ghazalKuch Alfaaz

ہے وہ ہے وہ کار آمد ہوں یا بے کار ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ م گر اے یار تیرا یار ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جو دیکھا ہے کسی کو مت بتانا علاقے بھر ہے وہ ہے وہ عزت دار ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ خود اپنی ذات کے سرمائے ہے وہ ہے وہ بھی صفر فیصد کا حصے دار ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ اور اب کیوں بین کرتے آ گئے ہوں کہا تھا نا بے حد بیمار ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ مری تو ساری دنیا ب سے تمہیں ہوں غلط کیا ہے جو دنیا دار ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کہانی ہے وہ ہے وہ جو ہوتا ہی نہیں ہے کہانی کا وہی کردار ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ طے کرتا ہے دستک دینے والا ک ہاں در ہوں ک ہاں دیوار ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کوئی سمجھائے مری دشمنوں کو ذرا سی دوستی کی مار ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ مجھے پتھر سمجھ کر پیش مت آ ذرا سا رحم کر جاں دار ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے اتنا سوچ کر کیجے کوئی حکم بڑا منا زور خدمت گار ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کوئی شک ہے تو بے شک آزما لے ترا ہونے کا دعوے دار ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا گر ہر حال ہے وہ ہے وہ خوش رہنا فن ہے

Related Ghazal

مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ورنا قدرت کا لکھا ہوا کاٹتا تری حصے ہے وہ ہے وہ آئی برے دن کوئی دوسرا کاٹتا لاریوں سے زیادہ بہاؤ تھا تری ہر اک لفظ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اشارہ نہیں کاٹ سکتا تیری بات کیا کاٹتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے بھی زندگی اور شب اے ہجر کاٹی ہے سب کی طرح ویسے بہتر تو یہ تھا کے ہے وہ ہے وہ کم سے کم کچھ نیا کاٹتا تری ہوتے ہوئے موم بتی بجھائی کسی اور نے کیا خوشی رہ گئی تھی جنم دن کی ہے وہ ہے وہ کیک کیا کاٹتا کوئی بھی تو نہیں جو مری بھوکے رہنے پہ ناراض ہوں جیل ہے وہ ہے وہ تیری تصویر ہوتی تو ہنسکر سزا کاٹتا

Tehzeeb Hafi

456 likes

یہی اپنی کہانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے حقیقت لڑکی جاں ہماری تھی میاں پہلے بے حد پہلے وہم مجھ کو یہ بھاتا ہے,अभी مری دیوانی ہے م گر مری دیوانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے رقیب آ کر بتاتے ہیں ی ہاں تل ہے و ہاں تل ہے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ جانکاری تھی میاں پہلے بے حد پہلے ادب سے مانگ کر مافی بھری محفل یہ کہتا ہوں حقیقت لڑکی خاندانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے

Anand Raj Singh

526 likes

چاند ستارے تم پھول پرندے شام سویرہ ایک طرف ساری دنیا ا سے کا چربہ ا سے کا چہرہ ایک طرف حقیقت لڑکر بھی سو جائے تو ا سے کا ماتھا چوموں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے سے محبت ایک طرف ہے ا سے سے جھگڑا ایک طرف ج سے اجازت پر حقیقت انگلی رکھ دے اس کا کو حقیقت دلوانی ہے ا سے کی خوشیاں سب سے اول سستا مہنگا ایک طرف زخموں پر مرہم لگواو لیکن ا سے کے ہاتھوں سے چارسازی ایک طرف ہے ا سے کا چھونا ایک طرف ساری دنیا جو بھی بولے سب کچھ شور شرابا ہے سب کا کہنا ایک طرف ہے ا سے کا کہنا ایک طرف ا سے نے ساری دنیا مانگی ہے وہ ہے وہ نے اس کا کو مانگا ہے ا سے کے سپنے ایک طرف ہے میرا سپنا ایک طرف

