ghazalKuch Alfaaz

کسی کا یوں تو ہوا کون عمر بھر پھروں بھی یہ حسن و عشق تو دھوکہ ہے سب م گر پھروں بھی ہزار بار زما لگ ادھر سے گزرا ہے نئی نئی سی ہے کچھ تیری رہگزر پھروں بھی ک ہوں یہ کیسے ادھر دیکھ یا لگ دیکھ ادھر کہ درد درد ہے پھروں بھی نظر نظر پھروں بھی خوشا اشارہ پیہم زہے سکوت نظر دراز ہوں کے فسا لگ ہے بڑھوا پھروں بھی جھپک رہی ہیں زمان و مکان کی بھی آنکھیں م گر ہے قافلہ آمادہ سفر پھروں بھی شب فراق سے آگے ہے آج مری نظر کہ کٹ ہی جائے گی یہ شام بے سحر پھروں بھی کہی یہی تو نہیں کاشف حیات و ممات یہ حسن و عشق بظاہر ہیں بے خبر پھروں بھی پلٹ رہے ہیں غریب الوطن پلٹنا تھا حقیقت کوچہ روکش جنت ہوں گھر ہے گھر پھروں بھی لٹا ہوا چمن عشق ہے نگا ہوں کو دکھا گیا تو وہی کیا کیا گل و ثمر پھروں بھی خراب ہوں کے بھی سوچا کیے تری مہجور یہی کہ تیری نظر ہے تری نظر پھروں بھی ہوں بے نیاز اثر بھی کبھی تری مٹی حقیقت کیمیا ہی صحیح رہ گئی کسر پھروں بھی لپٹ گیا تو ترا دیوا لگ گرچہ منزل سے اڑی اڑی سی ہے یہ خاک رہگزر پھروں بھ

Related Ghazal

یہ غم کیا دل کی عادت ہے نہیں تو کسی سے کچھ شکایت ہے نہیں تو ہے حقیقت اک خواب بے تعبیر ا سے کو بھلا دینے کی نیت ہے نہیں تو کسی کے بن کسی کی یاد کے بن جیے جانے کی ہمت ہے نہیں تو کسی صورت بھی دل لگتا نہیں ہاں تو کچھ دن سے یہ حالت ہے نہیں تو تری ا سے حال پر ہے سب کو حیرت تجھے بھی ا سے پہ حیرت ہے نہیں تو ہم آہنگی نہیں دنیا سے تیری تجھے ا سے پر ندامت ہے نہیں تو ہوا جو کچھ یہی مقسوم تھا کیا یہی ساری مقسوم ہے نہیں تو اذیت ناک اذیت ناک سے تجھ کو اماں پانے کی حسرت ہے نہیں تو تو رہتا ہے خیال و خواب ہے وہ ہے وہ گم تو ا سے کی وجہ فرصت ہے نہیں تو سبب جو ا سے جدائی کا بنا ہے حقیقت مجھ سے خوبصورت ہے نہیں تو

Jaun Elia

355 likes

مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ورنا قدرت کا لکھا ہوا کاٹتا تری حصے ہے وہ ہے وہ آئی برے دن کوئی دوسرا کاٹتا لاریوں سے زیادہ بہاؤ تھا تری ہر اک لفظ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اشارہ نہیں کاٹ سکتا تیری بات کیا کاٹتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے بھی زندگی اور شب اے ہجر کاٹی ہے سب کی طرح ویسے بہتر تو یہ تھا کے ہے وہ ہے وہ کم سے کم کچھ نیا کاٹتا تری ہوتے ہوئے موم بتی بجھائی کسی اور نے کیا خوشی رہ گئی تھی جنم دن کی ہے وہ ہے وہ کیک کیا کاٹتا کوئی بھی تو نہیں جو مری بھوکے رہنے پہ ناراض ہوں جیل ہے وہ ہے وہ تیری تصویر ہوتی تو ہنسکر سزا کاٹتا

