log tuut jaate hain ek ghar banane men tum taras nahin khate bastiyan jalane men aur jaam tutenge is sharab-khane men mausamon ke aane men mausamon ke jaane men har dhadakte patthar ko log dil samajhte hain umren biit jaati hain dil ko dil banane men fakhta ki majburi ye bhi kah nahin sakti kaun saanp rakhta hai us ke ashiyane men dusri koi ladki zindagi men aaegi kitni der lagti hai us ko bhuul jaane men log tut jate hain ek ghar banane mein tum taras nahin khate bastiyan jalane mein aur jam tutenge is sharab-khane mein mausamon ke aane mein mausamon ke jaane mein har dhadakte patthar ko log dil samajhte hain umren bit jati hain dil ko dil banane mein fakhta ki majburi ye bhi kah nahin sakti kaun sanp rakhta hai us ke aashiyane mein dusri koi ladki zindagi mein aaegi kitni der lagti hai us ko bhul jaane mein
Related Ghazal
تماشا دیر و حرم دیکھتے ہیں تجھے ہر بہانے سے ہم دیکھتے ہیں ہماری طرف اب حقیقت کم دیکھتے ہیں حقیقت نظریں نہیں جن کو ہم دیکھتے ہیں زمانے کے کیا کیا ستم دیکھتے ہیں ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ جانتے ہیں جو ہم دیکھتے ہیں
Dagh Dehlvi
84 likes
چادر کی عزت کرتا ہوں اور پردے کو مانتا ہوں ہر پردہ پردہ نہیں ہوتا اتنا ہے وہ ہے وہ بھی جانتا ہوں سارے مرد ایک چنو ہیں جاناں نے کیسے کہ ڈالا ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی تو ایک مرد ہوں جاناں کو خود سے بہتر مانتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے ا سے سے پیار کیا ہے ملکیت کا دعویٰ نہیں حقیقت ج سے کے بھی ساتھ ہے ہے وہ ہے وہ اس کا کو بھی اپنا مانتا ہوں چادر کی عزت کرتا ہوں اور پردے کو مانتا ہوں ہر پردہ پردہ نہیں ہوتا اتنا ہے وہ ہے وہ بھی جانتا ہوں
Ali Zaryoun
105 likes
حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو
Naseer Turabi
244 likes
کیسے ا سے نے یہ سب کچھ مجھ سے چھپ کر بدلا چہرہ بدلا رستہ بدلا بعد ہے وہ ہے وہ گھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بارے ہے وہ ہے وہ یہ کہتا تھا لوگوں سے میرا نام بدل دینا حقیقت بے وجہ ا گر بدلا حقیقت بھی خوش تھا ا سے نے دل دے کر دل مانگا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی خوش ہوں ہے وہ ہے وہ نے پتھر سے پتھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کہا کیا مری خاطر خود کو بدلوگے اور پھروں ا سے نے نظریں بدلیں اور نمبر بدلا
Tehzeeb Hafi
435 likes
خاموش لب ہیں جھکی ہیں پلکیں دلوں ہے وہ ہے وہ الفت نئی نئی ہے ابھی تکلف ہے گفتگو ہے وہ ہے وہ ابھی محبت نئی نئی ہے ابھی لگ آئیںگی نیند جاناں کو ابھی لگ ہم کو سکون ملےگا ابھی تو دھڑکے گا دل زیادہ ابھی محبت نئی نئی ہے بہار کا آج پہلا دن ہے چلو چمن ہے وہ ہے وہ ٹہل کے آئیں فضا ہے وہ ہے وہ خوشبو نئی نئی ہے گلوں ہے وہ ہے وہ رنگت نئی نئی ہے جو خاندانی رئی سے ہیں حقیقت مزاج رکھتے ہیں نرم اپنا تمہارا لہجہ بتا رہا ہے تمہاری دولت نئی نئی ہے ذرا سا قدرت نے کیا نوازا کے آکے بیٹھے ہوں پہلی صف ہے وہ ہے وہ ہے وہ ابھی کیوں اڑنے لگے ہوا ہے وہ ہے وہ ابھی تو شہرت نئی نئی ہے بموں کی برسات ہوں رہی ہے پرانی جانباز سو رہے ہیں غلام دنیا کو کر رہا ہے حقیقت ج سے کی طاقت نئی نئی ہے
Shabeena Adeeb
232 likes
More from Bashir Badr
