ghazalKuch Alfaaz

لگے گا اجنبی اب کیوں لگ شہر بھر مجھ کو بچا گیا تو ہے نظر تو بھی دیکھ کر مجھ کو ہے وہ ہے وہ ہے وہ گھوم پھروں کے اسی سمت آ نکلتا ہوں جکڑ رہی ہے تری گھر کی رہگزر مجھ کو جھل سے رہا ہے بدن زیر سایہ دیوار بلا رہا ہے کوئی دشت بے شجر مجھ کو ہے وہ ہے وہ ہے وہ سنگ دل ہوں تجھے بھولتا ہی جاتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہن سے رہا ہوں تو مل کے ادا سے کر مجھ کو ہے وہ ہے وہ ہے وہ دیکھتا ہی ر ہوں گا تجھے کنارے سے تو ڈھونڈتا ہی رہے گا بھنور بھنور مجھ کو بنی ہیں تند ہواؤں کی زرد دیواریں ق سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ رہا ہے م گر شعلہ سفر مجھ کو بنا دیا ہے نڈر ض گرا خواہشوں نے نسیم گلزار ناز خود اعتماد لگ تھا اپنے آپ پر مجھ کو

Related Ghazal

یہی اپنی کہانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے حقیقت لڑکی جاں ہماری تھی میاں پہلے بے حد پہلے وہم مجھ کو یہ بھاتا ہے,अभी مری دیوانی ہے م گر مری دیوانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے رقیب آ کر بتاتے ہیں ی ہاں تل ہے و ہاں تل ہے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ جانکاری تھی میاں پہلے بے حد پہلے ادب سے مانگ کر مافی بھری محفل یہ کہتا ہوں حقیقت لڑکی خاندانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے

Anand Raj Singh

526 likes

کیوں ڈریں زندگی ہے وہ ہے وہ کیا ہوگا کچھ لگ ہوگا تو غضب ہوگا ہنستی آنکھوں ہے وہ ہے وہ جھانک کر دیکھو کوئی آنسو کہی چھپا ہوگا ان دنوں نا امید سا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ شاید ا سے نے بھی یہ سنا ہوگا دیکھ کر جاناں کو سوچتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیا کسی نے تمہیں چھوا ہوگا

Javed Akhtar

371 likes

یہ غم کیا دل کی عادت ہے نہیں تو کسی سے کچھ شکایت ہے نہیں تو ہے حقیقت اک خواب بے تعبیر ا سے کو بھلا دینے کی نیت ہے نہیں تو کسی کے بن کسی کی یاد کے بن جیے جانے کی ہمت ہے نہیں تو کسی صورت بھی دل لگتا نہیں ہاں تو کچھ دن سے یہ حالت ہے نہیں تو تری ا سے حال پر ہے سب کو حیرت تجھے بھی ا سے پہ حیرت ہے نہیں تو ہم آہنگی نہیں دنیا سے تیری تجھے ا سے پر ندامت ہے نہیں تو ہوا جو کچھ یہی مقسوم تھا کیا یہی ساری مقسوم ہے نہیں تو اذیت ناک اذیت ناک سے تجھ کو اماں پانے کی حسرت ہے نہیں تو تو رہتا ہے خیال و خواب ہے وہ ہے وہ گم تو ا سے کی وجہ فرصت ہے نہیں تو سبب جو ا سے جدائی کا بنا ہے حقیقت مجھ سے خوبصورت ہے نہیں تو

Jaun Elia

355 likes

تیری مشکل لگ چھپاؤں گا چلا جاؤں گا خوشی آنکھوں ہے وہ ہے وہ آؤں گا چلا جاؤں گا اپنی دہلیز پہ کچھ دیر پڑا رہنے دے چنو ہی ہوش ہے وہ ہے وہ لگاؤں گا چلا جاؤں گا خواب لینے کوئی آئی کہ لگ آئی کوئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو آواز رلاؤں گا چلا جاؤں گا چند یادیں مجھے بچوں کی طرح پیاری ہیں ان کو سینے سے لگاؤں گا چلا جاؤں گا مدتوں بعد ہے وہ ہے وہ آیا ہوں پرانی گھر ہے وہ ہے وہ ہے وہ خود کو جی بھر کے نیت شوق چلا جاؤں گا ا سے جزیرے ہے وہ ہے وہ زیادہ نہیں رہنا اب تو آجکل ناو بناؤں گا چلا جاؤں گا تہذیب کی طرح لوٹ کے آؤںگا حسن ہر طرف پھول کھلاؤں گا چلا جاؤں گا

Hasan Abbasi

235 likes

کیسے ا سے نے یہ سب کچھ مجھ سے چھپ کر بدلا چہرہ بدلا رستہ بدلا بعد ہے وہ ہے وہ گھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بارے ہے وہ ہے وہ یہ کہتا تھا لوگوں سے میرا نام بدل دینا حقیقت بے وجہ ا گر بدلا حقیقت بھی خوش تھا ا سے نے دل دے کر دل مانگا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی خوش ہوں ہے وہ ہے وہ نے پتھر سے پتھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کہا کیا مری خاطر خود کو بدلوگے اور پھروں ا سے نے نظریں بدلیں اور نمبر بدلا

