خیال و خواب ہوئی ہیں محبتیں کیسی لہو ہے وہ ہے وہ ناچ رہی ہیں یہ وحشتیں کیسی لگ شب کو چاند ہی اچھا لگ دن کو مہر اچھا یہ ہم پہ بیت رہی ہیں قیامتیں کیسی حقیقت ساتھ تھا تو خدا بھی تھا مہرباں کیا کیا بچھڑ گیا تو تو ہوئی ہیں عداوتیں کیسی عذاب جن کا تبسم ثواب جن کی نگاہ کھنچی ہوئی ہیں پ سے جاں یہ صورتیں کیسی ہوا کے دوست پہ رکھے ہوئے چراغ ہیں ہم جو بجھ گئے تو ہوا سے شکایتیں کیسی جو بے خبر کوئی گزرا تو یہ صدا دے دی ہے وہ ہے وہ ہے وہ سنگ راہ ہوں مجھ پر عنایتیں کیسی نہیں کہ حسن ہی نیرنگیوں ہے وہ ہے وہ طاق نہیں جنوں بھی کھیل رہا ہے سیاستیں کیسی لگ صاحبان جنوں ہیں لگ اہل کشف و غصہ ہمارے عہد ہے وہ ہے وہ آئیں کسافتیں کیسی جو ابر ہے وہی اب پل دو پل لاتا ہے فضا یہ ہوں تو دلوں ہے وہ ہے وہ نزاکتیں کیسی یہ دور بے ہنراں ہے بچا رکھو خود کو ی ہاں صداقتیں کیسی کراماتیں کیسی
Related Ghazal
خالی بیٹھے ہوں تو اک کام میرا کر دو نا مجھ کو اچھا سا کوئی زخم ادا کر دو نا دھیان سے پنچھیوں کو دیتے ہوں دا لگ پانی اتنے اچھے ہوں تو پنجرے سے رہا کر دو نا جب قریب آ ہی گئے ہوں تو اداسی کیسی جب دیا دے ہی رہے ہوں تو جلا کر دو نا
Zubair Ali Tabish
102 likes
کسی لبا سے کی خوشبو جب اڑ کے آتی ہے تری بدن کی جدائی بے حد ستاتی ہے تری گلاب ترستے ہیں تیری خوشبو کو تیری سفید چمیلی تجھے بلاتی ہے تری بغیر مجھے چین کیسے پڑتا ہیں مری بغیر تجھے نیند کیسے آتی ہے
Jaun Elia
113 likes
ہاتھ خالی ہیں تری شہر سے جاتے جاتے جان ہوتی تو مری جان لٹاتے جاتے اب تو ہر ہاتھ کا پتھر ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ پہچانتا ہے عمر گزری ہے تری شہر ہے وہ ہے وہ آتے جاتے اب کے مایو سے ہوا یاروں کو رخصت کر کے جا رہے تھے تو کوئی زخم لگاتے جاتے رینگنے کی بھی اجازت نہیں ہم کو ور لگ ہم جدھر جاتے نئے پھول کھلاتے جاتے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو جلتے ہوئے صحراؤں کا اک پتھر تھا جاناں تو دریا تھے مری پیا سے بجھاتے جاتے مجھ کو رونے کا سلیقہ بھی نہیں ہے شاید لوگ ہنستے ہیں مجھے دیکھ کے آتے جاتے ہم سے پہلے بھی مسافر کئی گزرے ہوں گے کم سے کم راہ کے پتھر تو ہٹاتے جاتے
Rahat Indori
102 likes
یہی اپنی کہانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے حقیقت لڑکی جاں ہماری تھی میاں پہلے بے حد پہلے وہم مجھ کو یہ بھاتا ہے,अभी مری دیوانی ہے م گر مری دیوانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے رقیب آ کر بتاتے ہیں ی ہاں تل ہے و ہاں تل ہے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ جانکاری تھی میاں پہلے بے حد پہلے ادب سے مانگ کر مافی بھری محفل یہ کہتا ہوں حقیقت لڑکی خاندانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے
Anand Raj Singh
526 likes
اسی جگہ پر ج ہاں کئی راستے ملیںگے پلٹ کے آئی تو سب سے پہلے تجھے ملیںگے ا گر کبھی تری نام پر جنگ ہوں گئی تو ہم ایسے بزدل بھی پہلی صف ہے وہ ہے وہ کھڑے ملیںگے تجھے یہ سڑکیں مری توسط سے جانتی ہیں تجھے ہمیشہ یہ سب اشارے کھلے ملیںگے
Tehzeeb Hafi
465 likes
More from Obaidullah Aleem
वो रात बे-पनाह थी और मैं ग़रीब था वो जिस ने ये चराग़ जलाया अजीब था वो रौशनी कि आँख उठाई नहीं गई कल मुझ से मेरा चाँद बहुत ही क़रीब था देखा मुझे तो तब्अ रवाँ हो गई मिरी वो मुस्कुरा दिया तो मैं शाइ'र अदीब था रखता न क्यूँँ मैं रूह ओ बदन उस के सामने वो यूँँ भी था तबीब वो यूँँ भी तबीब था हर सिलसिला था उस का ख़ुदा से मिला हुआ चुप हो कि लब-कुशा हो बला का ख़तीब था मौज-ए-नशात ओ सैल-ए-ग़म-ए-जाँ थे एक साथ गुलशन में नग़्मा-संज अजब अंदलीब था मैं भी रहा हूँ ख़ल्वत-ए-जानाँ में एक शाम ये ख़्वाब है या वाक़ई मैं ख़ुश-नसीब था हर्फ़-ए-दुआ ओ दस्त-ए-सख़ावत के बाब में ख़ुद मेरा तजरबा है वो बे-हद नजीब था देखा है उस को ख़ल्वत ओ जल्वत में बार-हा वो आदमी बहुत ही अजीब-ओ-ग़रीब था लिक्खो तमाम उम्र मगर फिर भी तुम 'अलीम' उस को दिखा न पाओ वो ऐसा हबीब था
Obaidullah Aleem
0 likes
عزیز اتنا ہی رکھو کہ جی سنبھل جائے اب ا سے دودمان بھی لگ چاہو کہ دم نکل جائے ملے ہیں یوں تو بے حد آؤ اب ملیں یوں بھی کہ روح گرمی انف سے سے پگھل جائے محبتوں ہے وہ ہے وہ غضب ہے دلوں کو دھڑکا سا کہ جانے کون ک ہاں راستہ بدل جائے زہے حقیقت دل جو تمنا تازہ تر ہے وہ ہے وہ رہے خوشا حقیقت عمر جو خوابوں ہی ہے وہ ہے وہ بہل جائے ہے وہ ہے وہ ہے وہ حقیقت چراغ سر رہ گزاری دنیا ہوں جو اپنی ذات کی تنہائیوں ہے وہ ہے وہ جل جائے ہر ایک لہجہ یہی آرزو یہی حسرت جو آگ دل ہے وہ ہے وہ ہے حقیقت شعر ہے وہ ہے وہ بھی ڈھل جائے
Obaidullah Aleem
1 likes
کوئی دھن ہوں ہے وہ ہے وہ تری گیت ہی گائے جاؤں درد سینے ہے وہ ہے وہ اٹھے شور مچائے جاؤں خواب بن کر تو برستا رہے شبنم شبنم اور بس ہے وہ ہے وہ اسی موسم ہے وہ ہے وہ نہائے جاؤں تیرے ہی رنگ اترتے چلے جائیں مجھ ہے وہ ہے وہ ہے وہ خود کو لکھوں تری تصویر بنائے جاؤں جس کو ملنا نہیں پھروں اس کا سے محبت کیسی سوچتا جاؤں مگر دل ہے وہ ہے وہ اتاریں جاؤں اب تو اس کا کی ہوئی جس پہ مجھے پیار آتا ہے زندگی آ تجھے سینے سے لگائے جاؤں یہی چہرے مری ہونے کی گواہی دیں گے ہر نئے حرف ہے وہ ہے وہ جاں اپنی سمائے جاؤں جان تو چیز ہے کیا رشتہ جاں سے آگے کوئی آواز دیے جائے ہے وہ ہے وہ آئی جاؤں شاید اس کا راہ پہ کچھ اور بھی راہی آئیں دھوپ ہے وہ ہے وہ چلتا رہوں سائے بچھائے جاؤں اہل دل ہوں گے تو بھلاکر سخن کو میرے بزم ہے وہ ہے وہ آ ہی گیا تو ہوں تو سنائے جاؤں