فلک سے چاند ستاروں سے جام لینا ہے مجھے سحر سے نئی ایک شام لینا ہے کسے خبر کہ فرشتے غزل سمجھتے ہیں خدا کے سامنے کافر کا نام لینا ہے معاملہ ہے ترا بدترین دشمن سے مری عزیز محبت سے کام لینا ہے مہکتی زلفوں سے خوشبو چمکتی ہوئی آنکھ سے دھوپ شبوں سے جام سحر کا سلام بخیر لینا ہے تمہاری چال کی آہستگی کے لہجے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سخن سے دل کو مسلنے کا کام لینا ہے نہیں ہے وہ ہے وہ میر کے در پر کبھی نہیں جاتا مجھے خدا سے غزل کا چھوؤں گا لینا ہے بڑے سلیقے سے نوٹوں ہے وہ ہے وہ ا سے کو تلوہ کر امیر شہر سے اب انتقام لینا ہے
Bashir Badr
1 likes
شعر میرے کہاں تھے کسی کے لیے میں نے سب کچھ لکھا ہے تمہارے لیے اپنے دکھ سکھ بہت خوبصورت رہے ہم جیے بھی تو اک دوسرے کے لیے ہم سفر نے میرا ساتھ چھوڑا نہیں اپنے آنسو دیے راستے کے لیے اس حویلی میں اب کوئی رہتا نہیں چاند نکلا کسے دیکھنے کے لیے زندگی اور میں دو الگ تو نہیں میں نے سب پھول کاٹے اسی سے لیے شہر میں اب میرا کوئی دشمن نہیں سب کو اپنا لیا میں نے تیرے لیے ذہن میں تتلیاں اڑ رہی ہیں بہت کوئی دھاگا نہیں باندھنے کے لیے ایک تصویر پڑھتے میں ایسی بنی اگلے پچھلے زمانوں کے چہرے لیے
Bashir Badr
6 likes
حقیقت چاندنی کا بدن خوشبوؤں کا سایہ ہے بے حد عزیز ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے م گر پرایا ہے اتر بھی آؤ کبھی آ سماں کے زینے سے تمہیں خدا نے ہمارے لیے بنایا ہے ک ہاں سے آئی یہ خوشبو یہ گھر کی خوشبو ہے ا سے اجنبی کے اندھیرے ہے وہ ہے وہ کون آیا ہے مہک رہی ہے ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ چاندنی کے پھولوں سے خدا کسی کی محبت پہ مسکرایا ہے اسے کسی کی محبت کا اعتبار نہیں اسے زمانے نے شاید بے حد ستایا ہے تمام عمر میرا دل اسی دھوئیں ہے وہ ہے وہ گھٹا حقیقت اک چراغ تھا ہے وہ ہے وہ نے اسے بجھایا ہے
Bashir Badr
5 likes
اک پری کے ساتھ موجوں پر ٹہلتا رات کو اب بھی یہ قدرت ک ہاں ہے آدمی کی ذات کو جن کا سارا جسم ہوتا ہے ہماری ہی طرح پھول کچھ ایسے بھی کھلتے ہیں ہمیشہ رات کو ایک اک کر کے سبھی کپڑے بدن سے گر چکے صبح پھروں ہم یہ کفن پہنائیں گے جذبات کو پیچھے پیچھے رات تھی تاروں کا اک لشکر لیے ریل کی پٹری پہ سورج چل رہا تھا رات کو لو و خاک و بعد ہے وہ ہے وہ بھی لہر حقیقت آ جائے ہے سرخ کر دیتی ہے دم بھر ہے وہ ہے وہ جو پیلی دھات کو صبح بستر بند ہے ج سے ہے وہ ہے وہ لپٹ جاتے ہیں ہم اک سفر کے بعد پھروں کھلتے ہیں آدھی رات کو سر پہ سورج کے ہمارے پیار کا سایہ رہے مامتا کا جسم مانگے زندگی کی بات کو
Bashir Badr
5 likes
مری سینے پر حقیقت سر رکھے ہوئے سوتا رہا جانے کیا تھی بات ہے وہ ہے وہ جاگا کیا روتا رہا استعمال ہے وہ ہے وہ دھوپ کی چنو وطن کا خواب تھا لوگ یہ سمجھے ہے وہ ہے وہ سبزے پر پڑا سوتا رہا وادیوں ہے وہ ہے وہ گاہ اترا اور کبھی پربت چڑھا بوجھ سا اک دل پہ رکھا ہے جسے ڈھوتا رہا گاہ پانی گاہ شبنم اور کبھی خوناب سے ایک ہی تھا داغ سینے ہے وہ ہے وہ جسے دھوتا رہا اک ہوا بے تکاں سے آخرش مرجھا گیا تو زندگی بھر جو محبت کے شجر بوتا رہا رونے والوں نے اٹھا رکھا تھا گھر سر پر م گر عمر بھر کا جاگنے والا پڑا سوتا رہا رات کی پلکوں پہ تاروں کی طرح جاگا کیا صبح کی آنکھوں ہے وہ ہے وہ شبنم کی طرح روتا رہا روشنی کو رنگ کر کے لے گئے ج سے رات لوگ کوئی سایہ مری کمرے ہے وہ ہے وہ چھپا روتا رہا
Bashir Badr
2 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Bashir Badr.
Similar Moods
More moods that pair well with Bashir Badr's ghazal.







