تیری آغوش ہے وہ ہے وہ سر رکھا سسک کر روئے میرے سپنے میری آنکھوں سے چھلک کر روئے ساری خوشیوں کو سرے آم جھٹک کر روئے ہم بھی بچوں کی طرح پاؤں پٹک کر روئے راستہ صاف تھا منزل بھی بہت دور نہ تھی بیچ رستے ہے وہ ہے وہ مگر پاؤں اٹک کر روئے جس گھڑی قتل ہواؤں نے چراغوں کا کیا میرے ہمراہ جو جگنو تھے ففک کر روئے قیمتی ضد تھی غریبی بھی بھلا کیا کرتی ماں کے جذبات دلارو کو تھپک کر روئے اپنے حالات بیاں کر کے جو روئی دھرتی چاند تارے کسی کونے ہے وہ ہے وہ دبک کر روئے با مشقت بھی مکمل نہ ہوئی اپنی غزل چند نکتے میرے کاغذ سے سرک کر روئے
Related Ghazal
یہی اپنی کہانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے حقیقت لڑکی جاں ہماری تھی میاں پہلے بے حد پہلے وہم مجھ کو یہ بھاتا ہے,अभी مری دیوانی ہے م گر مری دیوانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے رقیب آ کر بتاتے ہیں ی ہاں تل ہے و ہاں تل ہے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ جانکاری تھی میاں پہلے بے حد پہلے ادب سے مانگ کر مافی بھری محفل یہ کہتا ہوں حقیقت لڑکی خاندانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے
Anand Raj Singh
526 likes
کیوں ڈریں زندگی ہے وہ ہے وہ کیا ہوگا کچھ لگ ہوگا تو غضب ہوگا ہنستی آنکھوں ہے وہ ہے وہ جھانک کر دیکھو کوئی آنسو کہی چھپا ہوگا ان دنوں نا امید سا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ شاید ا سے نے بھی یہ سنا ہوگا دیکھ کر جاناں کو سوچتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیا کسی نے تمہیں چھوا ہوگا
Javed Akhtar
371 likes
یہ غم کیا دل کی عادت ہے نہیں تو کسی سے کچھ شکایت ہے نہیں تو ہے حقیقت اک خواب بے تعبیر ا سے کو بھلا دینے کی نیت ہے نہیں تو کسی کے بن کسی کی یاد کے بن جیے جانے کی ہمت ہے نہیں تو کسی صورت بھی دل لگتا نہیں ہاں تو کچھ دن سے یہ حالت ہے نہیں تو تری ا سے حال پر ہے سب کو حیرت تجھے بھی ا سے پہ حیرت ہے نہیں تو ہم آہنگی نہیں دنیا سے تیری تجھے ا سے پر ندامت ہے نہیں تو ہوا جو کچھ یہی مقسوم تھا کیا یہی ساری مقسوم ہے نہیں تو اذیت ناک اذیت ناک سے تجھ کو اماں پانے کی حسرت ہے نہیں تو تو رہتا ہے خیال و خواب ہے وہ ہے وہ گم تو ا سے کی وجہ فرصت ہے نہیں تو سبب جو ا سے جدائی کا بنا ہے حقیقت مجھ سے خوبصورت ہے نہیں تو
Jaun Elia
355 likes
تیری مشکل لگ چھپاؤں گا چلا جاؤں گا خوشی آنکھوں ہے وہ ہے وہ آؤں گا چلا جاؤں گا اپنی دہلیز پہ کچھ دیر پڑا رہنے دے چنو ہی ہوش ہے وہ ہے وہ لگاؤں گا چلا جاؤں گا خواب لینے کوئی آئی کہ لگ آئی کوئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو آواز رلاؤں گا چلا جاؤں گا چند یادیں مجھے بچوں کی طرح پیاری ہیں ان کو سینے سے لگاؤں گا چلا جاؤں گا مدتوں بعد ہے وہ ہے وہ آیا ہوں پرانی گھر ہے وہ ہے وہ ہے وہ خود کو جی بھر کے نیت شوق چلا جاؤں گا ا سے جزیرے ہے وہ ہے وہ زیادہ نہیں رہنا اب تو آجکل ناو بناؤں گا چلا جاؤں گا تہذیب کی طرح لوٹ کے آؤںگا حسن ہر طرف پھول کھلاؤں گا چلا جاؤں گا
Hasan Abbasi
235 likes
جاناں حقیقت نہیں ہوں حسرت ہوں جو ملے خواب ہے وہ ہے وہ حقیقت دولت ہوں جاناں ہوں خوشبو کے خواب کی خوشبو اور اتنے ہی بے مروت ہوں ک سے طرح چھوڑ دوں تمہیں جاناں جاناں مری زندگی کی عادت ہوں ک سے لیے دیکھتے ہوں آئی لگ جاناں تو خود سے بھی خوبصورت ہوں داستان ختم ہونے والی ہے جاناں مری آخری محبت ہوں
Jaun Elia
315 likes
More from Abbas Qamar
