اپنی مجبوری بتاتا رہا رو کر مجھ کو حقیقت ملا بھی تو کسی اور کا ہوں کر مجھ کو ہے وہ ہے وہ ہے وہ خدا تو نہیں جو ا سے کو دکھائی لگ دیا ڈھونڈتا میرا پجاری کبھی کھو کر مجھ کو پا لیا ج سے نے تہ آب بھی اپنا ساحل مطمئن تھا میرا طوفان ڈبو کر مجھ کو ریگ ساحل پہ لکھی سمے کی تحریر ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ موج آئی تو چلی جائے گی دھو کر مجھ کو نیند ہی چنو کوئی کنج اماں ہے اب تو چین ملتا ہے بے حد دیر سے سو کر مجھ کو فصل گل ہوں تو نکالے مجھے ا سے وارث سے بھول جائے لگ تہ سنگ حقیقت بو کر مجھ کو
Related Ghazal
ستم ڈھاتے ہوئے سوچا کروگے ہمارے ساتھ جاناں ایسا کروگے انگوٹھی تو مجھے لوٹا رہے ہوں انگوٹھی کے نشان کا کیا کروگے ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے اب تمنائیں بھی نہیں ہوں تو کیا ا سے بات پر جھگڑا کروگے میرا دامن تمہیں تھامے ہوئے ہوں میرا دامن تمہیں میلا کروگے بتاؤ وعدہ کر کے آوگے نا کے پچھلی بار کے جیسا کروگے حقیقت دلہن بن کے رخصت ہوں گئی ہے ک ہاں تک کار کا پیچھا کروگے مجھے ب سے یوں ہی جاناں سے پوچھنا تھا ا گر ہے وہ ہے وہ مر گیا تو تو کیا کروگے
Zubair Ali Tabish
140 likes
کسی لبا سے کی خوشبو جب اڑ کے آتی ہے تری بدن کی جدائی بے حد ستاتی ہے تری گلاب ترستے ہیں تیری خوشبو کو تیری سفید چمیلی تجھے بلاتی ہے تری بغیر مجھے چین کیسے پڑتا ہیں مری بغیر تجھے نیند کیسے آتی ہے
Jaun Elia
113 likes
کیا بادلوں ہے وہ ہے وہ سفر زندگی بھر ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ پر بنایا لگ گھر زندگی بھر سبھی زندگی کے مزے لوٹتے ہیں لگ آیا ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ ہنر زندگی بھر محبت رہی چار دن زندگی ہے وہ ہے وہ ہے وہ رہا چار دن کا اثر زندگی بھر
Anwar Shaoor
95 likes
ہم نے کب چاہا کہ حقیقت بے وجہ ہمارا ہوں جائے اتنا دکھ جائے کہ آنکھوں کا گزارا ہوں جائے ہم جسے پا سے بٹھا لیں حقیقت بچھڑ جاتا ہے جاناں جسے ہاتھ لگا دو حقیقت تمہارا ہوں جائے جاناں کو لگتا ہے کہ جاناں جیت گئے ہوں مجھ سے ہے یہی بات تو پھروں کھیل دوبارہ ہوں جائے ہے محبت بھی غضب طرز تجارت کہ ی ہاں ہر دکاں دار یہ چاہے کہ خسارہ ہوں جائے
Yasir Khan
92 likes
ہاتھ خالی ہیں تری شہر سے جاتے جاتے جان ہوتی تو مری جان لٹاتے جاتے اب تو ہر ہاتھ کا پتھر ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ پہچانتا ہے عمر گزری ہے تری شہر ہے وہ ہے وہ آتے جاتے اب کے مایو سے ہوا یاروں کو رخصت کر کے جا رہے تھے تو کوئی زخم لگاتے جاتے رینگنے کی بھی اجازت نہیں ہم کو ور لگ ہم جدھر جاتے نئے پھول کھلاتے جاتے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو جلتے ہوئے صحراؤں کا اک پتھر تھا جاناں تو دریا تھے مری پیا سے بجھاتے جاتے مجھ کو رونے کا سلیقہ بھی نہیں ہے شاید لوگ ہنستے ہیں مجھے دیکھ کے آتے جاتے ہم سے پہلے بھی مسافر کئی گزرے ہوں گے کم سے کم راہ کے پتھر تو ہٹاتے جاتے
Rahat Indori
102 likes
More from Iftikhar Naseem
ا سے دودمان بھی تو لگ جذبات پہ آب رکھو تھک گئے ہوں تو مری کندھے پہ بازو رکھو بھولنے پائے لگ ا سے دشت کی وحشت دل سے شہر کے بیچ رہو باغ ہے وہ ہے وہ آہو رکھو خشک ہوں جائے گی روتے ہوئے صحرا کی طرح کچھ بچا کر بھی تو ا سے آنکھ ہے وہ ہے وہ آنسو رکھو روشنی ہوں گی تو آ جائےگا رہ رو دل کا ا سے کی یادوں کے دیے طاق ہے وہ ہے وہ ہر سو رکھو یاد آوےگی عشق دل تمہاری ہی سفر ہے وہ ہے وہ ا سے کو ا سے کے رومال ہے وہ ہے وہ اک اچھی سی خوشبو رکھو اب حقیقت محبوب نہیں اپنا م گر دوست تو ہے ا سے سے یہ ایک تعلق ہی بحر سو رکھو