Tehzeeb Hafi

456 likes

کیوں ڈریں زندگی ہے وہ ہے وہ کیا ہوگا کچھ لگ ہوگا تو غضب ہوگا ہنستی آنکھوں ہے وہ ہے وہ جھانک کر دیکھو کوئی آنسو کہی چھپا ہوگا ان دنوں نا امید سا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ شاید ا سے نے بھی یہ سنا ہوگا دیکھ کر جاناں کو سوچتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیا کسی نے تمہیں چھوا ہوگا

Javed Akhtar

371 likes

اتنا مجبور لگ کر بات بنانے لگ جائے ہم تری سر کی قسم جھوٹ ہی خانے لگ جائے اتنے سناٹے پیے مری سماعت نے کہ اب صرف آواز پہ چا ہوں تو نشانے لگ جائے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا گر اپنی جوانی کے سنا دوں قصے یہ جو افلاطون ہیں مری پاؤں دبانے لگ جائے

Mehshar Afridi

173 likes

کیسے ا سے نے یہ سب کچھ مجھ سے چھپ کر بدلا چہرہ بدلا رستہ بدلا بعد ہے وہ ہے وہ گھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بارے ہے وہ ہے وہ یہ کہتا تھا لوگوں سے میرا نام بدل دینا حقیقت بے وجہ ا گر بدلا حقیقت بھی خوش تھا ا سے نے دل دے کر دل مانگا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی خوش ہوں ہے وہ ہے وہ نے پتھر سے پتھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کہا کیا مری خاطر خود کو بدلوگے اور پھروں ا سے نے نظریں بدلیں اور نمبر بدلا

Tehzeeb Hafi

435 likes

More from Firaq Gorakhpuri

اب دور آسمان ہے لگ دور حیات ہے اے درد ہجر تو ہی بتا کتنی رات ہے ہر کائنات سے یہ ا پیش کائنات ہے حیرت سرا عشق ہے وہ ہے وہ دن ہے لگ رات ہے جینا جو آ گیا تو تو اجل بھی حیات ہے اور یوں تو خیرو بھی کیا بے ثبات ہے کیوں انتہا ہوش کو کہتے ہیں بے خو گرا خورشید ہی کی آخری منزل تو رات ہے ہستی کو ج سے نے زلزلہ ساماں بنا دیا حقیقت دل قرار پائے مقدر کی بات ہے یہ مشگافیاں ہیں گراں خا لگ ب خا لگ پر ک سے کو دماغ کاوش ذات و صفات ہے توڑا ہے لا مکان کی حدوں کو بھی عشق نے زندان عقل تیری تو کیا کائنات ہے گردوں شرار برق دل بے قرار دیکھ جن سے یہ تیری تاروں بھری رات رات ہے گم ہوں کے ہر جگہ ہیں ز خود نشینی رفتگان عشقان کی بھی اہل کشف و کرامات ذات ہے ہستی بجز فنا مسلسل کے کچھ نہیں پھروں ک سے لیے یہ فکر قرار و ثبات ہے ا سے جان دوستی کا خلوص ن ہاں لگ پوچھ ج سے کا ستم بھی غیرت صد التفات ہے یوں تو ہزار درد سے روتے ہیں بد نصیب جاناں دل دکھاؤ سمے مصیبت تو بات ہے عنوان غفلتوں کے ہیں قربت ہوں یا وصال ب