Varun Anand

406 likes

کیوں ڈریں زندگی ہے وہ ہے وہ کیا ہوگا کچھ لگ ہوگا تو غضب ہوگا ہنستی آنکھوں ہے وہ ہے وہ جھانک کر دیکھو کوئی آنسو کہی چھپا ہوگا ان دنوں نا امید سا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ شاید ا سے نے بھی یہ سنا ہوگا دیکھ کر جاناں کو سوچتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیا کسی نے تمہیں چھوا ہوگا

Javed Akhtar

371 likes

تیری مشکل لگ چھپاؤں گا چلا جاؤں گا خوشی آنکھوں ہے وہ ہے وہ آؤں گا چلا جاؤں گا اپنی دہلیز پہ کچھ دیر پڑا رہنے دے چنو ہی ہوش ہے وہ ہے وہ لگاؤں گا چلا جاؤں گا خواب لینے کوئی آئی کہ لگ آئی کوئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو آواز رلاؤں گا چلا جاؤں گا چند یادیں مجھے بچوں کی طرح پیاری ہیں ان کو سینے سے لگاؤں گا چلا جاؤں گا مدتوں بعد ہے وہ ہے وہ آیا ہوں پرانی گھر ہے وہ ہے وہ ہے وہ خود کو جی بھر کے نیت شوق چلا جاؤں گا ا سے جزیرے ہے وہ ہے وہ زیادہ نہیں رہنا اب تو آجکل ناو بناؤں گا چلا جاؤں گا تہذیب کی طرح لوٹ کے آؤںگا حسن ہر طرف پھول کھلاؤں گا چلا جاؤں گا

Hasan Abbasi

235 likes

More from Rehman Faris

یہی دعا ہے یہی ہے سلام بخیر عشق رفقا کرام مری سبھی گزارشیں عشق رفقا کرام دیار ہجر کی سونی ادا سے گلیوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ پکارتا ہے کوئی صبح و شام عشق رفقا کرام ہے وہ ہے وہ ہے وہ کر رہا تھا دعا کی گزارشیں ا سے سے سو کہ گئی ہے اداسی کی شام عشق رفقا کرام بڑے عجیب ہیں باشندے کے بعد از سلام ہمیشہ کہتے ہیں غزل وار عشق رفقا کرام یہ رہ ضرور تمہارے ہی گھر کو جاتی ہے لکھا ہوا ہے ی ہاں گام گام عشق رفقا کرام نقص کی ہے داستان عشق داستان عشقسو ا سے کتاب کا رکھا ہے نام عشق رفقا کرام پیام عشق کے پار مجھے یاد کر رہا ہے کوئی ابھی ملا ہے ادھر سے تال میل رفقا کرام

Rehman Faris

2 likes

مجھے غرض ہے ستارے تم لگ ماہتاب کے ساتھ چمک رہا ہے یہ دل پوری آب و تاب کے ساتھ نپی تلی سی محبت لگا بودا سا کرم نبھا رہے ہوں تعلق بڑے حساب کے ساتھ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے لیے نہیں تھکتا تری تعاقب سے مجھے یقین ہے کہ پانی بھی ہے سراب کے ساتھ سوال وصل پہ انکار کرنے والے سن سوال ختم نہیں ہوگا ا سے جواب کے ساتھ خاموش جھیل کے پانی ہے وہ ہے وہ حقیقت اداسی تھی کہ دل بھی ڈوب گیا تو رات ماہتاب کے ساتھ جتا دیا کہ محبت ہے وہ ہے وہ غم بھی ہوتے ہیں دیا گلاب تو کانٹے بھی تھے گلاب کے ساتھ ہے وہ ہے وہ ہے وہ لے اڑوں گا تری خد و خال سے تعبیر لگ دیکھ مری طرف چشم نیم خواب کے ساتھ انتقامن یہ صرف بہانا ہے بات کرنے کا مری مجال کہ جھگڑا کروں جناب کے ساتھ وصال و ہجر کی سرحد پہ جھٹپٹے ہے وہ ہے وہ کہی حقیقت بے حجاب ہوا تھا م گر حجاب کے ساتھ شکستہ آئی لگ دیکھا پھروں اپنا دل دیکھا دکھائی دی مجھے تعبیر خواب خواب کے ساتھ و ہاں گلنار ج ہاں دونوں سمے ملتے ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کم نصیب تری چنو کامیاب کے ساتھ دیار ہ

