ghazalKuch Alfaaz

مجھے غرض ہے ستارے تم لگ ماہتاب کے ساتھ چمک رہا ہے یہ دل پوری آب و تاب کے ساتھ نپی تلی سی محبت لگا بودا سا کرم نبھا رہے ہوں تعلق بڑے حساب کے ساتھ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے لیے نہیں تھکتا تری تعاقب سے مجھے یقین ہے کہ پانی بھی ہے سراب کے ساتھ سوال وصل پہ انکار کرنے والے سن سوال ختم نہیں ہوگا ا سے جواب کے ساتھ خاموش جھیل کے پانی ہے وہ ہے وہ حقیقت اداسی تھی کہ دل بھی ڈوب گیا تو رات ماہتاب کے ساتھ جتا دیا کہ محبت ہے وہ ہے وہ غم بھی ہوتے ہیں دیا گلاب تو کانٹے بھی تھے گلاب کے ساتھ ہے وہ ہے وہ ہے وہ لے اڑوں گا تری خد و خال سے تعبیر لگ دیکھ مری طرف چشم نیم خواب کے ساتھ انتقامن یہ صرف بہانا ہے بات کرنے کا مری مجال کہ جھگڑا کروں جناب کے ساتھ وصال و ہجر کی سرحد پہ جھٹپٹے ہے وہ ہے وہ کہی حقیقت بے حجاب ہوا تھا م گر حجاب کے ساتھ شکستہ آئی لگ دیکھا پھروں اپنا دل دیکھا دکھائی دی مجھے تعبیر خواب خواب کے ساتھ و ہاں گلنار ج ہاں دونوں سمے ملتے ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کم نصیب تری چنو کامیاب کے ساتھ دیار ہ

Related Ghazal

چادر کی عزت کرتا ہوں اور پردے کو مانتا ہوں ہر پردہ پردہ نہیں ہوتا اتنا ہے وہ ہے وہ بھی جانتا ہوں سارے مرد ایک چنو ہیں جاناں نے کیسے کہ ڈالا ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی تو ایک مرد ہوں جاناں کو خود سے بہتر مانتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے ا سے سے پیار کیا ہے ملکیت کا دعویٰ نہیں حقیقت ج سے کے بھی ساتھ ہے ہے وہ ہے وہ اس کا کو بھی اپنا مانتا ہوں چادر کی عزت کرتا ہوں اور پردے کو مانتا ہوں ہر پردہ پردہ نہیں ہوتا اتنا ہے وہ ہے وہ بھی جانتا ہوں

Ali Zaryoun

105 likes

یہ ہے وہ ہے وہ نے کب کہا کہ مری حق ہے وہ ہے وہ فیصلہ کرے ا گر حقیقت مجھ سے خوش نہیں ہے تو مجھے جدا کرے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے ساتھ ج سے طرح گزارتا ہوں زندگی اسے تو چاہیے کہ میرا شکریہ ادا کرے مری دعا ہے اور اک طرح سے بد دعا بھی ہے خدا تمہیں تمہارے جیسی بیٹیاں عطا کرے بنا چکا ہوں ہے وہ ہے وہ محبتوں کے درد کی دوا ا گر کسی کو چاہیے تو مجھ سے رابطہ کرے

Tehzeeb Hafi

292 likes

حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو

Naseer Turabi

244 likes

تمہیں ب سے یہ بتانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے کیا چھپانا چاہتا ہوں کبھی مجھ سے بھی کوئی جھوٹ بولو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں ہے وہ ہے وہ ہاں ملانا چاہتا ہوں یہ جو کھڑکی ہے نقشے ہے وہ ہے وہ تمہارے ی ہاں ہے وہ ہے وہ در بنانا چاہتا ہوں اداکاری بے حد دکھ دے رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچ مچ مسکرانا چاہتا ہوں پروں ہے وہ ہے وہ تیر ہے پنجوں ہے وہ ہے وہ تنکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ چڑیا اڑانا چاہتا ہوں لیے بیٹھا ہوں گھنگرو پھول اندھیرا ترا ہنسنا بنانا چاہتا ہوں بیگا لگ غم عشق کی جاناں کو مبارک ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے خا لگ کمانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سارے شہر کی بیساخیوں کو تری در پر نرم گوئی چاہتا ہوں مجھے جاناں سے اندھیرا ہی پڑےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کو یاد آنا چاہتا ہوں

