ghazalKuch Alfaaz

کچھ لگ کچھ عشق کی تاثیر کا اقرار تو ہے ا سے کا الزام ت غافل پہ کچھ انکار تو ہے ہر فریب غم دنیا سے خبر دار تو ہے تیرا دیوا لگ کسی کام ہے وہ ہے وہ ہوشیار تو ہے دیکھ لیتے ہیں سبھی کچھ تری مشتاق جمال خیر دیدار لگ ہوں حسرت دیدار تو ہے معرکے سر ہوں اسی برق نظر سے اے حسن یہ چمکتی ہوئی ہوئی چلتی ہوئی تلوار تو ہے سر پٹکتا کو خیال در و دیوار ہے م گر رک رک کر تری وحشی کو شکوہ بے جا تو ہے عشق کا سکھلاتی بھی لگ بے کار گیا تو لگ صحیح جور م گر جور کا اقرار تو ہے تجھ سے ہمت تو پڑی عشق کو کچھ کہنے کی خیر شکوہ لگ صحیح شکر کا اظہار تو ہے ا سے ہے وہ ہے وہ بھی سکھلاتی رابطہ خاص کی ملتی ہے جھلک خیر اقرار محبت لگ ہوں انکار تو ہے کیوں جھپک جاتی ہے رہ رہ کے تری برق نگاہ یہ جھجک ک سے لیے اک کشتی دیدار تو ہے کئی عنوان ہیں ممنون کرم کرنے کے عشق ہے وہ ہے وہ کچھ لگ صحیح زندگی بے کار تو ہے سحر و شام سر انجمن ناز لگ ہوں جلوہ حسن تو ہے عشق سیاہکار تو ہے چونک اٹھتے ہیں فراق آتے ہی ا سے شوخ کا نام کچھ سراسیمگی عشق کا ا

Related Ghazal

تمہیں ب سے یہ بتانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے کیا چھپانا چاہتا ہوں کبھی مجھ سے بھی کوئی جھوٹ بولو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں ہے وہ ہے وہ ہاں ملانا چاہتا ہوں یہ جو کھڑکی ہے نقشے ہے وہ ہے وہ تمہارے ی ہاں ہے وہ ہے وہ در بنانا چاہتا ہوں اداکاری بے حد دکھ دے رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچ مچ مسکرانا چاہتا ہوں پروں ہے وہ ہے وہ تیر ہے پنجوں ہے وہ ہے وہ تنکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ چڑیا اڑانا چاہتا ہوں لیے بیٹھا ہوں گھنگرو پھول اندھیرا ترا ہنسنا بنانا چاہتا ہوں بیگا لگ غم عشق کی جاناں کو مبارک ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے خا لگ کمانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سارے شہر کی بیساخیوں کو تری در پر نرم گوئی چاہتا ہوں مجھے جاناں سے اندھیرا ہی پڑےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کو یاد آنا چاہتا ہوں

Fahmi Badayuni

249 likes

بیٹھے ہیں چین سے کہی جانا تو ہے نہیں ہم بے گھروں کا کوئی ہری تو ہے نہیں جاناں بھی ہوں بیتے سمے کے مانند ہوں بہو جاناں نے بھی یاد آنا ہے آنا تو ہے نہیں عہد وفا سے ک سے لیے خائف ہوں مری جان کر لو کہ جاناں نے عہد نبھانا تو ہے نہیں حقیقت جو ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ عزیز ہے کیسا ہے کون ہے کیوں پوچھتے ہوں ہم نے بتانا تو ہے نہیں دنیا ہم اہل عشق پہ کیوں پھینکتی ہے جال ہم نے تری فریب ہے وہ ہے وہ آنا تو ہے نہیں حقیقت عشق تو کرےگا م گر دیکھ بھال کے فار سے حقیقت تری جیسا دیوا لگ تو ہے نہیں

Rehman Faris

196 likes

تھوڑا لکھا اور زیادہ چھوڑ دیا آنے والوں کے لیے رستہ چھوڑ دیا جاناں کیا جانو ا سے دریا پر کیا گزری جاناں نے تو ب سے پانی بھرنا چھوڑ دیا لڑکیاں عشق ہے وہ ہے وہ کتنی پاگل ہوتی ہیں فون بجا اور چولہا جلتا چھوڑ دیا روز اک پتہ مجھ ہے وہ ہے وہ آ گرتا ہے جب سے ہے وہ ہے وہ نے جنگل جانا چھوڑ دیا ب سے کانوں پر ہاتھ رکھے تھے تھوڑی دیر اور پھروں ا سے آواز نے پیچھا چھوڑ دیے

