ghazalKuch Alfaaz

کوئی چارہ نہیں دعا کے سوا کوئی سنتا نہیں خدا کے سوا مجھ سے کیا ہوں سکا وفا کے سوا مجھ کو ملتا بھی کیا سزا کے سوا بر سر ساحل مراد ی ہاں کوئی ابھرا ہے ناخدا کے سوا کوئی بھی تو دکھاؤ منزل پر ج سے کو دیکھا ہوں رہنما کے سوا دل سبھی کچھ زبان پر لایا اک فقط عرض مدعا کے سوا کوئی رازی لگ رہ سکا مجھ سے مری اللہ تری رضا کے سوا بت کدے سے چلے ہوں کعبے کو کیا ملےگا تمہیں خدا کے سوا دوستوں کے یہ مخلصا لگ تیر کچھ نہیں مری ہی غلطیاں کے سوا مہر و مہ سے بلند ہوں کر بھی نظر آیا لگ کچھ خلا کے سوا اے عرو سے بہار آہ آہ پر آخر کیا کہی دوست واہ وا کے سوا

Related Ghazal

تمہیں ب سے یہ بتانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے کیا چھپانا چاہتا ہوں کبھی مجھ سے بھی کوئی جھوٹ بولو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں ہے وہ ہے وہ ہاں ملانا چاہتا ہوں یہ جو کھڑکی ہے نقشے ہے وہ ہے وہ تمہارے ی ہاں ہے وہ ہے وہ در بنانا چاہتا ہوں اداکاری بے حد دکھ دے رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچ مچ مسکرانا چاہتا ہوں پروں ہے وہ ہے وہ تیر ہے پنجوں ہے وہ ہے وہ تنکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ چڑیا اڑانا چاہتا ہوں لیے بیٹھا ہوں گھنگرو پھول اندھیرا ترا ہنسنا بنانا چاہتا ہوں بیگا لگ غم عشق کی جاناں کو مبارک ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے خا لگ کمانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سارے شہر کی بیساخیوں کو تری در پر نرم گوئی چاہتا ہوں مجھے جاناں سے اندھیرا ہی پڑےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کو یاد آنا چاہتا ہوں

Fahmi Badayuni

249 likes

ستم ڈھاتے ہوئے سوچا کروگے ہمارے ساتھ جاناں ایسا کروگے انگوٹھی تو مجھے لوٹا رہے ہوں انگوٹھی کے نشان کا کیا کروگے ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے اب تمنائیں بھی نہیں ہوں تو کیا ا سے بات پر جھگڑا کروگے میرا دامن تمہیں تھامے ہوئے ہوں میرا دامن تمہیں میلا کروگے بتاؤ وعدہ کر کے آوگے نا کے پچھلی بار کے جیسا کروگے حقیقت دلہن بن کے رخصت ہوں گئی ہے ک ہاں تک کار کا پیچھا کروگے مجھے ب سے یوں ہی جاناں سے پوچھنا تھا ا گر ہے وہ ہے وہ مر گیا تو تو کیا کروگے

Zubair Ali Tabish

140 likes

بیٹھے ہیں چین سے کہی جانا تو ہے نہیں ہم بے گھروں کا کوئی ہری تو ہے نہیں جاناں بھی ہوں بیتے سمے کے مانند ہوں بہو جاناں نے بھی یاد آنا ہے آنا تو ہے نہیں عہد وفا سے ک سے لیے خائف ہوں مری جان کر لو کہ جاناں نے عہد نبھانا تو ہے نہیں حقیقت جو ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ عزیز ہے کیسا ہے کون ہے کیوں پوچھتے ہوں ہم نے بتانا تو ہے نہیں دنیا ہم اہل عشق پہ کیوں پھینکتی ہے جال ہم نے تری فریب ہے وہ ہے وہ آنا تو ہے نہیں حقیقت عشق تو کرےگا م گر دیکھ بھال کے فار سے حقیقت تری جیسا دیوا لگ تو ہے نہیں

Rehman Faris

196 likes

ہاتھ خالی ہیں تری شہر سے جاتے جاتے جان ہوتی تو مری جان لٹاتے جاتے اب تو ہر ہاتھ کا پتھر ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ پہچانتا ہے عمر گزری ہے تری شہر ہے وہ ہے وہ آتے جاتے اب کے مایو سے ہوا یاروں کو رخصت کر کے جا رہے تھے تو کوئی زخم لگاتے جاتے رینگنے کی بھی اجازت نہیں ہم کو ور لگ ہم جدھر جاتے نئے پھول کھلاتے جاتے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو جلتے ہوئے صحراؤں کا اک پتھر تھا جاناں تو دریا تھے مری پیا سے بجھاتے جاتے مجھ کو رونے کا سلیقہ بھی نہیں ہے شاید لوگ ہنستے ہیں مجھے دیکھ کے آتے جاتے ہم سے پہلے بھی مسافر کئی گزرے ہوں گے کم سے کم راہ کے پتھر تو ہٹاتے جاتے

Rahat Indori

102 likes

غزل تو سب کو میٹھی لگ رہی تھی م گر نہاتک کو مرچی لگ رہی تھی تمہارے لب نہیں چومے تھے جب تک مجھے ہر چیز کڑوی لگ رہی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ ج سے دن چھوڑنے والا تھا اس کا کو حقیقت ا سے دن سب سے پیاری لگ رہی تھی

