آج بھی قافلہ عشق رواں ہے کہ جو تھا وہی میل اور وہی سنگ نشاں ہے کہ جو تھا پھروں ترا غم وہی رسوا ج ہاں ہے کہ جو تھا پھروں فسا لگ بحدیث دگراں ہے کہ جو تھا منزلیں گرد کے مانند اڑی جاتی ہیں وہی انداز جہان گزرں ہے کہ جو تھا کرنےوالے و نور ہے وہ ہے وہ کچھ بھی لگ محبت کو ملا آج تک ایک دھندلکے کا سماں ہے کہ جو تھا یوں تو ا سے دور ہے وہ ہے وہ بے کیف سی ہے بزم حیات ایک ہنگامہ سر رتل گراں ہے کہ جو تھا لاکھ کر جور و ستم لاکھ کر احسان و کرم تجھ پہ اے دوست وہی وہم و گماں ہے کہ جو تھا آج پھروں عشق دو عالم سے جدا ہوتا ہے آستینوں ہے وہ ہے وہ لیے کون و مکان ہے کہ جو تھا عشق افسردہ نہیں آج بھی افسردہ بے حد وہی کم کم اثر سوز لگ ہاں ہے کہ جو تھا نظر آ جاتے ہیں جاناں کو تو بے حد چھوؤں گا بال دل میرا کیا وہی اے شیشہ گراں ہے کہ جو تھا جان دے بیٹھے تھے اک بار ہوں سے والے بھی پھروں وہی مرحلہ سود و زیاں ہے کہ جو تھا آج بھی صید گہ عشق ہے وہ ہے وہ حسن سفاک لیے ابرو کی لچکتی سی کماں ہے کہ جو تھا پھروں تری چشم سخن س
Related Ghazal
پھروں مری یاد آ رہی ہوں گی پھروں حقیقت دیپک بجھا رہی ہوں گی پھروں مری فی سے بک پہ آ کر حقیقت خود کو بینر بنا رہی ہوں گی اپنے بیٹے کا چوم کر ماتھا مجھ کو بتاشا لگا رہی ہوں گی پھروں اسی نے اسے چھوا ہوگا پھروں اسی سے نبھا رہی ہوں گی جسم چادر سا بچھ گیا تو ہوگا روح سلوٹ ہٹا رہی ہوں گی پھروں سے اک رات کٹ گئی ہوں گی پھروں سے اک رات آ رہی ہوں گی
Kumar Vishwas
53 likes
کسے فرصت ماہ و سال ہے یہ سوال ہے کوئی سمے ہے بھی کہ جال ہے یہ سوال ہے لگ ہے فکر گردش آسمان لگ خیال جاں مجھے پھروں یہ کیسا ملال ہے یہ سوال ہے حقیقت سوال جس کا جواب ہے مری زندگی مری زندگی کا سوال ہے یہ سوال ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بچھڑ کے تجھ سے بلندیوں پہ جو پست ہوں یہ عروج ہے کہ زوال ہے یہ سوال ہے
Abbas Qamar
46 likes
خیال ہے وہ ہے وہ بھی اسے بے ردا نہیں کیا ہے یہ ظلم مجھ سے نہیں ہوں سکا نہیں کیا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ایک بے وجہ کو ایمان جانتا ہوں تو کیا خدا کے نام پر لوگوں نے کیا نہیں کیا ہے اسی لیے تو ہے وہ ہے وہ رویا نہیں بچھڑتے سمے تجھے روا لگ کیا ہے جدا نہیں کیا ہے یہ بدتمیز ا گر تجھ سے ڈر رہے ہیں تو پھروں تجھے بگاڑ کر ہے وہ ہے وہ نے برا نہیں کیا ہے
Ali Zaryoun
48 likes
کوئی حسین تو کوئی دردناک سمجھےگا میرا مزاج وہی ٹھیک ٹھاک سمجھےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ج سے کے ساتھ کئی راتوں سے ہوں ا سے کا نام بتا تو دوں گا م گر تو مزاق سمجھےگا حقیقت ج سے حساب سے گاتا ہے ا سے سے لگتا ہے کہ مری دکھ کو تو ب سے لڑکھڑاتے پراک سمجھےگا
Kushal Dauneria
36 likes
