حالت حال سے بیگا لگ بنا رکھا ہے خود کو ماضی کا ن ہاں خا لگ بنا رکھا ہے خوف دوزخ نے ہی ایجاد کیا ہے سجدہ ڈر نے انسان کو دیوا لگ بنا رکھا ہے منبر عشق سے تقریر کی خواہش ہے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ دل کو ا سے واسطے مولانا بنا رکھا ہے ماتم شوق بپا کرتے ہیں ہر شام ی ہاں جسم کو ہم نے اذان خا لگ بنا رکھا ہے سمے رخصت ہے مری چاہنے والوں نے بھی اب سان سے کو سمے کا پیما لگ بنا رکھا ہے جانتے ہیں حقیقت پرندہ ہے نہیں ٹھہرےگا ہم نے ا سے دل کو م گر دا لگ بنا رکھا ہے
Related Ghazal
چادر کی عزت کرتا ہوں اور پردے کو مانتا ہوں ہر پردہ پردہ نہیں ہوتا اتنا ہے وہ ہے وہ بھی جانتا ہوں سارے مرد ایک چنو ہیں جاناں نے کیسے کہ ڈالا ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی تو ایک مرد ہوں جاناں کو خود سے بہتر مانتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے ا سے سے پیار کیا ہے ملکیت کا دعویٰ نہیں حقیقت ج سے کے بھی ساتھ ہے ہے وہ ہے وہ اس کا کو بھی اپنا مانتا ہوں چادر کی عزت کرتا ہوں اور پردے کو مانتا ہوں ہر پردہ پردہ نہیں ہوتا اتنا ہے وہ ہے وہ بھی جانتا ہوں
Ali Zaryoun
105 likes
کیسے ا سے نے یہ سب کچھ مجھ سے چھپ کر بدلا چہرہ بدلا رستہ بدلا بعد ہے وہ ہے وہ گھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بارے ہے وہ ہے وہ یہ کہتا تھا لوگوں سے میرا نام بدل دینا حقیقت بے وجہ ا گر بدلا حقیقت بھی خوش تھا ا سے نے دل دے کر دل مانگا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی خوش ہوں ہے وہ ہے وہ نے پتھر سے پتھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کہا کیا مری خاطر خود کو بدلوگے اور پھروں ا سے نے نظریں بدلیں اور نمبر بدلا
Tehzeeb Hafi
435 likes
حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو
Naseer Turabi
244 likes
یہ غم کیا دل کی عادت ہے نہیں تو کسی سے کچھ شکایت ہے نہیں تو ہے حقیقت اک خواب بے تعبیر ا سے کو بھلا دینے کی نیت ہے نہیں تو کسی کے بن کسی کی یاد کے بن جیے جانے کی ہمت ہے نہیں تو کسی صورت بھی دل لگتا نہیں ہاں تو کچھ دن سے یہ حالت ہے نہیں تو تری ا سے حال پر ہے سب کو حیرت تجھے بھی ا سے پہ حیرت ہے نہیں تو ہم آہنگی نہیں دنیا سے تیری تجھے ا سے پر ندامت ہے نہیں تو ہوا جو کچھ یہی مقسوم تھا کیا یہی ساری مقسوم ہے نہیں تو اذیت ناک اذیت ناک سے تجھ کو اماں پانے کی حسرت ہے نہیں تو تو رہتا ہے خیال و خواب ہے وہ ہے وہ گم تو ا سے کی وجہ فرصت ہے نہیں تو سبب جو ا سے جدائی کا بنا ہے حقیقت مجھ سے خوبصورت ہے نہیں تو
Jaun Elia
355 likes
سارے کا سارا تو میرا بھی نہیں اور حقیقت بے وجہ بےوفا بھی نہیں غور سے دیکھنے پہ بولی ہے شا گرا سے پہلے سوچنا بھی نہیں اچھی صحت کا ہے میرا محبوب دھوکے دیتے ہوئے تھکا بھی نہیں جتنا برباد کر دیا تو نے اتنا آباد تو ہے وہ ہے وہ تھا بھی نہیں مجھ کو ب سے اتنا دین آتا ہے ج ہاں ہے وہ ہے وہ خود نہیں خدا بھی نہیں
Kushal Dauneria
43 likes
More from Abbas Qamar