Fahmi Badayuni

249 likes

جو تری ساتھ رہتے ہوئے سوگوار ہوں خواب ہوں ایسے بے وجہ پہ اور بےشمار ہوں اب اتنی دیر بھی نا لگا یہ ہوں نا کہی تو آ چکا ہوں اور تیرا انتظار ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ پھول ہوں تو پھروں تری بالو ہے وہ ہے وہ کیوں نہیں ہوں تو تیر ہے تو مری کلیجے کے پار ہوں ایک آستین چڑھانے کی عادت کو چھوڑ کر حافی جاناں آدمی تو بے حد شاندار ہوں

Tehzeeb Hafi

268 likes

More from Rehman Faris

یہی دعا ہے یہی ہے سلام بخیر عشق رفقا کرام مری سبھی گزارشیں عشق رفقا کرام دیار ہجر کی سونی ادا سے گلیوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ پکارتا ہے کوئی صبح و شام عشق رفقا کرام ہے وہ ہے وہ ہے وہ کر رہا تھا دعا کی گزارشیں ا سے سے سو کہ گئی ہے اداسی کی شام عشق رفقا کرام بڑے عجیب ہیں باشندے کے بعد از سلام ہمیشہ کہتے ہیں غزل وار عشق رفقا کرام یہ رہ ضرور تمہارے ہی گھر کو جاتی ہے لکھا ہوا ہے ی ہاں گام گام عشق رفقا کرام نقص کی ہے داستان عشق داستان عشقسو ا سے کتاب کا رکھا ہے نام عشق رفقا کرام پیام عشق کے پار مجھے یاد کر رہا ہے کوئی ابھی ملا ہے ادھر سے تال میل رفقا کرام

Rehman Faris

2 likes

وداع یار کا لمحہ ٹھہر گیا تو مجھ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ خود تو زندہ رہا سمے مر گیا تو مجھ ہے وہ ہے وہ ہے وہ سکوت شام ہے وہ ہے وہ چیخیں سنائی دیتی ہیں تو جاتے جاتے غضب شور بھر گیا تو مجھ ہے وہ ہے وہ ہے وہ حقیقت پہلے صرف مری آنکھ ہے وہ ہے وہ سمایا تھا پھروں ایک روز رگوں تک اتر گیا تو مجھ ہے وہ ہے وہ ہے وہ کچھ ایسے دھیان ہے وہ ہے وہ چہرہ ترا طلوع ہوا غروب شام کا منظر نکھر گیا تو مجھ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کی ذات سے منکر تھا اور پھروں اک دن حقیقت اپنے ہونے کا اعلان کر گیا تو مجھ ہے وہ ہے وہ ہے وہ کھنڈر سمجھ کے مری سیر کرنے آیا تھا گیا تو تو تو موسم غم پھول دھر گیا تو مجھ ہے وہ ہے وہ ہے وہ گلی ہے وہ ہے وہ گونجی خموشی کی چیخ رات کے سمے تمہاری یاد کا بچہ سا ڈر گیا تو مجھ ہے وہ ہے وہ ہے وہ بتا ہے وہ ہے وہ کیا کروں دل نام کے ا سے آنگن کا تری امید پہ جو سج سنور گیا تو مجھ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ اپنے اپنے مقدر کی بات ہے فار سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے ہے وہ ہے وہ سمٹا رہا حقیقت بکھر گیا ت