Iftikhar Naseem
0 likes
خود کو ہجوم دہر ہے وہ ہے وہ کھونا پڑا مجھے چنو تھے لوگ ویسا ہی ہونا پڑا مجھے دشمن کو مرتے دیکھ کے لوگوں کے سامنے دل ہن سے رہا تھا آنکھ سے رونا پڑا مجھے کچھ ا سے دودمان تھے پھول ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ پر کھلے ہوئے تاروں کو آسمان ہے وہ ہے وہ بنا پڑا مجھے ایسی شکست تھی کہ کٹی انگلیوں کے ساتھ کانٹوں کا ایک ہار پروونا پڑا مجھے کاری نہیں تھا وار م گر ایک عمر تک آب نمک سے زخم کو دھونا پڑا مجھے آساں نہیں ہے لکھنا غم دل کی واردات اپنا لہو ہے وہ ہے وہ ڈبونا پڑا مجھے اتنی طویل و سرد شب ہجر تھی نسیم گلزار ناز کتنی ہی بار جاگنا سونا پڑا مجھے
Iftikhar Naseem
0 likes
لگے گا اجنبی اب کیوں لگ شہر بھر مجھ کو بچا گیا تو ہے نظر تو بھی دیکھ کر مجھ کو ہے وہ ہے وہ ہے وہ گھوم پھروں کے اسی سمت آ نکلتا ہوں جکڑ رہی ہے تری گھر کی رہگزر مجھ کو جھل سے رہا ہے بدن زیر سایہ دیوار بلا رہا ہے کوئی دشت بے شجر مجھ کو ہے وہ ہے وہ ہے وہ سنگ دل ہوں تجھے بھولتا ہی جاتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہن سے رہا ہوں تو مل کے ادا سے کر مجھ کو ہے وہ ہے وہ ہے وہ دیکھتا ہی ر ہوں گا تجھے کنارے سے تو ڈھونڈتا ہی رہے گا بھنور بھنور مجھ کو بنی ہیں تند ہواؤں کی زرد دیواریں ق سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ رہا ہے م گر شعلہ سفر مجھ کو بنا دیا ہے نڈر ض گرا خواہشوں نے نسیم گلزار ناز خود اعتماد لگ تھا اپنے آپ پر مجھ کو
Iftikhar Naseem
0 likes
لبا سے خاک صحیح پر کہی ضرور ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ بتا رہی ہے چمک آنکھ کی کہ نور ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کوئی نہیں جو مری لو سے راستہ دیکھے ہوا تند بجھا دے تری حضور ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ پناہ دیتا نہیں کوئی اور سیارہ بھٹک رہا ہوں خلا ہے وہ ہے وہ ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ سے دور ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ لگ ہوں گرا کے مجھے تو بھی خاک ہے وہ ہے وہ مل جائے مجھے گلے سے لگا لے ترا غرور ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نکل پڑا ہوں یوںہی اتنی برف باری ہے وہ ہے وہ ہے وہ بدن کے گرم لہو کا غضب سرور ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سزا بھی کاٹ چکا ہوں ہے وہ ہے وہ ج سے غلطیاں کی نسیم گلزار ناز کسے پکاروں ک ہوں ا سے ہے وہ ہے وہ بے قصور ہوں ہے وہ ہے وہ
Iftikhar Naseem
0 likes
سرائے چھوڑ کے حقیقت پھروں کبھی نہیں آیا چلا گیا تو جو مسافر کبھی نہیں آیا ہر ایک اجازت مری گھر ہے وہ ہے وہ اسی کے ذوق کی ہے جو مری گھر ہے وہ ہے وہ بظاہر کبھی نہیں آیا یہ کون مجھ کو ادھورا بنا کے چھوڑ گیا تو پلٹ کے میرا مصور کبھی نہیں آیا مکان ہوں ج سے ہے وہ ہے وہ کوئی بھی جلوے نہیں رہتا شجر ہوں ج سے پہ کہ طائر کبھی نہیں آیا
Iftikhar Naseem
0 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Iftikhar Naseem.
Similar Moods
More moods that pair well with Iftikhar Naseem's ghazal.