Tehzeeb Hafi

435 likes

More from Iftikhar Naseem

ا سے دودمان بھی تو لگ جذبات پہ آب رکھو تھک گئے ہوں تو مری کندھے پہ بازو رکھو بھولنے پائے لگ ا سے دشت کی وحشت دل سے شہر کے بیچ رہو باغ ہے وہ ہے وہ آہو رکھو خشک ہوں جائے گی روتے ہوئے صحرا کی طرح کچھ بچا کر بھی تو ا سے آنکھ ہے وہ ہے وہ آنسو رکھو روشنی ہوں گی تو آ جائےگا رہ رو دل کا ا سے کی یادوں کے دیے طاق ہے وہ ہے وہ ہر سو رکھو یاد آوےگی عشق دل تمہاری ہی سفر ہے وہ ہے وہ ا سے کو ا سے کے رومال ہے وہ ہے وہ اک اچھی سی خوشبو رکھو اب حقیقت محبوب نہیں اپنا م گر دوست تو ہے ا سے سے یہ ایک تعلق ہی بحر سو رکھو

Iftikhar Naseem

0 likes

خود کو ہجوم دہر ہے وہ ہے وہ کھونا پڑا مجھے چنو تھے لوگ ویسا ہی ہونا پڑا مجھے دشمن کو مرتے دیکھ کے لوگوں کے سامنے دل ہن سے رہا تھا آنکھ سے رونا پڑا مجھے کچھ ا سے دودمان تھے پھول ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ پر کھلے ہوئے تاروں کو آسمان ہے وہ ہے وہ بنا پڑا مجھے ایسی شکست تھی کہ کٹی انگلیوں کے ساتھ کانٹوں کا ایک ہار پروونا پڑا مجھے کاری نہیں تھا وار م گر ایک عمر تک آب نمک سے زخم کو دھونا پڑا مجھے آساں نہیں ہے لکھنا غم دل کی واردات اپنا لہو ہے وہ ہے وہ ڈبونا پڑا مجھے اتنی طویل و سرد شب ہجر تھی نسیم گلزار ناز کتنی ہی بار جاگنا سونا پڑا مجھے

Iftikhar Naseem

0 likes

لبا سے خاک صحیح پر کہی ضرور ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ بتا رہی ہے چمک آنکھ کی کہ نور ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کوئی نہیں جو مری لو سے راستہ دیکھے ہوا تند بجھا دے تری حضور ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ پناہ دیتا نہیں کوئی اور سیارہ بھٹک رہا ہوں خلا ہے وہ ہے وہ ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ سے دور ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ لگ ہوں گرا کے مجھے تو بھی خاک ہے وہ ہے وہ مل جائے مجھے گلے سے لگا لے ترا غرور ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نکل پڑا ہوں یوںہی اتنی برف باری ہے وہ ہے وہ ہے وہ بدن کے گرم لہو کا غضب سرور ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سزا بھی کاٹ چکا ہوں ہے وہ ہے وہ ج سے غلطیاں کی نسیم گلزار ناز کسے پکاروں ک ہوں ا سے ہے وہ ہے وہ بے قصور ہوں ہے وہ ہے وہ

Iftikhar Naseem

0 likes

سرائے چھوڑ کے حقیقت پھروں کبھی نہیں آیا چلا گیا تو جو مسافر کبھی نہیں آیا ہر ایک اجازت مری گھر ہے وہ ہے وہ اسی کے ذوق کی ہے جو مری گھر ہے وہ ہے وہ بظاہر کبھی نہیں آیا یہ کون مجھ کو ادھورا بنا کے چھوڑ گیا تو پلٹ کے میرا مصور کبھی نہیں آیا مکان ہوں ج سے ہے وہ ہے وہ کوئی بھی جلوے نہیں رہتا شجر ہوں ج سے پہ کہ طائر کبھی نہیں آیا

Iftikhar Naseem

0 likes

لگ جانے کب حقیقت پلٹ آئیں در کھلا رکھنا گئے ہوئے کے لیے دل ہے وہ ہے وہ کچھ جگہ رکھنا ہزار تلخ ہوں یادیں م گر حقیقت جب بھی ملے زبان پہ اچھے دنوں کا ہی ذائقہ رکھنا لگ ہوں کہ قرب ہی پھروں مرگ ربط بن جائے حقیقت اب ملے تو ذرا ا سے سے فاصلہ رکھنا اتار پھینک دے خوش فہمیوں کے سارے غلاف جو بے وجہ بھول گیا تو ا سے کو یاد کیا رکھنا ابھی لگ علم ہوں ا سے کو لہو کی لذت کا یہ راز ا سے سے بے حد دیر تک چھپا رکھنا کبھی لگ لانا مسائل گھروں کے دفترون ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ دونوں پہلو ہمیشہ جدا جدا رکھنا ق سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ دیا ہے جسے چوم کر ہوا ہے وہ ہے وہ نسیم گلزار ناز اسے ہمیشہ حفاظت ہے وہ ہے وہ اے خدا رکھنا

Iftikhar Naseem

0 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Iftikhar Naseem.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Iftikhar Naseem's ghazal.