ستاروں سے الجھتا جا رہا ہوں شب فرقت بے حد نزدیک تر رہا ہوں تری غم کو بھی کچھ بہلا رہا ہوں ج ہاں کو بھی سمجھتا جا رہا ہوں یقین یہ ہے حقیقت کھل رہی ہے گماں یہ ہے کہ دھوکے کھا رہا ہوں ا گر ممکن ہوں لے لے اپنی آہٹ خبر دو حسن کو ہے وہ ہے وہ آ رہا ہوں حدیں حسن و محبت کی ملا کر خوشگوار پر خوشگوار ڈھا رہا ہوں خبر ہے تجھ کو اے درد فراق تری ہاتھوں ہے وہ ہے وہ قافلہ جا رہا ہوں اثر بھی لے رہا ہوں تیری چپ کا تجھے قائل بھی کرتا جا رہا ہوں بھرم تری ستم کا کھل چکا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تجھ سے آج کیوں شرما رہا ہوں انہی ہے وہ ہے وہ راز ہیں گل باریوں کے ہے وہ ہے وہ ہے وہ جو چنگاریاں برسا رہا ہوں جو ان معصوم آنکھوں نے دیے تھے حقیقت دھوکے آج تک ہے وہ ہے وہ کھا رہا ہوں تری پہلو ہے وہ ہے وہ کیوں ہوتا ہے محسو سے کہ تجھ سے دور ہوتا جا رہا ہوں حد زور و کرم سے بڑھ چلا حسن نگاہ یار کو یاد آ رہا ہوں جو الجھي تھی کبھی آدم کے ہاتھوں حقیقت الجھاتا آج تک سلجھا رہا ہوں محبت اب محبت ہوں چلی ہے
Related Ghazal
کیسے ا سے نے یہ سب کچھ مجھ سے چھپ کر بدلا چہرہ بدلا رستہ بدلا بعد ہے وہ ہے وہ گھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بارے ہے وہ ہے وہ یہ کہتا تھا لوگوں سے میرا نام بدل دینا حقیقت بے وجہ ا گر بدلا حقیقت بھی خوش تھا ا سے نے دل دے کر دل مانگا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی خوش ہوں ہے وہ ہے وہ نے پتھر سے پتھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کہا کیا مری خاطر خود کو بدلوگے اور پھروں ا سے نے نظریں بدلیں اور نمبر بدلا
Tehzeeb Hafi
435 likes
حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو
Naseer Turabi
244 likes
خاموش لب ہیں جھکی ہیں پلکیں دلوں ہے وہ ہے وہ الفت نئی نئی ہے ابھی تکلف ہے گفتگو ہے وہ ہے وہ ابھی محبت نئی نئی ہے ابھی لگ آئیںگی نیند جاناں کو ابھی لگ ہم کو سکون ملےگا ابھی تو دھڑکے گا دل زیادہ ابھی محبت نئی نئی ہے بہار کا آج پہلا دن ہے چلو چمن ہے وہ ہے وہ ٹہل کے آئیں فضا ہے وہ ہے وہ خوشبو نئی نئی ہے گلوں ہے وہ ہے وہ رنگت نئی نئی ہے جو خاندانی رئی سے ہیں حقیقت مزاج رکھتے ہیں نرم اپنا تمہارا لہجہ بتا رہا ہے تمہاری دولت نئی نئی ہے ذرا سا قدرت نے کیا نوازا کے آکے بیٹھے ہوں پہلی صف ہے وہ ہے وہ ہے وہ ابھی کیوں اڑنے لگے ہوا ہے وہ ہے وہ ابھی تو شہرت نئی نئی ہے بموں کی برسات ہوں رہی ہے پرانی جانباز سو رہے ہیں غلام دنیا کو کر رہا ہے حقیقت ج سے کی طاقت نئی نئی ہے
Shabeena Adeeb
232 likes
تمہیں ب سے یہ بتانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے کیا چھپانا چاہتا ہوں کبھی مجھ سے بھی کوئی جھوٹ بولو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں ہے وہ ہے وہ ہاں ملانا چاہتا ہوں یہ جو کھڑکی ہے نقشے ہے وہ ہے وہ تمہارے ی ہاں ہے وہ ہے وہ در بنانا چاہتا ہوں اداکاری بے حد دکھ دے رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچ مچ مسکرانا چاہتا ہوں پروں ہے وہ ہے وہ تیر ہے پنجوں ہے وہ ہے وہ تنکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ چڑیا اڑانا چاہتا ہوں لیے بیٹھا ہوں گھنگرو پھول اندھیرا ترا ہنسنا بنانا چاہتا ہوں بیگا لگ غم عشق کی جاناں کو مبارک ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے خا لگ کمانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سارے شہر کی بیساخیوں کو تری در پر نرم گوئی چاہتا ہوں مجھے جاناں سے اندھیرا ہی پڑےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کو یاد آنا چاہتا ہوں
Fahmi Badayuni
249 likes
یہ ہے وہ ہے وہ نے کب کہا کہ مری حق ہے وہ ہے وہ فیصلہ کرے ا گر حقیقت مجھ سے خوش نہیں ہے تو مجھے جدا کرے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے ساتھ ج سے طرح گزارتا ہوں زندگی اسے تو چاہیے کہ میرا شکریہ ادا کرے مری دعا ہے اور اک طرح سے بد دعا بھی ہے خدا تمہیں تمہارے جیسی بیٹیاں عطا کرے بنا چکا ہوں ہے وہ ہے وہ محبتوں کے درد کی دوا ا گر کسی کو چاہیے تو مجھ سے رابطہ کرے
Tehzeeb Hafi
292 likes
More from Firaq Gorakhpuri
کچھ لگ کچھ عشق کی تاثیر کا اقرار تو ہے ا سے کا الزام ت غافل پہ کچھ انکار تو ہے ہر فریب غم دنیا سے خبر دار تو ہے تیرا دیوا لگ کسی کام ہے وہ ہے وہ ہوشیار تو ہے دیکھ لیتے ہیں سبھی کچھ تری مشتاق جمال خیر دیدار لگ ہوں حسرت دیدار تو ہے معرکے سر ہوں اسی برق نظر سے اے حسن یہ چمکتی ہوئی ہوئی چلتی ہوئی تلوار تو ہے سر پٹکتا کو خیال در و دیوار ہے م گر رک رک کر تری وحشی کو شکوہ بے جا تو ہے عشق کا سکھلاتی بھی لگ بے کار گیا تو لگ صحیح جور م گر جور کا اقرار تو ہے تجھ سے ہمت تو پڑی عشق کو کچھ کہنے کی خیر شکوہ لگ صحیح شکر کا اظہار تو ہے ا سے ہے وہ ہے وہ بھی سکھلاتی رابطہ خاص کی ملتی ہے جھلک خیر اقرار محبت لگ ہوں انکار تو ہے کیوں جھپک جاتی ہے رہ رہ کے تری برق نگاہ یہ جھجک ک سے لیے اک کشتی دیدار تو ہے کئی عنوان ہیں ممنون کرم کرنے کے عشق ہے وہ ہے وہ کچھ لگ صحیح زندگی بے کار تو ہے سحر و شام سر انجمن ناز لگ ہوں جلوہ حسن تو ہے عشق سیاہکار تو ہے چونک اٹھتے ہیں فراق آتے ہی ا سے شوخ کا نام کچھ سراسیمگی عشق کا ا
Firaq Gorakhpuri
1 likes
اب دور آسمان ہے لگ دور حیات ہے اے درد ہجر تو ہی بتا کتنی رات ہے ہر کائنات سے یہ ا پیش کائنات ہے حیرت سرا عشق ہے وہ ہے وہ دن ہے لگ رات ہے جینا جو آ گیا تو تو اجل بھی حیات ہے اور یوں تو خیرو بھی کیا بے ثبات ہے کیوں انتہا ہوش کو کہتے ہیں بے خو گرا خورشید ہی کی آخری منزل تو رات ہے ہستی کو ج سے نے زلزلہ ساماں بنا دیا حقیقت دل قرار پائے مقدر کی بات ہے یہ مشگافیاں ہیں گراں خا لگ ب خا لگ پر ک سے کو دماغ کاوش ذات و صفات ہے توڑا ہے لا مکان کی حدوں کو بھی عشق نے زندان عقل تیری تو کیا کائنات ہے گردوں شرار برق دل بے قرار دیکھ جن سے یہ تیری تاروں بھری رات رات ہے گم ہوں کے ہر جگہ ہیں ز خود نشینی رفتگان عشقان کی بھی اہل کشف و کرامات ذات ہے ہستی بجز فنا مسلسل کے کچھ نہیں پھروں ک سے لیے یہ فکر قرار و ثبات ہے ا سے جان دوستی کا خلوص ن ہاں لگ پوچھ ج سے کا ستم بھی غیرت صد التفات ہے یوں تو ہزار درد سے روتے ہیں بد نصیب جاناں دل دکھاؤ سمے مصیبت تو بات ہے عنوان غفلتوں کے ہیں قربت ہوں یا وصال ب