Rehman Faris

3 likes

ہے وہ ہے وہ کار آمد ہوں یا بے کار ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ م گر اے یار تیرا یار ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جو دیکھا ہے کسی کو مت بتانا علاقے بھر ہے وہ ہے وہ عزت دار ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ خود اپنی ذات کے سرمائے ہے وہ ہے وہ بھی صفر فیصد کا حصے دار ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ اور اب کیوں بین کرتے آ گئے ہوں کہا تھا نا بے حد بیمار ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ مری تو ساری دنیا ب سے تمہیں ہوں غلط کیا ہے جو دنیا دار ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کہانی ہے وہ ہے وہ جو ہوتا ہی نہیں ہے کہانی کا وہی کردار ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ طے کرتا ہے دستک دینے والا ک ہاں در ہوں ک ہاں دیوار ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کوئی سمجھائے مری دشمنوں کو ذرا سی دوستی کی مار ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ مجھے پتھر سمجھ کر پیش مت آ ذرا سا رحم کر جاں دار ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے اتنا سوچ کر کیجے کوئی حکم بڑا منا زور خدمت گار ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کوئی شک ہے تو بے شک آزما لے ترا ہونے کا دعوے دار ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا گر ہر حال ہے وہ ہے وہ خوش رہنا فن ہے

Rehman Faris

5 likes

نظر اٹھائیں تو کیا کیا فسا لگ بنتا ہے سو سانحے یار نگاہیں جھکانا بنتا ہے حقیقت لاکھ بے خبر و بے وفا صحیح لیکن طلب کیا ہے گر ا سے نے تو جانا بنتا ہے رگوں تلک اتر آئی ہے میسج شب غم سو اب چراغ نہیں دل جلانا بنتا ہے پرائی آگ میرا گھر جلا رہی ہے سو اب خاموش رہنا نہیں غل مچانا بنتا ہے قدم قدم پہ توازن کی بات مت کیجے یہ مے کدہ ہے ی ہاں لڑکھڑانا بنتا ہے چیزیں والے تجھے ک سے طرح بتاؤں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کہ یاد آنا نہیں تیرا آنا بنتا ہے یہ دیکھ کر کہ تری عاشقوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی ہوں جمال یار ترا مسکرانا بنتا ہے جنوں بھی صرف دکھاوا ہے وحشتیں بھی غلط دیوا لگ ہے نہیں فار سے دیوا لگ بنتا ہے

Rehman Faris

1 likes

سکوت شام ہے وہ ہے وہ گونجی صدا اداسی کی کہ ہے مزید اداسی دوا اداسی کی بے حد شریر تھا ہے وہ ہے وہ اور ہنستا پھرتا تھا پھروں اک مختلف نے دے دی دعا اداسی کی امور دل ہے وہ ہے وہ کسی تیسرے کا دخل نہیں ی ہاں فقط تری چلتی ہے یا اداسی کی چراغ دل کو ذرا احتیاط سے رکھنا کہ آج رات چلےگی ہوا اداسی کی حقیقت امتزاج تھا ایسا کہ دنگ تھی ہر آنکھ جمال یار نے پہنی قباء اداسی کی اسی امید پہ آنکھیں برستی رہتی ہیں کہ ایک دن تو سنے گا خدا اداسی کی شجر نے پوچھا کہ تجھ ہے وہ ہے وہ یہ ک سے کی خوشبو ہے ہوا شام الم نے کہا اداسی کی دل فسردہ کو ہے وہ ہے وہ نے تو مار ہی ڈالا سو ہے وہ ہے وہ تو ٹھیک ہوں اب تو سنا اداسی کی ذرا سا چھو لیں تو گھنٹوں دہکتی رہتی ہے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو مار گئی یہ ادا اداسی کی بے حد دنوں سے ہے وہ ہے وہ ا سے سے نہیں ملا فار سے کہی سے خیر خبر لے کے آ اداسی کی

Rehman Faris

2 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Rehman Faris.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Rehman Faris's ghazal.