Zubair Ali Tabish

80 likes

More from Hafeez Jalandhari

مٹنے والی حسرتیں ایجاد کر لیتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جب بھی چاہوں اک جہاں آباد کر لیتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ مجھ کو ان مجبوریوں پر بھی ہے اتنا اختیار آہ بھر لیتا ہوں ہے وہ ہے وہ پڑنا کر لیتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ حسن بے چارہ تو ہوں جاتا ہے 9 مہرباں پھروں اسے سراپا محبت کر لیتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو نہیں کہتا مگر دیکھ و وفا نا آشنا اپنی ہستی کہ سے دودمان برباد کر لیتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں یہ ویرانہ یہ دل یہ آرزوؤں کا مزار جاناں کہو تو پھروں اسے آباد کر لیتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جب کوئی تازہ مصیبت ٹوٹتی ہے اے عروس بہار ایک عادت ہے خدا کو یاد کر لیتا ہوں ہے وہ ہے وہ

Hafeez Jalandhari

0 likes

کوئی دوا لگ دے سکے مشورہ دعا دیا چارگروں نے اور بھی غزلوں کا بڑھا دیا دونوں کو دے کے صورتیں ساتھ ہی آئی لگ دیا عشق بیسورنے لگا حسن نے مسکرا دیا ذوق نگاہ کے سوا شوق گناہ کے سوا مجھ کو بتوں سے کیا ملا مجھ کو خدا نے کیا دیا تھی لگ اڑائے کی روک تھام دامن اختیار ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہم نے بھری بہار ہے وہ ہے وہ اپنا چمن لٹا دیا حسن نظر کی رکھ صنعت برہمن سے ہے ج سے کو صنم بنا لیا ا سے کو خدا بنا دیا داغ ہے مجھ پہ عشق کا میرا گناہ بھی تو دیکھ ا سے کی نگاہ بھی تو دیکھ ج سے نے یہ گل کھلا دیا عشق کی مملکت ہے وہ ہے وہ ہے شورش عقل نا مراد ابھرا کہی جو یہ فساد دل نے وہیں دبا دیا نقش وفا تو ہے وہ ہے وہ ہی تھا اب مجھے ہوں کیا حرف غلط نظر پڑا جاناں نے مجھے مٹا دیا خوب سے دروں دکھا دیا ہر دہن غلیظ نے کچھ لگ کہا عرو سے بہار نے ہن سے دیا مسکرا دیا

Hafeez Jalandhari

1 likes

آخر ایک دن شاد کروگے میرا گھر آباد کروگے پیار کی باتیں وصل کی راتیں یاد کروگے یاد کروگے ک سے دل سے آباد کیا تھا ک سے دل سے برباد کروگے ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے اپنی قیمت کہ دی جاناں بھی کچھ ارشاد کروگے زر کے بندو عقل کے اندھو جاناں کیا مجھ کو شاد کروگے جب مجھ کو چپ لگ جائے گی پھروں جاناں بھی پڑنا کروگے اور تمہیں آتا ہی کیا ہے کوئی ستم ایجاد کروگے تنگ آ کر اے بندہ پرور بندے کو آزاد کروگے مری دل ہے وہ ہے وہ بسنے والو جاناں مجھ کو برباد کروگے حسن کو رسوا کر کے مرونہگا آخر جاناں کیا یاد کروگے حشر کے دن امید ہے ناصح جاناں مری امداد کروگے

Hafeez Jalandhari

1 likes

کل ضرور آوگے لیکن آج کیا کروں بڑھ رہا ہے قلب کا اختلاج کیا کروں کیا کروں کوئی نہیں احتیاج دوست کو اور مجھ کو دوست کی احتیاج کیا کروں اب حقیقت فکر مند ہیں کہ دیا طبیب نے عشق ہے جنوں نہیں ہے وہ ہے وہ علاج کیا کروں غیرت رقیب کا شکوہ کر رہے ہوں جاناں ا سے معاملے ہے وہ ہے وہ سخت ہے مزاج کیا کروں ما سوا کرنے والے اور کچھ کیا بھی ہوں سوجھتا ہی کچھ نہیں کام کاج کیا کروں محو کار دیں ہوں ہے وہ ہے وہ بوریا نشین ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ راہزن نہیں ہوں ہے وہ ہے وہ تخت و تاج کیا کروں زور اور زر بغیر عشق کیا کروں عرو سے بہار چل گیا تو ہے ملک ہے وہ ہے وہ یہ رواج کیا کروں

Hafeez Jalandhari

0 likes

یہ ملاقات ملاقات نہیں ہوتی ہے بات ہوتی ہے مگر بات نہیں ہوتی ہے باریابی کا برا ہو کہ اب ان کے در پر اگلے وقتوں کی مدارات نہیں ہوتی ہے غم تو گھنگھور گھٹاؤں کی طرح اٹھتے ہیں ضبط کا دشت ہے برسات نہیں ہوتی ہے یہ میرا تجربہ ہے حسن کوئی چال چلے بازی عشق کبھی مات نہیں ہوتی ہے وصل ہے نام ہم آہنگی و یک رنگی کا وصل میں کوئی بری بات نہیں ہوتی ہے ہجر تنہائی ہے سورج ہے سوا نیزے پر دن ہی رہتا ہے یہاں رات نہیں ہوتی ہے ضبط گریہ کبھی کرتا ہوں تو فرماتے ہیں آج کیا بات ہے برسات نہیں ہوتی ہے مجھے اللہ کی قسم شعر میں تحسین بتاں میں جو کرتا ہوں میری ذات نہیں ہوتی ہے فکر تخلیق سخن مسند راحت پہ حفیظ باعث کشف و کرامات نہیں ہوتی ہے

Hafeez Jalandhari

0 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Hafeez Jalandhari.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Hafeez Jalandhari's ghazal.