Firaq Gorakhpuri
1 likes
हाथ आए तो वही दामन-ए-जानाँ हो जाए छूट जाए तो वही अपना गरेबाँ हो जाए इश्क़ अब भी है वो महरम-ए-बे-गाना-नुमा हुस्न यूँँ लाख छुपे लाख नुमायाँ हो जाए होश-ओ-ग़फ़लत से बहुत दूर है कैफ़िय्यत-ए-इश्क़ उस की हर बे-ख़बरी मंज़िल-ए-इरफ़ाँ हो जाए याद आती है जब अपनी तो तड़प जाता हूँ मेरी हस्ती तिरा भूला हवा पैमाँ हो जाए आँख वो है जो तिरी जल्वा-गह-ए-नाज़ बने दिल वही है जो सरापा तिरा अरमाँ हो जाए पाक-बाज़ान-ए-मोहब्बत में जो बेबाकी है हुस्न गर उस को समझ ले तो पशेमाँ हो जाए सहल हो कर हुई दुश्वार मोहब्बत तेरी उसे मुश्किल जो बना लें तो कुछ आसाँ हो जाए इश्क़ फिर इश्क़ है जिस रूप में जिस भेस में हो इशरत-ए-वस्ल बने या ग़म-ए-हिज्राँ हो जाए कुछ मुदावा भी हो मजरूह दिलों का ऐ दोस्त मरहम-ए-ज़ख़्म तिरा जौर-पशेमाँ हो जाए ये भी सच है कोई उल्फ़त में परेशाँ क्यूँँ हो ये भी सच है कोई क्यूँँकर न परेशाँ हो जाए इश्क़ को अर्ज़-ए-तमन्ना में भी लाखों पस-ओ-पेश हुस्न के वास्ते इनकार भी आसाँ हो जाए झिलमिलाती है सर-ए-बज़्म-ए-जहाँ शम्अ-ए-ख़ुदी जो ये बुझ जाए चराग़-ए-रह-ए-इरफ़ाँ हो जाए सर-ए-शोरीदा दिया दश्त-ओ-बयाबाँ भी दिए ये मिरी ख़ूबी-ए-क़िस्मत कि वो ज़िंदाँ हो जाए उक़्दा-ए-इश्क़ अजब उक़्दा-ए-मोहमल है 'फ़िराक़' कभी ला-हल कभी मुश्किल कभी आसाँ हो जाए
Firaq Gorakhpuri
1 likes
سمے غروب آج کرامات ہوں گئی زلفوں کو ا سے نے کھول دیا رات ہوں گئی کل تک تو ا سے ہے وہ ہے وہ ایسی کرامت لگ تھی کوئی حقیقت آنکھ آج جام مے عیش ہوں گئی اے سوز عشق تو نے مجھے کیا بنا دیا مری ہر ایک سان سے ستم شعار ہوں گئی اوچھی نگاہ ڈال کے اک سمت رکھ دیا دل کیا دیا غریب کی سوغات ہوں گئی کچھ یاد آ گئی تھی حقیقت زلف شکن شکن ہستی تمام چشمہ ظلمات ہوں گئی اہل وطن سے دور جدائی ہے وہ ہے وہ یار کی دل پامال آ گیا تو فراق کرامات ہوں گئی
Firaq Gorakhpuri
2 likes
دیدار ہے وہ ہے وہ اک طرفہ دیدار نظر آیا ہر بار چھپا کوئی ہر بار نظر آیا چھالوں کو شایاں بھی دل ناشاد نظر آیا جب چھیڑ پر آمادہ ہر بچھاؤ نظر آیا بیاباں کی حقیقت صبح شب ہجراں اک چاک گریباں ہر تار نظر آیا ہوں دل پامال کہ بے تابی امید کہ بیتابی مایوسی بھی بے کار نظر آیا جب چشم سیاہ تیری تھی چھائی ہوئی دل پر ا سے ملک کا ہر نیرنگ محبت خطہ نظر آیا تو نے بھی تو دیکھی تھی حقیقت جاتی ہوئی دنیا کیا آخری لمحوں ہے وہ ہے وہ بیمار نظر آیا نور صفا کھا کے گرے موسی غش بیتابی ہلکا سا حقیقت پردہ بھی دیوار نظر آیا ذرہ ہوں کہ اللہ ری ہوں قطرہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ مخمور نظر آیا مخمور نظر آیا کیا کچھ لگ ہوا غم سے کیا کچھ لگ کیا غم نے اور یوں تو ہوا جو کچھ بے کار نظر آیا اے عشق قسم تجھ کو سرشار کی کوئی غم فرقت ہے وہ ہے وہ غم خوار نظر آیا شب کٹ گئی فرقت کی دیکھا لگ فراق آخر غم خوار بھی بے کار نظر آیا
Firaq Gorakhpuri
1 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Firaq Gorakhpuri.
Similar Moods
More moods that pair well with Firaq Gorakhpuri's ghazal.