مری پرچھائیاں گم ہیں مری پہچان باقی ہے سفر دم توڑنے کو ہے م گر سامان باقی ہے ابھی تو خواہشوں کے درمیان غماسان باقی ہے ابھی ا سے جسم فانی ہے وہ ہے وہ ذرا سی جان باقی ہے اسے تاری کیوں نے قید کر رکھا ہے برسوں سے مری کمرے ہے وہ ہے وہ ب سے کہنے کو روشن دان باقی ہے تمہارا جھوٹ چہرے سے عیاں ہوں جائےگا اک دن تمہارے دل کے اندر تھا جو حقیقت شیطان باقی ہے گزاری عمر ج سے کی بندگی ہے وہ ہے وہ حقیقت ہے لا حاصل غضب سرمایہ کاری ہے نفع نقصان باقی ہے ابھی زندہ ہے بوڑھا باپ گھر کی زندگی بنکر فقط کمرے جدا ہیں بیچ ہے وہ ہے وہ دالان باقی ہے غزل زندہ ہے اردو کے ادب بردار زندہ ہیں ہماری تربیت ہے وہ ہے وہ اب بھی ہندوستان باقی ہے
Abbas Qamar
12 likes
ج ہاں سارے ہوا بننے کی کوشش کر رہے تھے و ہاں بھی ہم دیا بننے کی کوشش کر رہے تھے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ زور تصور بھی گنوانا پڑ گیا تو ہم تصور ہے وہ ہے وہ خدا بننے کی کوشش کر رہے تھے ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ پر آ گرے جب آ سماں سے خواب مری ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے پوچھا کیا بننے کی کوشش کر رہے تھے ا نہیں آنکھوں نے بےدر گرا سے بے گھر کر دیا ہے یہ آنسو قہقہہ بننے کی کوشش کر رہے تھے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ دشواریاں ہے وہ ہے وہ مسکرانے کی طلب تھی ہم اک تصویر سا بننے کی کوشش کر رہے تھے
Abbas Qamar
23 likes
हम ऐसे सर-फिरे दुनिया को कब दरकार होते हैं अगर होते भी हैं बे-इंतिहा दुश्वार होते हैं ख़मोशी कह रही है अब ये दो-आबा रवाँ होगा हवा चुप हो तो बारिश के शदीद आसार होते हैं ज़रा सी बात है इस का तमाशा क्या बनाएँ हम इरादे टूटते हैं हौसले मिस्मार होते हैं शिकायत ज़िंदगी से क्यूँँ करें हम ख़ुद ही थम जाएँ जो कम-रफ़्तार होते हैं वो कम-रफ़्तार होते हैं गले में ज़िंदगी के रीसमान-ए-वक़्त है तो क्या परिंदे क़ैद में हों तो बहुत हुश्यार होते हैं जहाँ वाले मुक़य्यद हैं अभी तक अहद-ए-तिफ़्ली में यहाँ अब भी खिलौने रौनक़-ए-बाज़ार होते हैं गुलू-ए-ख़ुश्क उन को भेजता है दे के मश्कीज़ा कुछ आँसू तिश्ना-कामों के अलम-बरदार होते हैं बदन उन को कभी बाहर निकलने ही नहीं देता 'क़मर-अब्बास' तो बा-क़ाएदा तय्यार होते हैं
Abbas Qamar
9 likes
حالت حال سے بیگا لگ بنا رکھا ہے خود کو ماضی کا ن ہاں خا لگ بنا رکھا ہے خوف دوزخ نے ہی ایجاد کیا ہے سجدہ ڈر نے انسان کو دیوا لگ بنا رکھا ہے منبر عشق سے تقریر کی خواہش ہے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ دل کو ا سے واسطے مولانا بنا رکھا ہے ماتم شوق بپا کرتے ہیں ہر شام ی ہاں جسم کو ہم نے اذان خا لگ بنا رکھا ہے سمے رخصت ہے مری چاہنے والوں نے بھی اب سان سے کو سمے کا پیما لگ بنا رکھا ہے جانتے ہیں حقیقت پرندہ ہے نہیں ٹھہرےگا ہم نے ا سے دل کو م گر دا لگ بنا رکھا ہے
Abbas Qamar
8 likes
تری خیال سے پھوٹا تھا خواب کہتے ہیں تجھے حیات کا لب لباب کہتے ہیں چنا ہے تو نے مجھے زندگی کے دامن ہے وہ ہے وہ ہے وہ مجھے یہ لوگ تیرا انتخاب کہتے ہیں اسی کا نام روانی ہے برسر دریا اسی کو دشت ہے وہ ہے وہ پیاسے شراب کہتے ہیں گناہگار ہے ا سے کے سو ا سے کی محفل ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہم ا سے کے حسن کو ا سے کا نقاب کہتے ہیں
Abbas Qamar
15 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Abbas Qamar.
Similar Moods
More moods that pair well with Abbas Qamar's ghazal.







