koi mausam ho bhale lagte the din kahan itne kade lagte the khush to pahle bhi nahin the lekin yuun na andar se bujhe lagte the roz ke dekhe hue manzar the phir bhi har roz nae lagte the un dinon ghar se ajab rishta tha saare darvaze gale lagte the rah samajhti thiin andheri galiyan log pahchane hue lagte the jhilen paani se bhari rahti thiin sab ke sab ped hare lagte the shahr the unchi fasilon vaale dar zamane ke pare lagte the bandh rakkha tha zamin ne 'alvi' ham magar phir bhi ade lagte the koi mausam ho bhale lagte the din kahan itne kade lagte the khush to pahle bhi nahin the lekin yun na andar se bujhe lagte the roz ke dekhe hue manzar the phir bhi har roz nae lagte the un dinon ghar se ajab rishta tha sare darwaze gale lagte the rah samajhti thin andheri galiyan log pahchane hue lagte the jhilen pani se bhari rahti thin sab ke sab ped hare lagte the shahr the unchi fasilon wale dar zamane ke pare lagte the bandh rakkha tha zamin ne 'alwi' hum magar phir bhi ade lagte the
Related Ghazal
کیوں ڈریں زندگی ہے وہ ہے وہ کیا ہوگا کچھ لگ ہوگا تو غضب ہوگا ہنستی آنکھوں ہے وہ ہے وہ جھانک کر دیکھو کوئی آنسو کہی چھپا ہوگا ان دنوں نا امید سا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ شاید ا سے نے بھی یہ سنا ہوگا دیکھ کر جاناں کو سوچتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیا کسی نے تمہیں چھوا ہوگا
Javed Akhtar
371 likes
یہ غم کیا دل کی عادت ہے نہیں تو کسی سے کچھ شکایت ہے نہیں تو ہے حقیقت اک خواب بے تعبیر ا سے کو بھلا دینے کی نیت ہے نہیں تو کسی کے بن کسی کی یاد کے بن جیے جانے کی ہمت ہے نہیں تو کسی صورت بھی دل لگتا نہیں ہاں تو کچھ دن سے یہ حالت ہے نہیں تو تری ا سے حال پر ہے سب کو حیرت تجھے بھی ا سے پہ حیرت ہے نہیں تو ہم آہنگی نہیں دنیا سے تیری تجھے ا سے پر ندامت ہے نہیں تو ہوا جو کچھ یہی مقسوم تھا کیا یہی ساری مقسوم ہے نہیں تو اذیت ناک اذیت ناک سے تجھ کو اماں پانے کی حسرت ہے نہیں تو تو رہتا ہے خیال و خواب ہے وہ ہے وہ گم تو ا سے کی وجہ فرصت ہے نہیں تو سبب جو ا سے جدائی کا بنا ہے حقیقت مجھ سے خوبصورت ہے نہیں تو
Jaun Elia
355 likes
تیری مشکل لگ چھپاؤں گا چلا جاؤں گا خوشی آنکھوں ہے وہ ہے وہ آؤں گا چلا جاؤں گا اپنی دہلیز پہ کچھ دیر پڑا رہنے دے چنو ہی ہوش ہے وہ ہے وہ لگاؤں گا چلا جاؤں گا خواب لینے کوئی آئی کہ لگ آئی کوئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو آواز رلاؤں گا چلا جاؤں گا چند یادیں مجھے بچوں کی طرح پیاری ہیں ان کو سینے سے لگاؤں گا چلا جاؤں گا مدتوں بعد ہے وہ ہے وہ آیا ہوں پرانی گھر ہے وہ ہے وہ ہے وہ خود کو جی بھر کے نیت شوق چلا جاؤں گا ا سے جزیرے ہے وہ ہے وہ زیادہ نہیں رہنا اب تو آجکل ناو بناؤں گا چلا جاؤں گا تہذیب کی طرح لوٹ کے آؤںگا حسن ہر طرف پھول کھلاؤں گا چلا جاؤں گا
Hasan Abbasi
235 likes
تمہیں ب سے یہ بتانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے کیا چھپانا چاہتا ہوں کبھی مجھ سے بھی کوئی جھوٹ بولو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں ہے وہ ہے وہ ہاں ملانا چاہتا ہوں یہ جو کھڑکی ہے نقشے ہے وہ ہے وہ تمہارے ی ہاں ہے وہ ہے وہ در بنانا چاہتا ہوں اداکاری بے حد دکھ دے رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچ مچ مسکرانا چاہتا ہوں پروں ہے وہ ہے وہ تیر ہے پنجوں ہے وہ ہے وہ تنکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ چڑیا اڑانا چاہتا ہوں لیے بیٹھا ہوں گھنگرو پھول اندھیرا ترا ہنسنا بنانا چاہتا ہوں بیگا لگ غم عشق کی جاناں کو مبارک ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے خا لگ کمانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سارے شہر کی بیساخیوں کو تری در پر نرم گوئی چاہتا ہوں مجھے جاناں سے اندھیرا ہی پڑےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کو یاد آنا چاہتا ہوں
Fahmi Badayuni
249 likes
غزل تو سب کو میٹھی لگ رہی تھی م گر نہاتک کو مرچی لگ رہی تھی تمہارے لب نہیں چومے تھے جب تک مجھے ہر چیز کڑوی لگ رہی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ ج سے دن چھوڑنے والا تھا اس کا کو حقیقت ا سے دن سب سے پیاری لگ رہی تھی
Zubair Ali Tabish
80 likes
More from Mohammad Alvi
دھوپ نے گزارش کی ایک بوند بارش کی لو گلے پڑے کانٹے کیوں گلوں کی خواہش کی جگمگا اٹھے تارے بات تھی نمائش کی اک پتنگا اجرت تھی چھپکلی کی جنبش کی ہم توقع رکھتے ہیں اور حقیقت بھی بخشش کی لطف آ گیا تو علوی واہ خوب کوشش کی
Mohammad Alvi
3 likes
دن اک کے بعد ایک گزرنے ہوئے بھی دیکھ اک دن تو اپنے آپ کو مرتے ہوئے بھی دیکھ ہر سمے کھلتے پھول کی جانب تکا لگ کر مرجھا کے پتیوں کو بکھرتے ہوئے بھی دیکھ ہاں دیکھ برف گرتی ہوئی بال بال پر تپتے ہوئے خیال ٹھٹھرتے ہوئے بھی دیکھ اپنوں ہے وہ ہے وہ رہ کے ک سے لیے سہما ہوا ہے تو آ مجھ کو دشمنوں سے لگ ڈرتے ہوئے بھی دیکھ پیوند بادلوں کے لگے دیکھ جا بجا بگلوں کو آسمان کتھرتے ہوئے بھی دیکھ حیران مت ہوں چٹخے گی مچھلی کو دیکھ کر پانی ہے وہ ہے وہ روشنی کو اترتے ہوئے بھی دیکھ ا سے کو خبر نہیں ہے ابھی اپنے حسن کی آئی لگ دے کے بنتے سنورتے ہوئے بھی دیکھ دیکھا لگ ہوگا تو نے م گر انتظار ہے وہ ہے وہ ہے وہ چلتے ہوئے سمے کو ٹھہرتے ہوئے بھی دیکھ تعریف سن کے دوست سے علوی تو خوش لگ ہوں ا سے کو تری برائیاں کرتے ہوئے بھی دیکھ
Mohammad Alvi
5 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Mohammad Alvi.
Similar Moods
More moods that pair well with Mohammad Alvi's ghazal.







