ghazalKuch Alfaaz

ہے وہ ہے وہ رونا چاہتا ہوں خوب رونا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ اور ا سے کے بعد گہری نیند سونا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ تری ہونٹوں کے صحرا ہے وہ ہے وہ تیری آنکھوں کے جنگل ہے وہ ہے وہ ہے وہ جو اب تک پا چکا ہوں ا سے کو کھونا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ساحل یہ کچی مٹیوں کے ڈھیر اپنے چاک پر رکھ لے تیری رفتار کا ہم رقص ہونا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ تیرا ساحل نظر آنے سے پہلے ا سے سمندر ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہوں سے کے سب سفینوں کو ڈبونا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ دوریاں کبھی تو توڑے آوےگی عشق دل ج ہاں ہے وہ ہے وہ مری ہونے کی تیری واجب ہے وہ ہے وہ خود کو بنا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ مری سارے بدن پر دوریوں کی خاک بکھری ہے تمہارے ساتھ مل کر خود کو دھونا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ

Related Ghazal

تمہیں ب سے یہ بتانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے کیا چھپانا چاہتا ہوں کبھی مجھ سے بھی کوئی جھوٹ بولو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں ہے وہ ہے وہ ہاں ملانا چاہتا ہوں یہ جو کھڑکی ہے نقشے ہے وہ ہے وہ تمہارے ی ہاں ہے وہ ہے وہ در بنانا چاہتا ہوں اداکاری بے حد دکھ دے رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچ مچ مسکرانا چاہتا ہوں پروں ہے وہ ہے وہ تیر ہے پنجوں ہے وہ ہے وہ تنکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ چڑیا اڑانا چاہتا ہوں لیے بیٹھا ہوں گھنگرو پھول اندھیرا ترا ہنسنا بنانا چاہتا ہوں بیگا لگ غم عشق کی جاناں کو مبارک ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے خا لگ کمانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سارے شہر کی بیساخیوں کو تری در پر نرم گوئی چاہتا ہوں مجھے جاناں سے اندھیرا ہی پڑےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کو یاد آنا چاہتا ہوں

Fahmi Badayuni

249 likes

زبان تو کھول نظر تو ملا جواب تو دے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کتنی بار لٹا ہوں مجھے حساب تو دے تری بدن کی ودھی ہے وہ ہے وہ ہے اتار لکھاوت ہے وہ ہے وہ ہے وہ تجھے کیسے چڑھاو مجھے کتاب تو دے تیرا سوال ہے ساقی کہ زندگی کیا ہے جواب دیتا ہوں پہلے مجھے شراب تو دے

Rahat Indori

190 likes

ستم ڈھاتے ہوئے سوچا کروگے ہمارے ساتھ جاناں ایسا کروگے انگوٹھی تو مجھے لوٹا رہے ہوں انگوٹھی کے نشان کا کیا کروگے ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے اب تمنائیں بھی نہیں ہوں تو کیا ا سے بات پر جھگڑا کروگے میرا دامن تمہیں تھامے ہوئے ہوں میرا دامن تمہیں میلا کروگے بتاؤ وعدہ کر کے آوگے نا کے پچھلی بار کے جیسا کروگے حقیقت دلہن بن کے رخصت ہوں گئی ہے ک ہاں تک کار کا پیچھا کروگے مجھے ب سے یوں ہی جاناں سے پوچھنا تھا ا گر ہے وہ ہے وہ مر گیا تو تو کیا کروگے

Zubair Ali Tabish

140 likes

تری پیچھے ہوں گی دنیا پاگل بن کیا بولا ہے وہ ہے وہ نے کچھ سمجھا پاگل بن صحرا ہے وہ ہے وہ بھی ڈھونڈ لے دریا پاگل بن ورنا مر جائےگا پیاسا پاگل بن آدھا دا لگ آدھا پاگل نہیں نہیں نہیں اس کا کا کو پانا ہے تو پورا پاگل بن دانائی دکھلانے سے کچھ حاصل نہیں پاگل خا لگ ہے یہ دنیا پاگل بن دیکھیں تجھ کو لوگ تو پاگل ہوں جائیں اتنا عمدہ اتنا اعلیٰ پاگل بن لوگوں سے ڈر لگتا ہے تو گھر ہے وہ ہے وہ بیٹھ ج ہنستے ہے تو مری جیسا پاگل بن

Varun Anand

81 likes

جو تری ساتھ رہتے ہوئے سوگوار ہوں خواب ہوں ایسے بے وجہ پہ اور بےشمار ہوں اب اتنی دیر بھی نا لگا یہ ہوں نا کہی تو آ چکا ہوں اور تیرا انتظار ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ پھول ہوں تو پھروں تری بالو ہے وہ ہے وہ کیوں نہیں ہوں تو تیر ہے تو مری کلیجے کے پار ہوں ایک آستین چڑھانے کی عادت کو چھوڑ کر حافی جاناں آدمی تو بے حد شاندار ہوں

Tehzeeb Hafi

268 likes

More from Farhat Ehsaas

ہے شور ساحلوں پر سیلاب آ رہا ہے آنکھوں کو غرق کرنے پھروں خواب آ رہا ہے ب سے ایک جسم دے کر رخصت کیا تھا ا سے نے اور یہ کہا تھا باقی اسباب آ رہا ہے خاک وصال کیا کیا صورت بدل رہی ہے سورج گزر چکا ہے مہتاب آ رہا ہے پانی کے آئینے ہے وہ ہے وہ کیا آنکھ پڑ گئی ہے دریا ہے وہ ہے وہ کیسا کیسا گرداب آ رہا ہے آنکھوں کی پیالیوں ہے وہ ہے وہ بارش مچی ہوئی ہے صحرا ہے وہ ہے وہ کوئی منظر شاداب آ رہا ہے

Farhat Ehsaas

2 likes

تمہیں ا سے سے محبت ہے تو ہمت کیوں نہیں کرتے کسی دن ا سے کے در پہ رقص وحشت کیوں نہیں کرتے علاج اپنا کراتے پھروں رہے ہوں جانے ک سے ک سے سے محبت کر کے دیکھو نا محبت کیوں نہیں کرتے تمہارے دل پہ اپنا نام لکھا ہم نے دیکھا ہے ہماری چیز پھروں ہم کو عنایت کیوں نہیں کرتے مری دل کی تباہی کی شکایت پر کہا ا سے نے جاناں اپنے گھر کی چیزوں کی حفاظت کیوں نہیں کرتے بدن بیٹھا ہے کب سے کاسا امید کی صورت سو دے کر وصل کی خیرات رخصت کیوں نہیں کرتے خوشگوار دیکھنے کے شوق ہے وہ ہے وہ ہم مر مٹے جاناں پر خوشگوار کرنے والو اب خوشگوار کیوں نہیں کرتے ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنے ساتھ جذبوں کی جماعت لے کے آیا ہوں جب اتنے مقت گرا ہیں تو طلسم یار کیوں نہیں کرتے جاناں اپنے ہونٹ آئینے ہے وہ ہے وہ دیکھو اور پھروں سوچو کہ ہم صرف ایک بوسے پر قناعت کیوں نہیں کرتے بے حد ناراض ہے حقیقت اور اسے ہم سے شکایت ہے کہ ا سے ناراضگی کی بھی شکایت کیوں نہیں کرتے کبھی اللہ میاں پوچھیں گے تب ان کو بتائیں گے کسی کو کیوں بتائیں ہم عبادت کیوں نہیں کرتے <

Farhat Ehsaas

23 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Farhat Ehsaas.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Farhat Ehsaas's ghazal.