ghazalKuch Alfaaz

کسے خبر ہے کہ عمر ب سے ا سے پہ غور کرنے ہے وہ ہے وہ کٹ رہی ہے کہ یہ اداسی ہمارے جسموں سے ک سے خوشی ہے وہ ہے وہ لپٹ رہی ہے عجیب دکھ ہے ہم ا سے کے ہوکر بھی ا سے کو چھونے سے ڈر رہے ہیں عجیب دکھ ہے ہمارے حصے کی آگ اوروں ہے وہ ہے وہ بٹ رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کو ہر روز ب سے یہی ایک جھوٹ سننے کو فون کرتا سنو ی ہاں کوئی م سے’ألا ہے تمہاری آواز کٹ رہی ہے مجھ ایسے پیڑوں کے سوکھنے اور سبز ہونے سے کیا کسی کو یہ بیل شاید کسی مصیبت ہے وہ ہے وہ ہے جو مجھ سے لپٹ رہی ہے یہ سمے آنے پہ اپنی اولاد اپنے اضداد بیچ دےگی جو فوج دشمن کو اپنا سالار گروی رکھ کر پلٹ رہی ہے سو ا سے تعلق ہے وہ ہے وہ جو غلط فہ میاں تھیں اب دور ہوں رہی ہیں رکی ہوئی گاڑیاں کے چلنے کا سمے ہے دھند چھٹ رہی ہے

Tehzeeb Hafi88 Likes

Related Ghazal

تمہیں ب سے یہ بتانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے کیا چھپانا چاہتا ہوں کبھی مجھ سے بھی کوئی جھوٹ بولو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں ہے وہ ہے وہ ہاں ملانا چاہتا ہوں یہ جو کھڑکی ہے نقشے ہے وہ ہے وہ تمہارے ی ہاں ہے وہ ہے وہ در بنانا چاہتا ہوں اداکاری بے حد دکھ دے رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچ مچ مسکرانا چاہتا ہوں پروں ہے وہ ہے وہ تیر ہے پنجوں ہے وہ ہے وہ تنکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ چڑیا اڑانا چاہتا ہوں لیے بیٹھا ہوں گھنگرو پھول اندھیرا ترا ہنسنا بنانا چاہتا ہوں بیگا لگ غم عشق کی جاناں کو مبارک ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے خا لگ کمانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سارے شہر کی بیساخیوں کو تری در پر نرم گوئی چاہتا ہوں مجھے جاناں سے اندھیرا ہی پڑےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کو یاد آنا چاہتا ہوں

Fahmi Badayuni

249 likes

حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو

Naseer Turabi

244 likes

زبان تو کھول نظر تو ملا جواب تو دے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کتنی بار لٹا ہوں مجھے حساب تو دے تری بدن کی ودھی ہے وہ ہے وہ ہے اتار لکھاوت ہے وہ ہے وہ ہے وہ تجھے کیسے چڑھاو مجھے کتاب تو دے تیرا سوال ہے ساقی کہ زندگی کیا ہے جواب دیتا ہوں پہلے مجھے شراب تو دے

Rahat Indori

190 likes

بیٹھے ہیں چین سے کہی جانا تو ہے نہیں ہم بے گھروں کا کوئی ہری تو ہے نہیں جاناں بھی ہوں بیتے سمے کے مانند ہوں بہو جاناں نے بھی یاد آنا ہے آنا تو ہے نہیں عہد وفا سے ک سے لیے خائف ہوں مری جان کر لو کہ جاناں نے عہد نبھانا تو ہے نہیں حقیقت جو ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ عزیز ہے کیسا ہے کون ہے کیوں پوچھتے ہوں ہم نے بتانا تو ہے نہیں دنیا ہم اہل عشق پہ کیوں پھینکتی ہے جال ہم نے تری فریب ہے وہ ہے وہ آنا تو ہے نہیں حقیقت عشق تو کرےگا م گر دیکھ بھال کے فار سے حقیقت تری جیسا دیوا لگ تو ہے نہیں

Rehman Faris

196 likes

خاموش لب ہیں جھکی ہیں پلکیں دلوں ہے وہ ہے وہ الفت نئی نئی ہے ابھی تکلف ہے گفتگو ہے وہ ہے وہ ابھی محبت نئی نئی ہے ابھی لگ آئیںگی نیند جاناں کو ابھی لگ ہم کو سکون ملےگا ابھی تو دھڑکے گا دل زیادہ ابھی محبت نئی نئی ہے بہار کا آج پہلا دن ہے چلو چمن ہے وہ ہے وہ ٹہل کے آئیں فضا ہے وہ ہے وہ خوشبو نئی نئی ہے گلوں ہے وہ ہے وہ رنگت نئی نئی ہے جو خاندانی رئی سے ہیں حقیقت مزاج رکھتے ہیں نرم اپنا تمہارا لہجہ بتا رہا ہے تمہاری دولت نئی نئی ہے ذرا سا قدرت نے کیا نوازا کے آکے بیٹھے ہوں پہلی صف ہے وہ ہے وہ ہے وہ ابھی کیوں اڑنے لگے ہوا ہے وہ ہے وہ ابھی تو شہرت نئی نئی ہے بموں کی برسات ہوں رہی ہے پرانی جانباز سو رہے ہیں غلام دنیا کو کر رہا ہے حقیقت ج سے کی طاقت نئی نئی ہے