نہیں تھا اپنا م گر پھروں بھی اپنا اپنا لگا کسی سے مل کے بے حد دیر بعد اچھا لگا تمہیں لگا تھا ہے وہ ہے وہ مر جاؤں گا تمہارے بغیر بتاؤ پھروں تمہیں میرا مزاق کیسا لگا تجوریوں پہ نظر اور لوگ رکھتے ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ آسمان چرا لوں گا جب بھی موقع لگا مہ لقا ہے بھری الماریاں بڑے دل سے بتاتی ہے کہ محبت ہے وہ ہے وہ کس کا کتنا لگا
Tehzeeb Hafi
94 likes
More from Firaq Gorakhpuri
کچھ لگ کچھ عشق کی تاثیر کا اقرار تو ہے ا سے کا الزام ت غافل پہ کچھ انکار تو ہے ہر فریب غم دنیا سے خبر دار تو ہے تیرا دیوا لگ کسی کام ہے وہ ہے وہ ہوشیار تو ہے دیکھ لیتے ہیں سبھی کچھ تری مشتاق جمال خیر دیدار لگ ہوں حسرت دیدار تو ہے معرکے سر ہوں اسی برق نظر سے اے حسن یہ چمکتی ہوئی ہوئی چلتی ہوئی تلوار تو ہے سر پٹکتا کو خیال در و دیوار ہے م گر رک رک کر تری وحشی کو شکوہ بے جا تو ہے عشق کا سکھلاتی بھی لگ بے کار گیا تو لگ صحیح جور م گر جور کا اقرار تو ہے تجھ سے ہمت تو پڑی عشق کو کچھ کہنے کی خیر شکوہ لگ صحیح شکر کا اظہار تو ہے ا سے ہے وہ ہے وہ بھی سکھلاتی رابطہ خاص کی ملتی ہے جھلک خیر اقرار محبت لگ ہوں انکار تو ہے کیوں جھپک جاتی ہے رہ رہ کے تری برق نگاہ یہ جھجک ک سے لیے اک کشتی دیدار تو ہے کئی عنوان ہیں ممنون کرم کرنے کے عشق ہے وہ ہے وہ کچھ لگ صحیح زندگی بے کار تو ہے سحر و شام سر انجمن ناز لگ ہوں جلوہ حسن تو ہے عشق سیاہکار تو ہے چونک اٹھتے ہیں فراق آتے ہی ا سے شوخ کا نام کچھ سراسیمگی عشق کا ا
Firaq Gorakhpuri
1 likes
اب دور آسمان ہے لگ دور حیات ہے اے درد ہجر تو ہی بتا کتنی رات ہے ہر کائنات سے یہ ا پیش کائنات ہے حیرت سرا عشق ہے وہ ہے وہ دن ہے لگ رات ہے جینا جو آ گیا تو تو اجل بھی حیات ہے اور یوں تو خیرو بھی کیا بے ثبات ہے کیوں انتہا ہوش کو کہتے ہیں بے خو گرا خورشید ہی کی آخری منزل تو رات ہے ہستی کو ج سے نے زلزلہ ساماں بنا دیا حقیقت دل قرار پائے مقدر کی بات ہے یہ مشگافیاں ہیں گراں خا لگ ب خا لگ پر ک سے کو دماغ کاوش ذات و صفات ہے توڑا ہے لا مکان کی حدوں کو بھی عشق نے زندان عقل تیری تو کیا کائنات ہے گردوں شرار برق دل بے قرار دیکھ جن سے یہ تیری تاروں بھری رات رات ہے گم ہوں کے ہر جگہ ہیں ز خود نشینی رفتگان عشقان کی بھی اہل کشف و کرامات ذات ہے ہستی بجز فنا مسلسل کے کچھ نہیں پھروں ک سے لیے یہ فکر قرار و ثبات ہے ا سے جان دوستی کا خلوص ن ہاں لگ پوچھ ج سے کا ستم بھی غیرت صد التفات ہے یوں تو ہزار درد سے روتے ہیں بد نصیب جاناں دل دکھاؤ سمے مصیبت تو بات ہے عنوان غفلتوں کے ہیں قربت ہوں یا وصال ب
Firaq Gorakhpuri
1 likes
