ghazalKuch Alfaaz

ہے وہ ہے وہ نے جو بے کسا لگ مجل سے ہے وہ ہے وہ جان کھوئی سر پر مری کھڑی ہوں شب شمع زور روی آتی ہے شمع شب کو آگے تری یہ کہ کر منا کی گئی جو لوئی تو کیا کرےگا کوئی موج خیز سے آگے کچھ پوچھتا بھی تھا سو رونے نے ہر گھڑی کے حقیقت بات ہی ڈبوئی بلبل کی بےکلی نے شب بے دماغ رکھا سونے دیا لگ ہم کو ظالم لگ آپ سوئی ا سے ظلم پیشہ کی یہ رسم قدیم ہے گی غیروں پہ مہربانی یاروں سے کی لگ جوئی نوبت جو ہم سے دلچسپ آتی ہے گفتگو کی منا ہے وہ ہے وہ زبان نہیں ہے ا سے بد زبان کے گئی ا سے مہ کے رکے سے کچھ تا میر یاد دیوے اب کے گھروں ہے وہ ہے وہ ہم نے سب چاندنی ہے بوئی

Related Ghazal

یہی اپنی کہانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے حقیقت لڑکی جاں ہماری تھی میاں پہلے بے حد پہلے وہم مجھ کو یہ بھاتا ہے,अभी مری دیوانی ہے م گر مری دیوانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے رقیب آ کر بتاتے ہیں ی ہاں تل ہے و ہاں تل ہے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ جانکاری تھی میاں پہلے بے حد پہلے ادب سے مانگ کر مافی بھری محفل یہ کہتا ہوں حقیقت لڑکی خاندانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے

Anand Raj Singh

526 likes

اسی جگہ پر ج ہاں کئی راستے ملیںگے پلٹ کے آئی تو سب سے پہلے تجھے ملیںگے ا گر کبھی تری نام پر جنگ ہوں گئی تو ہم ایسے بزدل بھی پہلی صف ہے وہ ہے وہ کھڑے ملیںگے تجھے یہ سڑکیں مری توسط سے جانتی ہیں تجھے ہمیشہ یہ سب اشارے کھلے ملیںگے

Tehzeeb Hafi

465 likes

چاند ستارے تم پھول پرندے شام سویرہ ایک طرف ساری دنیا ا سے کا چربہ ا سے کا چہرہ ایک طرف حقیقت لڑکر بھی سو جائے تو ا سے کا ماتھا چوموں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے سے محبت ایک طرف ہے ا سے سے جھگڑا ایک طرف ج سے اجازت پر حقیقت انگلی رکھ دے اس کا کو حقیقت دلوانی ہے ا سے کی خوشیاں سب سے اول سستا مہنگا ایک طرف زخموں پر مرہم لگواو لیکن ا سے کے ہاتھوں سے چارسازی ایک طرف ہے ا سے کا چھونا ایک طرف ساری دنیا جو بھی بولے سب کچھ شور شرابا ہے سب کا کہنا ایک طرف ہے ا سے کا کہنا ایک طرف ا سے نے ساری دنیا مانگی ہے وہ ہے وہ نے اس کا کو مانگا ہے ا سے کے سپنے ایک طرف ہے میرا سپنا ایک طرف

Varun Anand

406 likes

کیوں ڈریں زندگی ہے وہ ہے وہ کیا ہوگا کچھ لگ ہوگا تو غضب ہوگا ہنستی آنکھوں ہے وہ ہے وہ جھانک کر دیکھو کوئی آنسو کہی چھپا ہوگا ان دنوں نا امید سا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ شاید ا سے نے بھی یہ سنا ہوگا دیکھ کر جاناں کو سوچتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیا کسی نے تمہیں چھوا ہوگا

