خموشی سے ا سے کی ب سے جھگڑا ہوا ہر اندھیرا روح کا اجلا ہوا دھوپ نے سائے خروچے ا سے دودمان زندگی کا رنگ چتکبرا ہوا یار یہ تکبندیاں کیوں کر بھلا شاعری کرتے تھے ا سے کا کیا ہوا بدحواسی دور تک پھیلی ہوئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ کہ بچہ بھیڑ ہے وہ ہے وہ کھویا ہوا حقیقت یقیناً آ گئے ہیں لوٹ کر ور لگ کیسے شہر سترنگا ہوا
Related Ghazal
ب سے اک نگاہ ناز کو دراڑیں ہوا تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ حالانکہ شہر شہر ہے وہ ہے وہ پھیلا ہوا تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ مدت کے بعد آئی لگ دیکھا تو رو پڑا ک سے بہترین دوست سے روٹھا ہوا تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ پہنا جو رین کوٹ تو بارش نہیں ہوئی لوٹا جو گھر تو شرم سے بھیگا ہوا تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ پہلے بھی دی گئی تھی مجھے بزم کی دعا پہلے بھی ا سے دعا پہ اکیلا ہوا تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ کتنی عجیب بات ہے نا تو ہی آ گیا تو تری ہی انتظار ہے وہ ہے وہ بیٹھا ہوا تھا ہے وہ ہے وہ
Zubair Ali Tabish
47 likes
شاہسازی ہے وہ ہے وہ رعایت بھی نہیں کرتے ہوں سامنے آکے حکومت بھی نہیں کرتے ہوں جاناں سے کیا بات کرے کون ک ہاں قتل ہوا جاناں تو ا سے ظلم پہ حیرت بھی نہیں کرتے ہوں اب مری حال پہ کیوں جاناں کو پریشانی ہے اب تو جاناں مجھ سے محبت بھی نہیں کرتے ہوں پیار کرنے کی سند کیسے تمہیں جاری کروں جاناں ابھی ٹھیک سے خوبصورت بھی نہیں کرتے ہوں مشورے ہن سے کے دیا کرتے تھے دیوانوں کو کیا ہوا اب تو نصیحت بھی نہیں کرتے ہوں
Ali Zaryoun
39 likes
بڑے تحمل سے رفتہ رفتہ نکالنا ہے بچا ہے جو تجھ ہے وہ ہے وہ میرا حصہ نکالنا ہے یہ روح برسوں سے دفن ہے جاناں مدد کروگے بدن کے ملبے سے ا سے کو زندہ نکالنا ہے نظر ہے وہ ہے وہ رکھنا کہی کوئی غم شنا سے گاہک مجھے سخن بیچنا ہے خرچہ نکالنا ہے نکال لایا ہوں ایک پنجرے سے اک پرندہ اب ا سے پرندے کے دل سے پنجرہ نکالنا ہے یہ تی سے برسوں سے کچھ بر سے پیچھے چل رہی ہے مجھے گھڑی کا خراب پرزا نکالنا ہے خیال ہے خاندان کو اطلاع دے دوں جو کٹ گیا تو ا سے شجر کا شجرہ نکالنا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ایک کردار سے بڑا تنگ ہوں قلمکار مجھے کہانی ہے وہ ہے وہ ڈال غصہ نکالنا ہے
Umair Najmi
42 likes
ہے وہ ہے وہ نے تو ب سے مزاق ہے وہ ہے وہ پوچھا خراب ہے حقیقت پیر ہاتھ دیکھ کے بولا خراب ہے ہر دن اسے دکھایا کہ کتنے غنیم ہیں ہر رات ا سے کے بارے ہے وہ ہے وہ سوچا خراب ہے یہ عشق ہوں چکا ہے ترپ چال تاش کی آگے غلام کے میرا اکا خراب ہے آزاد لڑ کیوں سے بھلی قید عورتیں زار کہ جھیل ٹھیک ہے دریا خراب ہے ہم ج سے خدا کی آ سے ہے وہ ہے وہ بیٹھے ہیں رات دن حقیقت جا چکا ہے بول کے دنیا خراب ہے زیادہ کسی کی موت پہ رونا نہیں صحیح اور جنم دن پہ شور شرابا خراب ہے آدھا بھی ا سے کے جتنا ہے وہ ہے وہ روشن نہیں ہوا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ج سے دیے کو بول رہا تھا خراب ہے