Firaq Gorakhpuri

1 likes

बस्तियाँ ढूँढ़ रही हैं उन्हें वीरानों में वहशतें बढ़ गईं हद से तिरे दीवानों में निगह-ए-नाज़ न दीवानों न फ़र्ज़ानों में जानकार एक वही है मगर अन-जानों में बज़्म-ए-मय बे-ख़ुद-ओ-बे-ताब न क्यूँँ हो साक़ी मौज-ए-बादा है कि दर्द उठता है पैमानों में मैं तो मैं चौंक उठी है ये फ़ज़ा-ए-ख़ामोश ये सदा कब की सुनी आती है फिर कानों में सैर कर उजड़े दिलों की जो तबीअत है उदास जी बहल जाते हैं अक्सर इन्हीं वीरानों में वुसअतें भी हैं निहाँ तंगी-ए-दिल में ग़ाफ़िल जी बहल जाते हैं अक्सर इन्हीं मैदानों में जान ईमान-ए-जुनूँ सिलसिला जुम्बान-ए-जुनूँ कुछ कशिश-हा-ए-निहाँ जज़्ब हैं वीरानों में ख़ंदा-ए-सुब्ह-ए-अज़ल तीरगी-ए-शाम-ए-अबद दोनों आलम हैं छलकते हुए पैमानों में देख जब आलम-ए-हू को तो नया आलम है बस्तियाँ भी नज़र आने लगीं वीरानों में जिस जगह बैठ गए आग लगा कर उट्ठे गर्मियाँ हैं कुछ अभी सोख़्ता-सामानों में वहशतें भी नज़र आती हैं सर-ए-पर्दा-ए-नाज़ दामनों में है ये आलम न गरेबानों में एक रंगीनी-ए-ज़ाहिर है गुलिस्ताँ में अगर एक शादाबी-ए-पिन्हाँ है बयाबानों में जौहर-ए-ग़ुंचा-ओ-गुल में है इक अंदाज़-ए-जुनूँ कुछ बयाबाँ नज़र आए हैं गरेबानों में अब वो रंग-ए-चमन-ओ-ख़ंदा-ए-गुल भी न रहे अब वो आसार-ए-जुनूँ भी नहीं दीवानों में अब वो साक़ी की भी आँखें न रहीं रिंदों में अब वो साग़र भी छलकते नहीं मय-ख़ानों में अब वो इक सोज़-ए-निहानी भी दिलों में न रहा अब वो जल्वे भी नहीं इश्क़ के काशानों में अब न वो रात जब उम्मीदें भी कुछ थीं तुझ से अब न वो बात ग़म-ए-हिज्र के अफ़्सानों में अब तिरा काम है बस अहल-ए-वफ़ा का पाना अब तिरा नाम है बस इश्क़ के ग़म-ख़ानों में ता-ब-कै वादा-ए-मौहूम की तफ़्सील 'फ़िराक़' शब-ए-फ़ुर्क़त कहीं कटती है इन अफ़्सानों में

Firaq Gorakhpuri

2 likes

کچھ لگ کچھ عشق کی تاثیر کا اقرار تو ہے ا سے کا الزام ت غافل پہ کچھ انکار تو ہے ہر فریب غم دنیا سے خبر دار تو ہے تیرا دیوا لگ کسی کام ہے وہ ہے وہ ہوشیار تو ہے دیکھ لیتے ہیں سبھی کچھ تری مشتاق جمال خیر دیدار لگ ہوں حسرت دیدار تو ہے معرکے سر ہوں اسی برق نظر سے اے حسن یہ چمکتی ہوئی ہوئی چلتی ہوئی تلوار تو ہے سر پٹکتا کو خیال در و دیوار ہے م گر رک رک کر تری وحشی کو شکوہ بے جا تو ہے عشق کا سکھلاتی بھی لگ بے کار گیا تو لگ صحیح جور م گر جور کا اقرار تو ہے تجھ سے ہمت تو پڑی عشق کو کچھ کہنے کی خیر شکوہ لگ صحیح شکر کا اظہار تو ہے ا سے ہے وہ ہے وہ بھی سکھلاتی رابطہ خاص کی ملتی ہے جھلک خیر اقرار محبت لگ ہوں انکار تو ہے کیوں جھپک جاتی ہے رہ رہ کے تری برق نگاہ یہ جھجک ک سے لیے اک کشتی دیدار تو ہے کئی عنوان ہیں ممنون کرم کرنے کے عشق ہے وہ ہے وہ کچھ لگ صحیح زندگی بے کار تو ہے سحر و شام سر انجمن ناز لگ ہوں جلوہ حسن تو ہے عشق سیاہکار تو ہے چونک اٹھتے ہیں فراق آتے ہی ا سے شوخ کا نام کچھ سراسیمگی عشق کا ا

