لگ جانے کب حقیقت پلٹ آئیں در کھلا رکھنا گئے ہوئے کے لیے دل ہے وہ ہے وہ کچھ جگہ رکھنا ہزار تلخ ہوں یادیں م گر حقیقت جب بھی ملے زبان پہ اچھے دنوں کا ہی ذائقہ رکھنا لگ ہوں کہ قرب ہی پھروں مرگ ربط بن جائے حقیقت اب ملے تو ذرا ا سے سے فاصلہ رکھنا اتار پھینک دے خوش فہمیوں کے سارے غلاف جو بے وجہ بھول گیا تو ا سے کو یاد کیا رکھنا ابھی لگ علم ہوں ا سے کو لہو کی لذت کا یہ راز ا سے سے بے حد دیر تک چھپا رکھنا کبھی لگ لانا مسائل گھروں کے دفترون ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ دونوں پہلو ہمیشہ جدا جدا رکھنا ق سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ دیا ہے جسے چوم کر ہوا ہے وہ ہے وہ نسیم گلزار ناز اسے ہمیشہ حفاظت ہے وہ ہے وہ اے خدا رکھنا
Related Ghazal
چلا ہے سلسلہ کیسا یہ راتوں کو منانے کا تمہیں حق دے دیا ک سے نے دیوں کے دل دکھانے کا ارادہ چھوڑیے اپنی حدوں سے دور جانے کا زما لگ ہے زمانے کی نگا ہوں ہے وہ ہے وہ لگ آنے کا ک ہاں کی دوستی کن دوستوں کی بات کرتے ہوں میاں دشمن نہیں ملتا کوئی اب تو ٹھکانے کا نگا ہوں ہے وہ ہے وہ کوئی بھی دوسرا چہرہ نہیں آیا بھروسا ہی کچھ ایسا تھا تمہارے لوٹ آنے کا یہ ہے وہ ہے وہ ہی تھا بچا کے خود کو لے آیا کنارے تک سمندر نے بے حد موقع دیا تھا ڈوب جانے کا
Waseem Barelvi
103 likes
ج سے طرح سمے گزرنے کے لیے ہوتا ہے آدمی شکل پہ مرنے کے لیے ہوتا ہے تیری آنکھوں سے ملاقات ہوئی تب یہ کھلا ڈوبنے والا ابھرنے کے لیے ہوتا ہے عشق کیوں پیچھے ہٹا بات نبھانے سے میاں حسن تو خیر مکرنے کے لیے ہوتا ہے آنکھ ہوتی ہے کسی راہ کو تکنے کے لیے دل کسی پاؤں پہ دھرنے کے لیے ہوتا ہے دل کی دہلی کا چناؤ ہی ا پیش ہے صاحب جب بھی ہوتا ہے یہ ہَرنے کے لیے ہوتا ہے کوئی بستی ہوں اجڑنے کے لیے بستی ہے کوئی مجمع ہوں گزرا کے لیے ہوتا ہے
Ali Zaryoun
61 likes
خاموش لب ہیں جھکی ہیں پلکیں دلوں ہے وہ ہے وہ الفت نئی نئی ہے ابھی تکلف ہے گفتگو ہے وہ ہے وہ ابھی محبت نئی نئی ہے ابھی لگ آئیںگی نیند جاناں کو ابھی لگ ہم کو سکون ملےگا ابھی تو دھڑکے گا دل زیادہ ابھی محبت نئی نئی ہے بہار کا آج پہلا دن ہے چلو چمن ہے وہ ہے وہ ٹہل کے آئیں فضا ہے وہ ہے وہ خوشبو نئی نئی ہے گلوں ہے وہ ہے وہ رنگت نئی نئی ہے جو خاندانی رئی سے ہیں حقیقت مزاج رکھتے ہیں نرم اپنا تمہارا لہجہ بتا رہا ہے تمہاری دولت نئی نئی ہے ذرا سا قدرت نے کیا نوازا کے آکے بیٹھے ہوں پہلی صف ہے وہ ہے وہ ہے وہ ابھی کیوں اڑنے لگے ہوا ہے وہ ہے وہ ابھی تو شہرت نئی نئی ہے بموں کی برسات ہوں رہی ہے پرانی جانباز سو رہے ہیں غلام دنیا کو کر رہا ہے حقیقت ج سے کی طاقت نئی نئی ہے
Shabeena Adeeb
232 likes
حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو
Naseer Turabi
244 likes
अब के हम बिछड़े तो शायद कभी ख़्वाबों में मिलें जिस तरह सूखे हुए फूल किताबों में मिलें ढूँढ़ उजड़े हुए लोगों में वफ़ा के मोती ये ख़ज़ाने तुझे मुमकिन है ख़राबों में मिलें ग़म-ए-दुनिया भी ग़म-ए-यार में शामिल कर लो नशा बढ़ता है शराबें जो शराबों में मिलें तू ख़ुदा है न मिरा इश्क़ फ़रिश्तों जैसा दोनों इंसाँ हैं तो क्यूँँ इतने हिजाबों में मिलें आज हम दार पे खींचे गए जिन बातों पर क्या अजब कल वो ज़माने को निसाबों में मिलें अब न वो मैं न वो तू है न वो माज़ी है 'फ़राज़' जैसे दो शख़्स तमन्ना के सराबों में मिलें
Ahmad Faraz
130 likes
More from Iftikhar Naseem
