ghazalKuch Alfaaz

کون بتائے کون سجھے کون سے دیس سدھار گئے ان کا رستہ تکتے تکتے نین ہمارے ہار گئے کانٹوں کے دکھ سہنے ہے وہ ہے وہ تسکین بھی تھی آرام بھی تھا ہنسنے والے بھولے بھالے پھول چمن کے مار گئے ایک لگن کی بات ہے جیون ایک لگن ہی جیون ہے پوچھ نہ کیا کھویا کیا پایا کیا جیتے کیا ہار گئے آنے والی برکھا دیکھیں کیا دکھلائے آنکھوں کو یہ برکھا برساتے دن تو بن پریتم بے کار گئے جب بھی لوٹے پیار سے لوٹے پھول نہ پا کر گلشن ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھونرے امرت رس کی دھن ہے وہ ہے وہ پل پل سو سو بار گئے ہم سے پوچھو ساحل والو کیا بیتی دکھیاروں پر خیون ہارے بیچ بھنور ہے وہ ہے وہ چھوڑ کے جب اس کا پار گئے

Related Ghazal

ب سے اک اسی پہ تو پوری طرح ایاں ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ حقیقت کہ رہا ہے مجھے رایگاں تو ہاں ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جسے دکھائی دوں مری طرف اشارہ کرے مجھے دکھائی نہیں دے رہا روویج ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ادھر ادھر سے نمی کا رساؤ رہتا ہے سڑک سے نیچے بنایا گیا تو مکان ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کسی نے پوچھا کہ جاناں کون ہوں تو بھول گیا تو ابھی کسی نے بتایا تو تھا شہر خاموشاں ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ خود کو تجھ سے مٹاؤں گا احتیاط کے ساتھ تو ب سے نشان لگا دے ج ہاں ج ہاں ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ک سے سے پوچھوں یہ رستہ درست ہے کہ غلط ج ہاں سے کوئی گزرتا نہیں و ہاں ہوں ہے وہ ہے وہ

Umair Najmi

55 likes

دل پھروں اس کا کوچے ہے وہ ہے وہ جانے والا ہے بیٹھے بٹھائے ٹھوکر خانے والا ہے ترک تعلق کا دھڑکا سا ہے دل کو حقیقت مجھ کو اک بات بتانے والا ہے کتنے ادب سے بیٹھے ہیں سوکھے پودے چنو بادل شعر سنہانے والا ہے یہ مت سوچ سرائے پر کیا بیتےگی تو تو بس اک رات بتانے والا ہے اینٹوں کو آپس ہے وہ ہے وہ ملانے والا بے وجہ اصل ہے وہ ہے وہ اک دیوار اٹھانے والا ہے گاڑی کی رفتار ہے وہ ہے وہ آئی ہے سستی شاید اب اسٹیشن آنے والا ہے آخری ہچکی لینی ہے اب آ جاؤ بعد ہے وہ ہے وہ جاناں کو کون بلانے والا ہے

Zubair Ali Tabish

33 likes

خواب کے ہی ہم سہارے چل رہے ہیں زخم کو بھی گدگداتے چل رہے ہیں کیا بتائیں اب تمہیں ہم حال اپنا ہجر ہے وہ ہے وہ کیسے دیوانے چل رہے ہیں دریا کی تنہائی کا تو سوچئے ساتھ ج سے کے دو کنارے چل رہے ہیں جاناں کو کیا لگتا ہے تنہا چل رہا ہوں ساتھ مری چاند تارے چل رہے ہیں

Anand Raj Singh

32 likes

بیٹھے ہیں چین سے کہی جانا تو ہے نہیں ہم بے گھروں کا کوئی ہری تو ہے نہیں جاناں بھی ہوں بیتے سمے کے مانند ہوں بہو جاناں نے بھی یاد آنا ہے آنا تو ہے نہیں عہد وفا سے ک سے لیے خائف ہوں مری جان کر لو کہ جاناں نے عہد نبھانا تو ہے نہیں حقیقت جو ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ عزیز ہے کیسا ہے کون ہے کیوں پوچھتے ہوں ہم نے بتانا تو ہے نہیں دنیا ہم اہل عشق پہ کیوں پھینکتی ہے جال ہم نے تری فریب ہے وہ ہے وہ آنا تو ہے نہیں حقیقت عشق تو کرےگا م گر دیکھ بھال کے فار سے حقیقت تری جیسا دیوا لگ تو ہے نہیں

