کسے فرصت ماہ و سال ہے یہ سوال ہے کوئی سمے ہے بھی کہ جال ہے یہ سوال ہے لگ ہے فکر گردش آسمان لگ خیال جاں مجھے پھروں یہ کیسا ملال ہے یہ سوال ہے حقیقت سوال جس کا جواب ہے مری زندگی مری زندگی کا سوال ہے یہ سوال ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بچھڑ کے تجھ سے بلندیوں پہ جو پست ہوں یہ عروج ہے کہ زوال ہے یہ سوال ہے
Related Ghazal
چلا ہے سلسلہ کیسا یہ راتوں کو منانے کا تمہیں حق دے دیا ک سے نے دیوں کے دل دکھانے کا ارادہ چھوڑیے اپنی حدوں سے دور جانے کا زما لگ ہے زمانے کی نگا ہوں ہے وہ ہے وہ لگ آنے کا ک ہاں کی دوستی کن دوستوں کی بات کرتے ہوں میاں دشمن نہیں ملتا کوئی اب تو ٹھکانے کا نگا ہوں ہے وہ ہے وہ کوئی بھی دوسرا چہرہ نہیں آیا بھروسا ہی کچھ ایسا تھا تمہارے لوٹ آنے کا یہ ہے وہ ہے وہ ہی تھا بچا کے خود کو لے آیا کنارے تک سمندر نے بے حد موقع دیا تھا ڈوب جانے کا
Waseem Barelvi
103 likes
پوچھ لیتے حقیقت ب سے مزاج میرا کتنا آسان تھا علاج میرا چارہ گر کی نظر بتاتی ہے حال اچھا نہیں ہے آج میرا ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو رہتا ہوں دشت ہے وہ ہے وہ مصروف قی سے کرتا ہے کام کاج میرا کوئی کاسا مدد کو بھیج اللہ مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ہے تاج میرا ہے وہ ہے وہ ہے وہ محبت کی بادشاہت ہوں مجھ پہ چلتا نہیں ہے راج میرا
Fahmi Badayuni
96 likes
مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ورنا قدرت کا لکھا ہوا کاٹتا تری حصے ہے وہ ہے وہ آئی برے دن کوئی دوسرا کاٹتا لاریوں سے زیادہ بہاؤ تھا تری ہر اک لفظ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اشارہ نہیں کاٹ سکتا تیری بات کیا کاٹتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے بھی زندگی اور شب اے ہجر کاٹی ہے سب کی طرح ویسے بہتر تو یہ تھا کے ہے وہ ہے وہ کم سے کم کچھ نیا کاٹتا تری ہوتے ہوئے موم بتی بجھائی کسی اور نے کیا خوشی رہ گئی تھی جنم دن کی ہے وہ ہے وہ کیک کیا کاٹتا کوئی بھی تو نہیں جو مری بھوکے رہنے پہ ناراض ہوں جیل ہے وہ ہے وہ تیری تصویر ہوتی تو ہنسکر سزا کاٹتا
Tehzeeb Hafi
456 likes
ج سے طرح سمے گزرنے کے لیے ہوتا ہے آدمی شکل پہ مرنے کے لیے ہوتا ہے تیری آنکھوں سے ملاقات ہوئی تب یہ کھلا ڈوبنے والا ابھرنے کے لیے ہوتا ہے عشق کیوں پیچھے ہٹا بات نبھانے سے میاں حسن تو خیر مکرنے کے لیے ہوتا ہے آنکھ ہوتی ہے کسی راہ کو تکنے کے لیے دل کسی پاؤں پہ دھرنے کے لیے ہوتا ہے دل کی دہلی کا چناؤ ہی ا پیش ہے صاحب جب بھی ہوتا ہے یہ ہَرنے کے لیے ہوتا ہے کوئی بستی ہوں اجڑنے کے لیے بستی ہے کوئی مجمع ہوں گزرا کے لیے ہوتا ہے
Ali Zaryoun
61 likes
یہ سات آٹھ پڑوسی ک ہاں سے آئی مری تمہارے دل ہے وہ ہے وہ تو کوئی لگ تھا سوائے مری کسی نے پا سے بٹھایا ب سے آگے یاد نہیں مجھے تو دوست و ہاں سے اٹھا کے لائے مری یہ سوچ کر لگ کیے اپنے درد ا سے کے سپرد حقیقت لالچی ہے اساسے لگ بیچ کھائے مری ادھر کدھر تو نیا ہے ی ہاں کہ پاگل ہے کسی نے کیا تجھے قصے نہیں سنائے مری حقیقت آزمائے مری دوست کو ضرور م گر اسے کہو کہ طریقے لگ آزمائے مری
Umair Najmi
59 likes
More from Abbas Qamar