لگے گا اجنبی اب کیوں لگ شہر بھر مجھ کو بچا گیا تو ہے نظر تو بھی دیکھ کر مجھ کو ہے وہ ہے وہ ہے وہ گھوم پھروں کے اسی سمت آ نکلتا ہوں جکڑ رہی ہے تری گھر کی رہگزر مجھ کو جھل سے رہا ہے بدن زیر سایہ دیوار بلا رہا ہے کوئی دشت بے شجر مجھ کو ہے وہ ہے وہ ہے وہ سنگ دل ہوں تجھے بھولتا ہی جاتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہن سے رہا ہوں تو مل کے ادا سے کر مجھ کو ہے وہ ہے وہ ہے وہ دیکھتا ہی ر ہوں گا تجھے کنارے سے تو ڈھونڈتا ہی رہے گا بھنور بھنور مجھ کو بنی ہیں تند ہواؤں کی زرد دیواریں ق سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ رہا ہے م گر شعلہ سفر مجھ کو بنا دیا ہے نڈر ض گرا خواہشوں نے نسیم گلزار ناز خود اعتماد لگ تھا اپنے آپ پر مجھ کو
Iftikhar Naseem
0 likes
ا سے دودمان بھی تو لگ جذبات پہ آب رکھو تھک گئے ہوں تو مری کندھے پہ بازو رکھو بھولنے پائے لگ ا سے دشت کی وحشت دل سے شہر کے بیچ رہو باغ ہے وہ ہے وہ آہو رکھو خشک ہوں جائے گی روتے ہوئے صحرا کی طرح کچھ بچا کر بھی تو ا سے آنکھ ہے وہ ہے وہ آنسو رکھو روشنی ہوں گی تو آ جائےگا رہ رو دل کا ا سے کی یادوں کے دیے طاق ہے وہ ہے وہ ہر سو رکھو یاد آوےگی عشق دل تمہاری ہی سفر ہے وہ ہے وہ ا سے کو ا سے کے رومال ہے وہ ہے وہ اک اچھی سی خوشبو رکھو اب حقیقت محبوب نہیں اپنا م گر دوست تو ہے ا سے سے یہ ایک تعلق ہی بحر سو رکھو
Iftikhar Naseem
0 likes
اپنی مجبوری بتاتا رہا رو کر مجھ کو حقیقت ملا بھی تو کسی اور کا ہوں کر مجھ کو ہے وہ ہے وہ ہے وہ خدا تو نہیں جو ا سے کو دکھائی لگ دیا ڈھونڈتا میرا پجاری کبھی کھو کر مجھ کو پا لیا ج سے نے تہ آب بھی اپنا ساحل مطمئن تھا میرا طوفان ڈبو کر مجھ کو ریگ ساحل پہ لکھی سمے کی تحریر ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ موج آئی تو چلی جائے گی دھو کر مجھ کو نیند ہی چنو کوئی کنج اماں ہے اب تو چین ملتا ہے بے حد دیر سے سو کر مجھ کو فصل گل ہوں تو نکالے مجھے ا سے وارث سے بھول جائے لگ تہ سنگ حقیقت بو کر مجھ کو
Iftikhar Naseem
2 likes
خود کو ہجوم دہر ہے وہ ہے وہ کھونا پڑا مجھے چنو تھے لوگ ویسا ہی ہونا پڑا مجھے دشمن کو مرتے دیکھ کے لوگوں کے سامنے دل ہن سے رہا تھا آنکھ سے رونا پڑا مجھے کچھ ا سے دودمان تھے پھول ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ پر کھلے ہوئے تاروں کو آسمان ہے وہ ہے وہ بنا پڑا مجھے ایسی شکست تھی کہ کٹی انگلیوں کے ساتھ کانٹوں کا ایک ہار پروونا پڑا مجھے کاری نہیں تھا وار م گر ایک عمر تک آب نمک سے زخم کو دھونا پڑا مجھے آساں نہیں ہے لکھنا غم دل کی واردات اپنا لہو ہے وہ ہے وہ ڈبونا پڑا مجھے اتنی طویل و سرد شب ہجر تھی نسیم گلزار ناز کتنی ہی بار جاگنا سونا پڑا مجھے
Iftikhar Naseem
0 likes
لبا سے خاک صحیح پر کہی ضرور ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ بتا رہی ہے چمک آنکھ کی کہ نور ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کوئی نہیں جو مری لو سے راستہ دیکھے ہوا تند بجھا دے تری حضور ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ پناہ دیتا نہیں کوئی اور سیارہ بھٹک رہا ہوں خلا ہے وہ ہے وہ ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ سے دور ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ لگ ہوں گرا کے مجھے تو بھی خاک ہے وہ ہے وہ مل جائے مجھے گلے سے لگا لے ترا غرور ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نکل پڑا ہوں یوںہی اتنی برف باری ہے وہ ہے وہ ہے وہ بدن کے گرم لہو کا غضب سرور ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سزا بھی کاٹ چکا ہوں ہے وہ ہے وہ ج سے غلطیاں کی نسیم گلزار ناز کسے پکاروں ک ہوں ا سے ہے وہ ہے وہ بے قصور ہوں ہے وہ ہے وہ
Iftikhar Naseem
0 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Iftikhar Naseem.
Similar Moods
More moods that pair well with Iftikhar Naseem's ghazal.