Firaq Gorakhpuri

1 likes

हाथ आए तो वही दामन-ए-जानाँ हो जाए छूट जाए तो वही अपना गरेबाँ हो जाए इश्क़ अब भी है वो महरम-ए-बे-गाना-नुमा हुस्न यूँँ लाख छुपे लाख नुमायाँ हो जाए होश-ओ-ग़फ़लत से बहुत दूर है कैफ़िय्यत-ए-इश्क़ उस की हर बे-ख़बरी मंज़िल-ए-इरफ़ाँ हो जाए याद आती है जब अपनी तो तड़प जाता हूँ मेरी हस्ती तिरा भूला हवा पैमाँ हो जाए आँख वो है जो तिरी जल्वा-गह-ए-नाज़ बने दिल वही है जो सरापा तिरा अरमाँ हो जाए पाक-बाज़ान-ए-मोहब्बत में जो बेबाकी है हुस्न गर उस को समझ ले तो पशेमाँ हो जाए सहल हो कर हुई दुश्वार मोहब्बत तेरी उसे मुश्किल जो बना लें तो कुछ आसाँ हो जाए इश्क़ फिर इश्क़ है जिस रूप में जिस भेस में हो इशरत-ए-वस्ल बने या ग़म-ए-हिज्राँ हो जाए कुछ मुदावा भी हो मजरूह दिलों का ऐ दोस्त मरहम-ए-ज़ख़्म तिरा जौर-पशेमाँ हो जाए ये भी सच है कोई उल्फ़त में परेशाँ क्यूँँ हो ये भी सच है कोई क्यूँँकर न परेशाँ हो जाए इश्क़ को अर्ज़-ए-तमन्ना में भी लाखों पस-ओ-पेश हुस्न के वास्ते इनकार भी आसाँ हो जाए झिलमिलाती है सर-ए-बज़्म-ए-जहाँ शम्अ-ए-ख़ुदी जो ये बुझ जाए चराग़-ए-रह-ए-इरफ़ाँ हो जाए सर-ए-शोरीदा दिया दश्त-ओ-बयाबाँ भी दिए ये मिरी ख़ूबी-ए-क़िस्मत कि वो ज़िंदाँ हो जाए उक़्दा-ए-इश्क़ अजब उक़्दा-ए-मोहमल है 'फ़िराक़' कभी ला-हल कभी मुश्किल कभी आसाँ हो जाए

Firaq Gorakhpuri

1 likes

دیدار ہے وہ ہے وہ اک طرفہ دیدار نظر آیا ہر بار چھپا کوئی ہر بار نظر آیا چھالوں کو شایاں بھی دل ناشاد نظر آیا جب چھیڑ پر آمادہ ہر بچھاؤ نظر آیا بیاباں کی حقیقت صبح شب ہجراں اک چاک گریباں ہر تار نظر آیا ہوں دل پامال کہ بے تابی امید کہ بیتابی مایوسی بھی بے کار نظر آیا جب چشم سیاہ تیری تھی چھائی ہوئی دل پر ا سے ملک کا ہر نیرنگ محبت خطہ نظر آیا تو نے بھی تو دیکھی تھی حقیقت جاتی ہوئی دنیا کیا آخری لمحوں ہے وہ ہے وہ بیمار نظر آیا نور صفا کھا کے گرے موسی غش بیتابی ہلکا سا حقیقت پردہ بھی دیوار نظر آیا ذرہ ہوں کہ اللہ ری ہوں قطرہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ مخمور نظر آیا مخمور نظر آیا کیا کچھ لگ ہوا غم سے کیا کچھ لگ کیا غم نے اور یوں تو ہوا جو کچھ بے کار نظر آیا اے عشق قسم تجھ کو سرشار کی کوئی غم فرقت ہے وہ ہے وہ غم خوار نظر آیا شب کٹ گئی فرقت کی دیکھا لگ فراق آخر غم خوار بھی بے کار نظر آیا

Firaq Gorakhpuri

1 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Firaq Gorakhpuri.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Firaq Gorakhpuri's ghazal.