हम ऐसे सर-फिरे दुनिया को कब दरकार होते हैं अगर होते भी हैं बे-इंतिहा दुश्वार होते हैं ख़मोशी कह रही है अब ये दो-आबा रवाँ होगा हवा चुप हो तो बारिश के शदीद आसार होते हैं ज़रा सी बात है इस का तमाशा क्या बनाएँ हम इरादे टूटते हैं हौसले मिस्मार होते हैं शिकायत ज़िंदगी से क्यूँँ करें हम ख़ुद ही थम जाएँ जो कम-रफ़्तार होते हैं वो कम-रफ़्तार होते हैं गले में ज़िंदगी के रीसमान-ए-वक़्त है तो क्या परिंदे क़ैद में हों तो बहुत हुश्यार होते हैं जहाँ वाले मुक़य्यद हैं अभी तक अहद-ए-तिफ़्ली में यहाँ अब भी खिलौने रौनक़-ए-बाज़ार होते हैं गुलू-ए-ख़ुश्क उन को भेजता है दे के मश्कीज़ा कुछ आँसू तिश्ना-कामों के अलम-बरदार होते हैं बदन उन को कभी बाहर निकलने ही नहीं देता 'क़मर-अब्बास' तो बा-क़ाएदा तय्यार होते हैं
Abbas Qamar
9 likes
مری پرچھائیاں گم ہیں مری پہچان باقی ہے سفر دم توڑنے کو ہے م گر سامان باقی ہے ابھی تو خواہشوں کے درمیان غماسان باقی ہے ابھی ا سے جسم فانی ہے وہ ہے وہ ذرا سی جان باقی ہے اسے تاری کیوں نے قید کر رکھا ہے برسوں سے مری کمرے ہے وہ ہے وہ ب سے کہنے کو روشن دان باقی ہے تمہارا جھوٹ چہرے سے عیاں ہوں جائےگا اک دن تمہارے دل کے اندر تھا جو حقیقت شیطان باقی ہے گزاری عمر ج سے کی بندگی ہے وہ ہے وہ حقیقت ہے لا حاصل غضب سرمایہ کاری ہے نفع نقصان باقی ہے ابھی زندہ ہے بوڑھا باپ گھر کی زندگی بنکر فقط کمرے جدا ہیں بیچ ہے وہ ہے وہ دالان باقی ہے غزل زندہ ہے اردو کے ادب بردار زندہ ہیں ہماری تربیت ہے وہ ہے وہ اب بھی ہندوستان باقی ہے
Abbas Qamar
12 likes
تیری آغوش ہے وہ ہے وہ سر رکھا سسک کر روئے میرے سپنے میری آنکھوں سے چھلک کر روئے ساری خوشیوں کو سرے آم جھٹک کر روئے ہم بھی بچوں کی طرح پاؤں پٹک کر روئے راستہ صاف تھا منزل بھی بہت دور نہ تھی بیچ رستے ہے وہ ہے وہ مگر پاؤں اٹک کر روئے جس گھڑی قتل ہواؤں نے چراغوں کا کیا میرے ہمراہ جو جگنو تھے ففک کر روئے قیمتی ضد تھی غریبی بھی بھلا کیا کرتی ماں کے جذبات دلارو کو تھپک کر روئے اپنے حالات بیاں کر کے جو روئی دھرتی چاند تارے کسی کونے ہے وہ ہے وہ دبک کر روئے با مشقت بھی مکمل نہ ہوئی اپنی غزل چند نکتے میرے کاغذ سے سرک کر روئے
Abbas Qamar
18 likes
ج ہاں سارے ہوا بننے کی کوشش کر رہے تھے و ہاں بھی ہم دیا بننے کی کوشش کر رہے تھے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ زور تصور بھی گنوانا پڑ گیا تو ہم تصور ہے وہ ہے وہ خدا بننے کی کوشش کر رہے تھے ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ پر آ گرے جب آ سماں سے خواب مری ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے پوچھا کیا بننے کی کوشش کر رہے تھے ا نہیں آنکھوں نے بےدر گرا سے بے گھر کر دیا ہے یہ آنسو قہقہہ بننے کی کوشش کر رہے تھے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ دشواریاں ہے وہ ہے وہ مسکرانے کی طلب تھی ہم اک تصویر سا بننے کی کوشش کر رہے تھے
Abbas Qamar
23 likes
تری خیال سے پھوٹا تھا خواب کہتے ہیں تجھے حیات کا لب لباب کہتے ہیں چنا ہے تو نے مجھے زندگی کے دامن ہے وہ ہے وہ ہے وہ مجھے یہ لوگ تیرا انتخاب کہتے ہیں اسی کا نام روانی ہے برسر دریا اسی کو دشت ہے وہ ہے وہ پیاسے شراب کہتے ہیں گناہگار ہے ا سے کے سو ا سے کی محفل ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہم ا سے کے حسن کو ا سے کا نقاب کہتے ہیں
Abbas Qamar
15 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Abbas Qamar.
Similar Moods
More moods that pair well with Abbas Qamar's ghazal.