Shabeena Adeeb

232 likes

More from Tehzeeb Hafi

عجیب خواب تھا ا سے کے بدن ہے وہ ہے وہ کائی تھی حقیقت اک پری جو مجھے سبز کرنے آئی تھی حقیقت اک چراغ کدا ج سے ہے وہ ہے وہ کچھ نہیں تھا میرا حقیقت جل رہی تھی حقیقت قندیل بھی پرائی تھی لگ جانے کتنے پرندوں نے ا سے ہے وہ ہے وہ شراکت کی کل ایک پیڑ کی ترکیب رو نمائی تھی ہواؤں آؤ مری گاؤں کی طرف دیکھو ج ہاں یہ ریت ہے پہلے ی ہاں ترائی تھی کسی سپاہ نے خیمے لگا دیے ہیں و ہاں ج ہاں یہ ہے وہ ہے وہ نے نشانی تری دبائی تھی گلے ملا تھا کبھی دکھ بھرے دسمبر سے مری وجود کے اندر بھی دھند چھائی تھی

Tehzeeb Hafi

15 likes

خوشی ضائع ہوں رہے تھے دیکھ کر روتا لگ تھا ج سے جگہ بنتا تھا رونا ہے وہ ہے وہ ادھر روتا لگ تھا صرف تیری چپ نے مری گال گیلے کر دیے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو حقیقت ہوں جو کسی کی موت پر روتا لگ تھا مجھ پہ کتنے نظروں گزرے پر ان آنکھوں کو کیا میرا دکھ یہ ہے کہ میرا ہم سفر روتا لگ تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے ا سے کے وصل ہے وہ ہے وہ بھی ہجر کاٹا ہے کہی حقیقت مری کندھے پہ رکھ لیتا تھا سر روتا لگ تھا پیار تو پہلے بھی ا سے سے تھا م گر اتنا نہیں تب ہے وہ ہے وہ ا سے کو چھو تو لیتا تھا م گر روتا لگ تھا گریہ و زاری کو بھی اک خاص موسم چاہیے مری آنکھیں دیکھ لو ہے وہ ہے وہ سمے پر روتا لگ تھا

Tehzeeb Hafi

48 likes

کیا خبر ا سے روشنی ہے وہ ہے وہ اور کیا روشن ہوا جب حقیقت ان ہاتھوں سے پہلی مرتبہ روشن ہوا حقیقت مری سینے سے لگ کر ج سے کو روئی کون تھا ک سے کے بجھنے پہ ہے وہ ہے وہ آج ا سے کی جگہ روشن ہوا ویسے ہے وہ ہے وہ ان راستوں اور تختچوں کا تھا نہیں پھروں بھی تو نے ج سے جگہ پر رکھ دیا روشن ہوا مری جانے پر سبھی روئے بے حد روئے م گر اک دیا مری توقع سے سوا روشن ہوا تری اپنے تیری کرنوں کو ترستے ہے ی ہاں تو یہ کن گلیوں ہے وہ ہے وہ کن لوگوں ہے وہ ہے وہ جا روشن ہوا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے پوچھا تھا کہ مجھ جیسا بھی کوئی اور ہے دور جنگل ہے وہ ہے وہ کہی اک مقبرہ روشن ہوا جانے کیسی آگ ہے وہ ہے وہ حقیقت جل رہا ہے ان دنوں ا سے نے منا پونچھا تو میرا تولیہ روشن ہوا کوئی ا سے کی روشنی کے شر سے کب ہری ہے مری آنکھیں بجھ گئی اور کوئلہ روشن ہوا

Tehzeeb Hafi

57 likes

رات کو دیپ کی لو کم نہیں رکھی جاتی دھند ہے وہ ہے وہ روشنی مدھیم نہیں رکھی جاتی کیسے دریا کی حفاظت تری ذمہ ٹھہراؤ تجھ سے اک آنکھ ا گر نمہ نہیں رکھی جاتی ا سے لیے چھوڑ کر جانے لگے سب چارا گر زخم سے عزت مرہم نہیں رکھی جاتی ایسے کیسے ہے وہ ہے وہ تجھے چاہنے لگ جاؤں بھلا گھر کی بنیاد تو یکدم نہیں رکھی جاتی

Tehzeeb Hafi

25 likes

اک ترا ہجر دائمی ہے مجھے ور لگ ہر چیز عارضی ہے مجھے ایک سایہ مری تعاقب ہے وہ ہے وہ ہے وہ ایک آواز ڈھونڈتی ہے مجھے مری آنکھوں پہ دو مقد سے ہاتھ یہ اندھیرا بھی روشنی ہے مجھے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سخن ہے وہ ہے وہ ہوں ا سے جگہ کہ ج ہاں سان سے لینا بھی شاعری ہے مجھے ان پرندوں سے بولنا سیکھا پیڑ سے خموشی ملی ہے مجھے ہے وہ ہے وہ ہے وہ اسے کب کا بھول بھال چکا زندگی ہے کہ رو رہی ہے مجھے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کہ کاغذ کی ایک کشتی ہوں پہلی بارش ہی آخری ہے مجھے

Tehzeeb Hafi

25 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Tehzeeb Hafi.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Tehzeeb Hafi's ghazal.