مری پرچھائیاں گم ہیں مری پہچان باقی ہے سفر دم توڑنے کو ہے م گر سامان باقی ہے ابھی تو خواہشوں کے درمیان غماسان باقی ہے ابھی ا سے جسم فانی ہے وہ ہے وہ ذرا سی جان باقی ہے اسے تاری کیوں نے قید کر رکھا ہے برسوں سے مری کمرے ہے وہ ہے وہ ب سے کہنے کو روشن دان باقی ہے تمہارا جھوٹ چہرے سے عیاں ہوں جائےگا اک دن تمہارے دل کے اندر تھا جو حقیقت شیطان باقی ہے گزاری عمر ج سے کی بندگی ہے وہ ہے وہ حقیقت ہے لا حاصل غضب سرمایہ کاری ہے نفع نقصان باقی ہے ابھی زندہ ہے بوڑھا باپ گھر کی زندگی بنکر فقط کمرے جدا ہیں بیچ ہے وہ ہے وہ دالان باقی ہے غزل زندہ ہے اردو کے ادب بردار زندہ ہیں ہماری تربیت ہے وہ ہے وہ اب بھی ہندوستان باقی ہے
Abbas Qamar
12 likes
تیری آغوش ہے وہ ہے وہ سر رکھا سسک کر روئے میرے سپنے میری آنکھوں سے چھلک کر روئے ساری خوشیوں کو سرے آم جھٹک کر روئے ہم بھی بچوں کی طرح پاؤں پٹک کر روئے راستہ صاف تھا منزل بھی بہت دور نہ تھی بیچ رستے ہے وہ ہے وہ مگر پاؤں اٹک کر روئے جس گھڑی قتل ہواؤں نے چراغوں کا کیا میرے ہمراہ جو جگنو تھے ففک کر روئے قیمتی ضد تھی غریبی بھی بھلا کیا کرتی ماں کے جذبات دلارو کو تھپک کر روئے اپنے حالات بیاں کر کے جو روئی دھرتی چاند تارے کسی کونے ہے وہ ہے وہ دبک کر روئے با مشقت بھی مکمل نہ ہوئی اپنی غزل چند نکتے میرے کاغذ سے سرک کر روئے
Abbas Qamar
18 likes
हम ऐसे सर-फिरे दुनिया को कब दरकार होते हैं अगर होते भी हैं बे-इंतिहा दुश्वार होते हैं ख़मोशी कह रही है अब ये दो-आबा रवाँ होगा हवा चुप हो तो बारिश के शदीद आसार होते हैं ज़रा सी बात है इस का तमाशा क्या बनाएँ हम इरादे टूटते हैं हौसले मिस्मार होते हैं शिकायत ज़िंदगी से क्यूँँ करें हम ख़ुद ही थम जाएँ जो कम-रफ़्तार होते हैं वो कम-रफ़्तार होते हैं गले में ज़िंदगी के रीसमान-ए-वक़्त है तो क्या परिंदे क़ैद में हों तो बहुत हुश्यार होते हैं जहाँ वाले मुक़य्यद हैं अभी तक अहद-ए-तिफ़्ली में यहाँ अब भी खिलौने रौनक़-ए-बाज़ार होते हैं गुलू-ए-ख़ुश्क उन को भेजता है दे के मश्कीज़ा कुछ आँसू तिश्ना-कामों के अलम-बरदार होते हैं बदन उन को कभी बाहर निकलने ही नहीं देता 'क़मर-अब्बास' तो बा-क़ाएदा तय्यार होते हैं
Abbas Qamar
9 likes
کیوں ڈھونڈ رہے ہوں کوئی مجھسا مری اندر کچھ بھی لگ ملےگا تمہیں میرا مری اندر گہوار امید سجائے ہوئے ہر روز سو جاتا ہے معصوم سا بچہ مری اندر باہر سے تبسم کی قباء اوڑھے ہوئے ہوں در اصل ہیں محشر کئی برپا مری اندر زیبائش ماضی ہے وہ ہے وہ سیہ مست سا اک دل دیتا ہے بغاوت کو بڑھاوہ مری اندر سپنوں کے تعاقب ہے وہ ہے وہ ہے آزردہ حقیقت ہوتا ہے یہی روز تماشا مری اندر ہے وہ ہے وہ ہے وہ کتنا اکیلا ہوں تمہیں کیسے بتاؤں تنہائی بھی ہوں جاتی ہے تنہا مری اندر اندوہ کی موجوں کو ان آنکھوں ہے وہ ہے وہ پڑھو تو شاید یہ سمجھ پاؤ ہے کیا کیا مری اندر
Abbas Qamar
16 likes
کسے فرصت ماہ و سال ہے یہ سوال ہے کوئی سمے ہے بھی کہ جال ہے یہ سوال ہے لگ ہے فکر گردش آسمان لگ خیال جاں مجھے پھروں یہ کیسا ملال ہے یہ سوال ہے حقیقت سوال جس کا جواب ہے مری زندگی مری زندگی کا سوال ہے یہ سوال ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بچھڑ کے تجھ سے بلندیوں پہ جو پست ہوں یہ عروج ہے کہ زوال ہے یہ سوال ہے
Abbas Qamar
46 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Abbas Qamar.
Similar Moods
More moods that pair well with Abbas Qamar's ghazal.