Javed Akhtar

371 likes

یہ غم کیا دل کی عادت ہے نہیں تو کسی سے کچھ شکایت ہے نہیں تو ہے حقیقت اک خواب بے تعبیر ا سے کو بھلا دینے کی نیت ہے نہیں تو کسی کے بن کسی کی یاد کے بن جیے جانے کی ہمت ہے نہیں تو کسی صورت بھی دل لگتا نہیں ہاں تو کچھ دن سے یہ حالت ہے نہیں تو تری ا سے حال پر ہے سب کو حیرت تجھے بھی ا سے پہ حیرت ہے نہیں تو ہم آہنگی نہیں دنیا سے تیری تجھے ا سے پر ندامت ہے نہیں تو ہوا جو کچھ یہی مقسوم تھا کیا یہی ساری مقسوم ہے نہیں تو اذیت ناک اذیت ناک سے تجھ کو اماں پانے کی حسرت ہے نہیں تو تو رہتا ہے خیال و خواب ہے وہ ہے وہ گم تو ا سے کی وجہ فرصت ہے نہیں تو سبب جو ا سے جدائی کا بنا ہے حقیقت مجھ سے خوبصورت ہے نہیں تو

Jaun Elia

355 likes

More from Meer Taqi Meer

शिकवा करूँँ मैं कब तक उस अपने मेहरबाँ का अल-क़िस्सा रफ़्ता रफ़्ता दुश्मन हुआ है जाँ का गिर्ये पे रंग आया क़ैद-ए-क़फ़स से शायद ख़ूँ हो गया जिगर में अब दाग़ गुल्सिताँ का ले झाड़ू टोकरा ही आता है सुब्ह होते जारूब-कश मगर है ख़ुर्शीद उस के हाँ का दी आग रंग-ए-गुल ने वाँ ऐ सबा चमन को याँ हम जले क़फ़स में सुन हाल आशियाँ का हर सुब्ह मेरे सर पर इक हादिसा नया है पैवंद हो ज़मीं का शेवा इस आसमाँ का इन सैद-अफ़गनों का क्या हो शिकार कोई होता नहीं है आख़िर काम उन के इम्तिहाँ का तब तो मुझे किया था तीरों से सैद अपना अब करते हैं निशाना हर मेरे उस्तुख़्वाँ का फ़ितराक जिस का अक्सर लोहू में तर रहे है वो क़स्द कब करे है इस सैद-ए-नातवाँ का कम-फ़ुर्सती जहाँ के मज में' की कुछ न पूछो अहवाल क्या कहूँ मैं इस मजलिस-ए-रवाँ का सज्दा करें हैं सुन कर औबाश सारे उस को सय्यद पिसर वो प्यारा हैगा इमाम बाँका ना-हक़ शनासी है ये ज़ाहिद न कर बराबर ताअ'त से सौ बरस की सज्दा उस आस्ताँ का हैं दश्त अब ये जीते बस्ते थे शहर सारे वीरान-ए-कुहन है मामूरा इस जहाँ का जिस दिन कि उस के मुँह से बुर्क़ा उठेगा सुनियो उस रोज़ से जहाँ में ख़ुर्शीद फिर न झाँका ना-हक़ ये ज़ुल्म करना इंसाफ़ कह पियारे है कौन सी जगह का किस शहर का कहाँ का सौदाई हो तो रक्खे बाज़ार-ए-इश्क़ में पा सर मुफ़्त बेचते हैं ये कुछ चलन है वाँ का सौ गाली एक चश्मक इतना सुलूक तो है औबाश ख़ाना जंग उस ख़ुश-चश्म बद-ज़बाँ का या रोए या रुलाया अपनी तो यूँँ ही गुज़री क्या ज़िक्र हम-सफ़ीराँ यारान-ए-शादमाँ का क़ैद-ए-क़फ़स में हैं तो ख़िदमत है नालगी की गुलशन में थे तो हम को मंसब था रौज़ा-ख़्वाँ का पूछो तो 'मीर' से क्या कोई नज़र पड़ा है चेहरा उतर रहा है कुछ आज उस जवाँ का

Meer Taqi Meer

0 likes

خرابی کچھ نہ پوچھو ملکت دل کی عمارت کی غموں نے آج کل سنیو وہ آبادی ہی غارت کی نگاہ مست سے جب چشم نے اس کا کی اشارت کی حلاوت مے کی اور بنیاد مےخانے کی غارت کی سحر گہ میں نے پوچھا گل سے حال زار بلبل کا پڑے تھے باغ میں یک مشت پر ادھر اشارت کی جلایا جس تجلی جلوہ گر نے طور کو ہم دم اسی آتش کے پر کالے نے ہم سے بھی شرارت کی نزاکت کیا کہوں خورشید رو کی کل شب ماہ میں گیا تھا سائے سائے باغ تک تس پر حرارت کی نظر سے جس کی یوسف سا گیا پھروں اس کا کو کیا سوچھے حقیقت کچھ نہ پوچھو بو پیرہن کی بصارت کی تری کوچے کے شوق توف میں جیسے بگولا تھا شایاں میں غبار میر کی ہم نے زیارت کی