Rehman Faris

196 likes

سچ بتائیں تو شرم آتی ہے اور مطابق تو شرم آتی ہے ہم پہ احسان ہیں اداسی کے مسکرائیں تو شرم آتی ہے ہار کی ایسی عادتیں ہیں ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ جیت جائیں تو شرم آتی ہے ا سے کے آگے ہی ا سے کا بخشش ہوا سر اٹھائیں تو شرم آتی ہے عیش اوقات سے زیادہ کی اب مہلکہ تو شرم آتی ہے دھمکیاں خود کشی کی دیتے ہیں کر لگ پائیں تو شرم آتی ہے

Varun Anand

36 likes

More from Habib Jalib

آگ ہے پھیلی ہوئی کالی گھٹاؤں کی جگہ بد دعائیں ہیں لبوں پر اب دعاؤں کی جگہ انتخاب اہل گلشن پر بے حد روتا ہے دل دیکھ کر زاغ و زغن کو خوش نواوں کی جگہ کچھ بھی ہوتا پر لگ ہوتے پارہ پارہ جسم و جاں راہزن ہوتے ا گر ان رہنماؤں کی جگہ لٹ گئی ا سے دور ہے وہ ہے وہ اہل کی رکھ بک رہے ہیں اب صحافی بے سواوں کی جگہ کچھ تو آتا ہم کو بھی جاں سے گزرنے کا مزہ غیر ہوتے کاش جالب آشناؤں کی جگہ

Habib Jalib

1 likes

ا سے نے جب ہن سے کے نمسکار کیا مجھ کو انسان سے اوتار کیا دشت غربت ہے وہ ہے وہ دل ویراں نے یاد جمنا کو کئی بار کیا پیار کی بات لگ پوچھو یاروں ہم نے ک سے ک سے سے نہیں پیار کیا کتنی خوابیدہ تمناؤں کو ا سے کی آواز نے منجملہ و اسباب ماتم کیا ہم پجاری ہیں بتوں کے جالب ہم نے کعبہ ہے وہ ہے وہ بھی اقرار کیا

Habib Jalib

1 likes

ہم نے دل سے تجھے صدا مانا تو بڑا تھا تجھے بڑا مانا میر و غالب کے بعد انی سے کے بعد تجھ کو مانا بڑا بجا مانا تو کہ دیوا لگ صداقت تھا تو نے بندے کو کب خدا مانا تجھ کو پروا لگ تھی زمانے کی تو نے دل ہی کا ہر کہا مانا تجھ کو خود پہ تھا اعتماد اتنا خود ہی کو تو لگ رہنما مانا کی لگ شب کی کبھی پذیرائی صبح کو جائیں گے ثنا مانا ہن سے دیا سطح ذہن عالم پر جب کسی بات کا برا مانا یوں تو شاعر تھے اور بھی اے خون تمنا ہم نے تجھ سا لگ دوسرا مانا

Habib Jalib

0 likes

فیض اور فیض کا غم بھولنے والا ہے کہی موت یہ تیرا ستم بھولنے والا ہے کہی ہم سے ج سے سمے نے حقیقت شاہ سخن چھین لیا ہم کو حقیقت سمے الم بھولنے والا ہے کہی تری خوشی اور بھی چمکائیں گی یادیں ا سے کی ہم کو حقیقت دیدہ نم بھولنے والا ہے کہی کبھی زندان ہے وہ ہے وہ کبھی دور وطن سے اے دوست جو کیا ا سے نے رقم بھولنے والا ہے کہی آخری بار اسے دیکھ لگ پائے جالب یہ مقدر کا ستم بھولنے والا ہے کہی

Habib Jalib

0 likes

کہی آہ بن کے لب پر ترا نام آ لگ جائے تجھے بےوفا ک ہوں ہے وہ ہے وہ حقیقت مقام آ لگ جائے ذرا زلف کو سنبھالو میرا دل دھڑک رہا ہے کوئی اور طائر دل تہ دام آ لگ جائے جسے سن کے ٹوٹ جائے میرا آرزو بھرا دل تری صورت آشنا سے مجھ کو حقیقت پیام آ لگ جائے حقیقت جو منزلوں پہ لا کر کسی ہم سفر کو لوٹیں انہی رہزنوں ہے وہ ہے وہ تیرا کہی نام آ لگ جائے اسی فکر ہے وہ ہے وہ ہیں غلطاں یہ وشق زر کے بندے جو تمام زندگی ہے حقیقت نصرت آ لگ جائے یہ مہ و نجوم ہن سے لیں مری آنسوؤں پہ جالب میرا ماہتاب جب تک لب بام آ لگ جائے

Habib Jalib

0 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Habib Jalib.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Habib Jalib's ghazal.