ستاروں سے الجھتا جا رہا ہوں شب فرقت بے حد نزدیک تر رہا ہوں تری غم کو بھی کچھ بہلا رہا ہوں ج ہاں کو بھی سمجھتا جا رہا ہوں یقین یہ ہے حقیقت کھل رہی ہے گماں یہ ہے کہ دھوکے کھا رہا ہوں ا گر ممکن ہوں لے لے اپنی آہٹ خبر دو حسن کو ہے وہ ہے وہ آ رہا ہوں حدیں حسن و محبت کی ملا کر خوشگوار پر خوشگوار ڈھا رہا ہوں خبر ہے تجھ کو اے درد فراق تری ہاتھوں ہے وہ ہے وہ قافلہ جا رہا ہوں اثر بھی لے رہا ہوں تیری چپ کا تجھے قائل بھی کرتا جا رہا ہوں بھرم تری ستم کا کھل چکا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تجھ سے آج کیوں شرما رہا ہوں انہی ہے وہ ہے وہ راز ہیں گل باریوں کے ہے وہ ہے وہ ہے وہ جو چنگاریاں برسا رہا ہوں جو ان معصوم آنکھوں نے دیے تھے حقیقت دھوکے آج تک ہے وہ ہے وہ کھا رہا ہوں تری پہلو ہے وہ ہے وہ کیوں ہوتا ہے محسو سے کہ تجھ سے دور ہوتا جا رہا ہوں حد زور و کرم سے بڑھ چلا حسن نگاہ یار کو یاد آ رہا ہوں جو الجھي تھی کبھی آدم کے ہاتھوں حقیقت الجھاتا آج تک سلجھا رہا ہوں محبت اب محبت ہوں چلی ہے
Firaq Gorakhpuri
2 likes
کسی کا یوں تو ہوا کون عمر بھر پھروں بھی یہ حسن و عشق تو دھوکہ ہے سب م گر پھروں بھی ہزار بار زما لگ ادھر سے گزرا ہے نئی نئی سی ہے کچھ تیری رہگزر پھروں بھی ک ہوں یہ کیسے ادھر دیکھ یا لگ دیکھ ادھر کہ درد درد ہے پھروں بھی نظر نظر پھروں بھی خوشا اشارہ پیہم زہے سکوت نظر دراز ہوں کے فسا لگ ہے بڑھوا پھروں بھی جھپک رہی ہیں زمان و مکان کی بھی آنکھیں م گر ہے قافلہ آمادہ سفر پھروں بھی شب فراق سے آگے ہے آج مری نظر کہ کٹ ہی جائے گی یہ شام بے سحر پھروں بھی کہی یہی تو نہیں کاشف حیات و ممات یہ حسن و عشق بظاہر ہیں بے خبر پھروں بھی پلٹ رہے ہیں غریب الوطن پلٹنا تھا حقیقت کوچہ روکش جنت ہوں گھر ہے گھر پھروں بھی لٹا ہوا چمن عشق ہے نگا ہوں کو دکھا گیا تو وہی کیا کیا گل و ثمر پھروں بھی خراب ہوں کے بھی سوچا کیے تری مہجور یہی کہ تیری نظر ہے تری نظر پھروں بھی ہوں بے نیاز اثر بھی کبھی تری مٹی حقیقت کیمیا ہی صحیح رہ گئی کسر پھروں بھی لپٹ گیا تو ترا دیوا لگ گرچہ منزل سے اڑی اڑی سی ہے یہ خاک رہگزر پھروں بھ
Firaq Gorakhpuri
2 likes
حقیقت چپ چاپ آنسو بہانے کی راتیں حقیقت اک بے وجہ کے یاد آنے کی راتیں شب ماہ کی حقیقت ٹھنڈی آنچیں حقیقت شبنم تری حسن کے رسمسانے کی راتیں جوانی کی دوشیزگی کا تبسم گل زار کے حقیقت کھلانے کی راتیں فوارے سی ن غموں کی پڑتی ہوں چنو کچھ ا سے لب کے سمے جواری کی راتیں مجھے یاد ہے تیری ہر صبح رخصت مجھے یاد ہیں تری آنے کی راتیں پر اسرار سی مری عرض تمنا حقیقت کچھ زیر لب مسکرانے کی راتیں سر شام سے رتجگا کے حقیقت سامان حقیقت پچھلے پہر نیند آنے کی راتیں سر شام سے سٹاکے قرب جاناں لگ جانے حقیقت تھیں ک سے زمانے کی راتیں سر مے کدہ تشنہ لبی کی حقیقت ق سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ حقیقت ساقی سے باتیں بنانے کی راتیں ہم آغوشیاں شاہد مہرباں کی زمانے کے غم بھول جانے کی راتیں فراق اپنی قسمت ہے وہ ہے وہ شاید نہیں تھے ٹھکانے کے دن یا ٹھکانے کی راتیں
Firaq Gorakhpuri
3 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Firaq Gorakhpuri.
Similar Moods
More moods that pair well with Firaq Gorakhpuri's ghazal.