Meer Taqi Meer

0 likes

نہیں وسوا سے جی گنوانے کے ہاں یہ رے ذوق دل لگانے کے مری ہوش و دل پامال پر مت جا اتفاقات ہیں زمانے کے دم آخر ہی کیا لگ آنا تھا اور بھی سمے تھے بہانے کے ا سے کدورت کو ہم سمجھتے ہیں ڈھب ہیں یہ خاک ہے وہ ہے وہ ملانے کے ب سے ہیں دو برگ گل قف سے ہے وہ ہے وہ صبا نہیں بھوکے ہم آب و دانے کے مرنے پر بیٹھے ہیں سنو صاحب بندے ہیں اپنے جی چلانے کے اب گریباں ک ہاں کہ اے ناصح چڑھ گیا تو ہاتھ ا سے دیوانے کے مزہ ابرو نگہ سپہر جھپکے ہے صدقے ا سے انکھڑیاں لڑانے کے دل و دیں تیر و تلوار و سیل سب ہی گئے آگے آگے تمہارے آنے کے کب تو سوتا تھا گھر مرے آ کر جاگے تالا غریب خانے کے کشور عشق سے ا سے کی میر کشتہ ہیں اپنے دل لگانے کے اوجڑ یکجا ہیں سارے اسباب مار جانے کے

Meer Taqi Meer

0 likes

مہر کی تجھ سے توقع تھی ستم گر نکلا موم سمجھے تھے تری دل کو سو پتھر نکلا داغ ہوں رشک محبت سے کہ اتنا بیتاب ک سے کی تسکین کے لیے گھر سے تو باہر نکلا جیتے جی آہ تری کوچے سے کوئی لگ پھرا جو ستم دیدہ رہا جا کے سو مر کر نکلا دل کی آبا گرا کی ا سے حد ہے خرابی کہ لگ پوچھ جانا جاتا ہے کہ ا سے راہ سے لشکر نکلا خوشی تر قطرہ خوں لخت ج گر پارہ دل ایک سے ایک عدد آنکھ سے بہ کر نکلا کنج کاوی جو کی سینے کی غم ہجراں نے ا سے دفینے ہے وہ ہے وہ سے اقسام جواہر نکلا ہم نے جانا تھا لکھے گا تو کوئی حرف اے میر پر ترا نامہ تو اک شوق کا دفترون نکلا

Meer Taqi Meer

0 likes

تنگ آئی ہیں دل ا سے جی سے اٹھا بیٹھیں گے بھوکوں مرتے ہیں کچھ اب یار بھی کھا بیٹھیں گے اب کے بگڑےگی ا گر ان سے تو ا سے شہر سے جا کسو ویرانے ہے وہ ہے وہ تکیہ ہی بنا بیٹھیں گے معرکہ گرم تو ٹک ہونے دو خوں ریزی کا پہلے تلوار کے نیچے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ جا بیٹھیں گے ہوگا ایسا بھی کوئی روز کہ مجل سے سے کبھو ہم تو ایک آدھ گھڑی اٹھ کے جدا بیٹھیں گے جا لگ اظہار محبت پہ ہوسناکو کی سمے کے سمے یہ سب منا کو چھپا بیٹھیں گے دیکھیں حقیقت غیرت خورشید ک ہاں جاتا ہے اب سر راہ دم صبح سے آ بیٹھیں گے بھیڑ ٹلتی ہی نہیں آگے سے ا سے ظالم کے گردنیں یار کسی روز کٹا بیٹھیں گے کب تلک گلیوں ہے وہ ہے وہ سودائی سے پھرتے رہیے دل کو ا سے زلف مسلسل سے لگا بیٹھیں گے شعلہ افشاں ا گر ایسی ہی رہی آہ تو میر گھر کو ہم اپنے کسو رات جلا بیٹھیں گے

Meer Taqi Meer

1 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Meer Taqi Meer.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Meer Taqi Meer's ghazal.