رنگ محفل کسے دیکھ کر آپ شرمائیےگا محبت محبت ہی رہتی ہے لیکن ک ہاں

Jigar Moradabadi

2 likes

अगर न ज़ोहरा-जबीनों के दरमियाँ गुज़रे तो फिर ये कैसे कटे ज़िंदगी कहाँ गुज़रे जो तेरे आरिज़ ओ गेसू के दरमियाँ गुज़रे कभी कभी वही लम्हे बला-ए-जाँ गुज़रे मुझे ये वहम रहा मुद्दतों कि जुरअत-ए-शौक़ कहीं न ख़ातिर-ए-मासूम पर गिराँ गुज़रे हर इक मक़ाम-ए-मोहब्बत बहुत ही दिलकश था मगर हम अहल-ए-मोहब्बत कशाँ कशाँ गुज़रे जुनूँ के सख़्त मराहिल भी तेरी याद के साथ हसीं हसीं नज़र आए जवाँ जवाँ गुज़रे मिरी नज़र से तिरी जुस्तुजू के सदक़े में ये इक जहाँ ही नहीं सैंकड़ों जहाँ गुज़रे हुजूम-ए-जल्वा में परवाज़-ए-शौक़ क्या कहना कि जैसे रूह सितारों के दरमियाँ गुज़रे ख़ता मुआ'फ़ ज़माने से बद-गुमाँ हो कर तिरी वफ़ा पे भी क्या क्या हमें गुमाँ गुज़रे मुझे था शिकवा-ए-हिज्राँ कि ये हुआ महसूस मिरे क़रीब से हो कर वो ना-गहाँ गुज़रे रह-ए-वफ़ा में इक ऐसा मक़ाम भी आया कि हम ख़ुद अपनी तरफ़ से भी बद-गुमाँ गुज़रे ख़ुलूस जिस में हो शामिल वो दौर-ए-इश्क़-ओ-हवस न राएगाँ कभी गुज़रा न राएगाँ गुज़रे उसी को कहते हैं जन्नत उसी को दोज़ख़ भी वो ज़िंदगी जो हसीनों के दरमियाँ गुज़रे बहुत हसीन मनाज़िर भी हुस्न-ए-फ़ितरत के न जाने आज तबीअत पे क्यूँँ गिराँ गुज़रे वो जिन के साए से भी बिजलियाँ लरज़ती थीं मिरी नज़र से कुछ ऐसे भी आशियाँ गुज़रे मिरा तो फ़र्ज़ चमन-बंदी-ए-जहाँ है फ़क़त मिरी बला से बहार आए या ख़िज़ाँ गुज़रे कहाँ का हुस्न कि ख़ुद इश्क़ को ख़बर न हुई रह-ए-तलब में कुछ ऐसे भी इम्तिहाँ गुज़रे भरी बहार में ताराजी-ए-चमन मत पूछ ख़ुदा करे न फिर आँखों से वो समाँ गुज़रे कोई न देख सका जिन को वो दिलों के सिवा मुआमलात कुछ ऐसे भी दरमियाँ गुज़रे कभी कभी तो इसी एक मुश्त-ए-ख़ाक के गिर्द तवाफ़ करते हुए हफ़्त आसमाँ गुज़रे बहुत हसीन सही सोहबतें गुलों की मगर वो ज़िंदगी है जो काँटों के दरमियाँ गुज़रे अभी से तुझ को बहुत नागवार हैं हमदम वो हादसात जो अब तक रवाँ-दवाँ गुज़रे जिन्हें कि दीदा-ए-शाइर ही देख सकता है वो इंक़िलाब तिरे सामने कहाँ गुज़रे बहुत अज़ीज़ है मुझ को उन्हें क्या याद 'जिगर' वो हादसात-ए-मोहब्बत जो ना-गहाँ गुज़रे

Jigar Moradabadi

2 likes

عشق کو بے نقاب ہونا تھا آپ اپنا جواب ہونا تھا مست جام شراب ہونا تھا بے خود اضطراب ہونا تھا تیری آنکھوں کا کچھ قصور نہیں ہاں مجھہی کو خراب ہونا تھا آؤ مل جاؤ مسکرا کے گلے ہوں چکا جو عتاب ہونا تھا کوچہ عشق ہے وہ ہے وہ نکل آیا ج سے کو خا لگ خراب ہونا تھا مست جام شراب خاک ہوتے غرق جام شراب ہونا تھا دل کہ ج سے پر ہیں نقش رنگا رنگ ا سے کو سادہ کتاب ہونا تھا ہم نے ناکامیوں کو ڈھونڈ لیا آخرش کامیاب ہونا تھا ہاں یہ حقیقت لمحہ سکون کہ جسے محشر اضطراب ہونا تھا نگہ یار خود تڑپ اٹھتی شرط اول خراب ہونا تھا کیوں لگ ہوتا ستم بھی بے پایاں کرم بے حساب ہونا تھا کیوں نظر حیرتوں ہے وہ ہے وہ ڈوب گئی موج صد اضطراب ہونا تھا ہوں چکا روز اولیں ہی ج گر ج سے کو جتنا خراب ہونا تھا

Jigar Moradabadi

1 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Jigar Moradabadi.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Jigar Moradabadi's ghazal.