Rehman Faris

4 likes

نظر اٹھائیں تو کیا کیا فسا لگ بنتا ہے سو سانحے یار نگاہیں جھکانا بنتا ہے حقیقت لاکھ بے خبر و بے وفا صحیح لیکن طلب کیا ہے گر ا سے نے تو جانا بنتا ہے رگوں تلک اتر آئی ہے میسج شب غم سو اب چراغ نہیں دل جلانا بنتا ہے پرائی آگ میرا گھر جلا رہی ہے سو اب خاموش رہنا نہیں غل مچانا بنتا ہے قدم قدم پہ توازن کی بات مت کیجے یہ مے کدہ ہے ی ہاں لڑکھڑانا بنتا ہے چیزیں والے تجھے ک سے طرح بتاؤں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کہ یاد آنا نہیں تیرا آنا بنتا ہے یہ دیکھ کر کہ تری عاشقوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی ہوں جمال یار ترا مسکرانا بنتا ہے جنوں بھی صرف دکھاوا ہے وحشتیں بھی غلط دیوا لگ ہے نہیں فار سے دیوا لگ بنتا ہے

Rehman Faris

1 likes

سکوت شام ہے وہ ہے وہ گونجی صدا اداسی کی کہ ہے مزید اداسی دوا اداسی کی بے حد شریر تھا ہے وہ ہے وہ اور ہنستا پھرتا تھا پھروں اک مختلف نے دے دی دعا اداسی کی امور دل ہے وہ ہے وہ کسی تیسرے کا دخل نہیں ی ہاں فقط تری چلتی ہے یا اداسی کی چراغ دل کو ذرا احتیاط سے رکھنا کہ آج رات چلےگی ہوا اداسی کی حقیقت امتزاج تھا ایسا کہ دنگ تھی ہر آنکھ جمال یار نے پہنی قباء اداسی کی اسی امید پہ آنکھیں برستی رہتی ہیں کہ ایک دن تو سنے گا خدا اداسی کی شجر نے پوچھا کہ تجھ ہے وہ ہے وہ یہ ک سے کی خوشبو ہے ہوا شام الم نے کہا اداسی کی دل فسردہ کو ہے وہ ہے وہ نے تو مار ہی ڈالا سو ہے وہ ہے وہ تو ٹھیک ہوں اب تو سنا اداسی کی ذرا سا چھو لیں تو گھنٹوں دہکتی رہتی ہے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو مار گئی یہ ادا اداسی کی بے حد دنوں سے ہے وہ ہے وہ ا سے سے نہیں ملا فار سے کہی سے خیر خبر لے کے آ اداسی کی

Rehman Faris

2 likes

خاک اڑتی ہے رات بھر مجھ ہے وہ ہے وہ ہے وہ کون پھرتا ہے در بدر مجھ ہے وہ ہے وہ ہے وہ مجھ کو خود ہے وہ ہے وہ جگہ نہیں ملتی تو ہے موجود ا سے دودمان مجھ ہے وہ ہے وہ ہے وہ موسم گریہ ایک گزارش ہے غم کے پکنے تلک ٹھہر مجھ ہے وہ ہے وہ ہے وہ بے گھری اب میرا مقدر ہے عشق نے کر لیا ہے گھر مجھ ہے وہ ہے وہ ہے وہ آپ کا دھیان خون کے مانند دوڑتا ہے ادھر ادھر مجھ ہے وہ ہے وہ ہے وہ حوصلہ ہوں تو بات بن جائے حوصلہ ہی نہیں م گر مجھ ہے وہ ہے وہ

Rehman Faris

5 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Rehman Faris.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Rehman Faris's ghazal.