Obaidullah Aleem
1 likes
جو اس کا نے کیا اسے صلہ دے مولا مجھے دل پامال کی جزا دے یا میرے دیے کی لو بڑھا دے یا رات کو صبح سے ملا دے سچ ہوں تو مجھے فدا بنا دے جھوٹا ہوں تو نقش سب مٹا دے یہ قوم عجیب ہوں گئی ہے اس کا کا قوم کو خو انبیا دے اترےگا نہ کوئی آسماں سے اک آس ہے وہ ہے وہ دل مگر صدا دے بچوں کی طرح یہ لفظ میرے معبود نہ بولنا سکھا دے دکھ دہر کے اپنے نام لکھوں ہر دکھ مجھے ذات کا مزہ دے اک میرا وجود سن رہا ہے الہام جو رات کی ہوا دے مجھ سے میرا کوئی ملنے والا بچھڑا تو نہیں مگر ملا دے چہرہ مجھے اپنا دیکھنے کو اب دست ہوس ہے وہ ہے وہ آئینہ دے جس بے وجہ نے عمر ہجر کاٹی اس کا کا بے وجہ کو ایک رات کیا دے دکھتا ہے بدن کہ پھروں ملے حقیقت مل جائے تو روح کو دکھا دے کیا چیز ہے خواہش بدن بھی ہر بار نیا ہی ذائقہ دے چھونے ہے وہ ہے وہ یہ ڈر کہ مر نہ جاؤں چھو لوں تو حقیقت زندگی سوا دے
Obaidullah Aleem
1 likes
ایسی تیز ہوا اور ایسی رات نہیں دیکھی لیکن ہم نے مولا جیسی ذات نہیں دیکھی ا سے کی شان عجیب کا منظر دیکھنے والا ہے اک ایسا خورشید کہ ج سے نے رات نہیں دیکھی بستر پر موجود رہے اور سیر ہفت افلاک ایسی کسی پر رحمت کی برسات نہیں دیکھی ا سے کی آل وہی جو ا سے کے نقش قدم پر صرف ذات کی ہم نے آل سادات نہیں دیکھی ایک شجر ہے ج سے کی شاخیں پھیلتی جاتی ہیں کسی شجر ہے وہ ہے وہ ہم نے ایسی بات نہیں دیکھی اک دریا رحمت ہے جو بہتا جاتا ہے یہ شان برکات کسی کے ساتھ نہیں دیکھی جھونپڑیوں کی پوچھوں بھی ہم نے دیکھی ہے لیکن ا سے کے در کے گداؤں والی بات نہیں دیکھی ا سے کے نام پہ ماریں خا لگ اب اعزاز ہمارا اور کسی کی یہ عزت اوقات نہیں دیکھی صدیوں کی ا سے دھوپ چھاؤں ہے وہ ہے وہ کوئی ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ بتلائے پوری ہوئی کون سی ا سے کی بات نہیں دیکھی اہل ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کون سا ہم پر ظلم نہیں ڈھایا کون سی بھیگتا ہم نے ا سے کے ہاتھ نہیں دیکھی
Obaidullah Aleem
0 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Obaidullah Aleem.
Similar Moods
More moods that pair well with Obaidullah Aleem's ghazal.