Tehzeeb Hafi

262 likes

زنے حسین تھی اور پھول چن کر لاتی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ شعر کہتا تھا حقیقت داستان سناتی تھی عرب لہو تھا رگوں ہے وہ ہے وہ بدن سنہرا تھا حقیقت مسکراتی نہیں تھی دیے جلاتی تھی علی سے دور رہو لوگ ا سے سے کہتے تھے حقیقت میرا سچ ہے بے حد چیک کر بتاتی تھی علی یہ لوگ تمہیں جانتے نہیں ہیں ابھی گلے دیکھیں گے میرا حوصلہ بڑھاتی تھی یہ پھول دیکھ رہے ہوں یہ ا سے کا لہجہ تھا یہ جھیل دیکھ رہے ہوں ی ہاں حقیقت آتی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بعد کبھی ٹھیک سے نہیں جاگا حقیقت مجھ کو خواب نہیں نیند سے جگاتی تھی اسے کسی سے محبت تھی اور حقیقت ہے وہ ہے وہ نہیں تھا یہ بات مجھ سے زیادہ اسے رلاتی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ کچھ بتا نہیں سکتا حقیقت مری کیا تھی علی کہ اس کا کو دیکھ کر ب سے اپنی یاد آتی تھی

Ali Zaryoun

102 likes

بات کرنی ہے بات کون کرے درد سے دو دو ہاتھ کون کرے ہم ستارے تم تمہیں بلاتے ہیں چاند لگ ہوں تو رات کون کرے اب تجھے رب کہی یا بت سمجھیں عشق ہے وہ ہے وہ ذات پات کون کرے زندگی بھر کی تھے کمائی جاناں ا سے سے زیادہ زکات کون کرے

Kumar Vishwas

56 likes

More from Firaq Gorakhpuri

हाथ आए तो वही दामन-ए-जानाँ हो जाए छूट जाए तो वही अपना गरेबाँ हो जाए इश्क़ अब भी है वो महरम-ए-बे-गाना-नुमा हुस्न यूँँ लाख छुपे लाख नुमायाँ हो जाए होश-ओ-ग़फ़लत से बहुत दूर है कैफ़िय्यत-ए-इश्क़ उस की हर बे-ख़बरी मंज़िल-ए-इरफ़ाँ हो जाए याद आती है जब अपनी तो तड़प जाता हूँ मेरी हस्ती तिरा भूला हवा पैमाँ हो जाए आँख वो है जो तिरी जल्वा-गह-ए-नाज़ बने दिल वही है जो सरापा तिरा अरमाँ हो जाए पाक-बाज़ान-ए-मोहब्बत में जो बेबाकी है हुस्न गर उस को समझ ले तो पशेमाँ हो जाए सहल हो कर हुई दुश्वार मोहब्बत तेरी उसे मुश्किल जो बना लें तो कुछ आसाँ हो जाए इश्क़ फिर इश्क़ है जिस रूप में जिस भेस में हो इशरत-ए-वस्ल बने या ग़म-ए-हिज्राँ हो जाए कुछ मुदावा भी हो मजरूह दिलों का ऐ दोस्त मरहम-ए-ज़ख़्म तिरा जौर-पशेमाँ हो जाए ये भी सच है कोई उल्फ़त में परेशाँ क्यूँँ हो ये भी सच है कोई क्यूँँकर न परेशाँ हो जाए इश्क़ को अर्ज़-ए-तमन्ना में भी लाखों पस-ओ-पेश हुस्न के वास्ते इनकार भी आसाँ हो जाए झिलमिलाती है सर-ए-बज़्म-ए-जहाँ शम्अ-ए-ख़ुदी जो ये बुझ जाए चराग़-ए-रह-ए-इरफ़ाँ हो जाए सर-ए-शोरीदा दिया दश्त-ओ-बयाबाँ भी दिए ये मिरी ख़ूबी-ए-क़िस्मत कि वो ज़िंदाँ हो जाए उक़्दा-ए-इश्क़ अजब उक़्दा-ए-मोहमल है 'फ़िराक़' कभी ला-हल कभी मुश्किल कभी आसाँ हो जाए

Firaq Gorakhpuri

1 likes

ستاروں سے الجھتا جا رہا ہوں شب فرقت بے حد نزدیک تر رہا ہوں تری غم کو بھی کچھ بہلا رہا ہوں ج ہاں کو بھی سمجھتا جا رہا ہوں یقین یہ ہے حقیقت کھل رہی ہے گماں یہ ہے کہ دھوکے کھا رہا ہوں ا گر ممکن ہوں لے لے اپنی آہٹ خبر دو حسن کو ہے وہ ہے وہ آ رہا ہوں حدیں حسن و محبت کی ملا کر خوشگوار پر خوشگوار ڈھا رہا ہوں خبر ہے تجھ کو اے درد فراق تری ہاتھوں ہے وہ ہے وہ قافلہ جا رہا ہوں اثر بھی لے رہا ہوں تیری چپ کا تجھے قائل بھی کرتا جا رہا ہوں بھرم تری ستم کا کھل چکا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تجھ سے آج کیوں شرما رہا ہوں انہی ہے وہ ہے وہ راز ہیں گل باریوں کے ہے وہ ہے وہ ہے وہ جو چنگاریاں برسا رہا ہوں جو ان معصوم آنکھوں نے دیے تھے حقیقت دھوکے آج تک ہے وہ ہے وہ کھا رہا ہوں تری پہلو ہے وہ ہے وہ کیوں ہوتا ہے محسو سے کہ تجھ سے دور ہوتا جا رہا ہوں حد زور و کرم سے بڑھ چلا حسن نگاہ یار کو یاد آ رہا ہوں جو الجھي تھی کبھی آدم کے ہاتھوں حقیقت الجھاتا آج تک سلجھا رہا ہوں محبت اب محبت ہوں چلی ہے

