خوشبو کے احسا سے پہ بھاگے پاگل لوگ مری چنو سیدھے سادھے پاگل لوگ مری جیسا ڈھونڈ رہے ہوں دل پامال کروں مل جائیں گے مری چنو پاگل لوگ دوست ہمارے کوشش کر کے ہار گئے پاگل کو کتنا سلجھ پاگل لوگ
Related Ghazal
تری پیچھے ہوں گی دنیا پاگل بن کیا بولا ہے وہ ہے وہ نے کچھ سمجھا پاگل بن صحرا ہے وہ ہے وہ بھی ڈھونڈ لے دریا پاگل بن ورنا مر جائےگا پیاسا پاگل بن آدھا دا لگ آدھا پاگل نہیں نہیں نہیں اس کا کا کو پانا ہے تو پورا پاگل بن دانائی دکھلانے سے کچھ حاصل نہیں پاگل خا لگ ہے یہ دنیا پاگل بن دیکھیں تجھ کو لوگ تو پاگل ہوں جائیں اتنا عمدہ اتنا اعلیٰ پاگل بن لوگوں سے ڈر لگتا ہے تو گھر ہے وہ ہے وہ بیٹھ ج ہنستے ہے تو مری جیسا پاگل بن
Varun Anand
81 likes
ہاتھ خالی ہیں تری شہر سے جاتے جاتے جان ہوتی تو مری جان لٹاتے جاتے اب تو ہر ہاتھ کا پتھر ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ پہچانتا ہے عمر گزری ہے تری شہر ہے وہ ہے وہ آتے جاتے اب کے مایو سے ہوا یاروں کو رخصت کر کے جا رہے تھے تو کوئی زخم لگاتے جاتے رینگنے کی بھی اجازت نہیں ہم کو ور لگ ہم جدھر جاتے نئے پھول کھلاتے جاتے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو جلتے ہوئے صحراؤں کا اک پتھر تھا جاناں تو دریا تھے مری پیا سے بجھاتے جاتے مجھ کو رونے کا سلیقہ بھی نہیں ہے شاید لوگ ہنستے ہیں مجھے دیکھ کے آتے جاتے ہم سے پہلے بھی مسافر کئی گزرے ہوں گے کم سے کم راہ کے پتھر تو ہٹاتے جاتے
Rahat Indori
102 likes
کسی لبا سے کی خوشبو جب اڑ کے آتی ہے تری بدن کی جدائی بے حد ستاتی ہے تری گلاب ترستے ہیں تیری خوشبو کو تیری سفید چمیلی تجھے بلاتی ہے تری بغیر مجھے چین کیسے پڑتا ہیں مری بغیر تجھے نیند کیسے آتی ہے
Jaun Elia
113 likes
نہیں تھا اپنا م گر پھروں بھی اپنا اپنا لگا کسی سے مل کے بے حد دیر بعد اچھا لگا تمہیں لگا تھا ہے وہ ہے وہ مر جاؤں گا تمہارے بغیر بتاؤ پھروں تمہیں میرا مزاق کیسا لگا تجوریوں پہ نظر اور لوگ رکھتے ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ آسمان چرا لوں گا جب بھی موقع لگا مہ لقا ہے بھری الماریاں بڑے دل سے بتاتی ہے کہ محبت ہے وہ ہے وہ کس کا کتنا لگا
Tehzeeb Hafi
94 likes
ہاں یہ سچ ہے کہ محبت نہیں کی دوست ب سے مری طبیعت نہیں کی ا سے لیے گاؤں ہے وہ ہے وہ سیلاب آیا ہم نے دریاو کی عزت نہیں کی جسم تک ا سے نے مجھے سونپ دیا دل نے ا سے پر بھی کنایت نہیں کی مری اعزاز ہے وہ ہے وہ رکھی گئی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے ج سے بزم ہے وہ ہے وہ شراکت نہیں کی یاد بھی یاد سے رکھا اس کا کو بھول جانے ہے وہ ہے وہ بھی غفلت نہیں کی اس کا کا کو دیکھا تھا غضب حالت ہے وہ ہے وہ ہے وہ پھروں کبھی ا سے کی حفاظت نہیں کی ہم ا گر فتح ہوئے ہے تو کیا عشق نے ک سے پہ حکومت نہیں کی
Tehzeeb Hafi
74 likes
More from Vishal Singh Tabish
نئے کردار ہے وہ ہے وہ بدل گیا تو ہے دوست تو پیار ہے وہ ہے وہ بدل گیا تو ہے کوئی بدلا ہے اپنی مرضی سے کوئی بیکار ہے وہ ہے وہ بدل گیا تو ہے ایک دروازہ تھا مری دل ہے وہ ہے وہ ہے وہ اب حقیقت دیوار ہے وہ ہے وہ بدل گیا تو ہے کل تلک دوستی کا رشتہ تھا آج پریوار ہے وہ ہے وہ بدل گیا تو ہے
Vishal Singh Tabish
18 likes
ڈر ہے گھر ہے وہ ہے وہ کیسے بولا جائےگا چھوڑو جو بھی ہوگا دیکھا جائےگا نمبر لکھکر ہاتھوں ہے وہ ہے وہ پکڑا دینا تری گھر اک چھوٹا بچہ جائےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے ا سے کا چہرہ پڑھکر جاؤں گا میرا پیپر سب سے اچھا جائےگا
Vishal Singh Tabish
33 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Vishal Singh Tabish.
Similar Moods
More moods that pair well with Vishal Singh Tabish's ghazal.