Kushal Dauneria
35 likes
بڑے تحمل سے رفتہ رفتہ نکالنا ہے بچا ہے جو تجھ ہے وہ ہے وہ میرا حصہ نکالنا ہے یہ روح برسوں سے دفن ہے جاناں مدد کروگے بدن کے ملبے سے ا سے کو زندہ نکالنا ہے نظر ہے وہ ہے وہ رکھنا کہی کوئی غم شنا سے گاہک مجھے سخن بیچنا ہے خرچہ نکالنا ہے نکال لایا ہوں ایک پنجرے سے اک پرندہ اب ا سے پرندے کے دل سے پنجرہ نکالنا ہے یہ تی سے برسوں سے کچھ بر سے پیچھے چل رہی ہے مجھے گھڑی کا خراب پرزا نکالنا ہے خیال ہے خاندان کو اطلاع دے دوں جو کٹ گیا تو ا سے شجر کا شجرہ نکالنا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ایک کردار سے بڑا تنگ ہوں قلمکار مجھے کہانی ہے وہ ہے وہ ڈال غصہ نکالنا ہے
Umair Najmi
33 likes
More from Anand Raj Singh
خواب کے ہی ہم سہارے چل رہے ہیں زخم کو بھی گدگداتے چل رہے ہیں کیا بتائیں اب تمہیں ہم حال اپنا ہجر ہے وہ ہے وہ کیسے دیوانے چل رہے ہیں دریا کی تنہائی کا تو سوچئے ساتھ ج سے کے دو کنارے چل رہے ہیں جاناں کو کیا لگتا ہے تنہا چل رہا ہوں ساتھ مری چاند تارے چل رہے ہیں
Anand Raj Singh
32 likes
خواب تمہارے آتے ہیں اتراتے ہیں ہم جب جب سو جاتے ہیں اتراتے ہیں ا سے پر مرنے والے جتنے لڑکے ہیں مجھ سے ملنے آتے ہیں اتراتے ہیں سرکاری دفترون ہے وہ ہے وہ بیٹا نوکر ہے پاپا مل کر آتے ہیں اتراتے ہیں ہم تو خموشی ہے وہ ہے وہ ڈوبے ہیں لیکن زخم ہمارے گاتے ہیں اتراتے ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ایسا گمنام ہوا ہوں لوگ مجھے میرا شعر سناتے ہیں اتراتے ہیں
Anand Raj Singh
24 likes
ا گر تو بےوفا ہے دھیان رکھنا مجھے سب کچھ پتا ہے دھیان رکھنا بچھڑتے سمے ہم نے کہ دیا تھا ہمارا دل دکھا ہے دھیان رکھنا خدا ج سے کی محبت ہے وہ ہے وہ بنی ہوں حقیقت کئیوں کا خدا ہے دھیان رکھنا جسے جاناں دوست کیول جانتی ہوں حقیقت جاناں کو چاہتا ہے دھیان رکھنا
Anand Raj Singh
54 likes
یہی اپنی کہانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے حقیقت لڑکی جاں ہماری تھی میاں پہلے بے حد پہلے وہم مجھ کو یہ بھاتا ہے,अभी مری دیوانی ہے م گر مری دیوانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے رقیب آ کر بتاتے ہیں ی ہاں تل ہے و ہاں تل ہے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ جانکاری تھی میاں پہلے بے حد پہلے ادب سے مانگ کر مافی بھری محفل یہ کہتا ہوں حقیقت لڑکی خاندانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے
Anand Raj Singh
526 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Anand Raj Singh.
Similar Moods
More moods that pair well with Anand Raj Singh's ghazal.