Firaq Gorakhpuri

2 likes

اب دور آسمان ہے لگ دور حیات ہے اے درد ہجر تو ہی بتا کتنی رات ہے ہر کائنات سے یہ ا پیش کائنات ہے حیرت سرا عشق ہے وہ ہے وہ دن ہے لگ رات ہے جینا جو آ گیا تو تو اجل بھی حیات ہے اور یوں تو خیرو بھی کیا بے ثبات ہے کیوں انتہا ہوش کو کہتے ہیں بے خو گرا خورشید ہی کی آخری منزل تو رات ہے ہستی کو ج سے نے زلزلہ ساماں بنا دیا حقیقت دل قرار پائے مقدر کی بات ہے یہ مشگافیاں ہیں گراں خا لگ ب خا لگ پر ک سے کو دماغ کاوش ذات و صفات ہے توڑا ہے لا مکان کی حدوں کو بھی عشق نے زندان عقل تیری تو کیا کائنات ہے گردوں شرار برق دل بے قرار دیکھ جن سے یہ تیری تاروں بھری رات رات ہے گم ہوں کے ہر جگہ ہیں ز خود نشینی رفتگان عشقان کی بھی اہل کشف و کرامات ذات ہے ہستی بجز فنا مسلسل کے کچھ نہیں پھروں ک سے لیے یہ فکر قرار و ثبات ہے ا سے جان دوستی کا خلوص ن ہاں لگ پوچھ ج سے کا ستم بھی غیرت صد التفات ہے یوں تو ہزار درد سے روتے ہیں بد نصیب جاناں دل دکھاؤ سمے مصیبت تو بات ہے عنوان غفلتوں کے ہیں قربت ہوں یا وصال ب

Firaq Gorakhpuri

1 likes

آج بھی قافلہ عشق رواں ہے کہ جو تھا وہی میل اور وہی سنگ نشاں ہے کہ جو تھا پھروں ترا غم وہی رسوا ج ہاں ہے کہ جو تھا پھروں فسا لگ بحدیث دگراں ہے کہ جو تھا منزلیں گرد کے مانند اڑی جاتی ہیں وہی انداز جہان گزرں ہے کہ جو تھا کرنےوالے و نور ہے وہ ہے وہ کچھ بھی لگ محبت کو ملا آج تک ایک دھندلکے کا سماں ہے کہ جو تھا یوں تو ا سے دور ہے وہ ہے وہ بے کیف سی ہے بزم حیات ایک ہنگامہ سر رتل گراں ہے کہ جو تھا لاکھ کر جور و ستم لاکھ کر احسان و کرم تجھ پہ اے دوست وہی وہم و گماں ہے کہ جو تھا آج پھروں عشق دو عالم سے جدا ہوتا ہے آستینوں ہے وہ ہے وہ لیے کون و مکان ہے کہ جو تھا عشق افسردہ نہیں آج بھی افسردہ بے حد وہی کم کم اثر سوز لگ ہاں ہے کہ جو تھا نظر آ جاتے ہیں جاناں کو تو بے حد چھوؤں گا بال دل میرا کیا وہی اے شیشہ گراں ہے کہ جو تھا جان دے بیٹھے تھے اک بار ہوں سے والے بھی پھروں وہی مرحلہ سود و زیاں ہے کہ جو تھا آج بھی صید گہ عشق ہے وہ ہے وہ حسن سفاک لیے ابرو کی لچکتی سی کماں ہے کہ جو تھا پھروں تری چشم سخن س

Firaq Gorakhpuri

1 likes

سمے غروب آج کرامات ہوں گئی زلفوں کو ا سے نے کھول دیا رات ہوں گئی کل تک تو ا سے ہے وہ ہے وہ ایسی کرامت لگ تھی کوئی حقیقت آنکھ آج جام مے عیش ہوں گئی اے سوز عشق تو نے مجھے کیا بنا دیا مری ہر ایک سان سے ستم شعار ہوں گئی اوچھی نگاہ ڈال کے اک سمت رکھ دیا دل کیا دیا غریب کی سوغات ہوں گئی کچھ یاد آ گئی تھی حقیقت زلف شکن شکن ہستی تمام چشمہ ظلمات ہوں گئی اہل وطن سے دور جدائی ہے وہ ہے وہ یار کی دل پامال آ گیا تو فراق کرامات ہوں گئی

Firaq Gorakhpuri

2 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Firaq Gorakhpuri.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Firaq Gorakhpuri's ghazal.